نظم:کون کہتا ہے کہ خزاں پتے اجاڑ دیتا ہے

کون کہتا ہے کہ خزاں پتے اجاڑ دیتا ہے
وہ تو نئے آنے والوں کو جگہ دیتا ہے
i
آپ کرتے ہوں گے خزاں سے نفرت
ہم کو تو جینے کی صلاح دیتا ہے

کون کہتا ہے کہ خزاں جڑنے کی علامت ہے
یہ تو ساتھ بیٹھے دوستوں کو ملا دیتا ہے

اک سال مٹھا بھی دے تو یہ خزاں
نئے سال کی آنے کی خوبصورتی کو نکھار دیتا ہے
آرزوئیں ہر شام بڑنے لگتی ہے تو
اک آرزو تیرے نام کی صدا دیتا ہے

از قلم (سدرہ میر اکبر)

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں