مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

کیفی اعظمی کی نظم نگاری کے 7 اہم پہلو

کیفی اعظمی کی نظم نگاری: عظیم ترقی پسند شاعر کی زندگی اور فن کے 7 اہم پہلو تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو ادب کے افق پر فیض احمد فیض کے بعد جن معاصرین کو سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی، ان میں کیفی اعظمی کا نام انتہائی نمایاں ہے۔ کیفی اعظمی کی نظم نگاری کا آغاز اگرچہ رومانوی جذبوں سے ہوا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کا قلم قوم پرستی، آزادی اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن گیا۔ جب انہوں نے مارکسزم کے نظریات کا گہرا مطالعہ کیا اور کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ کل وقتی رکن بنے، تو ان کی شاعری نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔

انہوں نے اپنے فن کے ذریعے انقلابی سوچ کو انتہائی مہارت سے پیش کیا۔ قومی اور بین الاقوامی سیاسی حالات پر ان کی لکھی گئی نظمیں آج بھی قاری پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔ کیفی اعظمی نے عام انسانوں کے دکھوں اور محرومیوں کو اپنے اشعار میں اس خوبصورتی سے پرویا ہے کہ ان کے ہاں موضوع اور فن دونوں ایک دوسرے میں مدغم نظر آتے ہیں۔

کیفی اعظمی کی نظم نگاری میں مارکسی نظریات اور سماجی شعور

مارکسی نقطہ نظر کے زیرِ اثر، کیفی اعظمی نے معاشرے میں موجود طبقاتی کشمکش اور استحصال کو اپنی تخلیقات کا مرکزی موضوع بنایا۔ انہوں نے ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھا جو ہر قسم کے ظلم اور حق تلفی سے پاک ہو۔ چونکہ ان کی شاعری کا آغاز اس دور میں ہوا جب انقلابی تحریکیں عروج پر تھیں، اس لیے ان کی ابتدائی تخلیقات میں خطابت، بلند آہنگی اور اشتراکی پروپیگنڈے کی جھلک واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

فیض احمد فیض کی طرح، کیفی نے بھی رومانیت کے خول سے نکل کر حقیقت پسندی کی دنیا میں قدم رکھا، تاہم تنقید نگاروں کے نزدیک وہ فیض جیسا فنی اعتدال برقرار نہ رکھ سکے۔

پروفیسر کوثر مظہری کی تنقیدی رائے

پروفیسر کوثر مظہری ان کے فنی سفر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کیفی اعظمی کی شاعری دراصل رومانیت سے نکل کر حقیقت پسندی کی جانب ایک سفر ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اردو ادب میں کیفی کی اصل پہچان ان کی چند بہترین رومانی نظموں کی بدولت ہی ہمیشہ قائم رہے گی۔

پروفیسر مظہری کا ماننا ہے کہ کسی خاص سیاسی تحریک یا وقتی ہنگامی حالات کے تحت لکھی گئی نظموں میں ناپختگی اور بے کیفی پائی جاتی ہے۔ کیفی اعظمی کی مشہور رومانی نظموں میں ملاقات، تصور، پہلا سلام، معذرت، نم، پشیمانی، نقش و نگار اور تصادم جیسی شاہکار تخلیقات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، کیفی اعظمی کی تخلیق کردہ مثنوی "خانہ جنگی” کو اردو ادب کی اولین سیاسی مثنوی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے پیشرو اساتذہ جیسے میر انیس، مولانا حالی، علامہ شبلی، علامہ اقبال اور جوش ملیح آبادی کے اسالیب سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا، جس کے اثرات ان کے کلام میں جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، ان کے بلند آہنگ اور خطیبانہ انداز کے باعث وہ اپنی کوئی الگ اور گہری انفرادی چھاپ چھوڑنے میں قدرے پیچھے رہ گئے۔

کسانوں کی حالتِ زار اور کیفی کی حقیقت نگاری

ترقی پسند شعراء کا یہ خاصہ رہا ہے کہ انہوں نے سماج کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ کیفی اعظمی کی نظم نگاری میں بھی کسانوں اور محنت کشوں کے مسائل کو انتہائی دردمندی کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کسان کی اس تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے جو دن رات مشقت کر کے زمین سے غلہ اگاتا ہے لیکن خود بھوکا سوتا ہے۔ یہ معاشی تنگی کسان کو خودکشی جیسے انتہائی قدم تک لے جاتی ہے۔ اس دردناک منظر کشی کو کیفی نے اپنی مشہور نظم "کسان” میں یوں پیش کیا ہے:

چیر کے سال میں دو بار زمیں کا سینہ
دفن ہو جاتا ہوں گر گراتے ہیں جو سورج کے سنہرے ناخن
پھر نکل آتا ہوں اب نکلتا ہوں تو اتنا کہ بٹورے جو کوئی
دامن میں دامن پھٹ جائے
گھر کے جس کونے میں لے جائے کوئی رکھ دے مجھے بھوک وہاں سے ہٹ جائے
پھر مجھے پیتے ہیں، گوندھتے ہیں، سینکتے ہیں
گوندھنے سینکنے میں شکل بدل جاتی ہے
اور ہو جاتی ہے مشکل پہچان
پھر بھی رہتا ہوں کسان
و ہی خستہ ، بد حال
قرض کے پنجہ خونیں میں نڈھال

عورتوں کے مسائل پر منفرد نقطہ نظر اور حوصلہ افزائی

عام اردو شاعری میں عورت کو محض حسن و عشق، ناز و نخرے اور محبوبہ کے روپ میں پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن ترقی پسند شعراء نے اس روایت کو توڑا۔ کیفی اعظمی نے عورت کو کھلونے یا مرد کی کمزوری کے طور پر پیش کرنے کے بجائے، اس کے حقیقی سماجی مسائل کو موضوع بنایا۔

انہوں نے ہندوستانی معاشرے کی فرسودہ رسومات کو نشانہ بنایا جو عورت کے لیے عذاب بنی ہوئی تھیں۔ خاص طور پر بیواؤں کے مسائل، جنہیں دوسری شادی کا حق نہیں دیا جاتا اور سماج کی ہوس زدہ نگاہیں ان کا پیچھا کرتی ہیں، جس سے تنگ آکر وہ موت کو گلے لگا لیتی ہیں۔ اس کرب کو انہوں نے یوں رقم کیا ہے:

اتنی دنیا میں کہیں اپنی جگہ پاتی نہیں
پاس اس حد کی کہ شوہر کی بھی یاد آتی نہیں
آرہے ہیں یاد پیہم ساس نندوں کے سلوک
پھٹ رہا ہے غم سے سینہ اٹھ رہی ہے دل میں ہوک
اپنی ماں بہنوں کا بھی آنکھیں چرانا یاد ہے
ایسی دنیا میں کسی کا چھوڑ جانا یاد ہے
باغباں تو قبر میں ہے کون اب دیکھے بہار
خود اسی کو تیر اس کے کرنے والے ہیں شکار
جب نظر آتا نہیں دیتا کوئی بیکس کا ساتھ
زہر کی شیشی کی جانب خود بخود بڑھتا ہے ہاتھ
دل تڑپ کر کہہ رہا ہے جلد اس دنیا کو چھوڑ
چوڑیاں توڑیں تو پھر زنجیر ہستی کو بھی توڑ
دم اگر نکلا تو کھوئی زندگی مل جائے گی
یہ نہیں تو خیر تنہا قبر ہی مل جائے گی
واں تجھے ذلت کی نظروں سے نہ دیکھے گا کوئی

نظم "عورت”: ایک بیداری کا پیغام

اپنی مشہور زمانہ نظم ‘عورت’ میں انہوں نے خواتین کو مایوسی سے نکال کر ان میں حالات سے ٹکرانے کا حوصلہ پیدا کیا۔ انہوں نے قدامت پسندی کو ترک کر کے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی تلقین کی:

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیں
تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیں
تو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیں
تیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیں
اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
توڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکل
ضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکل

حالاتِ حاضرہ پر کیفی اعظمی کی نظم نگاری اور استدلال

کیفی نے اپنی شاعری کی بنیاد صرف ماضی پر نہیں رکھی بلکہ وہ اپنے عہد کے سلگتے ہوئے مسائل کے شاعر تھے۔ ان کی طویل نظم ‘دوسرا بن باس’ بابری مسجد کی شہادت پر ایک بھرپور احتجاج ہے، جس میں انہوں نے ہندو دیومالا میں شری رام کے حوالے کو استدلال کے طور پر پیش کر کے اس سانحے کی سنگینی کو واضح کیا ہے۔

انسانی نفسیات، اندیشوں اور الجھنوں کو بیان کرنے والی ان کی مشہور نظموں میں آوارہ سجدے، اندیشے اور الجھنیں شامل ہیں۔

پروفیسر قمر رئیس کا تجزیہ

معروف نقاد پروفیسر قمر رئیس رسالہ ‘ایوانِ اردو، دہلی’ (اشاعت اگست ۲۰۰۲ء، صفحہ ۱۸) میں کیفی کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ کیفی اعظمی کی سب سے بڑی پہچان ان کا عوام دوست ہونا ہے۔ وہ مشرقی یوپی کے ایک دیہات اور کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں برطانوی راج کے خلاف کسانوں کی بغاوت اور چوری چورا کے واقعے نے تاریخ رقم کی۔ کیفی کی پرورش اسی سیاسی بیداری کے ماحول میں ہوئی۔

ابتدائی حالات، خاندانی پس منظر اور تعلیم

مختلف تذکروں میں ان کی پیدائش کے حوالے سے مختلف تواریخ ملتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ ۱۴ جنوری ۱۹۱۹ کو (جبکہ دوسری جگہ ۱۹ جنوری ۱۹۱۹ اور ایک مقام پر ۱۹ فروری ۱۹۲۵ کا ذکر بھی ملتا ہے) اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے گاؤں مجواں میں پیدا ہوئے۔

ان کا اصل نام سید اطہر حسین رضوی تھا اور وہ کیفی تخلص کرتے تھے۔ ان کے والد کا نام سید فتح حسین تھا۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا اور ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے عربی، فارسی اور اردو کی اعلیٰ تعلیم لکھنؤ اور الہ آباد یونیورسٹیوں سے حاصل کی۔ شعر و شاعری کا ہنر انہیں ورثے میں ملا کیونکہ ان کے والد بھی فارسی میں شعر کہتے تھے۔

والد کی خواہش تھی کہ وہ مولوی بنیں، لیکن کیفی کی طبیعت پر سوشلزم کا رنگ چڑھ چکا تھا۔ وہ غریبوں اور مزدوروں کے حقوق کے علمبردار بن گئے اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن بن کر اشتراکیت کے فروغ میں مصروف ہو گئے۔

شعری سفر کا آغاز اور عملی جدوجہد

انہوں نے محض ۱۱ برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کر دیا تھا۔ ان کی پہلی نظم کا مطلع کچھ یوں تھا:

مدت کے بعد اس نے جو الفت سے کی نظر
جی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے
اک تم، کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے
اک ہم کہ چل پڑے تو بہر حال چل پڑے

جب انہوں نے ایک مشاعرے میں اپنی غزل (اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے) پڑھی تو صدرِ مشاعرہ مانی جیسی نے بھرپور داد دی۔ ان کے والد اور منشی کو شک ہوا کہ یہ غزل ان کے بڑے بھائی نے لکھی ہے، چنانچہ ان کا امتحان لینے کے لیے انہیں ایک مصرع طرح دیا گیا، جس پر کیفی نے فوراً غزل کہہ کر سب کو حیران کر دیا۔ یہی غزل بعد میں بیگم اختر کی آواز میں گا کر امر کر دی گئی۔

۱۹۴۲ء کی ہندوستان چھوڑو تحریک کے دوران انہوں نے تعلیم کو خیرباد کہا اور مکمل طور پر مارکسسٹ کارکن بن گئے۔ ۱۹۴۳ء میں کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت کے بعد لکھنؤ کے ترقی پسند حلقوں میں ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا مانا گیا، اور وہ ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے اہم رکن بن گئے۔ ۲۴ سال کی عمر میں انہوں نے کانپور کے صنعتی علاقوں میں ٹریڈ یونین کے لیے کام شروع کر دیا۔

فلمی دنیا میں کامیابیاں اور نغمہ نگاری

کیفی اعظمی نے فلم انڈسٹری میں بطور گیت کار، مکالمہ نویس، کہانی کار اور اداکار اپنی صلاحیتیں منوائیں۔ ۱۹۵۲ء میں انہوں نے عصمت چغتائی کی کہانی پر مبنی اور شاہد لطیف کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم "بزدل” کے گیت لکھے۔ اس کے بعد ۱۹۵۶ء میں یہودی کی بیٹی، ۱۹۵۷ء میں پروین، اور ۱۹۵۸ء میں پنجاب میل اور عید کا چاند جیسی فلموں میں کام کیا۔

ان کے قلم سے نکلے ہوئے گیتوں نے کہرا، انوپما، اُس کی کہانی، پاکیزہ، ہنستے زخم، ارتھ، رضیہ سلطان، سات ہندوستانی، شعلہ اور شبنم، اور باورچی جیسی فلموں کو لازوال بنا دیا۔

انہوں نے فلم "نسیم” کی کہانی لکھی اور اس میں بطور اداکار دادا کا کردار بھی ادا کیا۔ یہ فلم ۲ دسمبر ۱۹۹۲ء کے بابری مسجد کے سانحے کے پس منظر میں بنائی گئی تھی، جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بچی کا دادا اس ہولناک واقعے کا صدمہ برداشت نہیں کر پاتا اور انتقال کر جاتا ہے۔

نمایاں اعزازات، تصانیف اور وفات

اپنی شاندار ادبی اور ثقافتی خدمات پر کیفی اعظمی کو بے شمار انعامات سے نوازا گیا۔ ان کے شعری مجموعے "آوارہ سجدے” پر انہیں اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈ، مہاراشٹر اردو اکادمی ایوارڈ اور مائشٹز ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ، ثقافتی خدمات پر لوئس ایوارڈ اور حکومت کی جانب سے پدم شری کا اعلیٰ ترین اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

ان کی مشہور تصانیف میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:

  • آخری شب
  • آوارہ سجدے
  • میری آواز سنو
  • سرمایہ

کیفی اعظمی نے اپنی زندگی میں اپنے آبائی گاؤں کو ایک مثالی گاؤں بنانے کے لیے بے شمار فلاحی کام کیے۔ بالآخر، ۱۰ مئی ۲۰۰۲ء کو ۸۳ برس کی عمر پا کر یہ عظیم ترقی پسند اور عوام دوست شاعر اس دنیا فانی سے رخصت ہو گیا۔

کیفی اعظمی کا منتخب اور شاہکار کلام

وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد
داد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعد

دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گۓ
ٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد

ہونٹوں کو سی کے دیکھیے پچھتائیے گا آپ
ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد

غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ
قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد

اعلان حق میں خطرہء دار و رسن تو ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں
دو گز زمیں بھی چاہیۓ دو گز کفن کے بعد


جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے


جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں

تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا
مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں

وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہے
اس ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں

تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو
تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں


کیا جانے کس کی پیاس بھجانے کدھر گئیں
اس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں

دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار
کچھ بستیاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں

اب جس طرف سے چاہے گزر جاۓ کارواں
ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں

پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے
غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں

پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہو رہے
اک مختصر سی رات میں صدیاں گزر گئیں

نظر ثانی و تصحیح کشف زمان
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں