مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

کہاوت کی تعریف، مفہوم اور تنقیدی جائزہ

کہاوت کی تعریف، مفہوم اور تنقیدی جائزہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

کہاوت کی لغوی اور اصطلاحی تعریف

آکسفورڈ ڈکشنری میں کہاوت کی جو مختصر ترین تعریف بیان کی گئی ہے، وہ کچھ یوں ہے:

"A short pithy saying in common use.”

(یعنی عام استعمال میں آنے والا ایک مختصر اور پرمغز قول۔)

اس تعریف پر غور کرنے سے کہاوت کی تین بنیادی خصوصیات ہمارے سامنے آتی ہیں:

  1. اختصار: بات کا مختصر ہونا۔
  2. معنوی زور: بات میں وزن اور گہرائی ہو۔
  3. کثرتِ استعمال: اس کا بار بار بولا جانا۔

"کیسلز انسائیکلوپیڈیا آف لٹریچر” (Cassell’s Encyclopedia of Literature) نے کہاوت کی تعریف کرتے ہوئے اوپر بیان کی گئی خصوصیات میں سے دو یعنی "اختصار” اور "کثرتِ استعمال” کو لازمی جزو قرار دیا ہے۔ وہاں لکھا ہے:

"A proverb is an aphorism (often of extreme brevity and easier to remember) which has passed into wide currency and become a byword.

Came11’s Encyclopaedia of Literature Vol. 1 Ed. by S.H. Steinberg pp.24

اس کا مطلب یہ ہے کہ کہاوت کے لیے "مقبولیتِ دوام” (یعنی لمبے عرصے تک مشہور رہنا) اور مختصر ہونا نہایت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محاورے کی تعریف و تفہیم

لفظ "Aphorism” خود اس حقیقت کا گواہ ہے کہ اس میں انسانی تجربات سے حاصل ہونے والی دانائی کا عنصر شامل ہونا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محاورہ کی تعریف اور مثالیں،مشہور محاوروں کی وضاحت

تاہم، صرف دانائی کا ہونا کافی نہیں۔ بعض دانشوروں اور حکماء کے اقوال کو محض اس بنیاد پر کہاوت کی صف میں جگہ نہیں دی جا سکتی کہ وہ مختصر ہیں یا ان میں کوئی نصیحت ہے۔

جب تک "قبولِ عام” (Public Acceptance) کا تاج کسی قول کے سر پر نہ رکھا جائے، اسے کہاوت کے سنگھاسن پر بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا۔

عوامی سند کی اہمیت

"انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس” کے مرتب ہیسٹنگز (Hastings) نے اس حقیقت کو صاف الفاظ میں واضح کیا ہے:

"To attain the rank of a proverb, a saying must either spring from the masses or be accepted by the people as true. In a profound sense it must be vox populi.”

Encyclopaedia of Religion and Ethics Vol. I by J.Hastings pp. 412 2.

ہیسٹنگز کے مشاہدے کے مطابق، کہاوت بننے کے لیے عام مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس میں ایک "عمومی سچائی” کا ہونا بھی ضروری ہے۔

جب تک عوام کسی مختصر اور بامعنی جملے کو زندگی کی ایک عام سچائی کے روپ میں دل سے تسلیم نہ کر لیں، اس کا مقبولِ عام ہونا ناممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ "نیو ویبسٹرز انسائیکلوپیڈک ڈکشنری” کے مرتبین نے کہاوت کی تعریف میں "عملی حقیقت” کو اس کا ضروری عنصر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق:

"A short pithy sentence expressing a truth ascertained by experience or observation; a sentence which briefly and forcibly expresses some practical truth.”

New Webster Encyclopaedic Dictionary of English Language pp.671

تعریفوں کا تنقیدی جائزہ

اگرچہ ویبسٹر کی یہ تعریف زیادہ واضح ہے لیکن اسے مکمل نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کہاوتوں کے "سینہ بہ سینہ منتقل ہونے” اور "مقبولِ دوام” ہونے کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا، جبکہ ہیسٹنگز کے نزدیک یہی پہلی شرط ہے۔

اگر اس شرط کو ہٹا دیں تو پھر مفکروں، ادیبوں، شاعروں، سیاست دانوں اور حکمرانوں کے وہ تمام اقوال جو تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہیں اور بڑی قوت و اختصار سے کہے گئے ہیں، "کہاوتیں” شمار ہونے لگیں گے، حالانکہ وہ تکنیکی طور پر کہاوتیں نہیں ہیں۔

کہاوت اور روایت کا رشتہ

شری مہاویر پرساد پودار نے اس موضوع پر بڑی بلیغ بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر "کہاوت” کا سیدھا مطلب لیا جائے تو یہ "کہنے اور سننے” سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی ایسی بات جو لوگ روایت کے طور پر کہتے سنتے چلے آ رہے ہوں۔

آج اگر کوئی چاہے کہ میں اچھا سا جملہ تخلیق کروں اور وہ فوراً کہاوت کے دائرے میں داخل ہو جائے، تو یہ ناممکن ہے۔

سچائی یا عوامی فیصلہ؟

اگر ہم کہاوتوں کے ذخیرے پر گہری نظر ڈالیں تو اندازہ ہو گا کہ ان میں ہر جگہ سائنسی صداقت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات محض مشاہدے کی غلطی، توہم پرستی یا اندھے عقیدے کی بنا پر کوئی فیصلہ سنا دیا جاتا ہے اور لوگ اس پر صدیوں تک یقین کرتے چلے جاتے ہیں۔

اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کہاوت کے لیے "صداقت” سے زیادہ "فیصلہ سازی” (Judgment) اور "نچوڑ پیش کرنا” زیادہ اہم خصوصیات ہیں۔

اس کا عوام میں رائج ہونا ہی اس کی سند ہے، گویا لوگوں نے اسے ایک سچائی کے روپ میں قبول کر لیا ہے۔

اس اعتبار سے بزرگوں کی دانش مندی اور ان کے فیصلوں کو، چاہے وہ حقائق سے کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں، کہاوت کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ ہر کہاوت زندگی کی کسی نہ کسی اٹل سچائی کو پیش کرے، بلکہ بعض کہاوتیں تو حقائق کے برعکس بھی ہوتی ہیں لیکن چونکہ وہ ایک "عام سچائی” کے روپ میں رائج ہو چکی ہیں، اس لیے ان کا استعمال جاری رہتا ہے۔

ارسطو اور دیگر مفکرین کی آراء

یونانی فلسفی ارسطو نے کہاوت کی پائیداری کے دو سبب بتائے ہیں:

  1. اختصار (Brevity)
  2. موزونیت برائے استعمال (Fitness for use)

لیکن وہ قدیم دانش مندی کو بھی کہاوت کا حصہ مانتا ہے۔ اس کا کہنا ہے:

"A proverb is the remnant of the ancient philosophy preserved amidst very many destructions on account of its brevity and fitness for use.”

American Folklore 84. ED. Tristr Coffin (The Windom of by Ray B. Browne) pp. 218.

(کہاوت قدیم فلسفے کی وہ باقیات ہے جو بہت سی تباہیوں کے درمیان صرف اپنے اختصار اور استعمال کی موزونیت کی وجہ سے محفوظ رہ گئی۔)

ارسطو کے علاوہ مختلف ادوار میں مختلف دانشوروں نے کہاوتوں کی جو توجیہات پیش کی ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  1. سروانٹیز (Cervantes): طویل تجربات سے اخذ کیے گئے مختصر جملے۔
  2. ایریسمس (Erasmus): جانے مانے اور کثرت سے استعمال ہونے والے اقوال جو ایک اچھوتے انداز اور فیشن میں ڈھالے گئے ہوں۔
  3. جویبرٹ (Joubert): کہاوتوں کو دانائی کا خلاصہ کہا جا سکتا ہے۔

اختلاف اور انفرادیت کا مسئلہ

یہ بات تو طے ہو گئی کہ "عمومی صداقت”، "قبولِ عام”، "اختصار” اور "زورِ بیان” یا چستی کہاوت کے بنیادی عناصر ہیں۔

اس لیے ان عناصر کو نظر انداز کر کے کی گئی کوئی بھی تعریف مکمل نہیں کہی جاسکتی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محض ان چار عناصر کی بنیاد پر کہاوت دیگر اقوال یا ملفوظات سے الگ اور ممتاز کیسے ہو سکتی ہے؟

مثال کے طور پر، بہت سے اشعار یا مصرعے ان چاروں خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے گا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کہاوت کسی نہ کسی عام صداقت اور عوامی تجربے کی نشاندہی کرتی ہے جس کی بنا پر اسے مقبولیت کی سند ملتی ہے، لیکن محض صداقت کا حامل ہونا اور مقبولیت حاصل کر لینا کہاوت کو دیگر اقوال سے الگ نہیں کرتا۔

ہم جانتے ہیں کہ بزرگوں کے اقوال اور بہت سے اشعار بھی انہی خصوصیتوں کے حامل ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم انہیں تکنیکی طور پر کہاوتوں کے زمرے میں شمار نہیں کرتے، حالانکہ ان میں زورِ بیان، چستی، اختصار اور معنویت جیسی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔

اس لیے اس قسم کی تعریفیں—جن میں محض اختصار، معنوی زور، صداقت اور قبولِ عام کو بنیاد بنایا گیا ہو—کہاوت کی مکمل اور جامع تشریح نہیں کرتیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسی تعریفیں کہاوت کو انفرادی حیثیت دلانے میں ناکام رہی ہیں۔ اس بات کا اعتراف پروفیسر رے بی براؤن (Ray B. Browne) نے اپنی کتاب "American Folklore” میں ان الفاظ میں کیا ہے:

"Such definitions fail to distinguish precisely between proverbs and other similar categories, such as cliches, aphorisms, sententious remarks and familiar quotations.”

(ایسی تعریفیں کہاوتوں اور دیگر ملتی جلتی اصناف جیسے کہ فرسودہ فقرات، اقوالِ زریں، نصیحت آموز جملوں اور مشہور اقتباسات کے درمیان واضح فرق کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔)

کہاوت اور ضرب المثل کے موضوع پر کیلی فورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر آرچر ٹیلر (Archer Taylor) سب سے بڑے محقق اور اتھارٹی تصور کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے پروفیسر بی۔ جے۔ وائٹنگ کے ساتھ مل کر کہاوت کی ایک نئی تعریف پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اس الجھن کو سلجھایا جا سکے۔

A saying current among people which summarises a situation and in its own inimitable way passes some sort of judgement on it or characterizes its essence.

(لوگوں میں رائج ایسا مقولہ یا کہاوت جو کسی صورتِ حال کا خلاصہ پیش کرے اور اپنے منفرد انداز میں اس پر کوئی نہ کوئی رائے دے یا اس کی اصل حقیقت اور جوہر کو نمایاں کرے۔)

اس تناظر میں سوال یہ نہیں رہتا کہ کہاوت میں اختصار، زورِ بیان، معنویت، صداقت اور قبولِ عام جیسی خوبیاں پائی جاتی ہیں یا نہیں، کیونکہ یہ عناصر تو بہت سے اشعار، بزرگوں کے اقوال اور سیاسی ملفوظات میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہی مشترک خصوصیات کی بنیاد پر کہاوت کو دیگر اقسامِ اظہار سے الگ اور ممتاز کس طرح قرار دیا جائے۔ اسی لیے محض ان اوصاف کو سامنے رکھ کر کی گئی تعریفیں کہاوت کی جامع اور حتمی شناخت فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر کہاوت کسی نہ کسی عمومی صداقت اور اجتماعی تجربے کی نمائندہ ہوتی ہے، اور اسی بنیاد پر وہ عوام میں مقبولیت حاصل کرتی ہے۔ لیکن صرف یہ کہنا کہ کوئی جملہ سچا ہے اور لوگوں میں مقبول بھی ہے، اسے لازماً کہاوت نہیں بنا دیتا۔ ہم روزمرہ زندگی میں بزرگوں کے بے شمار اقوال اور شاعری کے ایسے مصرعے دیکھتے ہیں جو نہ صرف سچے ہیں بلکہ زبان زدِ عام بھی ہیں، اس کے باوجود ہم انہیں تکنیکی اعتبار سے کہاوت کے دائرے میں شامل نہیں کرتے۔

اس فرق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کہاوت محض ایک بامعنی یا اثرانگیز جملہ نہیں ہوتی بلکہ وہ صورتِ حال کا خلاصہ اور اس پر اجتماعی فیصلہ یا تبصرہ بھی پیش کرتی ہے۔ شعر یا قول اکثر کسی فرد کے احساس، تجربے یا فکری مؤقف کا اظہار ہوتا ہے، جبکہ کہاوت فرد کی سطح سے بلند ہو کر سماج کے مجموعی شعور کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کہاوت کی انفرادی حیثیت قائم ہوتی ہے۔

پروفیسر رے بی براؤن کا یہ اعتراف نہایت اہم ہے کہ روایتی تعریفیں کہاوت کو کلیشے، اقوالِ زریں اور معروف اقتباسات سے الگ کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ اسی کمزوری کو دور کرنے کے لیے آرچر ٹیلر اور بی۔ جے۔ وائٹنگ نے کہاوت کی ایسی تعریف پیش کی جس میں رواجِ عام، صورتِ حال کا خلاصہ اور منفرد انداز میں فیصلہ یا جوہر کی نشان دہی کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔

چنانچہ اس تعریف کی روشنی میں کہاوت کو اشعار اور اقوال سے یوں ممتاز کیا جا سکتا ہے کہ کہاوت کسی خاص قائل یا متن کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ ہر نئی صورتِ حال میں خود کو ازسرِنو منطبق کر لیتی ہے۔ وہ نہ صرف واقعے کو سمیٹتی ہے بلکہ اس پر ایک عمومی، اجتماعی اور غیرشخصی رائے بھی قائم کرتی ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو کہاوت کو دیگر اقوال اور ملفوظات سے الگ اور ممتاز بناتا ہے۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں