مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

جوش ملیح آبادی کی نظم نگاری کا تنقیدی جائزہ

جوش ملیح آبادی کی نظم نگاری: رومانیت، انقلاب اور فطرت کا حسین امتزاج تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو ادب کے آسمان پر جب بھی بلند آہنگ اور پرشکوہ الفاظ کا ذکر آتا ہے تو ان نمایاں شخصیات میں شبیر حسن خان کا نام سر فہرست دکھائی دیتا ہے، جنہیں دنیا جوش ملیح آبادی کے نام سے جانتی ہے۔ اردو کی جدید نظم کو حالی اور محمد حسین آزاد کے دور سے نکال کر ایک نئی رفتار اور توانائی بخشنے میں جوش کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جوش ملیح آبادی کی نظم نگاری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس میں جذبہ، روانی، اور مشاہدے کی وہ کمال فنکاری موجود ہے جو غزل کو خیرباد کہہ کر نظم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے والے اس عظیم شاعر کا طرہ امتیاز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جوش ملیح آبادی کی شاعری کا تنقیدی جائزہ

اپنی شہرہ آفاق خودنوشت ‘یادوں کی برات’ سے لے کر شاہکار نظم ‘جنگل کی شہزادی’ تک، جوش کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ وہ زبان و بیان پر غیر معمولی دسترس رکھتے تھے۔ ان کے پاس الفاظ کا ایک ایسا وسیع ذخیرہ تھا جس کے ذریعے وہ ایک سادہ سے خیال کو بھی تشبیہات اور تمثیلات کے رنگ و روغن سے سجا کر شاہکار بنا دیتے تھے۔

جوش ملیح آبادی: خاندانی پس منظر اور سوانحی خاکہ

جوش ملیح آبادی کی پیدائش 5 دسمبر 1898 کو اتر پردیش کے مشہور قصبے ملیح آباد میں ہوئی۔ ان کا اصل نام شبیر حسن خان اور تخلص جوش تھا۔ ان کا تعلق ایک ایسے زمیندار اور علم دوست خاندان سے تھا جہاں ادب اور شاعری کی روایت نسل در نسل چلی آ رہی تھی۔

  • ان کے پردادا فقیر محمد خان گویا ایک معروف شاعر تھے۔
  • دادا کا نام محمد احمد خان احمد تھا۔
  • ان کے والد بشیر احمد خان بشیر بھی شعر و سخن کا ستھرا ذوق رکھتے تھے۔

تعلیم اور عملی زندگی کا آغاز

جوش کی ابتدائی تعلیم روایتی طرز پر گھر پر ہی ہوئی، جہاں انہوں نے اردو، فارسی اور عربی میں مہارت حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے آگرہ، علی گڑھ اور لکھنؤ کا رخ کیا لیکن والد کے جلد انتقال کے باعث ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔

1924 میں وہ حیدرآباد دکن چلے گئے، جہاں مصور پاکستان علامہ اقبال کی سفارش پر انہیں جامعہ عثمانیہ کے ‘دارالترجمہ’ میں ملازمت مل گئی۔ دس برس تک وہاں خدمات انجام دینے کے بعد، حیدرآباد کے نواب سے اختلافات کی بنا پر انہیں ریاست بدر کر دیا گیا۔ وہاں سے وہ دہلی آئے اور ‘کلیم’ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا جو چار سال تک شائع ہوتا رہا۔ کچھ عرصہ وہ ممبئی کی فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے اور بعد ازاں مشہور سرکاری رسالے ‘آجکل’ کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے۔ ہندوستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنونیت اور دیگر وجوہات کی بنا پر، تقسیم ہند کے کچھ عرصہ بعد 1955 میں جوش پاکستان ہجرت کر گئے۔ ان کا انتقال 22 فروری 1982 کو اسلام آباد میں ہوا۔

جوش ملیح آبادی کی ادبی خدمات اور شاہکار تصانیف

جوش نے اپنی طویل عمر میں اردو زبان و ادب کی جو گراں قدر خدمت کی، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں 1955 میں پدم بھوشن کے اعلیٰ سول اعزاز سے نوازا۔ جوش کی مشہور کتابوں اور شعری مجموعوں میں درج ذیل نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں:

  • روح ادب
  • نقش و نگار
  • شعلہ و شبنم
  • آیات و نغمات
  • عرش و فرش
  • جنون و حکمت
  • حرف و حکایت
  • سنبل و سلاسل
  • سیف و سبو
  • سرود و خروش
  • سموم و صبا
  • طلوع فکر
  • الہام و افکار
  • نجوم و جواہر
  • آواز حق
  • جذبات فطرت اور مشہور زمانہ خودنوشت یادوں کی برات۔

جوش ملیح آبادی کی نظم نگاری کا تفصیلی جائزہ

جدید اردو نظم نگاری کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچانے میں اختر شیرانی، حفیظ جالندھری، عظمت اللہ خان اور احسان دانش کے ساتھ ساتھ جوش ملیح آبادی کا نام سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ جوش ملیح آبادی کی نظم نگاری میں موضوعات کا ایک وسیع کینوس موجود ہے۔ ان کی شاعری بنیادی طور پر دو بڑے اور نمایاں رنگوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے: رومانیت اور انقلاب۔

رومانیت اور شباب کا جادو: "شاعر شباب”

جوش کی شاعری کا پہلا اور نمایاں ترین رنگ رومانیت کا ہے۔ ان کی نظموں میں جوانی کی امنگ، حسن پرستی، اور جمالیاتی احساس کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے، جس کی بدولت انہیں "شاعر شباب” اور "شاعر رومان” کے خطابات ملے۔ ان کے قلم کی روانی اتنی غضب کی ہے کہ قاری اس کے بہاؤ میں بہتا چلا جاتا ہے۔

ان کی شاہکار نظم ‘جنگل کی شہزادی’ اس رومانی رنگ و آہنگ، منظر نگاری اور قادر الکلامی کی بہترین مثال ہے۔ ریل کے سفر کے دوران ایک میدان میں کھڑی لڑکی کو دیکھ کر جوش کے قلم سے جو منظر کشی ہوتی ہے، وہ ملاحظہ کریں:

"کانٹوں پہ خوبصورت اک بانسری پڑی ہے
دیکھا کہ ایک لڑکی میدان میں کھڑی ہے
زاہد فریب، گل رخ، کافر، دراز مژگاں
سیمیں بدن، پری رخ، نوخیز، حشر ساماں
چہرے پر رنگ تمکیں ، آنکھوں میں بے قراری
ایمائے سینہ کوبی، فرمانِ بادہ خواری
لوہا تپانے والی جلووں کی ضوفشانی
سکے بٹھانی والی اٹھتی ہوئی جوانی
ڈوبے ہوئے سب اعضا حسن مناسبت میں”

اور اسی نظم کے اختتام پر وہ اپنی شدید خواہش کا اظہار یوں کرتے ہیں:

"تصنیف ہوں ہزاروں چھتے ہوئے فسانے
ان انکھڑیوں کی زد پر کانپیں شراب خانے
تیرے پجاریوں میں میرا بھی نام ہوتا
اے کاش جنگلوں میں میر اقیام ہوتا”

انقلاب اور بغاوت کی للکار: "شاعر انقلاب”

جوش کی شخصیت کا دوسرا اور سب سے توانا پہلو ان کا انقلابی رنگ ہے۔ انہوں نے برصغیر پر قابض انگریز سامراج کے جبر، کسانوں اور مزدوروں کی مظلومیت کو شدت سے محسوس کیا اور اس کے خلاف اپنی شاعری کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ ان کے اسی باغیانہ اور سامراج دشمن لہجے نے انہیں "شاعر انقلاب” کا معتبر لقب عطا کیا۔

ان کی انقلابی شاعری محض نعرہ بازی نہیں تھی بلکہ اس میں رومانیت کی چاشنی بھی شامل تھی جس نے قاری کے لیے اس میں ایک خاص قسم کی کشش پیدا کر دی۔ شاہد ماہلی جوش کی اسی انقلابی اور سماجی سوچ کے بارے میں رقم طراز ہیں:

"جوش ملیح آبادی بیسوی صدی کے ان عظیم شاعروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی انقلابی شاعری سے الگ پہچان بنائی۔ جوش نے ایک طویل دور میں جو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا ہے ہماری ادبی، سیاسی و سماجی رجحانات کو اپنی شاعری کے ذریعہ متاثر کیا ہے۔ جوش کی شخصیت اس اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ انہوں نے قدیم جاگیر دارانہ نظام کے بر خلاف نئے سوشلسٹ نظام سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ جوش شروع سے آخر تک مشترکہ قومیت اور متحدہ ہندوستان کے حامی رہے اور جب وہ ۱۹۵۵ء میں پاکستان چلے گئے تب بھی ایسا نہیں تھا کہ ان کا نقطہ نظر بدلا ہو۔”

ان کی انقلابی نظموں میں ‘شکست زنداں کا خواب’، ‘کسان’، اور ‘ترانہ آزادی’ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جب انگریزوں نے ہندوستانیوں سے مدد طلب کی، تو جوش کی غیرت ملی نے جوش مارا۔ ان کی مشہور نظم ‘ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں کے نام’ ان کے انقلابی غیظ و غضب کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس کے چند اشعار ملاحظہ کریں:

"ہاتھ ہے ہٹلر کارخش خود سری کی باگ پر
تیخ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پر
سخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکر
نوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکر
جب یہاں آئے تھے تم سودا گری کے واسطے
نوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھے
ہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھی
سچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھی”

اس طنطنے اور گھن گرج سے بھرپور نظم کے پس منظر کے حوالے سے جوش کا اپنا بیان تاریخ کا حصہ ہے:

"لکھنؤ کے گورنر کی تقریر ریڈیو پر سن رہا تھا۔ جس میں اہل ہند سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ انسانیت کے مستقبل کو بچانے کی خاطر جنگ عظیم میں برطانیہ کی مدد پر کمر بستہ ہو جائیں اس وقت میں نے یہ نظم ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب کے نام سے پندرہ منٹ کے اندر کہہ ڈالی۔”

مناظرِ قدرت کی عکاسی: "شاعر فطرت”

جوش کی شاعری کا ایک اور روشن باب ان کی فطرت نگاری ہے۔ انہوں نے مظاہرِ قدرت کو نہایت دلکش اور سحر انگیز انداز میں پیش کیا۔ صبح کی پو پھٹنے کا منظر ہو یا رات کا سناٹا، برسات کی جھڑی ہو یا ساون کا مہینہ، جوش کی قلمی تصویریں قاری کو مسحور کر دیتی ہیں۔ ان کی مناظر فطرت کی عکاسی کی مہارت کو دیکھتے ہوئے انہیں "شاعر فطرت” بھی کہا گیا۔ مشہور نقاد خلیل الرحمن اعظمی ان کی اس صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"جوش نے مناظر فطرت پر جس کثرت سے نظمیں لکھی ہیں اس کی مثال پوری اردو شاعری میں نہیں ملے گی۔”

اس زمرے میں ان کی نظمیں ‘بدلی کا چاند’، ‘تاجدار صبح’، ‘البیلی صبح’، ‘برسات کی چاندنی’ اور ‘آبشار نغمہ’ قابلِ ستائش ہیں۔

حسن و عشق کے تصورات

جوش کی عشقیہ شاعری ان کی فطری جمالیاتی حس کی ترجمان ہے۔ وہ حسن کی ہر ادا کو رنگین اور مسحور کن انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ‘مہترانی’، ‘مالن’، ‘اٹھتی جوانی’، ‘جوانی کے دن’ اور ‘پہلی مفارقت’ جیسی نظموں میں انہوں نے نشاطیہ لب و لہجے کا استعمال کر کے اردو شاعری کو قدیم روایتی ‘آہ و فغاں’ اور رونے دھونے والے ماحول سے نکال کر ایک نئی سمت دی۔
تاہم، بعض نقادوں کے نزدیک جوش کا تصورِ عشق قدرے سطحی اور لمحاتی ہے۔ ان کے ہاں ہجر کی وہ تڑپ یا خلوص کی وہ آگ محسوس نہیں ہوتی جو میر یا غالب کے ہاں ملتی ہے۔ ان کا عشق وقتی لطف اندوزی اور حسن کی ظاہری پرستش تک محدود نظر آتا ہے۔

جوش کی شاعری کی فنی خصوصیات اور اسلوب بیان

الفاظ کا جادو اور ذخیرہ الفاظ
جوش کو بجا طور پر "لفظوں کا بادشاہ” کہا جاتا ہے۔ ان کے ہاں الفاظ کی کثرت (بعض اوقات معانی پر غالب آتی ہوئی) نظر آتی ہے۔ عوامی اور نامانوس الفاظ کو بھی وہ اس ہنرمندی سے استعمال کرتے ہیں کہ وہ سماعتوں پر گراں نہیں گزرتے۔

لب و لہجے کا تنوع
جوش ملیح آبادی کی نظم نگاری کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ دو مختلف لہجوں کے مالک تھے۔ جب وہ رومانی اور غیر سیاسی موضوعات پر لکھتے ہیں، تو ان کے لہجے میں ایک دھیما پن، غنائیت اور لطافت ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ سیاسی اور انقلابی موضوعات پر آتے ہیں، ان کا لب و لہجہ بلند آہنگ ہو جاتا ہے اور تکرارِ لفظی سے وہ ایک خاص قسم کی گونج اور گھن گرج پیدا کر دیتے ہیں۔

تشبیہات و استعارات کا برمحل استعمال
جوش کا کمال یہ ہے کہ وہ معمولی خیالات کو بھی اپنی نادر تراکیب، استعارات اور تشبیہات کے لباس میں ملبوس کر کے انتہائی پرکشش بنا دیتے ہیں۔ گویا ان کی شاعری ایک سادہ عمارت ہے جسے وہ اپنے فنی رنگ و روغن سے ایک شاندار محل میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

فکری پہلو: اشتراکیت، انسانیت اور مذہب

فکری اعتبار سے، جوش ایک اشتراکی (Socialist) ذہن کے مالک تھے۔ چونکہ وہ خود ایک جاگیردارانہ پس منظر سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے ان کی شخصیت میں جاگیردارانہ انانیت، خود پسندی اور حسن پرستی موجود تھی، لیکن ساتھ ہی وہ اس استحصالی نظام کے سخت ناقد بھی تھے۔ وہ مزدوروں اور کسانوں کے حامی تھے اور سرمایہ دارانہ نظام سے انہیں شدید نفرت تھی۔
انہوں نے مذہب اور روایات کو ہمیشہ عقل کی کسوٹی پر پرکھا اور شدت پسندی کی سختی سے مخالفت کی۔ تاہم، کچھ محققین کا ماننا ہے کہ جوش کے ہاں اقبال جیسی گہری فلسفیانہ بصیرت نہیں تھی۔ ان کا انقلاب اکثر اوقات شدید جذباتیت کا نتیجہ ہوتا تھا، جس میں تخریب اور پرانی عمارت کو گرانے کا جوش تو تھا، لیکن کسی نئی تعمیر کا کوئی واضح اور ٹھوس خاکہ موجود نہیں تھا۔

مختصر یہ کہ، جوش ملیح آبادی کی نظم نگاری اردو ادب کا وہ بیش قیمت سرمایہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی انقلابی بلند آہنگی، لفظی صناعی، اور منظر نگاری نے جدید اردو نظم کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ آزادیِ ہند کے متوالے، انسانیت کے علمبردار اور اردو زبان کے سچے عاشق تھے۔ ان کی خدمات کو تاریخِ ادب میں ہمیشہ آبِ زر سے لکھا جائے گا۔

نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی
ڈجکوٹ فیصل آباد، فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات)،متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں