جیلانی بانو کی افسانہ نگاری: سماجی جبر، سیاست اور نسائی احساس کا سنگم، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
اردو افسانے کی تاریخ میں جیلانی بانو کا نام ایک توانا اور منفرد آواز کے طور پر گونجتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں خاندانی اقدار اور روایتی حد بندیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، وہاں جیلانی بانو نے اپنے قلم سے ان حقائق کی ایسی تصویر کشی کی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
ان کی تخلیقات محض عورتوں کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے اپنے افسانوں میں وقت کے سیاسی انتشار، خود غرضی اور مکر و فریب کو بھی نہایت فنکاری سے سمویا ہے۔
افسانوں میں سیاسی شعور اور خونچکاں حقائق
جیلانی بانو کے ہاں جدید دور کی سیاسی چال بازیوں کا گہرا شعور ملتا ہے۔ ان کے افسانے جیسے ”بات پھولوں کی“، ”دشتِ کربلا سے دور“، ”وہ آرہا ہے“ اور ”کتوں سے خبردار“ ایسے شاہکار ہیں جہاں خونی مناظر کے پسِ پرده چھپے تلخ سیاسی حقائق کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
افسانہ ”ایک پوری“ اور اقتدار کی ہوس
ان کے افسانہ ”ایک پوری“ کو ہی لیجئے، جس میں مصنفہ نے سیاسی خود غرضی اور انتظامیہ کی بے حسی کو موضوع بنایا ہے۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح پولیس کے اعلیٰ افسران (جنہیں سماج کا محافظ سمجھا جاتا ہے) اپنی کرسی اور نوکری بچانے کے لیے بے گناہ اور معصوم افراد کی بلی چڑھا دیتے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت اور تفتیشی ادارے آنکھوں پر پٹی باندھے ان جھوٹے محافظوں کی رپورٹ پر یقین کر لیتے ہیں۔ یہ افسانہ طاقت کے ایوانوں میں ہونے والی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
فنی انفرادیت اور ناقدین کی رائے
جیلانی بانو کا اسلوب (Style) پیچیدہ ہونے کے باوجود انتہائی دلکش ہے۔ وہ پلاٹ کی بنتر (Weaving) اس مہارت سے کرتی ہیں کہ کہیں بھی جھول محسوس نہیں ہوتا۔ کردار نگاری ہو یا منظر نگاری، ہر چیز نپے تلے انداز میں سامنے آتی ہے۔
نامور ناقد وہاب اشرفی جیلانی بانو کے فن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ان کے یہاں افسانے کا جو اختصار ہے اس میں ستم ظریفی (Irony) اور قولِ محال (Paradox) کا بڑا دخل رہتا ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے افسانے کا پہلا جملہ ہی افسانے کی فضا پر حاوی ہو جاتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ ایک جملہ نہیں بلکہ سرتا سر افسانے کا ہر جملہ ان کے یہاں کوئی نہ کوئی معنی پیش کرتا ہے۔“
مشرف علی, جیلانی بانو کی ناول نگاری کا تنقیدی مطالعہ عفیف پرنٹرس دہلی ۲۰۰۳۰ ء ص ۱۰۸
اس رائے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیلانی بانو کا کینوس وسیع ہے اور وہ سماجی و سیاسی مسائل کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔
نسائی شعور (Feminism) اور حیدرآبادی معاشرہ
جیلانی بانو نے جس دور میں قلم اٹھایا، وہ اردو فکشن کا عہدِ زریں تھا۔ اس وقت منٹو، کرشن چندر، بیدی، عصمت چغتائی اور انتظار حسین جیسے قد آور ادیب موجود تھے۔ ایسے میں اپنی الگ شناخت بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، مگر جیلانی بانو نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔
انہوں نے خاص طور پر حیدرآباد کے جاگیردارانہ نظام کی ٹوٹی ہوئی اقدار اور وہاں عورتوں پر ہونے والے ظلم کو اپنی کہانیوں کا محور بنایا۔ ان کے افسانوں میں عورت ایک مزاحمتی کردار کے طور پر ابھرتی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ عورتیں بے باک ہو کر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں۔
مجموعہ ”روشنی کے مینار“: نفسیاتی اور معاشی مسائل
ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”روشنی کے مینار“ پندرہ افسانوں پر مشتمل ہے، جو عورتوں کی نفسیات اور غریب محنت کشوں کی حالتِ زار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس مجموعے کے چند اہم افسانے درج ذیل ہیں:
- موم کی مریم
- ڈریم لینڈ
- مٹی کی گڑیا
- مجبور
ان کہانیوں میں عورت کی قربانی اور دکھ درد کو محسوساتی سطح پر بیان کیا گیا ہے۔
اسلوب احمد انصاری جیلانی بانو کے فنی لوازمات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
”جیلانی بانو اپنے افسانوں کے لیے مواد گرد و پیش بالخصوص خانگی زندگی کے جھمیلوں سے اخذ کرتی ہیں۔ وہ تاریخ، فلسفے یا اساطیری جیسی بیساکھیوں کے سہارے نہیں چلتیں بلکہ اپنے مخصوص تجربے یعنی Felt Experience پر تکیہ کرتی ہیں۔ نہ انہوں نے افسانے کی تکنیک میں بالعموم کوئی تجربہ کیا ہے لیکن ان کی افسانوی ہئیت بہت پرکشش اور معتبر ہے۔“
اسلوب احمد انصاری نقد و جلد شماره ۱۹۸۱ ء ندارد
تکنیکی تنوع: خود کلامی اور فلیش بیک
مصنفہ نے اپنی کہانیوں میں خود کلامی (Monologue)، تشبیہات اور استعارات کا خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ افسانہ ”موم کی مریم“ میں ”فلیش بیک“ کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے ایک ایسے سماج کا پردہ چاک کیا گیا ہے جہاں بیٹی کی پیدائش کو ”عیب“ سمجھا جاتا ہے۔
”موم کی مریم“: قدسیہ کا المیہ
اس افسانے کا مرکزی کردار قدسیہ ہے، جو اپنے والدین کی گیارہویں اولاد ہے۔ اس کی پیدائش پر گھر میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔ حالانکہ بیٹیاں ہی والدین کی اصل غمگسار ہوتی ہیں، مگر قدسیہ کو قدم قدم پر ٹھکرایا جاتا ہے۔
- وہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی ہے مگر ناکام رہتی ہے۔
- اس کے ماموں شمیم اور دیگر مرد (ناصر، ریاض) اس کی معصومیت کا جذباتی استحصال کرتے ہیں۔
- بالآخر وہ اپنے شرابی کزن اطہر سے شادی کرتی ہے اور اسے سدھارنے کے لیے لکھنؤ جا کر ملازمت کرتی ہے۔
قدسیہ خود کو مٹا کر اطہر کو نئی زندگی دیتی ہے۔ اس کی موت پر احمد بھائی کا یہ مکالمہ دل کو چیر دیتا ہے:
”کیا سچ مچ تم کسی معمولی سی بیماری سے مرگئیں! اس چھوٹی سی بیماری کو اپنے نازک جسم پر سہہ نہ سکیں اور اس بیماری کا علاج کسی سے نہ ہو سکا۔ اطہر سے بھی نہیں۔ تمہیں اپنی شکست پر آنسو نہ بہانا چاہیے کیوں کہ اطہر کو تم نے وہ تحفہ دے دیا ہے جس کے لیے تم زندگی بھر سرگرداں رہیں اور چپ چاپ اندھیرے میں کھو گئیں۔“
رضیہ سجاد ظہیر اردو افسانہ ایک مختصر جائزہ ندارد ص ۱۰۰-۹۹
جنسی اور اخلاقی استحصال کی داستانیں
جیلانی بانو کے دیگر افسانے جیسے ”دیوداسی“، ”سیاسی چڑیا“ اور ”تلچھٹ“ عورت کے جنسی و ذہنی استحصال کی گواہی دیتے ہیں۔
بے جوڑ شادیاں اور علامتی کہانیاں
- بے مصرف ہاتھ: یہ افسانہ بے جوڑ شادیوں کے سنگین مسئلے پر مبنی ہے۔ ہیروئن عشق میں ناکامی کے بعد اپنا چہرہ بگاڑ لیتی ہے، جو سماجی جبر کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہے۔
- سنہرا ہرن: یہ ایک علامتی کہانی ہے جس میں ان عورتوں پر طنز کیا گیا ہے جو گھر کی چار دیواری میں سکون تلاش کرتے کرتے اپنی ذات اور عزتِ نفس کھو دیتی ہیں۔
- ایک انار: یہاں ایک مسلم گھرانے کی کہانی بیان کی گئی ہے جہاں نئی نسل تعلیم کی بدولت ذات پات کے فرسودہ نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔
افسانہ ”میں“: شناخت کا بحران اور ممتا
افسانہ ”میں“ میں جیلانی بانو نے ”خود کلامی“ کی تکنیک کا بہترین استعمال کیا ہے۔ کہانی کا راوی عامر ہے، جو بچپن میں ریل کے سفر کے دوران گم ہو جاتا ہے۔ برسوں بعد جب وہ واپس ملتا ہے تو اس کی سگی ماں شک کا شکار ہو جاتی ہے کہ آیا یہ وہی بیٹا ہے یا کوئی اور۔
ماں کا یہ رویہ عامر کی شخصیت کو توڑ پھوڑ دیتا ہے۔ وہ گھر چھوڑ کر ”اصلی عامر“ کی تلاش میں نکلتا ہے۔ یہ کہانی ممتا اور شناخت کے بحران (Identity Crisis) کی نہایت نفسیاتی تصویر ہے۔
”مٹی کی گڑیا“: وفاداری کا المناک انجام
افسانہ ”مٹی کی گڑیا“ عورت کی ایثار و قربانی کی انتہا ہے۔ اس کا کردار ورالکشمی ایک اپاہج کمہار ملیشم سے شادی کرتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کی ہر خوشی ملیشم پر نچھاور کر دیتی ہے تاکہ اس کی زندگی سنور سکے۔
مگر بدلے میں کیا ملتا ہے؟ ملیشم اپنی شیطانی فطرت سے باز نہیں آتا اور ورالکشمی کو مٹی کی گڑیا کی طرح محض سو روپے کے عوض بیچ دیتا ہے۔ ورالکشمی اپنی عزت اور وفا کو مٹی میں ملتا دیکھ کر بھی خاموش رہتی ہے۔ یہ افسانہ سماج کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
جیلانی بانو محض کہانی کار نہیں بلکہ وہ انسانی نفسیات اور سماجی ناہمواریوں کی نبض شناس ہیں۔ ان کے افسانے قاری کو تفریح نہیں بلکہ فکر کی دعوت دیتے ہیں، اور یہی ان کے فن کا کمال ہے۔
نظر ثانی و تصحیح: کشف زمان ، گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد
