مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اسم کی اقسام بلحاظ معنی

اسم کی اقسام بلحاظ معنی تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو قواعد میں جب ہم کسی "اسم” (Noun) کا مطالعہ کرتے ہیں تو معنی کے لحاظ سے اسے بنیادی طور پر دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

یہ دو اقسام درج ذیل ہیں:

  1. اسمِ نکرہ
  2. اسمِ معرفہ

ذیل میں ان دونوں کی تفصیل اور مثالیں ملاحظہ کریں:

1. اسمِ نکرہ (Common Noun)

یہ بھی پڑھیں: اسم مشتق کی تعریف اور اقسام

یہ وہ اسم ہے جو کسی عام چیز، عام شخص یا عام جگہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ کسی مخصوص نام کی بجائے پوری جنس یا گروہ کی نمائندگی کرتا ہے۔

عام مثالیں:

  • کرسی
  • عورت
  • دریا
  • شہر

جملوں میں استعمال:
اسمِ نکرہ کو سمجھنے کے لیے درج ذیل جملوں پر غور کریں:

  • لڑکی گانا گا رہی ہے۔
  • قلم میز پر رکھا ہے۔
  • میں نے ایک کتاب خریدی۔

وضاحت:
مندرجہ بالا مثالوں میں خط کشیدہ الفاظ (یعنی لڑکی، قلم اور کتاب) کسی خاص نام کو ظاہر نہیں کر رہے بلکہ یہ عام شخص، عام چیز اور عام جگہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ لہٰذا، قواعد کی رو سے یہ الفاظ "اسمِ نکرہ” کہلائیں گے۔

2. اسمِ معرفہ (Proper Noun)

اس کے برعکس، ایسے اسماء جو کسی خاص شخص، خاص جگہ یا خاص چیز کی پہچان کرائیں، انہیں "اسمِ معرفہ” کہا جاتا ہے۔ یہ نام اس چیز یا شخص کو دوسروں سے منفرد بناتے ہیں۔

جملوں میں استعمال:
اسمِ معرفہ کی وضاحت کے لیے یہ مثالیں دیکھیں:

  • قرآن مجید ایک مقدس کتاب ہے۔
  • محمد علی جناح ہمارے قومی رہنما ہیں۔
  • مینارِ پاکستان آزادی کا نشان ہے۔

وضاحت:
ان جملوں میں نمایاں کیے گئے الفاظ (یعنی قرآن مجید، محمد علی جناح اور مینارِ پاکستان) عام نہیں ہیں، بلکہ یہ:

  • ایک خاص کتاب،
  • ایک خاص شخصیت،
  • اور ایک خاص جگہ کا نام ہیں۔

چونکہ یہ مخصوص نام ہیں، اس لیے گرائمر میں یہ "اسمِ معرفہ” کے زمرے میں آئیں گے۔


اسم کی اقسام (بناوٹ کے لحاظ سے)

(نوٹ: معنی کے علاوہ اسم کی تقسیم بناوٹ یا ساخت کے اعتبار سے بھی کی جاتی ہے، جس کا ذکر اگلے حصے میں آئے گا)۔

نظرِ ثانی:
مجاہد حسین شاہ
معلمِ اردو
کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں