اسم کی اقسام بلحاظ بناوٹ یا ساخت تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
جس طرح معنی کے لحاظ سے اسم کی اقسام ہیں، اسی طرح بناوٹ (Structure) کے لحاظ سے بھی اسم کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ گرائمر کو سمجھنے کے لیے ان تینوں کا فرق جاننا انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احمد ندیم قاسمی دیہی زندگی کا سچا ترجمان
بناوٹ کے لحاظ سے اسم کی تین اقسام درج ذیل ہیں:
- اسمِ مصدر
- اسمِ جامد
- اسمِ مشتق
آئیے ان کی تفصیل اور مثالیں دیکھتے ہیں:
1. اسمِ مصدر (Ism-e-Masdar)
اسمِ مصدر وہ خاص اسم ہے جو بذاتِ خود تو کسی دوسرے اسم سے نہیں بنا ہوتا، مگر اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ قواعد و ضوابط کے مطابق اس سے بہت سے نئے الفاظ بنائے جا سکتے ہیں۔ آسان الفاظ میں، یہ نئے الفاظ کی "جڑ” یا "بنیاد” ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسم کی اقسام بلحاظ معنی
مثالیں اور وضاحت:
ذیل میں دیکھیں کہ کیسے ایک مصدر سے کئی الفاظ جنم لیتے ہیں:
- پڑھنا: یہ ایک مصدر ہے، جس سے کئی الفاظ بنتے ہیں جیسے: پڑھو، پڑھی، پڑھے، پڑھتے، پڑھتی وغیرہ۔
- کھانا: اس مصدر سے تخلیق ہونے والے الفاظ: کھاؤ، کھائی، کھائے، کھاتے، کھاتی۔
- لکھنا: اس سے بننے والے الفاظ کی مثالیں: لکھ، لکھو، لکھی، لکھے، لکھتے، لکھتی۔
2. اسمِ جامد (Ism-e-Jamid)
جامد کا مطلب ہے "جما ہوا” یا "ٹھوس”۔ قواعد کی رو سے اسمِ جامد وہ اسم ہے جو نہ تو خود کسی دوسرے اسم سے بنا ہو اور نہ ہی اس سے کوئی نیا اسم بنایا جا سکے۔
یہ الفاظ اپنی اصل حالت میں برقرار رہتے ہیں اور ان سے مزید الفاظ اخذ نہیں کیے جاتے۔
مثالیں:
- کاپی
- دوات
- میز، کرسی، پتھر وغیرہ۔
(ان الفاظ سے گرائمر کے اصولوں کے تحت نئے الفاظ نہیں ڈھالے جا سکتے)۔
3. اسمِ مشتق (Ism-e-Mushtaq)
لفظ "مشتق” کا مطلب ہے "نکلا ہوا”۔ لہٰذا اسمِ مشتق وہ لفظ یا کلمہ ہے جو کسی دوسرے لفظ (یعنی مصدر) سے نکلا ہو۔ اس کے پیچھے ہمیشہ ایک مادہ یا مصدر موجود ہوتا ہے جس سے یہ وجود میں آتا ہے۔
مثالیں:
اسمِ مشتق اور اس کے مصدر کا تعلق ذیل میں ملاحظہ کریں:
- لکھائی (یہ لفظ مصدر "لکھنا” سے نکلا ہے)۔
- پڑھائی (یہ لفظ مصدر "پڑھنا” سے ماخوذ ہے)۔
- جاگ (یہ لفظ مصدر "جاگنا” سے بنا ہے)۔
نظر ثانی و تصحیح: کشف زمان بی ایس اردو میقات ہشتم
