انتظار حسین کے افسانوں میں علامت نگاری، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی تاریخ میں انتظار حسین کا نام ایک ایسے رجحان ساز افسانہ نگار کے طور پر زندہ ہے جنہوں نے اردو افسانے کو محض قصہ گوئی سے نکال کر علامتیت (Symbolism) کی ایک نئی جہت عطا کی۔
ان کا اسلوب روایتی ڈھرے سے ہٹ کر بھی ہے اور قدیم روایت سے جڑا ہوا بھی۔یعنی ان کے ہاں پرانی اور نئی شراب کا آمیزہ ہے۔ وہ جدید افسانے کو ایک ایسا نیا رنگ و آہنگ دیتے ہیں جس میں افسانے کا قدیم ڈھانچہ ٹوٹنے نہیں پاتا بلکہ مزید مستحکم ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتظار حسین کی افسانہ نگاری بحوالہ احتجاج
ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ولایتی شراب جام سفال میں ڈال کر پلاتے ہیں۔
ان کی کہانیوں کے تانے بانے ہجرت کے دکھ، ماضی کی بازگشت اور عہدِ حاضر کے انسان کو درپیش مصائب سے بنتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ علامتی پیرایہ اظہار ہونے کے باوجود ان کے پلاٹ میں جھول نہیں آتا بلکہ واقعات کا ایک منطقی تسلسل برقرار رہتا ہے۔
اہم افسانے اور کہانی پن
کہانی کہنے اور سننے کی چیز ہے
انتظار حسین کے ہاں کہانی کہنے کا عمل (Storytelling) انتہائی مضبوط ہے۔ ان کے درج ذیل افسانے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ علامت کے ساتھ ساتھ "کہانی پن” کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے:
- تر ناری
- شہرِ افسوس
- زرد کتا
- آخری آدمی
- محل والے
- کٹا ہوا ڈبہ
ان تمام افسانوں میں پلاٹ کا ربط اور بہاؤ قاری کو باندھے رکھتا ہے۔ نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں کے مصداق قاری افسانہ ختم کر کے ہی دم لیتا ہے۔
کردار نگاری: اساطیر اور عہدِ حاضر کا سنگم
انتظار حسین کی کردار نگاری اردو افسانے میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان کا فن یہ ہے کہ وہ اپنے دور کے بے جان اور کھوکھلے انسانوں میں جان ڈالنے کے لیے قدیم اساطیر (Mythology)، دیو مالائی داستانوں اور لوک کہانیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ آج کے دور کی بے معنویت، اخلاقی زوال اور شناخت کے بحران کو دکھانے کے لیے ماضی کے کرداروں کی روح کو حال کے انسانوں میں پھونک دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دالفریب انداز ہے جو ہجرت کے المیے اور تہذیبی زوال کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
انسانیت کا حیوانی روپ (Metamorphosis)
عہدِ حاضر کے سماجی اور معاشرتی زوال کو ظاہر کرنے کے لیے انتظار حسین نے بعض افسانوں میں انسانوں کو جانوروں کے روپ میں پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر:
- آخری آدمی: اس میں کردار "بندر” کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
- زرد کتا: یہاں کتے کی علامت استعمال کی گئی ہے۔
- کایا کلپ: اس افسانے میں مکھی جیسے حیوانی کردار ملتے ہیں۔
یہ تبدیلیاں دراصل انسان کا باطن مسخ ہونے کی نشانیاں ہیں۔ وہ علامتوں کے استعمال میں بڑے مشاق کپتان کی طرح ہاتھ میں کمپس تھامے ہوئے منزل کی جانب راہنمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بے نام کردار
ان کے افسانوں کی ایک اور خاصیت کرداروں کا "بے نام” ہونا ہے۔ وہ اکثر کرداروں کو ان کے حلیے یا ترتیب سے پکارتے ہیں، جیسے:
- زخمی سر والا نوجوان
- باریش آدمی
- ھیلے والا
- پہلا آدمی، دوسرا آدمی، تیسرا آدمی وغیرہ جس سے کردار کی معنویت دو آتشہ ہو جاتی ہے۔
مکالمہ نگاری اور ماحول
انتظار حسین کے افسانوں میں مکالمے (Dialogue) کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ شاید ہی ان کا کوئی ایسا افسانہ ہو جو مکالموں سے خالی ہو۔ ان کے مکالمے اتنے جاندار ہیں کہ وہ اور ان کے کردار قاری کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں۔ مثلاً افسانہ "آخری آدمی” کا کردار الیاسف ایک مشہور کردار ہے جو آج کے مشینی اور صنعتی دور کے انسان کی نمائندگی کرتا ہے۔حضرت علی(رض) کا قول ہے بولو کہ پہچانے جاؤ انتظار حسین کے مکالمے ان کے کرداروں کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔ گفتگو سے ہی انسان کی پہچان ہوتی ہے۔
وقار عظیم، انتظار حسین کے کرداروں کے حیوانی جون میں ڈھلنے اور ماحول کے ساتھ ان کے تعلق پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"کرداروں اور ماحول میں جو باہمی ربط و تعلق ہے اس کا اندازہ اور احساس بھی افسانہ نگار انتظار حسین نے پوری شدت سے کیا ہے۔ ہر کردار اپنی ایک ایک بات ایک ایک حرکت اپنی شخصیت کی وضاحت کرتا ہے۔ اپنی باتوں سے دوسروں کے کرداروں کو نمایاں بنا کر ہمارے سامنے لاتا ہے اور انھیں باتوں اور حرکتوں سے پورے ماحول کے نقش کو مکمل بنانے میں حصہ لیتا ہے۔ کردار جو کچھ ہے اسے اس کے ماحول نے وہ بنا یا ہے۔”
ص ۲۸۲ مضمون : نیا افسانہ تقسیم کے بعد ، وقار عظیم، کتاب: نیا افسانہ: وقار عظیم
اختصار اور الفاظ کا استعمال
انتظار حسین طوالت کے بجائے ایجاز و اختصار کے قائل ہیں۔ وہ کہانی میں غیر ضروری الفاظ کی بھرتی سے پرہیز کرتے ہیں اور صرف وہی لکھتے ہیں جو ناگزیر ہو۔ الفاظ کے برتاؤ کے حوالے سے ان کا اپنا نظریہ بہت واضح ہے۔
وہ خود اس بابت لکھتے ہیں:
"اچھا لکھنے والا وہ ہے جو جانتا ہے کہ اسے کہاں جا کر تھم جانا ہے۔۔۔۔ لکھتے ہوئے سب سے پہلے زیادہ اسی خیال سے ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ نہ ہو بات پوری ہو جائے اور بیان جاری رہے۔ سو مجھے پھیلانے سے زیادہ سمیٹنے کی فکر رہتی ہے۔۔۔۔ تو بیان کے بارے میں تو تردد کرتا ہوں لکھتے ہوئے اپنے آپ کو ٹوکتا جاتا ہوں کہ نادان اسراف بیجا سے باز آ۔ دولت ہاتھ کا میل ہوتی ہے لفظ ہاتھ کا میل نہیں۔ اتنے خرچ کر جتنوں کی ضرورت پڑتی ہے۔”
ص ۱۰۰ مضمون: ڈیڑھ بات اپنے افسانے پر ، انتظار حسین ، کتاب: انتظار حسین اور ان کے افسانے مرتبہ : گوپی چند نارنگ
وجودیت (Existentialism) اور شناخت کا بحران
انتظار حسین کے کئی افسانوں جیسے "شہرِ افسوس”، "وہ جو کھو گئے” اور "کٹا ہوا ڈبہ” میں وجودیت کی تکنیک نمایاں ہے۔ یہاں انسانی وجود کی تلاش اور شناخت کا مسئلہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
افسانہ "شہرِ افسوس” میں تینوں کردار اپنی پہچان کھو چکے ہیں اور خوفزدہ ہیں۔ وہ اپنی ہی شکل کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ اس افسانے کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے جو شناخت کے اس المیے کو بیان کرتا ہے:
"دوسرے آدمی نے اپنی اسی لہجہ سے عاری آواز میں کہا۔ میں نے اس شکل کو جس پر تھوکا گیا تھا بہت غور سے دیکھا تھا وہ بالکل میری شکل تھی۔ پہلے آدمی نے دوسرے آدمی کو سر سے پیر تک غور سے دیکھا ۔۔۔۔ اور اس نے رکتے رکتے کہا۔ کہیں تو میں تو نہیں ہے۔ میں تو ؟ ۔۔ نہیں، ہرگز نہیں۔ میں نے اپنے آپ کو پہچان لیا تو نے اپنے آپ کو کیا پہچانا ؟ پہلے آدمی نے سوال کیا۔ دوسرے آدمی نے جواب دیا۔ میں وہ ہوں جس کے منہ پر تھوکا گیا ہے۔ یہ پہچان تو میری بھی ہے۔ پہلا آدمی بولا ۔ اور اس سے مجھے یہ شک پڑا کہ شاید تو میں ہو۔”
ص ۲۷۶،۲۷۸، افسانه شہر افسوس انتظار حسین کتاب انتظار حسین اور ان کے افسانے مرتبہ: پروفیسر گوپی چند نارنگ
اس افسانے میں دراصل تقسیمِ ہند اور ہجرت کے بعد پیدا ہونے والے اس خلا کا نوحہ ہے جس نے انسان کو اپنی ہی نظر میں اجنبی بنا دیا ہے۔ چہرے بگڑ چکے ہیں اور فرد اپنی تلاش میں سرگرداں ہے۔
اسی طرح افسانہ "وہ جو کھو گئے” میں چار کردار ہجرت کے سانحے سے بچ کر نکلتے ہیں لیکن نفسیاتی طور پر وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ بار بار ایک دوسرے کو گنتے ہیں اور ہر بار انہیں لگتا ہے کہ کوئی ایک کم ہے۔ انہیں نہ اس گمشدہ شخص کا نام یاد ہے اور نہ جنس۔ انتظار حسین کا فلسفہ یہ ہے کہ انسانی وجود کی بقا کے لیے کسی "گواہ” کا ہونا ضروری ہے، ورنہ شناخت ممکن نہیں۔
بیانیہ تکنیک: داستان اور حکایت
انتظار حسین نے اپنے افسانوں میں بیانیے کے نت نئے تجربات کیے ہیں۔ وہ کبھی واحد متکلم (First Person) کا صیغہ استعمال کرتے ہیں تو کبھی خود کلامی کا۔ ان کے ہاں داستانوی، حکایتی اور ملفوظاتی اسالیب کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔
- شہرِ افسوس: یہ افسانہ داستانوی انداز میں لکھا گیا ہے۔
- آخری آدمی: اس میں ملفوظاتی (مذہبی و صوفیانہ اقوال) طرزِ تحریر اپنایا گیا ہے تاکہ انسان کے روحانی اور باطنی زوال کو دکھایا جا سکے۔
اس کی ایک بہترین مثال "آخری آدمی” کا یہ اقتباس ہے:
"اس شخص نے جو انھیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا کرتا تھا یہ کہا کہ بندر تو تمہارے درمیان موجود ہیں۔ مگر یہ کہ تم دیکھتے نہیں لوگوں نے اس کا برا مانا اور کہا کہ تو ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے اور اس نے کہا کہ بے شک ٹھٹھا تم نے خدا سے کیا کہ اس نے سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا اور تم نے سبت کے دن مچھلیوں کا شکار کیا۔ اور جان لو کہ وہ تم سے بڑا ٹھٹھا کرنے والا ہے۔”
ص ۱۱۸ ، افسانہ آخری آدمی: انتظار حسین ، کتاب گنی چنی کہانیاں: انتظار حسین
اس کے علاوہ "پتے” اور "کچھوے” جیسے افسانوں میں حکایتی اسلوب ملتا ہے۔ یہ دونوں کہانیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ ان میں سندر سمندر کا کردار نمایاں ہے۔ "کچھوے” میں وہ بھکشو بننے کے باوجود دنیاوی لالچ کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ "پتے” میں اس کے بھکشو بننے اور دنیا ترک کرنے کا ذکر ہے۔
انتظار حسین کا یہ فن انہیں اردو افسانے کی تاریخ میں ایک منفرد اور بلند مقام عطا کرتا ہے۔ وہ افسانے کی مسند کے انوکھے اور ممتاز صدر نشین ہیں۔ جہاں وہ ماضی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر حال کا نوحہ بیان کرتے ہیں۔
