مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

انسان سماج اور ادب

انسان سماج اور ادب تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اس وسیع و عریض کائنات میں اگر کسی مخلوق کو مرکزی حیثیت اور ’اشرف المخلوقات‘ کا درجہ حاصل ہے، تو وہ صرف اور صرف انسان ہے۔ لیکن یہ سوال ہمیشہ سے ذہنِ انسانی میں گردش کرتا رہا ہے کہ آخر انسان درحقیقت ہے کیا؟ وہ کون سی ایسی خاصیت ہے جو اسے کائنات کی دیگر تمام مخلوقات پر فضیلت اور فوقیت عطا کرتی ہے؟

یہ ایک ایسا پیچیدہ اور ہمہ جہت سوال ہے جس کا جواب ہر دور اور ہر مکتبہ فکر نے اپنے انداز میں دینے کی کوشش کی ہے۔ خواہ وہ اسلام ہو، سناتن دھرم (ہندومت)، بدھ مت یا عیسائیت، ہر مذہب نے انسانی وجود پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی ہے۔

فلسفیانہ اور دانشورانہ نقطہ نظر

مذاہب کے علاوہ دنیا کے نامور فلسفیوں اور دانشوروں نے بھی انسان کی تعریف اور سماجی حیثیت پر بہت سے نظریات پیش کیے ہیں۔ ان میں ہیگل (Hegel)، نطشے (Nietzsche)، کانٹ (Kant) اور کارل مارکس (Karl Marx) جیسے عظیم مفکرین شامل ہیں۔ اگرچہ ان کے خیالات میں تضاد پایا جاتا ہے، تاہم ان سب کا محور انسان کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہی رہا ہے۔

ان نظریات کی بنیاد پر انسان کی مختلف تعریفیں سامنے آئی ہیں:

  • کسی نے اسے "دو پیروں والا حیوان” کہا۔
  • کسی نے اسے "حیوانِ ناطق” (بولنے والا جانور) کا نام دیا۔
  • بعض دانشوروں کے نزدیک انسان وہ ہے جو غور و فکر کرنے والا ذہن رکھتا ہے۔

تاہم، ان تمام اوصاف کے ساتھ ساتھ انسان ایک مخصوص جسمانی ساخت کا بھی مالک ہے، جو اسے دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔ اسی جسمانی وجود میں جذبہ، احساس، فکر اور دانش کی وہ قوتیں پنہاں ہیں جن کی بدولت انسان اشیاء اور افراد کے ساتھ وابستگی اختیار کرتا ہے، کائنات کے رازوں کو بے نقاب کرتا ہے اور ایجاد و اختراع کے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیتا ہے۔

انسان: لغوی اور اصطلاحی مفہوم

علم الاعضاء (Anatomy) اور علمِ نفسیات کے ماہرین نے انسانی خصوصیات کی بنا پر الگ الگ آراء دی ہیں۔ مختلف لغات (Dictionaries) میں لفظ "انسان” کی تشریح درج ذیل معنوں میں ملتی ہے:

  1. بنی آدم / نوعِ بشر: (Mankind / Human Being)
  2. آدمی: (Person / Man)
  3. رحم دل مخلوق: (Humane)

مذہب اور انسانی فطرت

انسان فطرتاً ایک مذہبی جبلت لے کر پیدا ہوا ہے۔ تاریخ کے ابتدائی ادوار سے ہی یہ ذی شعور مخلوق کسی نہ کسی شکل میں مذہبی عقائد سے جڑی رہی ہے، چاہے وہ عقائد کتنے ہی مبہم کیوں نہ ہوں۔ اپنی لامحدود خواہشات اور محدود وسائل کے درمیان توازن رکھنے کے لیے انسان نے ہمیشہ مذہب کا سہارا لیا ہے۔ جیسے جیسے انسانی تہذیب و تمدن ارتقاء پذیر ہوا، اس کے مذہبی تصورات بھی پختہ اور منطقی ہوتے گئے۔

مذہب کی تعریف:
لفظی اعتبار سے مذہب کا مطلب ‘راستہ’ یا ‘طریقہ’ ہے۔ انگریزی لغت کے مطابق لفظ ‘Religion’ کا مفہوم کچھ یوں ہے:

"کسی مافوق الفطرت قوت کو تسلیم کرتے ہوئے، اس کی اطاعت، تعظیم اور عبادت کرنے کا عمل مذہب کہلاتا ہے۔”
(قومی انگریزی اردو لغت، ڈاکٹر جمیل جالبی، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان پاکستان ، اسلام آباد طلبی چهارم، ص 1663)

آسان الفاظ میں، یہ ایک ایسا روحانی رویہ ہے جس میں انسان ایک با اختیار ہستی (خدا یا دیوتاؤں) پر ایمان لاتا ہے اور اپنی زندگی کو مخصوص متبرک رسوم و رواج اور عبادات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔

انسان: ایک سماجی حیوان (Social Animal)

حقیقت یہ ہے کہ سماج کے بغیر انسان کا تصور بھی محال ہے۔ ماہرینِ سماجیات انسان کو "سماجی حیوان” قرار دیتے ہیں۔ انسان نہ تو تنہا زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ہی تنہائی میں زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔

مشہور یونانی فلسفی ارسطو (Aristotle) کا کہنا ہے کہ:

"انسانوں نے سماج کی تشکیل دراصل اپنی زندگی کی بقا کے لیے کی ہے۔”

ایک خوشگوار اور محفوظ زندگی گزارنے کے لیے انسان کو خوراک، رہائش، لباس اور دیگر ضروریات کے لیے سماج پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا، انسان وہ جاندار ہے جو جنگل کے جانوروں کے برعکس تنہا نہیں، بلکہ سماج کے دیگر افراد کے ساتھ جذباتی، مذہبی اور تہذیبی رشتوں میں بندھ کر زندگی بسر کرتا ہے۔

اسلامی نقطہ نظر اور انسانی امتیازات

اسلامی تعلیمات کے مطابق، خالقِ کائنات نے لاتعداد دنیائیں اور مخلوقات تخلیق کی ہیں جن کا مکمل ادراک انسانی عقل کے بس سے باہر ہے۔ لیکن ہماری اس زمین پر بھی اللہ تعالیٰ نے ان گنت اقسام کی مخلوقات پیدا کی ہیں۔ ان میں سے بہت سے جانور پیدائش اور موت کے عمل میں انسانوں جیسے ہی ہیں، مگر پھر بھی انسان اور حیوان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

اسلامی اور عقلی رو سے انسان کو دیگر مخلوقات پر درج ذیل برتریاں حاصل ہیں:

1. گویائی کی قوت (حیوانِ ناطق)

اللہ نے انسان کو بولنے اور بیان کرنے کی صلاحیت (Speech) عطا کی ہے، جو اسے گونگے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔

2. فکرِ فردا (Future Planning)

جانور صرف اپنے "آج” میں جیتا ہے، اسے کل کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، انسان میں غور و فکر کی قوت موجود ہے۔ وہ صرف حال کی نہیں بلکہ مستقبل (آنے والے کل) کی بھی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

3. حواسِ خمسہ اور جبلتیں

خالق نے انسان کو پانچ بہترین حواس (دیکھنا، سننا، سونگھنا، چھونا اور چکھنا) عطا کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندر مختلف جبلی صفات (Instinctual Qualities) بھی رکھی گئی ہیں، جیسے:

  • محبت و نفرت
  • غیض و غضب
  • خوف و دہشت
  • عدل و انصاف
  • سخاوت و کنجوسی وغیرہ۔

4. تخلیقِ آدم اور فرشتوں کا سجدہ

قرآن پاک کی سورہ رحمٰن اور دیگر مقامات پر وضاحت ملتی ہے کہ جب اللہ نے حضرت آدمؑ کو مٹی سے تخلیق کیا، تو نوری مخلوق (فرشتوں) اور آگ سے بنی مخلوق (جنوں) کو حکم دیا کہ وہ اس "خاکی پتلے” کے آگے سر جھکا دیں۔ ابلیس نے جب اس کی وجہ پوچھی اور انکار کیا تو اسے راندہ درگاہ کر دیا گیا۔ یہ واقعہ خود انسان کی عظمت کی دلیل ہے۔

ادب، فن اور انسانی ذہن

ادب اور فنونِ لطیفہ کا بنیادی مقصد بھی انسانی ذہن کی پیچیدگیوں اور سرگرمیوں کو سمجھنا ہے۔ ادب چاہے شاعری ہو، ناول ہو یا افسانہ، یہ سب دراصل ایک ذہنی سرگرمی (Mental Activity) ہیں۔

فنونِ لطیفہ کا براہِ راست تعلق انسان کے شعور اور لاشعور سے ہے، یعنی یہ انسان کی تخلیقی صلاحیت (Creativity) اور اظہار و بیان (Expression) کا مظہر ہیں۔ کسی بھی ادیب یا فنکار کا فن اتنا ہی منفرد اور اعلیٰ ہوگا جتنی اس کی تخلیقی قوت پختہ اور گہری ہوگی۔ یہ تخلیقیت ہی ہے جو انسان کو محض زندہ رہنے سے آگے بڑھا کر "جینے” کا ڈھنگ سکھاتی ہے۔

نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی
ڈجکوٹ فیصل آباد، فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات)،متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں