ہائیکو کی تعریف اور روایت ، فنی ساخت اور اردو شاعری میں اس کا ارتقاء تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
عالمی ادب میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی ہائیکو (Haiku) دراصل جاپانی شاعری کی ایک انتہائی دلکش اور معروف صنف ہے۔ اس شعری ہیئت کی سب سے بڑی پہچان اس کا مختصر ہونا ہے، کیونکہ یہ مکمل صنف محض تین مصرعوں پر استوار ہوتی ہے۔
ہائیکو لکھتے وقت تکنیکی اعتبار سے اس بات کی کڑی پابندی کی جاتی ہے کہ تینوں مصرعوں کے کل سلے بلز (Syllables) یعنی صوتی آہنگ کی تعداد 17 ہو۔ عام طور پر ان سلے بلز کی تقسیم کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ پہلے مصرعے میں پانچ، دوسرے میں آٹھ اور تیسرے میں چار سلے بلز رکھے جائیں۔ البتہ مختلف محققین نے اس کی ساخت پر اپنی الگ الگ آراء بھی پیش کی ہیں۔
اردو ادب کے نقاد اور ہائیکو کی فنی ساخت
اس صنف کے تکنیکی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے معروف محقق ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے، جس سے اوپر بیان کی گئی باتوں کو بھی تقویت ملتی ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
"هائیکو نامی مختصر نظم صرف تين مصرعوں پر مشتمل ھوتی ھے ، پہلے مصرع میں پائچ دوسرے میں سات اور تیسرے میں پانچ صوتی آهنگ هوتے هیں ، یعنی پوری نظم ستره صوتی آهنگوں پر مشتمل ھوتی مثال کے لئے چند ہا ئیکو ملاحظہ کیجئے:
بادل کا غصہ
دریاؤں کی الٹی چال
الجھن کا قصہ ( علیم صبا نویدی )”(حوالہ: ڈاکٹر فرمان فتحپوری ، اردو شاعری کا فنی ارتقاء ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ، 2012، ص : 538)
اسی طرح، جناب شمیم احمد نے ہائیکو کی تعریف اور اس کے مغربی راستے سے اردو میں داخل ہونے کا ذکر کچھ ان الفاظ میں کیا ہے:
"یہ مغرب کی نہیں جاپان کی ایک شعری هئیت ھے لیکن ھم اس سے مغرب ھی کے توسط سے روشناس ہوئے هائیکو جاپانی شاعری کی ایک مقبول صنف ہے جو صرف تین مصرعوں پر مشتمل هوتی هے مگر شرط یه ہے که تینوں مصرعے ملا کر صرف تین سالمی یعنی سلے بلز ھوں اور ان کی ترتيب 485 هو ظاهر هے ایسی نظم اردو تو کیا انگریزی میں بھی نھیں مل سکتی انگریزی هائیکو بس نام هی نام کے هي هائيكو هیں هائیکو میں قافیه نهیں هوتا اور پوری بات کہنے کے بجائے صرف اشاروں یا نا مکمل جملوں سے کام لیا جاتا ہے ۔ اردو میں اس هئیت کا وجود نه هونے کے برابر ھے ۔”
(حوالہ: شمیم احمد، اصناف سخن اور شعری بسیتیں ، موڈرن پبلشنگ ہاؤس دہلی ص: 74-175)
ہائیکو کے موضوعات: مناظرِ فطرت سے انسانی مسائل تک
ادبی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ہائیکو کا بنیادی مقصد صرف قدرت کے مناظر (Nature scenes) کو پیش کرنا ہے۔ یہ بات جاپانی پس منظر میں کافی حد تک درست بھی ہے۔ جاپانی تہذیب اور طرزِ زندگی میں باغبانی اور فطرت سے محبت رچی بسی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہاں تخلیق ہونے والے ہائیکو میں قدرتی مناظر کا رنگ نمایاں ہوتا ہے۔
تاہم، اردو میں ہائیکو اس مخصوص دائرے سے آزاد ہو کر پروان چڑھا۔ جس طرح غزل کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ صرف ‘حسن و عشق’ کی باتیں کرنے کا نام ہے، لیکن وقت کے ساتھ اس میں انسانی زندگی کے تمام دکھ درد اور فلسفے شامل ہو گئے، بالکل یہی ارتقائی سفر ہائیکو کا بھی رہا ہے۔ اردو اور انگریزی ادب میں ہائیکو محض موسموں اور پھولوں کی خوبصورتی تک محدود نہیں رہا۔
اس بات کی تصدیق کے لیے مندرجہ ذیل ہائیکو ملاحظہ کریں جس میں انسانی زندگی اور شب و روز کے کرب کو کس خوبصورتی سے پرویا گیا ہے:
اسے تو ہوش ہی نہ تھا
کھلی ہتھیلیوں پہ جو نصاب ہجر لکھ گیا
کہ وقت کیسے تھم گیا
(ادا جعفری)
مغربی مفکرین کا نظریہ
دنیا بھر کے نامور مفکرین بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ہائیکو محض مناظرِ فطرت کا نام نہیں، بلکہ اس میں انسانی تجربات اور مسائل کی عکاسی کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے مشہور انگریزی نقاد William J. Higginson کا یہ قول ہماری بحث کو مزید مضبوط کرتا ہے:
"The primary purpose of reading and writing haiku is sharing moments of our lives that have moved us, pieces of experience and perception that we offer or receive as gifts. At the deepest level, this is one of the great purposes of all art, and specilly of literarure.”
(Reference: William J. Higginson, The haiku handbook, ISBN 0-07028786-04(pbk), v: 6)
ہائیکو کا جدید ارتقاء اور سلے بلز کی پابندیوں سے آزادی
مذکورہ بالا حوالوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ہائیکو کا کینوس بہت وسیع ہے۔ ابتدا میں ضرور یہ صرف فطرت کے گن گاتا تھا، لیکن آج کا ہائیکو انسانی زندگی کے روزمرہ مسائل کا احاطہ کر رہا ہے۔
اس تبدیلی کا سہرا کوبایاشی ایسا (Kobayashi Issa) کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے تاریخ میں پہلی بار ہائیکو کے ذریعے اپنے بچپن کی محرومیوں، دکھوں اور تکالیف کو شعری روپ دیا۔ یوں ہائیکو کے موضوعاتی دائرے میں ایک زبردست وسعت پیدا ہوئی۔
آج کے دور میں صرف موضوعات ہی نہیں، بلکہ ہائیکو کے بنیادی اصول یعنی 17 سلے بلز کی پابندی میں بھی نرمی اور ترامیم کی جا رہی ہیں۔ جدید دور کا شاعر اس سخت پابندی کے بغیر بھی ہائیکو تخلیق کر رہا ہے۔ اس رجحان کی وضاحت اس اقتباس سے بخوبی ہوتی ہے:
"Modern Japanese haiku are increasingly unlikely to follow the tradition of 17 on or to take nature as their subject, but the use of juxtaposition continues to be honored in both traditional and modern haiku. There is a common, although relatively recent, perception that the images juxtaposed must be directly observed everyday objects or occurrence.”
(Reference: Carmen. "Thoughts on Juxtaposition”. Simply Haiku: A Quarterly Journal: 7 of Japanese Short Form Poetry. Simply Haiku. Retrieved 9 April 2013.p7)
کیا اردو اور انگریزی شعراء جاپانی ہائیکو کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو روح اور تاثر ایک خالص جاپانی ہائیکو میں پایا جاتا ہے، وہ کسی ہندوستانی، پاکستانی یا مغربی ہائیکو میں اس طرح پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ ثقافت ہے۔
ہائیکو صرف جاپان میں پیدا ہی نہیں ہوا، بلکہ یہ جاپانی تہذیب (Japanese Culture) کے سائے میں پلا بڑھا ہے۔ جاپانی ثقافت ہائیکو کے لفظ لفظ میں اور ہائیکو وہاں کی ثقافت میں گندھا ہوا ہے۔ اردو اور انگریزی زبان کے شعراء چاہے کتنی ہی محنت کر لیں، وہ اس کی ایک بہترین نقل تو پیش کر سکتے ہیں، لیکن وہ اصل ‘جاپانیت’ ہو بہو منتقل نہیں کر سکتے۔
درحقیقت، جب تک کوئی اردو یا انگریزی کا شاعر جاپان کی سرزمین پر جا کر وہاں کے ماحول، ہواؤں اور تہذیب میں رچ بس نہ جائے، اس وقت تک خالص جاپانی ہائیکو کا حقیقی تاثر دوسری زبانوں میں پیدا کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ ہر علاقے کی اپنی تہذیب و ثقافت ہوتی ہے ادب اس کے اثر سے مبرّا نہیں ہوتا ، اس لیے کسی غیر ملکی صنف کو اپنے ماحول میں سمونے کے لیے دونوں علاقوں کے اتار چڑھاؤ سے واقف ہونا ضروری ہے تاکہ ان میں ایک مظبوط کڑی تشکیل دی جا سکے جس سے اس کی بدیسی پہچان بھی قائم رہے اور وہ دیسی فضا میں بھی اجنبی نہ رہے۔
نظر ثانی و تصحیح: احمد جمال،ایم – فل اردو
منہاج یونیورسٹی لاہور
