مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

حبیب جالب کی غزل گوئی

حبیب جالب کی غزل گوئی اور شاعرِ عوام کی زندگی، جدوجہد اور مزاحمت کے 10 انمٹ نقوش تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو ادب کی تاریخ میں جب بھی عوامی حقوق اور مزاحمتی شاعری کا ذکر آتا ہے، تو ایک نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ حبیب جالب کی غزل گوئی اور ان کی نظمیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان طبقوں کی آواز ہیں جنہیں معاشرے میں ہمیشہ دبانے کی کوشش کی گئی۔

ان کی شاعری نے اقتدار کے ایوانوں میں ہمیشہ لرزہ طاری کیا۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم شاعرِ عوام کی زندگی، ان کے سیاسی سفر، اور ان کی لازوال شاعری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔

ابتدائی زندگی، خاندانی پس منظر اور تعلیم

عوامی حقوق کے عظیم علمبردار کا اصل نام حبیب احمد تھا، مگر دنیا انہیں جالب کے تخلص سے جانتی ہے۔ ان کی پیدائش 24 مارچ 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے ایک گاؤں میانی افغاناں میں ہوئی۔

اپنے آبائی علاقے ہوشیار پور سے انہوں نے ساتویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد ان کا خاندان دہلی منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے اینگلو عربک ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ دہلی میں ان کی رہائش تیمار پور کے علاقے میں تھی۔

یہ وہی دور تھا جب ان کے اندر کا شاعر جاگ رہا تھا۔ وہ مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ہونے والے جلسوں اور اجتماعات میں شرکت کرتے اور وہاں علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خاں کا کلام نہایت جوش و خروش سے پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔

ہجرتِ پاکستان اور کراچی میں عملی زندگی کا آغاز

دہلی میں ان کا قیام 14 اگست 1947ء تک ہی رہا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد وہ اپنے بھائی مشتاق مبارک کے ہمراہ ہجرت کر کے کراچی آ گئے۔

کراچی کی ادبی فضا نے انہیں بہت جلد اپنے اندر سمو لیا۔ ابتدائی طور پر وہ مقامی مشاعروں میں ‘حبیب احمد’ اور ‘حبیب احمد مست میانوی’ (تخلص مست) کے ناموں سے شرکت کرتے تھے۔

معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے 1951ء میں معروف اخبارات روزنامہ جنگ اور روزنامہ ڈان میں بطور پروف ریڈر ملازمت اختیار کر لی۔

سیاسی شعور اور عوامی تحریکوں میں شمولیت

حبیب جالب کی غزل گوئی پر ان کے سیاسی سفر کا بہت گہرا اثر ہے۔ 1952ء میں انہوں نے کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں چلنے والی مشہور ہاری (ہل چلانے والا) تحریک میں شمولیت اختیار کی۔

اس تحریک کے دوران کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انہیں 1954ء میں پہلی مرتبہ کراچی میں گرفتار کر کے پابندِ سلاسل کیا گیا۔

اس سے قبل 1953ء میں نامور نقاد ڈاکٹر عبادت بریلوی کے مشورے پر انہوں نے اورینٹل کالج لاہور میں داخلہ لیا تاکہ اپنی علمی پیاس بجھا سکیں۔

ان کی سیاسی وابستگی 1956ء میں خان ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی (N.A.P) کے ساتھ جڑ گئی، اور وہ اپنی آخری سانسوں تک اسی ترقی پسند سیاسی جماعت کے وفادار رہے۔

فلمی دنیا میں قدم: نغمہ نگاری اور اداکاری

یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جالب صاحب نے پاکستانی فلم انڈسٹری کو بے شمار سدا بہار گیت دیے۔ انہوں نے اپنا پہلا فلمی گیت 1950ء کی دہائی میں ریلیز ہونے والی فلم "مس 56” (بعض حوالوں سے مس 54) کے لیے تحریر کیا۔

اس گیت کو مہدی حسن اور نذیر بیگم کی مسحور کن آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس مشہور گیت کے بول کچھ یوں تھے:

یہ چاندنی یہ پہلو سائے
پہلو میں تم ہو میرے

انہوں نے پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم "زرقا” کے علاوہ "ہم ایک ہیں”، "وطن کے رکھوالے”، "کالے چور”، اور "چوروں کی بارات” جیسی ہٹ فلموں کے لیے بھی گیت لکھے۔

ان کی اس فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں گریجویٹ ایوارڈ، فلم ایوارڈ، اور نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے فلم ‘غالب’ میں اردو کے مایہ ناز شاعر مومن خاں مومن کا کردار بھی بخوبی نبھایا تھا۔

حبیب جالب کی غزل گوئی اور مزاحمتی شاعری کا سفر

حبیب جالب کی غزل گوئی اور نظموں کا اصل محور پاکستان کا متوسط طبقہ اور غریب عوام رہے ہیں، جنہوں نے مسلسل سیاسی افراتفری کا نقصان اٹھایا۔ وہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف سینہ سپر رہنے والے ایک نڈر اور بیباک (Activist) شاعر تھے۔

ان کی ترقی پسندی کا سب سے بڑا ثبوت ان کا عوام سے بے پناہ لگاؤ تھا۔ ان کے اشعار میں جبر کے خلاف ایک مستقل احتجاج نظر آتا ہے، جیسے کہ ان کا یہ مشہور شعر:

گریں گی نفرتوں کی سب فصیلیں
ترانے گونجیں گے الفت کے یہاں

مارشل لاء ادوار اور حکمرانوں سے ٹکراؤ

ہر دورِ حکومت میں وہ عتاب کا شکار رہے۔ 1962ء میں صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف ان کی نظم "دستور” بہت مقبول ہوئی، جس کا مصرعہ "ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا” آج بھی زبان زدِ عام ہے۔

1964ء کے صدارتی انتخابات میں جب مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑا، تو ان کی انتخابی مہم کے دوران ہر وقت ساتھ رہنے والی پانچ اہم شخصیات میں حبیب جالب بھی شامل تھے۔

اسی دور میں ان کا یہ کلام عوام کا سلوگن بن گیا تھا:

بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ
گولی کھائی لاٹھی کھائی گرے سڑک کے بیچ

کبھی گریباں چاک ہوا اور کبھی ہوا دل خون
ہمیں تو یوں ہی ملے سخن کے صلے سڑک کے بیچ

جسم پہ جو زخموں کے نشاں ہیں اپنے تمغے ہیں
ملی ہے ایسی داد وفا کی کسے سڑک کے بیچ

انہیں فاطمہ جناح کی مہم سے دور کرنے کے لیے لاہور میں ایک ہسٹری شیٹر شخص (وارث) پر قاتلانہ حملے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا گیا، اور سات سال قید کاٹنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے انہیں باعزت بری کیا۔

کتابوں پر پابندی اور مسلسل گرفتاریاں

1966ء میں ان کی دوسری کتاب "سرِ مقتل” لاہور کے مکتبہ کارواں سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب اس قدر مقبول ہوئی کہ ایک ماہ میں اس کے چار ایڈیشن فروخت ہو گئے اور نومبر تک سات ایڈیشن چھپ گئے۔ بالآخر حکومت کو اس کتاب پر پابندی عائد کرنی پڑی۔

1967ء میں وائی ایم سی اے ہال لاہور میں صحافی حمید نظامی کی برسی کا جلسہ تھا جس کی صدارت ذوالفقار علی بھٹو کر رہے تھے۔ وہاں اپنی مشہور نظم "چھ ستمبر” پڑھنے کی پاداش میں انہیں پھر گرفتار کر لیا گیا۔

جنرل یحییٰ خان کے اقتدار میں آنے کے بعد مری کے ایک مشاعرے میں انہوں نے نئے آمر کی تصویر دیکھ کر برملا یہ غزل پڑھی تھی:

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو
اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا

چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے
تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

ذاتی دکھ، حیدر آباد سازش کیس اور جمہوریت کا دور

ان پر ظلم کی انتہا اس وقت ہوئی جب 1976ء میں نام نہاد حیدر آباد سازش کیس کے دوران ایف ایس ایف (Federal Security Force) اور پولیس نے ان کے گھر کا محاصرہ کر کے انہیں گرفتار کیا۔ یہ وہ دن تھا جب ان کے بارہ سالہ جواں سال بیٹے طاہر عباس مرحوم کا سوئم تھا۔ اس کے باوجود ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ان کی نظم "لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو”، ضیاء الحق کے مارشل لاء میں "ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا” اور بے نظیر بھٹو کی حکومت میں "وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے” نے عوامی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔

حبیب جالب کی غزل گوئی میں رومانویت

اگرچہ ان کی پہچان انقلابی شاعری ہے، لیکن حبیب جالب کی غزل گوئی میں رومانوی عناصر بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ باقاعدہ میٹرک پاس نہ ہونے کے باوجود ان کا شعری معیار کمال درجے کا تھا۔

ان کے رومانی اشعار دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں:

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں
یہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں

نہ جانے پھر یہ رت آئے نہ آئے
جواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں

اسی طرح ان کا ایک اور بے حد مقبول شعر ہے:

لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

اعزازات، ایوارڈز اور خطاب

جالب صاحب کو پاکستانی شعر و ادب کے اکابرین اور فیض احمد فیض کی تائید سے عوام نے "شاعرِ عوام” کا لقب دیا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے پر انہیں انجمن تحفظ حقوق انسانی (پاکستان) نے 1980ء میں سلور میڈل اور 1986ء میں گولڈ میڈل سے نوازا۔

کراچی پریس کلب نے انہیں اپنی اعزازی رکنیت دے کر اپنے ادارے کا وقار بڑھایا۔ ان کی وفات کے کافی عرصے بعد 2008ء میں حکومتِ پاکستان نے انہیں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ "نشانِ امتیاز” سے نوازا۔

حبیب جالب کی تصانیف اور شعری مجموعے

عوامی دردمندی اور مزاحمت سے بھرپور ان کی کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے:

  • برگ آوارہ (1977ء)
  • سرِ مقتل (1966ء)
  • عہدِ ستم
  • حرفِ حق
  • ذکر بہتے خون کا
  • عہدِ سزا (2001ء)
  • اس شہرِ خرابی میں
  • گنبدِ بے در
  • گوشے میں قفس کے
  • حرفِ سرِ دار
  • چاروں جانب سناٹا
  • رات کلیہنی
  • کلیات حبیب جالب (1993ء)

ان کی شخصیت پر لکھی جانے والی اہم کتابوں میں "حبیب جالب: گھر کی گواہی (1994ء)” اور "عالمی اردو ادب، دہلی” شامل ہیں۔

وفات اور آخری آرام گاہ

امریکن لائبریری آف کانگریس کا کنٹرول نمبر (LCCN: n84031386) رکھنے والے یہ عظیم شاعر، جنہوں نے تا حیات عوام اور انسانیت کے حقوق کی جنگ لڑی، بالآخر 14 مارچ 1993ء کو لاہور میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

ان کی تدفین لاہور کی سبزہ زار اسکیم کے قبرستان میں کی گئی، مگر ان کا کلام آج بھی غریبوں اور مظلوموں کے دلوں میں زندہ ہے۔

نظر ثانی و تصحیح: احمد جمال، ایم – فل اردو
منہاج یونیورسٹی لاہور

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں