غیاث احمد گدی: علامتی افسانے اور جدید انسانی المیے، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو افسانے کی تاریخ میں غیاث احمد گدی کا نام ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے جس دور میں قلم اٹھایا، وہ افسانے کا روایتی زمانہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے اسلوب میں نمایاں تبدیلی آئی۔ رفتہ رفتہ ان کا تخلیقی مزاج علامتی اور اشارتی انداز کی طرف مائل ہوتا گیا، جس نے انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کیا۔
’بابا لوگ‘: تنہائی اور خاموشی کا استعارہ
ان کا افسانہ "بابا لوگ” ان کی علامتی افسانہ نگاری کی بہترین مثال مانا جاتا ہے۔ اس کہانی میں مصنف نے انسانی وجود کی گہری تنہائی اور خاموشی کو "بوڑھے انکل” کے کردار کے ذریعے رنگ کیا ہے۔ افسانے میں کبوتر کی پھڑپھڑاہٹ دراصل دورِ حاضر کے انسان کی بے بسی اور تنہائی کا گہرا اشارہ ہے۔
غیاث احمد گدی نے اس افسانے میں دو مرکزی کرداروں—بوڑھا انکل اور مارگریٹ—کے ذریعے دو مختلف نسلوں کے ذہنی فاصلوں کو اجاگر کیا ہے۔ یہ محض دو افراد کی کہانی نہیں بلکہ قدیم اور جدید اقدار اور تہذیبوں کے درمیان کشمکش کی رمزیاتی اور علامتی شکل ہے۔
ناقدین کی رائے
اس افسانے کی فنی حیثیت پر بات کرتے ہوئے شوکت حیات کچھ اس طرح لکھتے ہیں :
"یہ پوری کہانی روایت اور جدت کی کش مکش کی داستان بن جاتی ہے۔ مارگریٹ جدت کا استعارہ ہے، بوڑھا روایت کی تمثیل ہے۔ ان دونوں کے مابین تصادم ہوتا ہے۔ پوری کہانی شکست و ریخت سے گزرتے ہوئے اینگلو انڈین معاشرہ کا استعارہ ہے۔ غیاث احمد گدی نے ایک ہی افسانے میں استعاراتی اور تمثیلی پیرائے کو استعمال کرتے ہوئے کیسی علامیت اور تہہ داری پیدا کی ہے۔”
کتاب بانگ ( ادبی مضامین کا مجموعہ ) مصنف : شوکت حیات، ص ۵۴
حقیقت پسندی اور تمثیلی اظہار کا امتزاج
غیاث احمد گدی کا کمال یہ ہے کہ ان کے وہ افسانے جو بظاہر بالکل حقیقت پسندانہ (Realistic) لگتے ہیں، ان کی تہیں کریدنے پر بھی تمثیلی اور علامتی اظہار ملتا ہے۔ افسانہ "بابا” اسی زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیشتر افسانوں میں عورت کے کردار کو اس طرح پیش کیا ہے کہ وہ محض ایک فرد نہیں رہتی بلکہ ایک استعارہ یا تمثیل بن جاتی ہے۔ ان کے درج ذیل افسانے اس خصوصیت کے حامل ہیں:
- پیاسی
- چڑیا خانہ
- تہہ خانہ
- کوئی روشنی وغیرہ
’طلوع‘: طاقت اور مظلومیت کی جنگ
افسانہ "طلوع” کو غیاث احمد گدی کے اہم ترین علامتی افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کہانی میں بلی اور دو بچے مرکزی علامتی کردار ہیں۔ یہ کردار سماج کے اعلیٰ اور ادنیٰ طبقوں کے درمیان جاری ازلی تکرار کی عکاسی کرتے ہیں۔
شوکت حیات کی تشریح کے مطابق، کہانی میں موجود دونوں بچے ظالم، شر و بدی اور دنیا کی دو بڑی طاقتوں کی علامت ہیں۔ اس کے برعکس، بلی سے مراد وہ مظلوم خیر اور نیکی ہے (یا کوئی چھوٹا ملک) جو ان بڑی طاقتوں کے چنگل سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مصنف کی فنی مہارت پر روشنی ڈالتے ہوئے شوکت حیات مزید لکھتے ہیں:
"بچوں اور بلی کے بیان میں غیاث احمد گدی نے اس بات کا لحاظ رکھا ہے کہ علامتیں زیادہ تخصیص و تحدید کا شکار نہ ہوں، بلکہ عمومیت کی وسعت سے مملو ہوں۔”
کتاب بانگ (ادبی مضامین کا مجموعہ ) مصنف: شوکت حیات،ص ۱۸۱
اساطیری علامتیں اور جدید انسان
غیاث احمد گدی کے دیگر اہم علامتی افسانوں میں "پرندہ پکڑنے والی گاڑی” اور "حج دونج دو” شامل ہیں۔ "پرندہ پکڑنے والی گاڑی” میں انہوں نے عہدِ حاضر کے انسانی جذبات اور احساسات کو بیان کرنے کے لیے اساطیری علامتوں کا سہارا لیا ہے، جو قاری کو ایک نئی فکری دنیا میں لے جاتے ہیں۔
’حج دونج دو‘: خواہشات کا تعاقب
افسانہ "حج دونج دو” صنعتی دور کے انسان کی نفسیاتی کیفیت کا عکاس ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی علامتیں انتہائی بلیغ ہیں:
- دم کٹا کتا: یہ مادی اور نفسانی خواہشات کی علامت ہے جو انسان کا مسلسل تعاقب کرتی ہیں اور اسے چین نہیں لینے دیتیں۔
- بولنے والا پرندہ (الو): اس کی صدا "حج دونج دو” دراصل ان خواہشات کو ترک کرنے کا اشارہ ہے۔
یہ کہانی ظاہر کرتی ہے کہ لاحاصل خواہشات نے انسانی زندگی کو اس قدر کھوکھلا اور بے معنی بنا دیا ہے کہ آج کا انسان ایک ذہنی مریض بن چکا ہے۔ وہ سوچ کی وادیوں میں گم رہتا ہے اور اس کیفیت سے نکلنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔
افسانے کا مرکزی کردار اپنی کیفیت کا اظہار کچھ یوں کرتا ہے:
"مثلاً وہ بھی خوش رہنے کی کوشش کرے گا۔ یہی ٹھیک ہے، وہ اتنا سوچے گا نہیں، یہ جا سوچ ہی کا نتیجہ ہے کہ اس کی زندگی میں بہت سی غلط باتیں راہ پانے لگی ہیں، وہ سوچ کی دنیا میں اس درجہ کیوں دبا رہتا ہے کہ آس پاس کی چیزوں سے بے خبر ہو جاتا ہے۔”
افسانه حج دونج دو غیاث احمد گدی،ص ۸۰
جنسی فعالیت بطور ذہنی پناہ گاہ
اس لامتناہی سوچ کے سمندر سے نکلنے کے لیے، افسانے کا مرکزی کردار اکثر اپنی بیوی کے تصور کا سہارا لیتا ہے۔ وہ جنسی فعل کے ذریعے دلی تسکین اور سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ کوشش بھی اکثر ناکام رہتی ہے۔
درحقیقت، مصنف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ دور کے انسان کے لیے عورت کا تصور یا جنسی عمل ذہنی آسودگی کا واحد ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ کردار ایسے سماج کی نمائندگی کرتے ہیں جو مسائل سے فرار حاصل کرنے کے لیے جنسی آغوش میں پناہ تلاش کر رہا ہے۔ اسی کشمکش کو ظاہر کرنے کے لیے افسانے میں جا بجا پرندے کی صدا "ٹج دوٹج دو” گونجتی ہے۔
نظر ثانی و تصحیح: واصف احمد ، ضلع ملاکنڈ ، شعبہ اردو ،میقات چہارم جامعہ پشاور
