مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

افسانہ گہرا سمندر

گہرا سمندر

آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے ہیں-اور وہ اپنے ہونے کا بے لوث احساس کروا رہے ہیں کہ جیسے ابھی بھی طوفانی بارش ائے گی اور اسماں خون کے انسو رو رہا ہے بیٹا کلیل چپ ہو جاؤ رونا بند کرو تم اس طرح رہو گے تو ان کی روح کو تکلیف ہو گئی خلیل اپنے والدین کی مردہ جسموں کے سامنے کھڑا رو روتا جا رہا ہے ـ

خلیل دس سال کا بچہ ہے جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہے ـ چلو جنازے کا وقت ہو گیا ہے جناب لے کر چلو پر اس سے پہلے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ بچہ کس کے ساتھ رہے گا یہ بالکل اکیلا ہے والدین کی موت کے بعد اس کی زبان بھی خاموش ہو گئی ـ وہ سوچو میں اتنا گہرا تھا اس کو اپنی موت نہ انے کا غم اور والدین کی موت کا غم اندر سے کھائے جا رہا تھا میں داؤد ہو اپ خلیل کو ساتھ رکھ سکتے ہیں میرا کوئی ٹھکانہ نہیں جب ٹھکانے کا بندوبست ہوگا تو میں اس کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا نہیں اس کے ہمسایوں نے جواب دیا کہ ہم نے کسی کی اولاد کو پالنے کا ٹھیکا نہیں لیا ہوا ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم مرے ہوئے لوگوں کے بچے پالے ،ـ ٹھیک ہے شکریہ داؤد کہتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا جہاں پر خلیل بیٹھا رو رہا تھا اللہ مجھے اس مشکل سے نکال مجھے راستہ دکھا میں بہت پریشان ہوں میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں میں اس بچے کو کیسے ساتھ رکھوں یہ سماج اتنا بے رحم ہے کہ اس کو اپنا نہیں بنا سکتا ـ روتے روتے اس کو خیال ایا کہ عبدالرحمان صاحب کا ایک دوست تھا جو بھائیوں جیسا تھا میرا خیال ہے کہ خلیل کو وہاں چھوڑ اتا ہوں دوست حاکم کے پاس
سوچتے سوچتے رات گزر جاتی ہے صبح ہوتے ہی وہ حیدراباد چل پڑتا ہے وہ حاکم کے گھر جاتا ہے گھر جا کر وہ دعا سلام کرتا ہے جی اپ کون ہیں داؤد عبدالرحمن دوست کراچی کے رہنے والا ہوں دراصل گزشتہ تین دن پہلے عبدالرحمان کی موت ہو گئی اب اس کا ایک بیٹا ہے جس کا کوئی اپنا نہیں میں سمجھتا ہوں کہ اس کو اپ کے ساتھ رہنا چاہیے کیونکہ اپ اس کے والد کے بہت اچھے دوست تھے خلیل کی بیوی ایک بہت ہی کم ظرف عورت تھی جو کہ غصے سے خلیل کو دیکھ رہی تھی نہیں حاکم صاحب ہم اس بچے کو اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے ہماری بیٹی ہے میمونہ ہاں بس اس کو ہی سنبھال سکتے ہیں نہیں نور ایسا نہیں ہو سکتا عبدالرحمان میرا بہت اچھا دوست ہے اور میرے بزنس کا حصہ دار بھی تھا ہم ضرور رکھیں گے نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ـ
عبدالرحمن بہت اچھا دوست تھا داؤد
داؤد اپ کو اپنی نیت کے ساتھ چھوڑ کر جاتا ہوں کہ بچہ اپ کے ذہن میں ہے اپ کی بیٹی کے ساتھ کھیل رہا ہے میں جا رہا ہوں اپ کی جو ابھی نیت ہوئی اس پر عمل کرنا اگر واپس چھوڑنا ہو تو اس کو کراچی اپنے گھر چھوڑ انا شکریہ اب بچہ داؤد چاچا کا انتظار کرتا رہا اس کی بیٹی میمونہ جو کہ سات سال کی ہے وہ اس سے مذاق کر رہی ہے کہ تم گونگے ہو اور ساتھ بہرے بھی چھوٹا خلیل چھوٹی سی عمر میں ماضی کی اندگنت سوچوں سے وابستہ ہو گیا وہ بار بار ماضی کو یاد کرتا جس میں سب سے زیادہ صدمہ اس کے والدین کی موت تھی جب بھی وہ سڑک پر گاڑی کو تیز چلتا ہوا دیکھتا تو اس کو اپنے والدین کی موت کا واقعہ یاد ا جاتا پھر وہ اتنا روتا کہ بس کوئی چپ نہ کروا پاتا دیکھو بچے تمہارا منہ بولا چچا تن کو یہاں چھوڑ کر گیا یہ سن کر اس کے ہاتھوں سے فٹبال ایسے گرتا ہے جیسے حادثے کے وقت اس کے ہاتھ سے رنگین کتاب گرتی ہے وہ وہ دوڑتا ہے کہتا ہے نہیں بیٹا اج سے یہ تمہارا گھر ہے تم یہیں میرے ساتھ میرے بیٹے بن کر رہو گے تمہارے والدین کے مجھ پر بہت احسان ہیں جاؤ بیٹا نہا دھو کر دوسرے کپڑے پہن لو پھر کھانا کھانا ہے
نسرین نسرین
جی نور صاحبہ اس م**** کو میرے سامنے سے لے جاؤ میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی پتہ نہیں حاکم کو کیا جنون چڑھ گیا ہے کہ اس کو اپنا بیٹا بنا رہا ہے ہاں مانتی ہوں ماضی میں غلطیاں ہوئی تھی حاکم صاحب سے اور اس کا اتنا بڑا بدلہ ہم کیسے اتاریں گے یہ تو زیادہ ہے پتہ ہے میری کوئی اولاد نہیں اج سے تم میرے بیٹے ہو نسرین نے خلیل سے کہا جو وہاں کی ملازمہ ہے نسرین بول نہیں سکتا بیچارہ ہنستے ہوئے کہا
خلیل وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا تم تو کیا ہو گیا ہے نور تم جانتی بھی ہوـ کہ عبدالرحمن ہمارا بزنس کا ادھا حصے دار بھی تھا اور یہ جو گھر ہے یہ خلیل کا ہی ہے اس کے باپ کا ہے جو ہم نے دھوکے سے ہتھیایا تھا اور تم جانتے بھی ہو عبدالرحمن کی موت کس طرح ہوئی اور کس نے کروائی
خود تو وہ مر گیا لیکن ہمارے لیے مصیبت کھڑی کر گیا نور نے منہ کے زاویے بدلتے ہوئے کہا
او بچے یہ کھیلنے کی جگہ ہے فٹ بال باہر لے جاؤ صحن میں جا کر کھیلو نور نے بچے کو ڈانٹتے ہوئے کہا نور یہ بچہ کب اگیا کہیں اس نے ہماری باتیں تو نہیں سن لی اج حاکم کی تمام باتیں خلیل کے ذہن پر ایسے نشین ہو گئی جو کبھی بھی نہیں مٹنے والی تھی اب وہ ایک پل بھی اس گھر میں نہیں رہ سکتا تھا کیونکہ یہ گھر اس کے باپ کے قاتلوں کا گھر تھا اس نے جانے کا ارادہ کیا گیٹ کی طرف چل پڑا خلیل کہاں جا رہے ہو میں تمہارے ساتھ چلوں گی تم مجھے معاف کر دو میں نے تمہارے ساتھ بہت برا بھلا کیا میرا کوئی بھائی نہیں تم ائندہ سے میرے بھائی ہو تم جہاں بھی جاؤ گے میں تمہارے ساتھ جاؤں گی اس نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ٹھیک ہے
نور نے مونا کو اواز لگائی بیٹا کھانا کھا لو تمہارا پسندیدہ کھانا بنایا ہے
نسرین بچے کہاں ہیں
نور صاحبہ بچے گھر پہ نہیں ہیں کیا کہاں گئے وا
جی معلوم نہیں پولیس کو خبر کرو فورا ان کو تلاش کرے شام ہونے کے قریب ہے
جی کیا حلیہ تھا اپ کی بچی کا اور بیٹے کا بیٹی نے سرخ سرخ رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا اور بیٹے نے سفید رنگ کا میری بیٹی کو ڈھونڈ لاؤ میری پیاری بیٹی
اپنی بیٹی کا بڑا دکھ ہے محترمہ
پر اس کے ساتھ ساتھ اپ کا بیٹا بھی کھویا ہے اس کی کھو جانے کا غم اپ کو نہیں وجہ جان سکتا ہوں
کیونکہ خلیل میرا بیٹا نہیں ہے وہ عبدالرحمن صاحب کا بیٹا ہے
اچھا اچھا وہ عبدالرحمن جس کی گاڑی کا حال ہی میں ایکسیڈنٹ ہوا ہے
جی جی
پر جس طرح وہ مرا ہے ان کی موت حادثاتی نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش ہے
اب تو تحقیق کرنی پڑے گی کہ اصل مجرم کون ہے
حاکم صاحب اپ کا کیا کہنا ہے
میں میں نہیں جانتا
وہ گھبرا گیا
ایک رات گزر گئی اور ایک دن اگلی رات حاکم صاحب نے گناہوں کی دلدل میں گرتے ہوئے اپنے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے اس خوف سے گزاری کہ کل وہ جا کر پولیس والوں کو بھی بیان دے گا کہ اس نے یہ سب کیا ہے
صبح ہوتے ہی پولیس
کا ان کے گھر انا ہوا وہ پوری طرح دھل کررہ گیا
جی میں نے اپ کو سچ بتانا تھا کہ عبد الرحمن صاحب کی موت کا ذمہ دار میں ہوں اور میں نے ہی دھوکے سے اس کے گھر کو اور کاروبار کو اپنے نام کیا جس پر خلیل کا حق ہے میں اج سے تمام بزنس اور گھر اس کے نام کرتا ہوں اور خود کو اپ کے حوالے کرتا ہوں اپ دو چاہیں مجھے سزا دے میں دراصل لالچ اور ہوس میں اتنا مبتلا ہو گیا کہ مجھے اچھے برے کی تمیز نہیں رہی جی سزا تو اپ کو ہو گئی اور ساتھ میں شاید عمر بھر کی یا پھر جان کے بدلے جان
جو
بھی ہوگی مجھے منظور ہے
عبدالرحمن کا بیٹا خلیل اپ کے خیال سے کہاں جا سکتا ہے اس کا کوئی گھر جی اس کا گھر ہے اب ائی گھر جو کراچی میں ہے اور وہ وہاں جا سکتا ہے ٹھیک ہے۔

خلیل اور میمونہ کراچی پہنچ چکے تھے اور اپنے والدین کی قبر پر خلیل بیٹھ کر روتا جا رہا تھا اور ساتھ کہہ رہا تھا کہ اپ کے قاتل کو خدا معاف نہیں کرے گا جو کہ وہ دل سے کہہ رہا تھا
انٹی انکل اپ کا بیٹا اب اکیلا نہیں وہ میرا بھائی ہے اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے

ازقلم
مریم اشرف

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں