اردو ادب میں گیت کی روایت, آغاز، ارتقاء، فنی ہئیت اور تاریخی اہمیت تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
گیت کا نام سنتے ہی ہمارے دل و دماغ میں ایک عجیب سی موسیقیت اور غنائیت دوڑنے لگتی ہے۔ کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ ہم لاشعوری طور پر کسی دھن کو گنگنانے بھی لگتے ہیں۔ اس کیفیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گیت ہماری روزمرہ زندگی، ہمارے احساسات اور ہماری روح کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔
فلمی دنیا اور گیت کی مقبولیت
یہاں ہم خاص طور پر ان گیتوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو فلموں کے پردے سے ہوتے ہوئے ہم تک پہنچے۔ ان فلمی گیتوں میں ایک ایسا رومانی عنصر پایا جاتا ہے جو براہِ راست ہمارے دلوں کو متاثر کرتا ہے۔ یوں تو گیت کی صنف ابتدا ہی سے ادب میں اپنا ایک مناسب مقام بنا چکی تھی، لیکن اسے وہ عالمگیر شہرت حاصل نہیں تھی جو آج اسے میسر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندی سنیما نے اردو گیت نگاری کی زبردست سرپرستی کی اور اسے بامِ عروج پر پہنچایا۔ تاہم، یہاں اس تلخ حقیقت سے چشم پوشی کی کوئی گنجائش نہیں کہ ہندی سنیما میں گیت کے نام پر کئی ایسے نغمے بھی لکھے گئے جو خالص ادبی گیت کے معیار اور ہیئت پر پوری طرح کھرے نہیں اترتے۔
گیت کی فنی ہیئت اور تکنیکی پہلو
اردو شاعری کے تکنیکی خدوخال پر غور کیا جائے تو زیادہ تر اردو گیت قطعہ بند لکھے جاتے ہیں۔ البتہ کئی مقامات پر گیت مثلث (تین مصرعوں والے) اور مسدس (چھ مصرعوں والے) کی شکل میں بھی پائے جاتے ہیں۔
مختلف دانشوروں اور نقادوں نے گیت کی ہیئت کو اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔ معروف مصنفہ قیصر جہاں نے اپنی تصنیف "اردو گیت” میں ولیم فلنگ (William Fling) کا یہ نظریہ نقل کیا ہے:
"یہ وہ مختصر داخلی نظم ہے جس میں تخیل، ترنم اور جذبہ خاص طور پر نمایاں ہو اور پڑھنے والوں کو ایک مربوط اور واحد تاثر عطا کرے۔”
(قیصر جہاں، اردو گیت، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، 1977، ص: 15)
گیت دراصل غنائی شاعری کی ایک نہایت قدیم صنف ہے، جسے اردو کی ذیلی اصنافِ شاعری میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی اپنی ایک منفرد اور الگ ہیئت ہے۔ اس میں کسی بھی بات یا جذبے کو انتہائی سیدھے سادھے اور پرتاثیر انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔
اس کی ایک بڑی خوبی مصرعوں کی تکرار ہے۔ گیت میں کئی بار ایک ہی مصرعے کو بار بار دہرایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف کلام میں ایک خاص قسم کی روانی پیدا ہوتی ہے، بلکہ خیال کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے میں بے حد سہولت بھی ملتی ہے۔ غزل کے برعکس، گیت میں بھاری بھرکم صنعتوں (Poetic Figures) کا زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا۔
ابتدا میں گیت صرف اور صرف گانے کے مقصد سے تخلیق کیا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس نے ادب کے دامن میں بھی اپنی جگہ بنا لی۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کی غنائیت، سر اور لے ہے، جو سامع کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔
- فرہنگِ آصفیہ کی تعریف کے مطابق: "تک دار اور باوزن فقرے جو سروں میں گائے جائیں، گیت کہلاتے ہیں۔”
- دوسری جانب آریائی تہذیب میں اسے محض گانا نہیں بلکہ عبادت کا ایک اسلوب یا حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔
- یہاں تک کہ ایک ماں کی لوری کو بھی صنفِ گیت ہی کا حصہ مانا جاتا ہے۔ (یہاں ہماری بحث کا محور خالصتاً ادبی گیت ہے)۔
انگریزی نقاد محمد صادق کی نظر میں گیت کا مقام
گیت کی جامع تعریف اور اردو ادب میں اس کی حیثیت کے حوالے سے نامور محقق محمد صادق لکھتے ہیں:
"And now a few words about the form that goes by the name of Git. The git is a short lyrical composition mainly erotic, but capable of treating all thems lights of serious, which began to be cultivated in the late thirties. There is no denying its attractiveness in competent hands; but what puts it out side the pale of Urdu is that it is composed, by and large, in Braj, or in Urdu so overcharged with Braj as scarcely to deserve the name of Urdu. In defence of this anomaly, it is contended that Urdu as a language is unfit for the composition of Gits. The argument is obviously fallacious, because there is no language, however premitive, which does not posses a capacity for the musicial expression of emotions. Hafiz Jailandhari had composed some fine lyrics, which are Gits in all respect.”
(Mohammad Sadiq, A History of Urdu Literature, Oxford University Press, 1984 : 17)
گیت کے موضوعات اور اہم گیت نگار
گیت کسی مخصوص موضوع کا محتاج نہیں۔ موضوعاتی اعتبار سے اس کے دائرے کا احاطہ کرنا ناممکن ہے کیونکہ یہ کسی بھی پہلو پر لکھا جا سکتا ہے۔ اردو کے اہم اور نمایاں گیت نگاروں میں نصیر الدین خاں خیال، حسرت موہانی، مضطرب خیر آبادی اور میرا جی کے نام سرِفہرست آتے ہیں۔
گیت کے قطعہ بند ہونے اور سماجی موضوعات کو سمیٹنے کی ایک بہترین مثال ساحر لدھیانوی کے اس شہرہ آفاق گیت کے بند سے ملتی ہے:
تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
انسانی جذبات کا تاریخی پس منظر
زمانۂ قدیم سے ہی انسان کے اندر چھپے جذبات کو ایک خاص لب و لہجے اور غنائیت کے ساتھ ظاہر کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ گیت ہی رہا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گیت کی تاریخ نہ صرف انتہائی قدیم ہے بلکہ بے حد مقبول بھی رہی ہے۔
جب انسان کو کوئی خوشی حاصل ہوتی، تو وہ باقاعدہ مجلس، محفل یا جشن کی صورت میں اپنے خوشی کے جذبات کو متانت کا جامہ پہنا کر، ٹھہر ٹھہر کر لفظوں میں ادا کرتا تھا۔ لیکن جب اسی انسان کی زندگی میں کرب و اضمحلال، شدت، درد اور غم نے ڈیرے ڈالے، تو اس نے اپنے ان بوجھل احساسات کو بھی ایک خاص لب و لہجے میں بیان کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔
یہی کرب اور درد جب اردو شاعری میں داخل ہوا، اور شاعروں نے ان کیفیات کو ایک مخصوص انداز اور لہجے میں پرویا، تو اسے ’گیت‘ کا نام دیا گیا۔
عورت، برہ کا درد اور گیت کا لازوال رشتہ
تاریخی اعتبار سے گیت کا سب سے خاص اور گہرا تعلق عورتوں سے رہا ہے۔ یہ صنف عورتوں کے جذبات، ان کی داخلی کیفیات اور ان کے تمام لوازمات کو اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے۔ اصلاََ گیت وہ صنف ہے جس میں ایک عورت ’برہ کے درد‘ (جدائی کے کرب) کو پروتی ہے۔ ایک فراق زدہ عورت کی کیفیت، جس میں وہ اپنے محبوب، عاشق یا شوہر کو اپنے سچے جذبات کا حوالہ دے کر پکارتی ہے، وہی گیت کی اصل روح ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلے تو گیت کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہو گیا اور آج اس میں ہر طرح کے موضوعات کو جگہ مل چکی ہے۔ لیکن گیت کے اندر جو شاعری، موسیقی، رقص اور غنائیت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، اس میں جان اور روح صنفِ نازک (عورتوں) نے ہی پھونکی ہے۔ عورتوں کے مخصوص لب و لہجے اور اندازِ بیان نے اسے مقبولیت کی اس معراج تک پہنچا دیا جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
نامور محقق مولوی عبدالحق گیت میں عورتوں کے کردار اور اس کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وہ گیت جو عورتوں نے بنائے ہیں بہت ہی پر لطف اور دلکش ہیں اور نفسیاتی اعتبار سے خاص طور پر قابلِ قدر ہیں۔ ایسے الفاظ جن کا زبان سے نکالنا بد تمیزی سمجھا جاتا ہے ۔ جن کے کہنے میں شرم و حجاب مانع ہوتا ہے عورتیں ایسے الفاظ نہیں بولتیں بلکہ وہ ایسے مفہوم کو لطیف پیرایہ میں یا تشبیہ و استعارے کے رنگ میں بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہیں۔‘‘
(خطباتِ عبدالحق۔ مولوی عبدالحق، ص ۱۲۱ مطبوعہ انجمن ترقی اردو کراچی جون ۱۹۵۲ء)
اردو ادب میں گیت کا سفر: امیر خسرو سے لکھنؤ تک
اردو ادب میں گیت کی روایت نہایت قدیم اور مستحکم ہے، جس کا سراغ ہمیں امیر خسرو کے کلام سے ملتا ہے۔ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی صالح معاشرے کی ترویج و ترقی میں خواتین کا سب سے بنیادی اور اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر خواتین کے جذبات کو نظر انداز کر دیا جائے تو معاشرہ بے شمار مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔
شاید اسی اہمیت کو بھانپتے ہوئے اردو زبان و ادب کے بیشتر شعراء نے، جہاں غزل، قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، رباعی، نعت، حمد، اور منقبت جیسی اصناف میں طبع آزمائی کی، وہیں انہوں نے گیت کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ یہاں تک کہ ادب میں کچھ شاعر ایسے بھی گزرے ہیں جن کی تمام تر شہرت محض گیت نگاری کے سبب ہوئی اور انہیں باقاعدہ ’گیت کا شاعر‘ تسلیم کیا گیا۔
یہ ایک الگ اور مستقل بحث ہے کہ دیگر بڑی اصناف کی طرح گیت کو اردو ادب میں وہ باقاعدہ اعلیٰ مقام حاصل نہیں ہو سکا جو غزل یا قصیدے کو ملا۔ نہ ہی اسے صنفِ ادب کے طور پر تاریخ میں اس طرح محفوظ کیا گیا، اور نہ ہی اس پر زیادہ ضخیم کتابیں تحریر کی گئیں۔ مگر چونکہ اس کا براہِ راست تعلق انسانی جذبات سے تھا، اس لیے روایتی تاریخ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کی مقبولیت میں رتی بھر کمی نہیں آئی۔
اپنی لچک، مٹھاس اور بے پناہ دلچسپی کے باعث اس نے خواص (پڑھے لکھے طبقے) کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی وہ منفرد مقام حاصل کر لیا ہے جو بڑی بڑی ادبی اصناف کو نصیب نہ ہو سکا۔
عہدِ حاضر میں گیت کی وسعت اور حرفِ آخر
اس صنف کی اہمیت و افادیت کے پیشِ نظر عہدِ حاضر میں کئی تحقیقی مقالے اور مضامین منظرِ عام پر آ چکے ہیں جو گیت کی خصوصیات اور امتیازات کو اجاگر کر رہے ہیں۔ تاہم، آج کی اس بھاگ دوڑ اور افراتفری کی زندگی میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دلچسپ صنف کو مزید جستجو کے ساتھ محفوظ کیا جائے تاکہ یہ کہیں معدوم نہ ہو جائے۔
آج کے جدید دور میں گیت کا دائرہ انتہائی وسیع ہو چکا ہے۔ اب اس میں محض ’برہ کے درد‘ کی داستانیں نہیں سنائی جاتیں، بلکہ زندگی کے تمام موضوعات اس میں سمٹ آئے ہیں۔ ہمارے شعراء اس کے دامن کو مسلسل وسعت اور ترقی دینے میں مصروف ہیں۔ اردو شاعری کی ترقی کے ساتھ ساتھ گیت کا جو سلسلہ امیر خسرو سے شروع ہوا، اس نے دکن، دہلی، اور پھر لکھنؤ تک ہر جگہ کامیابی سے اپنی جگہ بنائی اور ارتقائی منازل طے کیں۔
الغرض، اگرچہ گیت ایک انتہائی قدیم اور توانا صنفِ سخن ہے اور آج کے ہم عصر شعراء اس میں بھرپور طبع آزمائی کر رہے ہیں (یہاں تک کہ مشاعروں میں گیت گانے کا رواج بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے)، لیکن اس کے باوجود ادبی درجہ بندی میں اس کا شمار اب تک ذیلی اصنافِ شاعری میں ہی ہوتا آ رہا ہے۔ اور راقم (مصنف) کی نظر میں بھی یہ بالکل انصاف کی بات ہے۔ اپنی ذیلی حیثیت کے باوجود، گیت اردو ادب کا وہ چمکتا ستارہ ہے جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔
نظر ثانی و تصحیح: فہد عظیم علی طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال
