مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

فورٹ ولیم کالج کی تاریخ، قیام اور اردو ادب پر 7 بڑے اثرات

فورٹ ولیم کالج کی تاریخ، قیام اور اردو ادب پر 7 بڑے اثرات، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

برصغیر پاک و ہند کی علمی و ادبی تاریخ میں فورٹ ولیم کالج کا نام ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ لارڈ ویلزلی کے احکامات پر سنہ 1800ء میں کولکتہ (موجودہ کلکتہ) کے مقام پر قائم ہونے والا یہ ادارہ برطانوی راج کا پہلا باقاعدہ مغربی طرز کا تعلیمی مرکز تھا۔

اگرچہ اس کالج کے قیام کا بنیادی مقصد ایسٹ انڈیا کمپنی کے نووارد انگریز ملازمین کو مقامی زبانوں، رسم و رواج اور انتظامی امور سے روشناس کرانا تھا، لیکن اس نے بالواسطہ طور پر اردو زبان و ادب بالخصوص اردو نثر کو ایک نئی زندگی بخشی۔ اس ادارے کے سائے میں تراجم اور طبع زاد تخلیقات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے اردو کو جدید اور سلیس نثر کے سانچے میں ڈھال دیا۔

اس تفصیلی مضمون میں ہم فورٹ ولیم کالج کے سیاسی پس منظر، اس کے قواعد و ضوابط، تدریسی نظام، اور اردو ادب کے فروغ میں اس کی لازوال خدمات کا مکمل اور جامع جائزہ لیں گے۔

سیاسی پس منظر اور فورٹ ولیم کالج کے قیام کے اسباب

ہندوستان میں انگریزوں کے قدم جمانے میں دو بڑی جنگوں کا اہم کردار رہا ہے۔ 1757ء میں نواب سراج الدولہ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پلاسی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال میں داخلے کا راستہ دیا، جبکہ 1764ء میں لارڈ کلائیو کی قیادت میں نواب میر قاسم کے خلاف لڑی جانے والی جنگ بکسر نے انگریزوں کے اقتدار کو مکمل طور پر مستحکم کر دیا۔

اقتدار کی اس منتقلی کے بعد انگریزوں کو شدت سے احساس ہوا کہ اتنی بڑی ریاست کا نظم و نسق چلانے کے لیے انہیں مقامی زبانوں سے واقفیت درکار ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اکتوبر 1780ء میں گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے کلکتہ مدرسہ (مدرسہ عالیہ) قائم کیا، جس کے بعد ایشیاٹک سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

سنہ 1772ء سے 1785ء کے درمیان ہیڈلے، ڈاکٹر بالفور، مسٹر ولکنس اور ڈاکٹر جان گلکرسٹ نے انگریزوں کے لیے لغت اور گرامر کی کئی کتب مرتب کیں۔ اس دور میں کمپنی اپنے سول اور فوجی ملازمین کو ہندوستانی زبانیں سیکھنے کے لیے 30 روپے ماہانہ منشی الاؤنس بھی دیا کرتی تھی۔ تاہم مقامی منشی انگریزی سے نابلد تھے، جس کی وجہ سے یہ طریقہ زیادہ کارگر ثابت نہ ہو سکا۔

لارڈ ویلزلی کی آمد اور تعلیمی اصلاحات

مئی 1798ء میں لارڈ ویلزلی ہندوستان کا گورنر جنرل بن کر آیا۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے وسعت پذیر مقبوضات کے تقاضوں کو بخوبی سمجھتا تھا۔ اس نے 21 دسمبر 1798ء کو ایک یادداشت پیش کی جس میں سول ملازمین کی باقاعدہ تربیت پر زور دیا گیا۔ اس کا ماننا تھا کہ انگلستان سے آنے والے 16 یا 17 سالہ نوجوانوں کو بغیر کسی تربیت کے اہم انتظامی عہدے نہیں دیے جا سکتے۔

اسی دوران، اردو (ہندوستانی) زبان کے ماہر ڈاکٹر جان گلکرسٹ نے گورنر جنرل کو ایک پیشکش کی کہ وہ انگریز رائٹرز کو روزانہ ہندوستانی زبان سکھانے کے لیے تیار ہیں۔ لارڈ ویلزلی نے یہ تجویز قبول کر لی۔ یکم جنوری 1801ء سے یہ قانون لاگو کر دیا گیا کہ بنگال، بہار، اڑیسہ اور بنارس میں کوئی بھی سول ملازم اس وقت تک اہم عہدہ نہیں پا سکے گا جب تک وہ مقامی زبانوں اور قوانین کا امتحان پاس نہ کر لے۔

ڈاکٹر گلکرسٹ کی اورینٹل سیمنری کا قیام

فروری 1799ء میں ڈاکٹر گلکرسٹ نے رائٹرز بلڈنگ میں باقاعدہ درس و تدریس کا آغاز کیا۔ یہ دراصل فورٹ ولیم کالج کی پہلی غیر رسمی شکل تھی جسے "اورینٹل سیمنری” کہا جاتا تھا۔

تقریباً ڈیڑھ سال کی تعلیم کے بعد، 21 تا 25 جولائی 1800ء کے درمیان پانچ اعلیٰ افسران کی ایک کمیٹی نے ان طلباء کا امتحان لیا۔ کامیاب ہونے والے 12 طلباء کو لارڈ ویلزلی نے نقد انعامات اور تمغے دیے۔ تاہم، یہ عارضی بندوبست تھا اور اس میں نظم و ضبط کا فقدان تھا کیونکہ طلباء اکثر کلاسوں سے غائب رہتے تھے۔

فورٹ ولیم کالج کا باقاعدہ قیام اور قانون سازی

لارڈ ویلزلی نے اورینٹل سیمنری کے تجربے کے بعد ایک باضابطہ کالج کے قیام کا حتمی فیصلہ کیا۔ اس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی مجلس نظما کی منظوری کا انتظار کیے بغیر، 10 جولائی 1800ء (17 صفر 1215ھ) کو فورٹ ولیم کالج کے قیام کا سرکاری اعلان کر دیا۔

تاہم، اس اعلامیے میں ایک تاریخی شرط رکھی گئی کہ کالج کا یومِ تاسیس 4 مئی 1800ء تصور کیا جائے گا۔ یہ تاریخ سلطان ٹیپو کے دارالحکومت سرنگاپٹم کے سقوط کی پہلی سالگرہ سے منسوب تھی۔ بعد ازاں، لارڈ ویلزلی نے 18 اگست 1800ء کو ایک طویل یادداشت لندن بھجوائی جس میں اس تعلیمی منصوبے کی مکمل تفصیلات اور بجٹ کی تجاویز شامل تھیں۔

انتظامی ڈھانچہ اور ریگولیشن

فورٹ ولیم کالج کا باقاعدہ ریگولیشن 27 دفعات پر مشتمل تھا۔ اس کی روشنی میں کالج کے درج ذیل انتظامی خدوخال طے کیے گئے:

  • سرپرستِ اعلیٰ: گورنر جنرل کو کالج کا سرپرست (وزیٹر) مقرر کیا گیا۔
  • گورنرز بورڈ: سپریم کونسل کے ارکان، دیوانی اور نظامت عدالت کے جج کالج کے گورنر قرار پائے۔
  • مجلس منتظمہ: پانچ ارکان پر مشتمل کونسل بنائی گئی، جن میں پادری ڈیوڈ براؤن (پرووسٹ)، پادری کلاڈیٹس بکانن (نائب پرووسٹ)، آرتھر ویلزلی (ڈیوک آف ولنگٹن)، سر جارج بارلو اور مسٹر نیل بن جامن ایڈمانسٹن شامل تھے۔
  • پرووسٹ کا عہدہ: کالج کا سب سے بڑا عہدیدار پرووسٹ کہلاتا تھا جو برطانوی کلیسا کا پادری ہوتا تھا۔ واضح رہے کہ کالج میں "پرنسپل” کا کوئی عہدہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔

وسیع نصاب اور مضامین

اس کالج میں عربی، فارسی، ہندوستانی، سنسکرت، بنگالی، مرہٹی، تامل اور کنڑی جیسی مشرقی زبانوں کے شعبے قائم کیے گئے۔

زبانوں کے علاوہ اسلامی فقہ، ہندو دھرم، برطانوی قانون، معاشیات، جغرافیہ، ریاضی، کیمسٹری، علم نجوم، نباتات، اور یورپ کی قدیم و جدید زبانیں (یونانی اور لاطینی) بھی نصاب کا لازمی حصہ تھیں۔

تدریسی نظام اور کالج کی مراعات

احاطہ بنگال کے تمام نووارد سول ملازمین کے لیے فورٹ ولیم کالج میں تین سال تک تعلیم حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ تعلیم کے دوران انہیں سرکاری فرائض سے مستثنیٰ رکھا جاتا تھا۔

شہر کے وسط میں مسٹر میکڈانلڈ سے ایک وسیع عمارت کرائے پر لی گئی جہاں 24 نومبر 1800ء کو باقاعدہ کلاسوں کا آغاز ہوا۔ طلباء کے لیے رہائش، اور ایک بڑے ہال میں دونوں وقت کا کھانا کالج کی طرف سے مفت فراہم کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ہر طالب علم کو 300 روپے ماہانہ جیب خرچ بھی ملتا تھا۔

اساتذہ اور منشیوں کا تقرر

مقامی زبانیں سکھانے کے لیے انگریز پروفیسروں کے ماتحت دیسی منشی اور پنڈت بھرتی کیے گئے۔

  • پروفیسر ہندوستانی (ڈاکٹر جان گلکرسٹ) کی تنخواہ 1500 روپے ماہانہ تھی۔
  • پروفیسر عربی (جان بیلی) کی تنخواہ 1600 روپے ماہانہ تھی۔
  • ہر شعبے میں ایک "چیف منشی” ہوتا تھا جس کی تنخواہ 200 روپے ماہانہ تھی، اور سیکنڈ منشی کی تنخواہ 100 روپے تھی۔

ابتدائی طور پر لکھنؤ اور دہلی سے قابل افراد تلاش کیے گئے۔ ابتدا میں فارسی کے 20، ہندوستانی کے 12، بنگالی کے 6 اور عربی کے 4 منشی رکھے گئے، مگر ہندوستانی زبان کی مقبولیت کے باعث جلد ہی ہندوستانی منشیوں کی تعداد 25 تک جا پہنچی۔ حتیٰ کہ ایک قصہ خواں بھی ملازم رکھا گیا جو طلباء کو قیام گاہ پر کہانیاں سناتا تھا۔

امتحانات، کانووکیشن اور انعامات کا شاندار نظام

کالج میں تدریسی سال کو دو، دو ماہ کے چار ٹرمز میں تقسیم کیا گیا تھا اور سال میں دو بار امتحانات ہوتے تھے۔

ہر سال 6 فروری کو شاندار کانووکیشن (تقسیم اسناد کا جشن) منعقد ہوتا تھا جس کی صدارت خود گورنر جنرل کرتا تھا۔ سندیں اسی زبان کے سنہرے حروف میں لکھی جاتی تھیں جس میں طالب علم نے مہارت حاصل کی ہو۔

اس کانووکیشن کی سب سے خاص بات طلباء کے درمیان مختلف مشرقی زبانوں میں ہونے والے مباحثے تھے۔ ان تقریروں پر خطیر انعامات دیے جاتے تھے۔ اول، دوم اور سوم آنے والوں کو بالترتیب 1500 روپے، 1000 روپے اور 500 روپے کے ساتھ طلائی تمغے دیے جاتے تھے۔ خطاطی (فارسی نویسی اور ناگری نویسی) کے لیے بھی ایک ایک ہزار روپے کے تین الگ انعامات مقرر تھے۔

پہلا کانووکیشن

کالج کا پہلا کانووکیشن 6 فروری 1802ء کو منعقد ہوا، جس کی صدارت قائم مقام گورنر جنرل سر جارج بارلو نے کی۔ اس میں فارسی مباحثے کا موضوع ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی اہمیت تھا، جبکہ ہندوستانی مباحثے کا موضوع تھا: "ہندوستانی زبان ہندوستان کی سب سے عام فہم اور مفید زبان ہے۔”

فورٹ ولیم کالج کا شاندار کتب خانہ

طلباء اور اساتذہ کی تحقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک بے مثال لائبریری قائم کی گئی۔ سلطان ٹیپو کے سرنگاپٹم سے لائے گئے پورے کتب خانے کو بھی فورٹ ولیم کالج کے حوالے کر دیا گیا۔

سنہ 1835ء تک اس کتب خانے میں 5224 مغربی مطبوعہ کتابیں، 11718 مشرقی مطبوعہ کتب اور 4225 انتہائی قیمتی قلمی مخطوطات موجود تھے۔ بعد ازاں 1836ء میں یہ تمام قلمی نسخے ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال منتقل کر دیے گئے۔

فورٹ ولیم کالج کی 7 عظیم ادبی خدمات

اگرچہ فورٹ ولیم کالج سیاسی مقاصد اور نوآبادیاتی ضروریات کے تحت قائم ہوا تھا، لیکن اردو زبان اور اس کے نثری ادب کے لیے یہ ایک عظیم انقلاب ثابت ہوا۔ اس ادارے کی 7 سب سے اہم ادبی خدمات مندرجہ ذیل ہیں:

1. اردو زبان کی باقاعدہ ترویج و ترقی:
کالج کے قیام سے قبل اردو صرف درباروں اور شعری محفلوں تک محدود تھی، لیکن فورٹ ولیم کالج نے اسے علمی و تدریسی زبان کا درجہ دیا۔ یہ ادارہ اردو نثر کی باقاعدہ ترویج کا سب سے بڑا محرک بنا۔

2. عالمی ادب کے اردو تراجم کی روایت:
کالج نے سنسکرت، عربی، فارسی اور انگریزی کے مستند شاہکاروں کو ہندوستانی زبانوں بالخصوص اردو میں منتقل کروایا۔ لفظی ترجمے کے بجائے مفہوم کو عام فہم اور دلکش اسلوب میں پیش کیا گیا۔

3. جدید اور سلیس اردو نثر کا فروغ:
یہ ادارہ جدید اور سلیس اردو نثر کا موجد ہے۔ مصنفین نے پیچیدہ، مقفیٰ اور مسجع زبان کو ترک کر کے سادہ، ٹکسالی اور عام بول چال کی زبان کو اپنایا، جس سے اردو میں داستان گوئی اور فکشن نگاری کی مضبوط بنیادیں استوار ہوئیں۔

4. لسانی تحقیق، لغت اور قواعد کی ترتیب:
ڈاکٹر جان گلکرسٹ اور دیگر ماہرین نے ہندوستانی زبان کی باقاعدہ گرامر ترتیب دی۔ 1787ء میں لغت کا مسودہ اور پھر گرامر اور لسانیات کی کتابیں چھپیں، جس سے اردو کو ایک معیاری اور منضبط شکل ملی۔

5. ہندی، بنگالی اور دیگر زبانوں کی سرپرستی:
صرف اردو ہی نہیں، بلکہ فورٹ ولیم کالج نے سنسکرت، ہندی، بنگالی، تامل اور مراٹھی جیسی مقامی زبانوں کے ادب کو بھی پروان چڑھایا۔ دیوناگری رسم الخط میں بھی اہم کتب شائع کی گئیں۔

6. معیاری نصابی کتب کی اشاعت:
ابتدائی چار برسوں میں ہی ہندوستانی زبان کی 93 طبع زاد اور مترجمہ کتابیں تیار ہوئیں۔ یہ نصابی کتابیں اس قدر معیاری تھیں کہ آج بھی برصغیر کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی ہیں۔

7. مقامی مصنفین اور شعراء کی حوصلہ افزائی:
کالج نے نہ صرف اپنے باقاعدہ منشیوں کو لکھنے کی ترغیب دی بلکہ باہر کے ادیبوں کی منظور شدہ تصانیف پر بھی بھاری انعامات دیے۔ اس سرپرستی نے قلم کاروں کی ایک شاندار کھیپ تیار کر دی۔

کالج کے نمایاں مصنفین اور ان کی شاہکار تصانیف

فورٹ ولیم کالج میں تصنیف و تالیف کا عظیم الشان کام انجام دیا گیا جس میں درجنوں مصنفین نے حصہ لیا۔ چند انتہائی اہم شخصیات اور ان کا کام درج ذیل ہے:

  • میر امن دہلوی: فورٹ ولیم کالج کی سب سے بڑی اور زندہ جاوید پہچان میر امن کی تصنیف "باغ و بہار" ہے۔ یہ فارسی داستان قصہ چہار درویش کا سلیس اردو ترجمہ ہے جس نے نثر کو نیا انداز بخشا۔ انہوں نے "اخلاق محسنی” کا بھی ترجمہ کیا۔
  • حیدر بخش حیدری: کالج کے تحت سب سے زیادہ کتب مرتب کرنے کا اعزاز حیدری کے پاس ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں آرائش محفل، طوطا کہانی، تاریخ نادری، اور گلزار دانش شامل ہیں۔
  • میر بہادر علی حسینی: یہ کالج کے چیف منشی تھے۔ انہوں نے "اخلاق ہندی” لکھی اور مثنوی سحر البیان کو "نثر بے نظیر” کے نام سے نثر میں ڈھالا۔
  • میر شیر علی افسوس: انہوں نے گلستان سعدی کا اردو ترجمہ "باغ اردو” کے نام سے کیا۔
  • کاظم علی جوان: انہوں نے سنسکرت ادب کے شاہکار شکنتلا کا اردو ترجمہ کیا۔
  • دیگر مصنفین: للولال کوی (پریم ساگر)، مظہر علی ولا (بیتال پچیسی)، خلیل علی خان اشک (داستان امیر حمزہ)، اور نہال چند لاہوری کا قصہ گل بکاؤلی اسی دور کی شاندار پیداوار ہیں۔

اردو کے علاوہ کالج کے پریس سے عربی میں منتخب اللغات، فارسی میں انوار سہیلی، برہان قاطع، اور پنجابی زبان کی گرامر جیسی نادر کتب بھی شائع کی گئیں۔

فورٹ ولیم کالج کا زوال اور اختتام

یہ عظیم ادارہ ابتدا ہی سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی مجلس نظما کی مخالفت کا شکار رہا۔ ابھی اسے کھلے صرف ایک سال ہوا تھا کہ لندن سے 27 جنوری 1802ء کو اسے بند کرنے کے احکامات موصول ہو گئے۔ لارڈ ویلزلی نے سخت مزاحمت کی اور اپنے تفصیلی جوابی خطوط سے وقتی طور پر کالج کو بچا لیا۔

تاہم، اگست 1805ء میں لارڈ ویلزلی کی انگلستان واپسی کے بعد کالج کی سرگرمیاں ماند پڑنے لگیں۔ مئی 1806ء میں انگلستان میں ہیلی بری کالج کے قیام نے فورٹ ولیم کالج کی اہمیت کو مزید کم کر دیا۔ 1807ء میں پرووسٹ کے عہدے ختم کر دیے گئے اور بجٹ میں بھاری کٹوتیاں کی گئیں۔

لارڈ ولیم بنٹک کے دور (1827 تا 1835) میں اسے صرف امتحانی حد تک محدود کر دیا گیا، یکم جون 1830ء کو لیکچرز منقطع ہو گئے، اور بالآخر 1854ء میں اس تاریخی ادارے کو باقاعدہ طور پر بورڈ آف ایگزامنرز میں ضم کر کے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا۔

اگرچہ فورٹ ولیم کالج ایک سامراجی ضرورت کے تحت بنا تھا، لیکن اس نے اردو زبان اور برصغیر کے دیگر مشرقی علوم کو جو دوام بخشا، وہ آج بھی اردو ادب کی تاریخ میں سورج کی طرح درخشاں ہے۔


کتابی حوالہ جات

  1. تارا چند، تاریخ ادب اردو (جلد دوم)، انجمن ترقی اردو، دہلی، 1931۔
  2. عبدالحق، فورٹ ولیم کالج اور اردو نثر، لاہور: سنگ میل پبلیکیشنز، 1983۔
  3. سید سبط حسن، مشرق و مغرب کی ادبی تحریکیں، کراچی: نیشنل بک فاؤنڈیشن، 1975۔
  4. مولوی عبدالحق، اردو نثر کا ارتقا، انجمن ترقی اردو، دہلی، 1940۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں