فیض احمد فیض کی نظم نگاری کے 7 اہم پہلو اور ان کا انقلابی و رومانی سفر تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی تاریخ میں فیض احمد فیض کی نظم نگاری کو ایک نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعراء میں ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔ ان کے تخلیقی سفر کا آغاز حسن و جمال، عشق و محبت اور دلکشی کے موضوعات سے ہوتا ہے۔
ابتدائی دور میں ان کے ہاں محبوب کا بے تکلفانہ ذکر اور عشقیہ مضامین کی جو کھلی وضاحت ملتی ہے، وہ قاری کو فوراً اختر شیرانی کی یاد دلا دیتی ہے۔ یہ رومانوی انداز بعض اوقات پڑھنے والے کے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ کیا واقعی یہ کسی انقلابی شاعر کا کلام ہے؟
ان کی مشہور نظم ”حسینہ خیال سے“ کے درج ذیل اشعار اس رومانوی کیفیت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں:
"مجھے دے دے رسیلے ہونٹ معصومانہ پیشانی
حسیں آنکھیں کہ میں اک بار پھر رنگینیوں میں غرق ہو جاؤں
مری ہستی کو تیری اک نظر آغوش میں لے لے
ہمیشہ کے لیے اس دام میں محفوظ ہو جاؤں
ضیائے حسن سے ظلمات دنیا میں نہ پھر آؤں
گزشتہ حسرتوں کے داغ میرے دل سے دھل جائیں
میں آنے والے غم کی فکر سے آزاد ہو جاؤں”
(حسینہ خیال)
ان اشعار کو پڑھ کر بجا طور پر یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ اتنے رومان پرور خیالات کا خالق انقلابی کیسے ہو سکتا ہے۔ لیکن فیض کی شاعری کسی ایک مقام پر جمود کا شکار نہیں رہی۔
ارتقائی سفر: رومان سے انقلاب کی جانب
وہ محض لکیر کے فقیر نہیں بنے اور نہ ہی ان کا قلم صرف ’حسینہ خیال‘ کی زلفوں کا اسیر رہا۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کو بے پناہ محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھایا اور بہت جلد مفلسوں، غریبوں اور پسے ہوئے طبقات کی توانا آواز بن گئے۔
فیض نے معاشرتی مصائب اور انسانی درد کو اپنی شاعری کا بنیادی جزو بنایا۔ ان کے اظہار کا طریقہ اس قدر خوبصورت اور دلنشین ہے کہ قاری ان کی فنی مہارت پر دنگ رہ جاتا ہے۔ فیض احمد فیض کی نظم نگاری میں حیرت انگیز اختصار پایا جاتا ہے جس پر انگریزی ادب کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔
ان کی فکر میں کمال درجے کی پختگی اور آفاقیت موجود ہے۔ وہ محض علاقائی سرحدوں کے پابند نہیں، بلکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے ظلم پر ان کا قلم سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔
چاہے بات فلسطینی بچوں کے مصائب کی ہو، ان کے لیے لوریاں لکھنے کی ہو، یا فلسطینی شہداء کے حوصلے بڑھانے کی، فیض ہمیشہ صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔ معاشرے کے دبے کچلے طبقے کا درد ان کے ہاں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے:
"جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے
اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں
ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے”
(رقیب سے)
ان اشعار میں موجود ولولہ اور جوش دیدنی ہے۔ تاہم، ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات کو کھوکھلے نعروں میں تبدیل نہیں ہونے دیتے اور نہ ہی اپنی جمالیاتی اقدار پر کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں۔
آزادی کا دکھ اور تنہائی کا کرب
ان کی شاعری مفلوک الحال انسانوں کی ہمت افزائی کرتی ہے اور انہیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر آزادی کی نوید سناتی ہے۔ لیکن جب خطے کو آزادی نصیب ہوتی ہے اور وہ استحصالی نظام کا خاتمہ نہیں دیکھ پاتے، تو ان کی امید ماتم میں بدل جاتی ہے۔
اس نامکمل آزادی پر وہ اپنا نوحہ کچھ یوں پیش کرتے ہیں:
"یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ صبح تو نہیں”
(صبح آزادی)
ان کی شاعری میں جہاں بلند خیالی، روانی، رواں بحروں کا دلکش انتخاب اور زبان کی چاشنی ہے، وہیں بعض مقامات پر شدید مایوسی اور ناامیدی بھی جھلکتی ہے۔
یہ کیفیت قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ ایک پرامید انقلابی کردار اتنا مایوس کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کی واضح مثال ان کی مشہور نظم ”تنہائی“ میں ملتی ہے، جہاں تمام آرزوئیں دم توڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں:
"اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا”
(تنہائی)
ترقی پسند سوچ اور جمالیاتی اقدار کی بقاء
اردو نظم کے سرمائے میں فیض نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ بحیثیت ایک ترقی پسند شاعر، انہوں نے اپنی تخلیقات کو خشک خطابت اور کھردری انقلابی بیان بازی سے محفوظ رکھا۔
ان کی شاعری میں روحانیت، تحمل اور رعنائی کا ایسا امتزاج ہے جس نے ان کے کلام کو دوام بخشا ہے۔ ان کی نظمیں درحقیقت رومان اور حقیقت پسندی کا ایک خوبصورت سنگم ہیں۔
طرزِ کلام کی دھیمی آنچ ان کے اسلوب کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ وہ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے نت نئے استعاروں اور اچھوتی تشبیہات کا سہارا لیتے ہیں۔ اس حوالے سے معروف نقاد فضیل جعفری فرماتے ہیں:
"فیض کے اسلوب کا کمال یہ ہے کہ وہ بڑی سے بڑی بات اور گہرے سے گہرے تجربہ کو اس سیدھے سادے لیکن لطیف انداز میں قاری کو منتقل کرتے ہیں کہ نہ فنی نفاست میں کوئی کمی آنے پاتی ہے نہ تاثر میں۔”
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فیض اپنے عہد کی وہ توانا آواز ہیں جسے کوئی بھی باشعور فرد نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ظلم خواہ کائنات کے کسی بھی خطے میں ہو، فیض کا قلم اس کے خلاف حرکت میں آ جاتا ہے۔ جدید اردو شاعری کا دور بلا شبہ فیض کا دور کہلانے کا حقدار ہے۔
ابتدائی زندگی اور فکری نشوونما
بیسویں صدی کے معدودے چند خوش نصیب شعراء میں فیض کا شمار ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی میں ہی بے پناہ مقبولیت، محبت اور شہرت سمیٹی۔ انہوں نے عشق کی رنگینیوں کا بھی لطف اٹھایا اور حق کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
انہیں علامہ اقبال کے مایہ ناز استاد مولوی میر حسن اور مشہور محقق یوسف سلیم چشتی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
البتہ ان کی فکری راہیں اقبال سے جدا رہیں۔ اقبال نے مذہبی بنیادوں پر بیداری کا پیغام دیا، جب کہ فیض نے کمیونزم اور مارکسی فلسفے میں انقلاب کی کرنیں تلاش کیں۔
جب فیض نے ادبی دنیا میں قدم رکھا، تو ہر طرف رومانیت کا طوطی بول رہا تھا۔ جوش ملیح آبادی اور احسان دانش خیالی جنتیں بسا رہے تھے، جبکہ غزل کی روایت کو اصغر، جگر، داغ اور حسرت نے سنبھالا ہوا تھا۔
دوسری جانب ن۔ م۔ راشد، میرا جی اور اختر الایمان نظم نگاری کے میدان میں نئے تجربات کر رہے تھے۔ تعلیمی سفر کے دوران امرتسر میں فیض نے صاحبزادہ محمود الظفر اور ان کی اہلیہ رشیدہ جہاں کی صحبت میں مارکسزم کا گہرا مطالعہ کیا۔
جب ترقی پسند تحریک کی بنیاد رکھی گئی تو فیض اس کے اولین بانیوں میں شامل تھے۔ حکومت وقت کے عتاب، جیل کی سلاخوں اور پابندیوں کے باوجود انہوں نے اپنے نظریات سے کبھی روگردانی نہیں کی۔ وہ سماج میں ایک ایسا طبقاتی انقلاب لانا چاہتے تھے جو استحصال کا مکمل خاتمہ کر دے۔
غزل کا پیرایہ اور مزاحمتی ادب
گو کہ ترقی پسند تحریک نے غزل کی صنف کو نقصان پہنچایا، مگر فیض نے اپنی انقلابی سوچ کے ابلاغ کے لیے غزل ہی کا انتخاب کیا۔ انہوں نے براہِ راست سیاسی نظمیں لکھنے کے بجائے غزل کی علامتوں کو نیا رنگ دیا۔
ان کا ماننا تھا کہ خالص سیاسی اور ہنگامی ادب کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے جمالیاتی تقاضوں کو کبھی فراموش نہیں کیا۔
رومان اور انقلاب کا حسین سنگم
اس حوالے سے ثاقب رزمی کا تجزیہ انتہائی جامع ہے:
"ایک پختہ کار ترقی پسند شاعر ہونے کی حیثیت سے اپنی شاعری کو خطیبانہ اور انقلابی رائے زنی سے بچایا اور اُسے روحانی اور رعنائی تجمل کے پیرایہ میں پیش کیا… فیض بیسویں صدی کا ایسا ترقی پسند شاعر ہے جس کی ایک ہتھیلی پر رومانیت کا چراغ فروزاں ہے تو دوسری ہتھیلی پر سماجیت کی مشعل جل رہی ہے۔”
فیض کا سب سے بڑا کارنامہ مواد اور ہیئت کے روایتی فاصلے کو مٹانا ہے۔ ڈاکٹر عبدالغنی اس جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
"رومان اور انقلاب کی کشمکش کے معاملے میں فیض کا شعور تاملات اور ترددات کی آماجگاہ ہے۔ وہ ہنوز فیصلہ نہیں کر پائے کہ ان کی صحیح سمت کیا ہے… وہ بار بار جاناں کو چھوڑ کر دوراں کی طرف بڑھتے ہیں لیکن نہ صرف مڑ مڑ کر دیکھتے ہیں بلکہ پلٹ بھی پڑتے ہیں۔”
یہی کشمکش ان کے اس مشہور شعر میں بھی عیاں ہے:
"مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے”
غمِ جاناں اور غمِ دوراں کو بیک وقت اپنے سینے میں جگہ دینا فیض احمد فیض کی نظم نگاری کا خاصہ ہے۔ انہوں نے وطن کو ایک محبوب کی صورت میں پیش کر کے کلاسیکیت اور رومانیت کا ایک نیا قالب تیار کیا۔
درج ذیل اشعار میں وطن کی محبت کو محبوب کی قربت کی طرح پیش کیا گیا ہے:
"تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے”
فیض بخوبی جانتے تھے کہ غریب کاشتکار اور مزدور کا پسینہ سرمایہ دار کی تجوری کی زینت بن رہا ہے۔ وہ کھوکھلی نعرہ بازی اور خونی انقلاب کی دعوت دینے کے بجائے انتہائی نرم لہجے میں سماجی تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔
اپنی تصنیف ”میزان“ میں وہ رقمطراز ہیں:
"انقلابی شاعر پر حسن و عشق یا مے و جام حرام نہیں، اور اُس پر یہ حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ انقلابی مضامین کے علاوہ دوسرے تجربات اور دوسری وارداتوں کا ذکر نہ کرے۔”
فیض کو ادراک تھا کہ انسان کو محض روٹی اور کپڑے کی نہیں، بلکہ روحانی تسکین اور جمالیاتی حظ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے ان کے ہاں اختر شیرانی جیسی سطحی رومانیت کے بجائے انتہائی گہری اور دل آویز تشبیہات ملتی ہیں:
"رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحرائوں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے”
زنداں کی صعوبتیں اور مسلسل جدوجہد
اپنے آزادانہ خیالات اور سوشلزم سے لگاؤ کی بنا پر فیض کو طویل عرصہ پابندِ سلاسل رہنا پڑا۔ مگر سلاخیں ان کے فکر کی پرواز کو نہ روک سکیں۔ جیل کی کوٹھری سے بھی ان کی انقلابی صدائیں گونجتی رہیں:
"اے خاک نشینوں اُٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آپہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اُچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے”
جب انہیں غدارِ وطن کا لقب دیا گیا، تو یہ ان کے لیے ایک انتہائی تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ اس دکھ کا اظہار انہوں نے یوں کیا:
"اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس ِ زنداں ، کبھی رسوا سر ِ بازار
گرجے ہیں بہت شیخ، سر گوشہ منبر
کڑکے ہیں بہت اہل ِ حکم ، برسرِ دربار”
ان کی شاعری میں بیک وقت انقلاب کی گرج بھی ہے اور حسن و نزاکت کا دلفریب بیان بھی۔ وہ زندگی کی لطافتوں کو اپنے کلام میں پرونے کا فن جانتے ہیں:
"سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام
بکھر گیا جو کبھی رنگ ِ پیرہن سرِ بام
نکھر گئی ہے کبھی صبح ، دوپہر کبھی شام
کہیں جو قامت زیبا پہ سج گئی ہے قبا
چمن سرو و صنوبر سنور گئے ہیں تمام
بنی بساطِ غزل جب ڈبو لئے دل نے
تمہارے سایہ رخسار و لب میں ساغر وجام”
محبوب کے ساتھ ساتھ ان کے دل میں وطن کی مٹی کی محبت بے پناہ ہے۔ قوم کی خستہ حالی اور جہالت پر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے:
"نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھاکے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے”
ان کے مجموعے ”دست صبا“ میں محبت اور مقصدیت اس قدر یکجا ہو گئے ہیں کہ انہیں الگ کرنا ناممکن ہے۔ دیگر شعراء عموماً یا تو سراپا رومان بن جاتے ہیں یا پھر خالص بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ مگر فیض ان دونوں کشتیوں کے شاندار سوار ہیں۔
وہ عشق اور انقلاب کی راہیں ایک ساتھ طے کرتے ہیں:
"چلے ہیں جان و ایماں آزمانے آج دل والے
وہ لائیں لشکر و اغیار و اعدا ہم بھی دیکھیں گے
وہ آئیں تو سر مقتل ، تماشا ہم بھی دیکھیں گے”
مشہور دانشور صفدر میر ان کے بارے میں کہتے ہیں:
"حقیقت یہ ہے کہ اس کی شاعری میں محبت اور انقلاب کو باہم مربوط کر دیا گیا ہے اور یہ صفت موجودہ دور میں کسی اور شاعر کے یہاں نہیں پائی جاتی۔”
فیض کے کلام کے فکری اور فنی محاسن
ان کے شعری کمالات کو سمجھنے کے لیے خود ان کا ایک اقتباس بہت اہم ہے جو انہوں نے مقالے ”شاعر کی قدریں“ میں لکھا تھا:
"حسن کی تخلیق صرف جمالیاتی فعل ہی نہیں افادی فعل بھی ہے… جس سے ہماری زندگی میں حسن یا لطافت یا رنگینی پیدا ہو… جس کی لو سے ہمارے دماغ کو روشنی اور جلا حاصل ہو صرف حسین ہی نہیں مفید بھی ہے۔”
رومانیت کا جادو
فیض کا مزاج خشک ناصحانہ نہیں ہے۔ ان کی طبیعت میں ایک سچی رومانیت رچی بسی ہے جو قاری کے دل پر سیدھا اثر کرتی ہے۔ ان کی چشم و لب کی شاعری میں بلا کی نزاکت ہے:
"تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی و رخسار و ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹادی ہم نے”
محبوب کی یاد اور اس کے جلوے کی مہک ان کے اشعار میں یوں اترتی ہے:
"ترا جمال نگاہوں میں لے کے اُٹھاہوں
نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہن کی سی
نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے
مری سحر میں مہک ہے تیرے بدن کی سی”
اور جب وہ محبوب کے سنگار کی بات کرتے ہیں تو منظر نگاری کا کمال دکھائی دیتا ہے:
"آج وہ حسن و دلدار کی وہی دھج ہوئی
وہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیر
رنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا اُبھار
صندلیں ہاتھ پہ دھندلی سی حنا کی تحریر”
حسنِ ادا اور ندرتِ بیان
ان کے قلم میں نئے اور اچھوتے خیالات کو جنم دینے کی زبردست صلاحیت ہے۔ ہر بار پڑھنے پر ان کی شاعری ایک نیا مفہوم آشکار کرتی ہے:
"ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دے
گناہ گار نظر کو حجاب آتا ہے”"وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے”"وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سے
اک نظر تم میرا محبوب ِ نظر تو دیکھو”
جذبات کی سچی ترجمانی
صداقت اور پرخلوص احساسات کے بغیر شاعری محض الفاظ کا ڈھیر ہے۔ فیض کے ہاں دل کی سچی تڑپ نمایاں ہے:
"تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگے ہیں
ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جواب بھی تیرے گلی سے گزرنے لگتے ہیں”
عشقیہ شاعری کی چاشنی
محبت کا حقیقی اظہار فیض کی لفظیات میں چاندنی جیسی ٹھنڈک اور نسیمِ سحر جیسی تازگی پیدا کر دیتا ہے:
"اس قدر پیار سے ، اے جان جہاں ، رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے ، گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن ، آبھی گئی وصل کی رات”
بے مثال وطن پرستی
ان کے ہاں وطن محض مٹی کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا محبوب ہے۔ ڈاکٹر سلام سندیلوی لکھتے ہیں:
"دراصل فیض کو اپنے وطن سے بے حد محبت ہے۔ وہ اپنے وطن سے اس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح کوئی مرد کسی عورت سے کرتا ہے۔”
اپنی نظم ”دو عشق“ میں انہوں نے اس دوہری محبت کا اعتراف بڑی خوبصورتی سے کیا ہے:
"تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے
کیا کیا نہ دل زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں
آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دست صباکو
ڈالی ہیں کبھی گردن مہتاب میں باہیں”
پھر فوراً وطن کی محبت کو اسی رنگ میں پیش کرتے ہیں:
"چاہا اسی رنگ میں لیلائے وطن کو
تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں
ڈھونڈی ہیں یونہی شوق نے آسائش منزل
رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں”
محبوب دیس کی حالتِ زار پر وہ نوحہ کناں رہتے ہیں۔ جیسا کہ اس شعر میں پھر سے وطن کی گلیوں پر نچھاور ہونے کا ذکر ہے:
"نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے ، جسم و جاں بچا کے چلے”
جیل کی اندھیری راتوں میں بھی انہیں وطن کی صبحوں کا یقین رہتا ہے:
"بجھا جو روزنِ زنداں تو دل نے سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی”
لیکن جب یہ آزادی مطلوبہ شکل میں نہ مل سکی، تو ان کی افسردگی ان اشعار میں ڈھل گئی:
"یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں”
اس تمام کرب کے باوجود وہ قوم کو آگے بڑھنے کا درس دیتے ہیں:
"چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی”
سحر انگیز اسلوب اور سادگی
فیض احمد فیض کی نظم نگاری اپنے مخصوص دھیمے اور جادوئی لہجے کے باعث ہر دور کے ذہن کو متاثر کرتی ہے۔ فضیل جعفری کے مطابق ان کی عالمگیر مقبولیت میں ان کے منفرد اسلوب کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔
وہ ن۔م۔ راشد یا جوش کی طرح بھاری بھرکم اور ثقیل فارسی الفاظ کا سہارا نہیں لیتے۔ ان کے اشعار انتہائی سادہ مگر دل نشین ہوتے ہیں:
"گر آج تجھ سے جدا ہیں توکل باہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گرآج اوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں”
تغزل اور شگفتگی
فیض کی نظموں میں غزل کی سی مٹھاس موجود ہے۔ ان کی ترکیبیں اور تراش خراش قاری کو مسحور کر دیتی ہیں۔ محبت اور فراق کی کیفیات کو وہ بھرپور تغزل کے ساتھ بیان کرتے ہیں:
"اس قدر پیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن آبھی گئی وصل کی رات”
خود کلامی کا ہنر
انگریزی صنف ‘Soliloquy’ (خود کلامی) کو فیض نے اردو میں انتہائی کامیابی سے برتا ہے۔ شاعر اپنے آپ سے، یا کسی غائب وجود سے یوں محوِ گفتگو ہوتا ہے کہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے:
"رات باقی تھی ابھی جب سرِ بالیں آکر
چاند نے مجھ سے کہا ”جاگ سحرآئی ہے
جاگ اس شب جو مئے خواب تراحصہ تھی
جام کے لب سے تہ جام اتر آئی ہے“”
استعارات اور تشبیہات کا بہترین استعمال
انہوں نے پرانی علامتوں کو نئے مفاہیم پہنائے۔ جسمانی اعضاء مثلاً ‘ہاتھ’ کو انہوں نے زبردست انقلابی استعارے کے طور پر استعمال کیا:
"یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک اس خوں میں حرارت ہے جب تک
اس دل میں صداقت ہے جب تک اس نطق میں طاقت ہے جب تک”"تیرے دستِ ستم کا عجز نہیں
دل ہی کا تھا جس نے آہ نہ کی”
اور تشبیہات کی مٹھاس کا اندازہ ان کے اس لازوال قطعے سے لگایا جا سکتا ہے:
"رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحرائوں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے”
نقاد فضیل جعفری ان کے اس وصف کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فیض مشکل ترین فکری تجربات کو بھی بغیر کسی فنی نقصان کے قاری تک منتقل کرنے میں ثانی نہیں رکھتے۔
انسانی تاریخ میں ہمیشہ ایک ایسی مسحور کن آواز گونجتی ہے جو مظلوموں کا سہارا بنتی ہے۔ عصرِ حاضر میں یہ آواز بلاشبہ فیض احمد فیض کی ہے۔
ان سے روشناس ہونے کے بعد ان کے سحر سے نکلنا قاری کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ معروف نقاد پروفیسر جمیل احمد ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"طبقاتی کشمکش کے خلاف، انقلاب اور جدوجہد تیسری دنیا کے استحصال زدہ عوام، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق چند ایسے موضوعات ہیں جن پر فیض نے بہت لکھا ہے اور اس انداز سے لکھا ہے کہ ان کی شاعری کھوکھلی نعرے بازی بننے کی بجائے با معنی اور جامعیت کی تمام تر وسعتیں اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔”
اسی طرح نامور ادیب احمد ندیم قاسمی ان کی عملی وابستگی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"دراصل فیض ان شاعروں میں سے نہیں جو خلاء میں شاعری کرتے ہیں… فیض نے تو آج کی دنیا کے جملہ سیاسی، سماجی اور اقتصادی محرکات کے شعور میں شعر کہے ہیں۔”
فیض کا فن اور ان کی جدوجہد انہیں اردو ادب کے آسمان کا وہ درخشاں ستارہ بناتی ہے جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔ ان کی عظمت کو سراہتے ہوئے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے:
"خوشبو تیرے اشعار کی دست ِ صبا میں بس گئی
تاریخ بن کے رہ گیا ”لطف غزل حسنِ سخن“”
نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی
ڈجکوٹ فیصل آباد، فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات)،متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم
