فیض احمد فیض کی غزل نگاری اور اردو ادب میں ان کا بے مثال مقام تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
فیض احمد فیض کی غزل نگاری
موضوعات کی فہرست
بیسویں صدی کے ممتاز ترین شعراء کا ذکر کیا جائے تو فیض احمد فیض کی غزل نگاری کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی شاعری نہ صرف اپنے عہد کی عکاسی کرتی ہی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔
جب ہم فیض احمد فیض کی غزل نگاری کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک مخصوص نظریے کا حامل ہونے کے باوجود اپنے فن کو کبھی زوال کا شکار نہیں ہونے دیا۔ ان کا دور سیاسی انتشار، بے یقینی اور سماجی کشمکش کا دور تھا، لیکن انہوں نے ان تمام حالات کو نہایت خوبصورتی سے اپنی شاعری کے سانچے میں ڈھال دیا۔
ابتدائی زندگی، تعلیم اور مجلّہ "راوی” کا سفر
فیض احمد فیض کی پیدائش 1911ء میں شہر اقبال یعنی سیالکوٹ میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تربیت ایک خالص علمی اور ادبی ماحول میں ہوئی۔
انہوں نے اپنی بنیادی تعلیم مشرقی طرز پر حاصل کی، جہاں انہیں عربی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل کرنے کا موقع ملا۔ یہ تعلیم انہوں نے علامہ اقبال کے نامور استاد، شمس العلما مولوی سید میر حسن سے حاصل کی۔
بعد ازاں، انہوں نے انگریزی اور عربی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں اور امرتسر کے مشہور ایم اے او کالج میں بطور پروفیسر اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔
طالب علمی کے دور سے ہی انہیں شعر و سخن کا شوق تھا۔ ان کے تخلیقی سفر کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب ان کے ابتدائی اشعار کالج کے معروف میگزین "راوی” میں شائع ہونا شروع ہوئے۔ ان کی وفات 1984ء میں لاہور میں ہوئی۔
پہلا شعری مجموعہ ‘نقش فریادی’ اور عشق مجازی کے رنگ
ابتدا میں فیض کی شاعری کا مرکزی موضوع روایتی عشق مجازی تھا۔ ان کے ہاں محبوب کا حسن، ہجر و وصال کی کیفیات، اور محبت کے نرم و نازک جذبات کی فراوانی تھی۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ "نقش فریادی” (1941ء) ان کی عہدِ جوانی کی یادگار ہے۔ اس کتاب میں 1928ء سے لے کر 1935ء تک کی تخلیقات شامل ہیں۔
اس مجموعے کے دیباچے (دستِ تہہ سنگ، صفحہ 11) میں فیض خود رقم طراز ہیں کہ اس میں ان کی طالب علمی کے دور کی وہ تحریریں شامل ہیں، جن کا تعلق ان وارداتِ قلبی سے ہے جو جوانی میں اکثر نوجوانوں کے دلوں پر گزرتی ہیں۔ ابتدائی دور میں ان پر جذبات خود بخود طاری ہوتے تھے، مگر بعد میں مضامین کی تلاش کرنی پڑتی تھی۔
اس دور کی کیفیت کو ان اشعار میں بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے:
فریبِ آرزو کی سہل نگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آواز پا سمجھےنہ پوچھو عیدِ الفت کی، بس اک خواب پریشاں تھا
نہ دل کو راہ پر لائے، نہ دل کا مدعا سمجھے
فیض احمد فیض کی غزل نگاری اور قید و بند کی صعوبتیں
پاکستان بننے کے بعد سیاسی فضا انتہائی کشیدہ تھی۔ حکومتِ وقت نے ترقی پسند ادیبوں کو محض ایک سیاسی جماعت قرار دے کر ان پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں۔
فیض احمد فیض کو اپنے ترقی پسند نظریات اور مظلوموں کی حمایت کی پاداش (سزا)میں چار سال تک آہنی سلاخوں کے پیچھے قید رہنا پڑا۔
انہیں مشہورِ زمانہ راولپنڈی سازش کیس میں ملوث کر کے 19 مارچ 1951ء سے لے کر اپریل 1955ء تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
اس دور میں وہ جسمانی اور ذہنی طور پر شدید متاثر ہوئے، لیکن ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ انہوں نے اس صورتحال کو یوں بیان کیا:
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
جیلوں کی سختی، مشاعرے اور پابندیاں
سرگودھا اور لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کی جیلوں میں انہوں نے زندگی کے کٹھن ترین تین ماہ گزارے۔
یہاں تک کہ ان پر اخبارات، خطوط، کتابوں، اور کاغذ قلم کے استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ چاروں طرف سراسیمگی (خوف چاروں طرف )اور دہشت کا راج تھا۔
ان حالات سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے، فیض نے قید خانے کے اندر ہی مشاعروں کی روایت کی بنیاد رکھ دی۔ قلم چھن جانے کے غم کو انہوں نے اپنے بے مثال اشعار میں کچھ اس طرح قید کیا:
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پر مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
‘دست صبا’ اور ‘زنداں نامہ’: سیاسی شعور کی بیداری
عشق کے موضوعات پر کچھ عرصہ لکھنے کے بعد فیض کی شاعری میں ایک خاموشی چھا گئی تھی، کیونکہ وہ محسوس کرتے تھے کہ محبت کے علاوہ بھی دنیا میں دکھ موجود ہیں۔
جیسا کہ ان کا مشہور شعر ہے:
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
جب ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا، تو فیض احمد فیض کی غزل نگاری کا رنگ یکسر بدل گیا۔
قید کے زمانے میں لکھے گئے ان کے شعری مجموعے "دستِ صبا” (1952ء) اور "زنداں نامہ” ان کے بدلے ہوئے شعری مزاج کے عکاس ہیں۔ ان غزلوں میں سیاست، سماجی بدحالی، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نفرت اور مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی گئی۔
اس دور کے اشعار میں سیاست کا غلبہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے:
پھر حشر کے ساماں ہوئے ایوانِ ہوس میں
بیٹھے ہیں ذوی العدل گنہگار کھڑے ہیںجس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
اپنی تمام تر اسیری کے باوجود، انہوں نے ترقی پسند نظریات سے کبھی پسپائی (پیچھے نہ ہٹنا )اختیار نہیں کی، اور تاحیات اس عزم پر قائم رہے:
ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
مباشر خطابت کے بجائے استعارات اور علامتوں کا استعمال
ترقی پسند تحریک کی جانب سے شعراء پر دباؤ تھا کہ وہ کسانوں اور مزدوروں کے حق میں سیدھی اور دو ٹوک بات کریں۔
لیکن فیض جانتے تھے کہ اگر سیدھے سادھے نثر نما انداز (براہِ راست خطابیہ شاعری) میں بات کی جائے تو غزل کی چاشنی اور تاثیر ختم ہو جائے گی۔
اگرچہ ابتدا میں ان کے ہاں کچھ سچے اور جھوٹے اشعار کا ملاپ نظر آیا، لیکن جلد ہی انہوں نے اس دباؤ کو مسترد کر دیا اور اپنے فطری انداز یعنی بالواسطہ اور علامتی شاعری کی طرف لوٹ آئے۔
فیض نے پرانی کلاسیکی علامتوں کو ایسے نئے معنی پہنائے کہ کوئی بھی قاری حیران رہ جائے۔ ان کے علامتی نظام کی چند نمایاں مثالیں درج ذیل ہیں:
- محبوب: اس سے مراد ان کا اپنا ملک اور قوم ہے۔
- رقیب: اس کا مطلب ملک و ملت کے دشمن عناصر ہیں۔
- ناصح: بظاہر ہمدرد نظر آنے والے، مگر حقیقت میں ملک دشمن مشورے دینے والے لوگ۔
- صبا اور بہار: امن، آزادی اور خوشحالی کے استعارے۔
اگر کوئی شخص فیض کی زندگی کے پس منظر سے ناواقف ہو کر ان کا کلام پڑھے، تو وہ انہیں محض ایک عشقیہ اور رومانوی شاعر سمجھے گا، جو کہ ان کے عظیم مقصد کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی۔
سرکاری دھمکیاں اور فیض کا ردعمل
جب حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں پر فیض نے تنقید کی، تو ان پر ملک دشمنی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔
سرکاری ایجنٹوں نے انہیں سنگین نتائج اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں تاکہ وہ خاموش ہو جائیں۔ لیکن اس جبر کا نتیجہ الٹ نکلا، اور فیض جدوجہد میں مزید مستعد ہو گئے۔ اس کشمکش کو انہوں نے یوں شعری روپ دیا:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہےہوئی ہے حضرتِ ناصح سے گفتگو جس شب
وہ شب ضرور سرِ کوئے یار گزری ہے
ناقدین کی نظر میں فیض احمد فیض کی غزل نگاری
اردو ادب کے مایہ ناز نقادوں نے فیض کے فن کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا ہے۔
ن۔ م۔ راشد نے فیض کی شاعری کو "انقلاب اور رومان کا حسین سنگم” قرار دیا ہے۔ وہ انہیں محض کسی خشک نظریے کا نہیں، بلکہ لطیف احساسات کا شاعر مانتے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر خالد علوی اپنی کتاب (غزل کے جدید رجحانات، صفحہ 223) میں لکھتے ہیں کہ فیض بنیادی طور پر غزل کے روایتی شاعر ہیں۔ انہوں نے غزل میں کسی نئے رنگ کا اضافہ کرنے کے بجائے، پرانی روایات کو نئے اجتماعی شعور کے ساتھ پیش کیا۔ البتہ ان کے نزدیک چند باتوں کی تکرار نے فیض کی غزل کو کسی حد تک محدود ضرور کیا ہے۔
پروفیسر رشید احمد صدیقی (جدید اردو غزل، مرتبہ: سید معین الرحمن، صفحہ 77) نے ترقی پسند شعراء میں فیض کو سب سے ممتاز قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بڑا شاعر وہی ہے جو اپنا ہوتے ہوئے بھی سب کا ہو جائے، اور یہ اعزاز صرف فیض کو حاصل ہوا۔
وقت اور مقام کی قید سے آزاد شاعری
فیض کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ابہام اور رمز و کنایے کا استعمال کر کے اپنی شاعری کو آفاقیت بخشی۔
جب انہوں نے ہونٹوں پر مہر لگنے اور زنجیروں کے کھنکنے کی بات کی، تو یہ اشعار صرف پاکستان کے ایک مخصوص دور تک محدود نہیں رہے۔ آج بھی دنیا کے کسی بھی کونے میں جب اظہارِ رائے پر پابندی لگتی ہے، تو زبانوں پر فیض کے اشعار ہی آتے ہیں۔
انہوں نے میر، غالب اور اقبال کے کلام کے مطالعے سے مشرقی کلاسیکی شاعری کے جو رموز سیکھے تھے، انہیں اپنی استعارہ سازی اور پیکر تراشی میں کمال مہارت سے استعمال کیا۔ ان کے الفاظ کے انتخاب میں بلا کی سادگی، مٹھاس، ترنم اور درد موجود ہے۔
ان کی غزلوں کی نغمگی کا اندازہ ان لازوال اشعار سے لگایا جا سکتا ہے جو آج بھی بہترین دھنوں میں گائے جاتے ہیں:
تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہےچمن میں غارتِ گلچیں سے جانے کیا گزری
قفس میں آج صبا بے قرار گزری ہےدرِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے
تو فیض دل میں ستارے ابھرنے لگتے ہیںکب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہوگی۔
اگرچہ بعض نقادوں کا شکوہ ہے کہ فیض احمد فیض کی غزل نگاری کا دائرہ "کوئے یار سے لے کر سوئے دار تک” محدود ہے اور وہ درمیانی منازل کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ اسی محدود کینوس پر انہوں نے جو فنی کمالات دکھائے ہیں، اس کی کوئی دوسری نظیر اردو غزل کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے غزل کو ایک نیا لہجہ عطا کیا اور وہ ہمیشہ اردو ادب کے آسمان پر ایک روشن ستارے کی مانند چمکتے رہیں گے۔
کوئے یار: محبوب کی گلی یا محبت کا راستہ۔
سوئے دار: سولی کی طرف یا موت کے راستے۔
مفہوم: یہ ایک ایسی منزل ہے جہاں عشق کے راستے میں مشکلات اور جان لیوا خطرات (سولی) کو خوشی سے قبول کیا جاتا ہے۔
نظر ثانی: روبینہ خوشحال ایم فل اردو نمل یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس
