دوہا کی تعریف اردو شاعری میں ‘دوہا’: ہیت، ارتقاء اور فنی خصوصیات تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب میں کئی ایسی اصنافِ سخن موجود ہیں جو اپنے اندر معانی کا ایک سمندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ انہی میں سے ایک انتہائی مقبول صنف ‘دوہا’ ہے۔ دوہا بنیادی طور پر صرف دو مصرعوں کا ایک شعر ہوتا ہے، لیکن اپنی معنوی وسعت کے اعتبار سے یہ ایک مکمل اکائی ہوتا ہے۔
روایتی طور پر دوہے میں قافیہ اور ردیف دونوں کا التزام کیا جاتا ہے، تاہم جدید دور کی شاعری میں آزاد دوہے کہنے کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
دوہے کی تکنیکی ساخت اور ماتراؤں کا نظام
دوہے کی سب سے بڑی تکنیکی شرط اس کی بحر یا وزن نہیں، بلکہ اس کی ماترائیں (Syllables) ہیں۔ ہر دوہا کل 24 ماتراؤں پر مشتمل ہوتا ہے، جن کی تقسیم 13 اور 11 کے تناسب (13+11) سے کی جاتی ہے۔
مشہور نقاد اور شاعر فراز حامدی نے دوہے کی تعریف اور اس کی تکنیک کو اپنے ایک شعر میں کیا خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
تیرہ گیارہ ماترا، بیچ وشرام
دو مصرعوں کی شاعری، دوہا جس کا نام
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں دوہے کا یہ بنیادی اصول (24 ماترائیں) یکساں رہتا ہے۔ اس تکنیک کو سمجھنے کے لیے دورِ حاضر کے معروف شاعر ندا فاضلی کا یہ شاہکار دوہا ملاحظہ کریں:
سیدھا سادھا ڈاکیہ، جادو کرے مہان
ایک ہی تھیلے میں بھرے، آنسو اور مسکان
سماجی اور شخصی دوہوں کا رواج
اردو شاعری میں دوہا محض روایتی موضوعات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں شخصی اور سماجی موضوعات کو بھی بڑی خوبصورتی سے برتا جانے لگا ہے۔ کئی جدید دوہا نگاروں نے اس صنف کو معاشرے کا آئینہ بنا دیا ہے۔ اس کی ایک بہترین مثال مشہور دوہا نگار بھگوان داس اعجاز کے کلام میں ملتی ہے:
الٹا پلٹا ہو گیا، باپو تیرا پٹھ
گانو غلامی کر رہا، شہر مارتا ٹھاٹھ
دوہا غزل اور دوہا گیت: ایک نیا ادبی تجربہ
وقت کے ساتھ ساتھ اس صنف میں زبردست جدت آئی ہے۔ آج کل ‘دوہا غزل’ اور ‘دوہا گیت’ لکھنے کا رواج تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس تجربے میں ماتراؤں کا بنیادی اصول (24 ماترائیں) تو وہی رہتا ہے، لیکن اسے غزل یا گیت کی ہیئت (Form) میں ڈھال دیا جاتا ہے۔
ان تجربات میں فنی یا فکری سطح پر کوئی کمی نہیں آتی، بلکہ ایک خاص قسم کی روانی اور موسیقیت پیدا ہو جاتی ہے جو قاری کو سحر زدہ کر دیتی ہے۔ اس میدان میں وِدیا ساگر آنند، پرواز، ندا فاضلی اور مظفر حنفی جیسے شعراء کے نام سرِفہرست ہیں۔
دوہا غزل کی مثال
وِدیا ساگر آنند کی درج ذیل دوہا غزل اس کی بہترین عکاسی کرتی ہے:
پھولوں جیسے لفظ ہیں، خوشبو میرا نام
ساری دنیا جانتی، اردو میرا ناماجلے اجلے پنکھ ہیں، چمکے میری ذات
اندھیرے سے کیا ڈروں، جگنو میرا نامسب سے میری دوستی، من میں کیسا بیر
خصلت میں ہے سادگی، سادھو میرا نامخوشبو لے کر گھومتا، میں تو چاروں اور
نافہ ہر دم ساتھ ہے، آہو میرا نامکھیرالکڑی کاٹ لو، یا کاٹو تربوز
چاہے گردن کاٹ لو، چاقو میرا نام
دوہا گیت کی مثال
عام طور پر گیتوں میں عشقیہ جذبات کو موضوع بنایا جاتا ہے، لیکن دوہا گیت اس قید سے آزاد ہے۔ اس میں ہر طرح کے موضوعات کو تسلسل اور روانی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ آنند ہی کے کلام سے دوہا گیت کا ایک خوبصورت بند پیشِ خدمت ہے:
اعلیٰ اس کا مرتبہ، اعلیٰ اس کی شان
کتنا سندر دیش ہے، میرا ہندوستاناس کا تو جغرافیہ، جانے ہے سنسار
جنگل، دریا، گھاٹیاں، میدان اور گلزارساگر پربت سے گھرا، اس کا ہے آکار
ساری دنیا سے الگ، اس کی ہے پہچان
کتنا سندر دیش ہے………!
غزل اور دوہے میں بنیادی فرق
جس طرح غزل کا ہر شعر اپنے اندر ایک مکمل مفہوم رکھتا ہے، بالکل اسی طرح دوہا بھی معنوی اعتبار سے خود کفیل ہوتا ہے۔ تاہم ان دونوں میں کچھ بنیادی تکنیکی فرق موجود ہیں:
- بحر بمقابلہ ماترائیں: غزل عربی و فارسی کی مقرر کردہ کسی بھی ‘بحر’ میں کہی جا سکتی ہے، جبکہ دوہے کے لیے 13+11 ماتراؤں کی ہیت شرط ہے۔ اگر کوئی شعر اس ہیت پر پورا نہیں اترتا، تو اسے دوہا تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
- قافیہ اور ردیف کی پابندی: غزل کے مطلع (پہلے شعر) کے دونوں مصرعوں میں قافیہ و ردیف لازمی ہوتا ہے، اور پھر ہر شعر کے ثانی مصرعے میں اسے دہرایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، دوہے میں اگرچہ عموماً دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں، لیکن اس کے لیے ‘ہم ردیف’ ہونا قطعی ضروری نہیں۔
بغیر ردیف کے کہے گئے ان شاندار دوہوں پر غور کریں:
عیش و عشرت کے لئے، کب لڑتے مزدور
اپنے حق کے واسطے، کرتے ہیں ہڑتالچھوڑا ہے ماں باپ کو، بیوی آئی راس
رشتے ناطے بٹ گئے، کیسی ہے اولادانسانوں کے خون سے، ہوئے شہر زرخیز
شہروں میں کٹنے لگی، انسانوں کی فصل
لسانی امتزاج: اپ بھرنش سے اردو تک کا سفر
اس میں کوئی شک نہیں کہ دوہوں کا کینوس بہت وسیع ہو چکا ہے اور اب تو حمدیہ اور نعتیہ دوہے بھی کثرت سے لکھے جا رہے ہیں۔ لسانی اعتبار سے دیکھا جائے تو دوہا ‘اپ بھرنش’ (Apabhramsha) زبان کی کوکھ سے جنم لے کر ہندی میں آیا، اور ہندی میں اسے عروج ملا۔
جب یہ صنف اردو میں داخل ہوئی تو ہندی کی مٹھاس اور شیرینی اپنے ساتھ لائی۔ اردو دوہوں کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہندی کی ماترائیں تو وہی رہتی ہیں، لیکن عربی و فارسی الفاظ کے استعمال سے اس کا حسن دو بالا ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اردو شاعری کی روایات مثلاً تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور تلمیح کا استعمال دوہوں کو مزید پراثر بنا دیتا ہے۔
اردو اور ہندی الفاظ کے حسین ملاپ سے پیدا ہونے والی اس دلکشی کو ان دوہوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے:
سچائی اور سادگی، جس کی ہو پہچان
کلجگ کے سنسار میں، کہلائے شیطانجس میں ہے انسانیت، اس کی یہ پہچان
مانوتا کی آنکھ سے، دیکھے وہ انسانخود سے لڑنا سیکھ لو، ہو گے سفل ضرور
اپنے دشمن خود بنو، کرو برائی دور
حرفِ آخر
مختصر الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دوہا اپ بھرنش سے نکل کر ہندی کے راستے اردو تک پہنچا۔ اس کے ہر مصرعے کے دو حصے ہوتے ہیں (پہلے حصے میں 13 اور دوسرے میں 11 ماترائیں)۔ اپنی منفرد فکری خصوصیات، اختصار، اور لسانی چاشنی کی بدولت آج دوہا اردو کی ذیلی اصناف میں ایک انتہائی مستحکم اور اہم مقام حاصل کر چکا ہے۔
نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی ڈجکوٹ فیصل آباد، فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات)،متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم
