مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ناول دشت سوس کا تنقیدی جائزہ

دشت سوس کا تنقیدی جائزہ منصور حلاج کی زندگی کا ایک تاریخی اور روحانی سفر، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو ادب میں تاریخی ناول نگاری ایک مشکل فن ہے، جس میں کسی خاص عہد، شخصیت یا واقعے کو تخیل اور حقیقت کے امتزاج سے زندہ کیا جاتا ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 1983ء میں ایک شاہکار ناول ”دشتِ سوس“ منظرِ عام پر آیا۔ یہ ناول تاریخِ اسلام کی ایک نہایت متنازع اور پراسرار شخصیت حسین ابن منصور حلاج کی زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔

مصنفہ نے اس صوفیانہ کردار کو اپنے گہرے مطالعے اور تخیل کی مدد سے جس طرح پیش کیا ہے، وہ قاری کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔

ناول کی ساخت اور غنائیہ تکنیک

اس ناول کی خاص بات اس کا اسلوب ہے، جسے عنوان کے ساتھ ”غنائیہ“ کہہ کر واضح کیا گیا ہے۔ غنائیہ تکنیک سے مراد تحریر میں شعریت اور موسیقیت کا ایسا رچاؤ ہے جو جذبات کی شدت کو ابھارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تاریخی ہونے کے باوجود ایک رومانی ناول کا تاثر بھی دیتا ہے۔

کہانی کی تقسیم تین اہم حصوں میں کی گئی ہے، جو منصور حلاج کے روحانی ارتقا کو ظاہر کرتے ہیں:

  1. صدائے ساز: (روحانی سفر کی ابتدا)
  2. نغمہ شوق: (طویل ترین حصہ، سفر کا ارتقا)
  3. زمزمہ موت: (نقطہ عروج اور انجام)

مرکزی خیال اور پس منظر

ناول کے آغاز میں ہی عشق کو زندگی کی کھیتی (مزرع گلاب) قرار دیا گیا ہے۔ ”دشتِ سوس“ دراصل مقامِ بیضا سے متصل ایک ایسا صحرا ہے جہاں کی ریت زرد، سیاہ اور سرخ رنگوں کا مجموعہ ہے۔ مصنفہ نے اس دشت کی ویرانی کو حسین ابن منصور حلاج کی روح کی خشکی اور پیاس کے لیے بطور استعارہ استعمال کیا ہے۔

ابتدائی زندگی اور والد کا خوف

حسین کی تعلیم و تربیت کے لیے ان کے والد منصور انہیں تستر کے مدرسے میں مشہور صوفی سہل بن عبداللہ تستری کی نگرانی میں چھوڑ آتے ہیں۔ یہاں حسین کی ذہانت سب کو حیران کر دیتی ہے، لیکن یہی ”غیر معمولی پن“ ان کے والد کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔

ناول کا ایک اہم کردار صادق بن صدیق جب منصور کو حسین کی ذہانت پر مبارکباد دیتا ہے، تو والد کا جواب معاشرتی نفسیات کی بہترین عکاسی کرتا ہے:

”میں اس بات کو تو اپنی اور حسین کی خوش بختی گردانتا ہوں کہ وہ سہل جیسے کامل استاد کے زیر سایہ تربیت پا رہا ہے مگر اس کے غیر معمولی ہونے سے میں خوش نہیں ہوں۔ زمانہ ایسی کسی بات کو برداشت نہیں کر سکتا جو غیر معمولی ہو۔ ذہانت یا ریاضت یا فصاحت بس عام ہونے میں ہی انسان کی فلاح ہے۔ مجھے یہ دعویٰ تو نہیں کہ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں مگر برادرم آپ نے تجربہ کیا ہوگا کہ دنیا اس شئے کو جو اس کے پیمانے، اندازے اور عقل سے بلند ہو پسند نہیں کرتی۔“ (جمیلہ ہاشمی ، دشت سوس ، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۰۴ ، ، ص ۴۶ – ۴۷)

روحانی بے چینی اور مسلسل سفر

اپنی طبیعت کی جولانی اور اندرونی اضطراب کے باعث حسین تستر سے فرار ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی زندگی ایک مسلسل سفر بن جاتی ہے: تستر سے بصرہ، پھر دور حرقہ، بیضا اور آخر کار بغداد۔ بڑے بڑے فقہا اور علما بھی ان کی تشنگی بجھانے میں ناکام رہتے ہیں۔

تاریخی و سیاسی پس منظر: سلطنتِ عباسیہ

ناول میں دو دنیائیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں:

  • ایک طرف عباسی سلطنت کا زوال، سیاسی انتشار اور سماجی گھٹن۔
  • دوسری طرف منصور حلاج کا روحانی سفر جو مادی اسباب سے ماورا ہے۔

یہ وہ دور تھا جب معتزلہ (عقلیت پسند) کا زور تھا۔ وہ ارسطو کے فلسفے کے قائل تھے اور ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے تھے۔ خلیفہ متوکل علی اللہ نے ان کے اثر کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور بالآخر اپنوں کی سازش کا شکار ہو گیا۔ خلیفہ کی بے بسی کو ناول میں یوں بیان کیا گیا ہے:

”کیا وہ اس فتنے کو جو معتزلہ تھے بیخ و بن سے اکھیڑ سکتا ہے، اس میں اتنی قوت فیصلہ تو تھی مگر سلطنت کے رگ و پے میں وہ خون کی طرح تھے۔ اسے صحیح اعداد و شمار تو یاد نہ تھے مگر ہر شعبہ زندگی پر وہ مسلط تھے جاری پانی کی طرح اور خود الحاد کی طرف مائل تھے۔ مامون کے وقتوں بلکہ اس سے بھی بہت پہلے یونانی فلسفے کے تراجم نے عرب و عجم کے اختلاط نے عقائد کی صورت کو بالکل بدل دیا تھا… آزادی رائے تو قابل قدر شئے تھی مگر زیادہ آزاد روی بے راہ روی بن گئی تھی۔“(ایضاً ص ۲۵)

مذہبی کشمکش اور ”انا الحق“ کا سفر

اس دور میں جنید بغدادی، عمر بن عثمان مکی اور سہل بن عبداللہ جیسے اساتذہ شریعت کے سخت پابند تھے۔ وہ ظاہری اور باطنی علوم میں توازن کے قائل تھے۔ اس کے برعکس شبلی اور ابنِ عطار جیسے صوفی باطنی کیفیات پر زور دیتے تھے۔

لیکن حسین ابن منصور کا راستہ سب سے الگ تھا۔ وہ ”من و تو“ کا فرق مٹا کر اللہ کی ذات میں فنا ہونا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ بندے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے۔

شخصیت کا سحر اور آنکھوں کی کشش

ناول میں حلاج کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی آنکھیں بتائی گئی ہیں، جن میں بلا کی کشش تھی۔ لوگ ان سے مرعوب ہو جاتے اور انہیں کوئی مافوق الفطرت ہستی سمجھنے لگتے۔ بچپن کا ایک منظر دیکھیے:

”اس کی باتیں اور حرکتیں اور بے پناہ آنکھیں عجیب سحر کرتی ہوئیں۔ اس کی نگاہ سے اکثر مربی گھبرا جایا کرتا تھا۔ یوں لگتا تھا وہ تمہارے سینے کے اندر تک دیکھ رہا ہے۔ وہ ذرا سا معصوم بچہ خاموش بس دیکھتا چلا جاتا ایسے میں اسے ہنسانے کی جتنی بھی کوشش کرو وہ ذرا سا بھی نہیں ہنسے گا جیسے وہ دلوں کے بھید جاننے کی کوشش کر رہا ہو…“ (ایضاً ص ۲۳)

حج کا سفر اور قرمطیوں کا حملہ

منصور حلاج ایک بار حج کے ارادے سے نکلتے ہیں لیکن راستے میں قرمطی قافلے پر حملہ کر دیتے ہیں۔ سب مارے جاتے ہیں سوائے حلاج کے، جنہیں قرمطی صرف اس لیے زندہ چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ دنیا کو اس تباہی کی خبر دے سکیں۔

مکہ پہنچ کر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حج کا وقت گزر چکا ہے۔ وہ وہیں رک جاتے ہیں اور مہینوں ”اذنِ باریابی“ کا انتظار کرتے ہیں۔ اس دوران ان کی کرامات مشہور ہو جاتی ہیں۔ لوگ انہیں گھیر لیتے ہیں، بیمار شفا پانے کے لیے آتے ہیں۔ اس شہرت کے بارے میں ناول نگار لکھتی ہیں:

”وہ اغماض کی کوشش بھی کرتا مگر لوگ ناقص العقل ضعیف الاعتقاد اس کے وجود کو سعادت اور برکت کا باعث جانتے قافلے میں جب کوئی بیمار ہوتا تو پانی اس سے دم کروایا جاتا ہر تکلیف میں اسے ڈھونڈا جاتا وہ چھپتا اور لوگ اسے ڈھونڈتے۔ یہ بالفعل ایک بڑی کامیابی تھی کہ وہ مرجع خلائق بن گیا تھا۔ صرف تمنا سے، صرف تڑپ سے، صرف خدا کی رحمتوں سے، ورنہ وہ کیا ہے؟ یہ وہ خود بھی جانتا تھا۔“ (ایضاً ص ۱۷۸)

اس عوامی دیوانگی پر شبلی کا تبصرہ بہت گہرا ہے:

”نہیں لوگ فسانے نہیں بناتے صرف اپنے خیالوں کو نئے جامے پہناتے ہیں جو خود انھوں نے تیار کیے ہوتے ہیں تم نے مغلوب الحال ہو کر جو کہا تھا جو کیا تھا اس کو انہوں نے حال سے قال تک حرف بہ حرف تسلیم کر لیا تھا۔“ (ایضاً ص ۳۸۶)

”اغول“: ایک ناقابلِ فراموش کردار

ناول میں اغول نامی عورت کا کردار بہت اہم ہے، جو بظاہر صرف تین بار نظر آتی ہے لیکن اس کا سایہ پوری کہانی پر محیط ہے۔ حلاج کی ملاقات اس سے تستر سے بصرہ جاتے ہوئے قافلے میں ہوتی ہے۔ اغول ایک راہیبہ ہے جسے مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کرنے کے لیے تربیت دی گئی ہے اور وہ کنیز بننے جا رہی ہے۔

وہ حسین سے کہتی ہے:

”تاکہ آئندہ زندگی میں آنے والے دنوں میں کبھی تم مجھے یاد کر سکو میرے لیے دعا کر سکو مجھے بھلا نہ سکو۔“ (ایضا ص ۸۰)

منصور اسے کبھی بھلا نہیں پاتے۔ اس کی یاد ایک ایسا روحانی اور نفسیاتی بندھن بن جاتی ہے جس سے وہ فرار حاصل نہیں کر سکتے۔ ناول میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے:

”وہ اسے بھلا نہیں سکے گا، کبھی بھی نہیں آدمی بھلاتا تو اسے ہے، جسے یاد کیا جائے اور اغول اسے یاد کہاں تھی وہ تو حسین تھی یا حسین خود اغول تھا۔ ہاں وہ حسین تھی وہ اغول کہاں تھی۔ جب اس کی ہستی اس سے الگ، اس سے پرے کوئی دوسری نہ تھی تو پھر اور کچھ نہیں تھا وہ آج تک اپنے آپ سے بر سر پیکار رہا تھا، اپنے آپ سے۔“ (ایضاً ص ۱۱۰)

یوں یہ ناول تاریخی حقائق، صوفیانہ رموز اور انسانی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں کو یکجا کر کے ایک عظیم المیہ پیش کرتا ہے۔

نظر ثانی و تصحیح: فہد عظیم علی
طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں