مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام)

دور جدید کے تخلیق کار کے زمرے میں آپ کو اردو ادب کے موجودہ دور کے لکھاریوں کا بھیجا گیا کام دیکھنے کو ملے گا۔

افسانہ خود کی تلاش

( کومل یاسمین) "زندگی پھولوں کی سیج نہیں یہ ایک ایسا ناہموار راستہ ہے جس پر قدم ڈگمگا جاتے ہیںوہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو مسلسل دیکھتے ہوئے اسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیکہ اس کی زندگی نہ جانے کب اور کونسا موڑ اختیار کر جائےکہ ماں کی چنگھاڑتی ہوتی آواز نے اسے حال میں […]

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام),

افسانہ گہرا سمندر

گہرا سمندر آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے ہیں-اور وہ اپنے ہونے کا بے لوث احساس کروا رہے ہیں کہ جیسے ابھی بھی طوفانی بارش ائے گی اور اسماں خون کے انسو رو رہا ہے بیٹا کلیل چپ ہو جاؤ رونا بند کرو تم اس طرح رہو گے تو ان کی روح کو تکلیف ہو

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام),

سنگِ مرمر کے دِل اور کَٹی کلیاں

لائبہ خلیل الرحمٰن (کاغان کالونی ایبٹ آباد کا ایک دل خراش سانحہ ، جہاں سگے والد نے اپنے تین معصوم بچوں کو قتل کیا۔) آسمان کے کنارے جہاں وَقت تھم جاتا ہے اور کائنات کی ساری وسعتیں ایک سکوتِ مسلسل میں ڈھل جاتی ہیں، وہاں آج تین ننھے سائے ایستادہ تھے۔ ان کے چہروں پر

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام),

افسانہ ٹوٹتے کنبے

سردیوں کی ایک سخت رات تھی۔ یخ بستہ ہوا مسلسل پہاڑوں سے اترتی ہوئی شہر کو چیر رہی تھی۔ رات کے ساڑھے تین بجے تھانے کا بھاری دروازہ زور سے کھٹکا۔ کانسٹیبل فاروق چونک کر دوڑتا ہوا گیا اور فوراً دروازہ کھول دیا۔ ایس ایچ او شمیم خان اپنی ٹیم کے ساتھ اندر آیا اور

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام),

نیم کے سائے تلے

نیم کے سائے تلے شام ڈھلنے کو تھی۔ گاؤں کی کچی گلیوں پر سورج کی آخری کر نیں کسی اداس چادر کی طرح بکھری تھیں۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور کہیں کہیں بچوں کی ہنسی خاموشی کو توڑ رہی تھی۔ مسجد سے اذان مغرب کی آواز گونجی تو ایک بزرگ مغرب کی نماز ادا

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام)

نظم: مجھے اک شام چاہیے

مجھے اک شام چاہیےفقط تیرے نام چاہیے جس سے ملے سکون مجھےایسا رب کا اک فرمان چاہیے اک تیرا نام میرے نام کے آگے ہواے گمنام ، اب کہ ایسا تیرا نام چاہیےمیں جب بھی رب سے تمہیں مانگوںہو کن میرے رب کا پیغام وہ فرمان چاہیے اک آرزو کی خاطر عشق کے سارے حدود

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام), ,

تیری پرستش میں سجدہ ریز ہو جائے

تیری پرستش میں سجدہ ریز ہو جائےیا تکتے تکتے خاک مرقد خیز ہو جائے یہ چاند آدھ اور نیم خیز ہو جائےملاقاتیں پھر سے زرخیز ہو جائے ماہ رمضان جب دلآویز ہو جائےیا ہم خود ہی کوئی رنگ ریز ہو جائے جب عزرائیل ہمارے حضور ہو جائےیونہی چلتے چلتے ہم دور ہو جائے جب اپنے

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام)

نظم: بھری ہے دنیا اور محفلیں بھی

بھری ہے دنیا اور محفلیں بھیجو تم نہیں ہو تو کیا کہوں میں ہزاروں سننی ہیں داستانیںجو میں کہوں گی تو کیا کہوں میں ہزاروں کرنی ہیں تم سے باتیںجو تم نہیں ہو تو کیا کہوں میں جو خوابوں میں بھی نا چھوڑیں پیچھاحقیقتوں میں تم نہیں ہو، تو کیا کہوں میں آرزو!پوری ہوئی ہزاروں

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام),

نظم:نا خوش تھا کوئی بھی غم خوار گئے آخر

نا خوش تھا کوئی بھی غم خوار گئے آخرخوش ہو کے بھی تو سب مٹ ہار گئے آخر سب عشق ومعشوقی میں گمنام گئے آخردلبر بھی چھوڑ کر دلدار گئے آخر نایاب تھا کوئی فنکار گئے آخردنیا کی محفل سے ہونہار گئے آخر خود کو ہیں کہتے صوفی داغدار گئے آخردنیا کی کشمکش سے تھک

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام)

نظم: اشکوں کو موتی میں پرو رہی تھی

اشکوں کو موتی میں پرو رہی تھییا اپنی قسمت پر وہ رو رہی تھی وہ جاگی تھی یا پھر سو رہی تھییا وہ تسبیح یادوں کی پرو رہی تھی اشکوں کو دھو کر وہ ایسے ہو رہی تھیبرسوں سے کسی خواب میں جیسے کھو رہی تھی یادوں کی زنجیروں کو سانسوں میں سمو رہی تھیجیسے

دور جدید کے تخلیق کار (تخلیقی کام),