مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو شاعری

نظم خلش از سانول رمضان

آرزو تھی کہ ترے در پہ کبھی آؤں میںمن میں امید لیے، ہاتھ میں کشکول لیےجن کو بنتے ہوئے اک عمر لگی ہے مجھ کوان سبھی خوابوں خیالوں کا کوئی غول لیےپر مرے پاؤں میں حالات کی زنجیریں تھیںمیرے خوابوں کی مرے سامنے تعبیریں تھیںان سے کس طور میں منہ پھیر کے جا سکتا تھااور […]

اردو شاعری, ,

کوئی تو غور سے سنتا ہے داستاں اپنی، ہماری اور بھی کچھ کھڑکیاں کھلی ہوئی ہیں | سانول رمضان

دلوں کے بیچ یونہی دوریاں بنی ہوئی ہیںہمارے ہونٹوں پہ اب پپڑیاں جمی ہوئی ہیں ضرور گل سے کوئی ہاتھ کر گیا ہو گاکہ زیر- نخل کئی پتیاں گری ہوئی ہیں یہ انتظام کسی خاص کے لیے تو نہیںکواڑ بند ہیں اور بتیاں بجھی ہوئی ہیں ہم ایسے خانہ بدوشوں کو بھی ٹھکانہ ملاکہ اپنے

اردو شاعری

اردو شاعری کا اہم کردار قاصد کون ہے؟

اردو شاعری کا اہم کردار قاصد کون ہے؟ پیغام لانے اور لے جانے والے کو قاصد کہتے ہیں اب یہ پیغام منہ زبانی بھیجا جارہا ہو یا کسی خط پتر کے ذریعے، پہلے زمانے میں کاغذ بھی دستیاب نہیں تھا۔ مشینی کاغذ تیار نہیں ہوتا تھا ہاتھ سے کاغذ بناتے تھے اس میں دیر بھی

اردو شاعری,
گلزار نسیم کا تنقیدی جائزہ

مثنوی گلزار نسیم کا تنقیدی جائزہ اور خلاصہ

گلزار نسیم کا تنقیدی جائزہ اور خلاصہ گلزار نسیم کا تنقیدی جائزہ (1254ھ مطابق 1839ء) مثنوی گلزار نسیم پنڈت دیا شنکر نسیم کی لکھی ہوئی ایک عشقیہ مثنوی ہے جو لکھنوی تہذیب کی آئینہ دار ہے۔ مثنوی گلزار نسیم کی کہانی ” قصہ گل بکاولی کے نام سے مشہور ہے۔ مثنوی گلزار نسیم میں گل

دیگر شعری اصناف (مرثیہ، مثنوی،رباعی،نعت وغیری), ,
اردو مرثیہ تعریف مفہوم اور آغاز و ارتقاء

اردو مرثیہ تعریف مفہوم اور آغاز و ارتقاء

اردو مرثیہ تعریف مفہوم اور آغاز و ارتقاء مرثیہ تعریف و مفہوم مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے جو رثا سے نکلا ہے۔ رثا بین یعنی آہ و بکا کو کہتے ہیں۔ رثا ان اشعار کو کہتے ہیں جن میں مرنے والوں کا ماتم کیا جائے ۔ مرثیہ اصطلاح میں بالعموم اس نظم کو کہتے

دیگر شعری اصناف (مرثیہ، مثنوی،رباعی،نعت وغیری),
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری کی شخصیت شاعری اور مختلف ناقدین کے آراء

فراق گورکھپوری کی شخصیت شاعری اور مختلف ناقدین کے آراء فراق گورکھپوری کی شخصیت فراق گورکھپوری(1982- 28 اگست 1896ء) فراق کا نام رگھوپتی سہائے تھا اور فراق تخلص۔ فراق 28 اگست 1896 میں بنواریار بانس گاؤں ضلع گورکھپور کے کپور میں پیدا ہوئے تھے۔ فراق کا انتقال 1982ء میں دہلی میں حرکت قلب رکنے کی

دیگر شعری اصناف (مرثیہ، مثنوی،رباعی،نعت وغیری),
مثنوی قطب مشتری کا خلاصہ اور تنقیدی جائزہ

مثنوی قطب مشتری کا خلاصہ اور تنقیدی جائزہ

مثنوی قطب مشتری کا خلاصہ اور تنقیدی جائزہ ملا اسد اللہ و جہی (پیدائش 1566ء ۔ وفات 1659ء)نام اسد اللہ اور خلص و جہی تھا۔ملا وجہی کے تخلص کے سلسلے میں ڈاکٹر جمیل جالبی کا مانا ہے کہ انہوں نے وجہی، وجیہی اور وجیہہ تینوں تخلص استعمال کیے ہیں ۔ جمیل جالبی کے مطابق قطب

دیگر شعری اصناف (مرثیہ، مثنوی،رباعی،نعت وغیری), ,
مثنوی کدم راؤ پدم راؤ

مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کا خلاصہ اور تنقیدی جائزہ

مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کا خلاصہ اور تنقیدی جائزہ مثنوی کدم راؤ پدم کا تنقیدی جائزہ نظامی بیدری اور کدم راؤ پدم راؤزمانہ تصنیف 825 ھ اور 839 ھ مطابق 1421ء 1435 ء کا درمیانی حصہ)مثنوی کدم راؤ پدم راؤ اردو زبان کی پہلی طبع زاد مثنوی ہے۔ مثنوی کدم راؤ پدم راؤ بہمنی

دیگر شعری اصناف (مرثیہ، مثنوی،رباعی،نعت وغیری), ,
مثنوی

اردو مثنوی تعریف، مفہوم، اقسام اور تفصیلی ارتقاء

اردو مثنوی تعریف، مفہوم، اقسام اور تفصیلی ارتقاء مثنوی کا فن مثنوی کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم مثنوی کے لغوی معنی دو۔ دو کے ہیں۔مثنوی اس طویل نظم کو کہتے ہیں جس میں کوئی قصہ یا کوئی واقعہ تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہو۔ مثنوی ایک بیانیہ صنف ہے۔مثنوی کو بیانیہ شاعری کی معراج

دیگر شعری اصناف (مرثیہ، مثنوی،رباعی،نعت وغیری), , ,
سحر البیان کا خلاصہ اور تنقیدی مطالعہ

سحر البیان کا خلاصہ اور تنقیدی مطالعہ

مثنوی سحر البیان کا خلاصہ اور تنقیدی مطالعہ سحر البیان کا تعارف اور خلاصلہ سحر البيان ایک تنقیدی مطالعہ ڈاکٹر عبادت بریلوی کی کدو کاوش "سحر البیان ایک تنقیدی مطالعہ” یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور سے چھپی۔ میر حسن کی لا زوال مثنوی سحر البیان کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اس کا موضوع بے نظیر اور

دیگر شعری اصناف (مرثیہ، مثنوی،رباعی،نعت وغیری),