غزل

غزل غالب میں فارسیت کا عمل دخل

کتاب کا نام….. میر و غالب کا خصوصی مطالعہکورڈ نمبر…..5612صفحہ نمبر….53 تا55موضوع…..غزل غالب میں فارسیت کا عمل دخلمرتب کردہ…..حسنٰی غزل غالب میں فارسیت کا عمل دخل مرزا غالب اردو اور فارسی دونوں کے مسلم الثبوت استاد تھے انھوں نے دونوں زبانوں میں نظم و نثر کے دقیع مجموعے یادگار چھوڑے ہیں، ان کے اس ادبی […]

غزل, , , , ,

غزل : الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا کی تشریح

کتاب کا نام: میر و غالب کا خصوصی مطالعہکوڈ: 5611صفحہ: 205 تاموضوع: غزلیات میر مرتب کردہ: ثمینہ شیخ غزلیات میر غزل (1) الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا 1۔ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا مریض

غزل, , , ,

اردو غزل پر میر کے اثرات

کتاب کا ناممیر و غالب کا خصوصی مطالعہ ۱مرتب کردہ ثمینہ کوثر1.7 اردو غزل پر میر کے اثرات قیام پاکستان کے بعد کی غزل پر میر کے اثرات ناصر کاظمی کے ہاں میر کے ساتھ ساتھ فراق گورکھپوری کے اثرات بھی ملتے ہیں۔ قیام پاکستان کے آس پاس ان کی شاعری کا آغاز ہوا۔ پاکستان

غزل, , , ,

غزل تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا کی تشریح

غزل تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا کی تشریح | Tujhi ko jo yahan jalwa farma na dekha غزل کی تشریح۔۔۔۔۔شاعر کا نام ۔۔۔۔خواجہ میر دردتیار کردہ ۔۔۔۔۔ منظور احمدکتاب کا نام ۔۔۔۔ اردو شاعری۔۔ کورس کوڈ5607پیج نمبر۔۔۔ خوجہ میر درد کی غزل تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا کی تشریح

غزل, , , ,

غزل ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے کی تشریح

غزل ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے کی تشریح | Ghazal "Tera Lab Dekh Haiwaan Yaad Aaway” ki tashreeh غزل کی تشریح ۔۔شاعر کا نام ۔۔۔۔۔ولی دکنیتیار کردہ ۔۔۔۔منظور احمدکتاب کا نام۔۔۔۔اردو شاعری.. کورس کوڈ 5607پیج۔۔۔29………31 غزل ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے کی تشریح 3.4 غزل نمبر 4 ترا لب دیکھ حیواں یاد آوےترا

غزل, , , , ,

ناصر کاظمی کی غزلوں میں یاد اور شب بیداری

ناصر کاظمی کی غزلوں میں یاد اور شب بیداری ناصر کاظمی کی غزل میں یا ناصر کاظمی کی غزلوں کی ایک نمایاں خصوصیت "یاد” ہے۔ ان کی شاعری میں یاد کا موضوع اکثر نظر آتا ہے، جو محبت، تنہائی، اور گزرے لمحوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ یادیں کبھی خوشگوار ہوتی ہیں تو کبھی دردناک،

غزل, , , ,

ناصر کاظمی کی شاعری میں اداسی، تنہائی اور سماجی مساوات

ناصر کاظمی کی شاعری میں اداسی، تنہائی اور سماجی مساوات ناصر کاظمی کی شاعری میں اداسی ناصر کو اداسی کا شاعر کہا جاتا ہے اداسی ان کی شاعری کا شناس نامہ ہے ۔یہی شاعری میر کے ہاں بھی نظر آتی ہے ہمیں ۔ان میں دلکشی اور دل آویزی موجود ہے ۔خاص کر انسانی زندگی کی

غزل, , , , , ,

ناصر کاظمی کی غزل میں فطری مناظر اور ہجرت کا دکھ

ناصر کاظمی کی غزل میں فطری مناظر اور ہجرت کا دکھ ناصر کاظمی کی غزل میں فطری مناظر کی عکاسی رقص کرتی ہوئی شبنم کی پریلے کے پھر آئی ہے نذرانہ گل ناصر بچپن سے ہی فطرت کے حسن اور اس کے حسین نظاروں کی جانب مائل ہو گئے تھے۔ والد صاحب کے تبادلوں کی

غزل, , ,

ناصر کاظمی کی شاعری: درد، تنہائی اور رات کا استعارہ

ناصر کاظمی کی شاعری: درد، تنہائی اور رات کا استعارہ تلخی اور ناقدری ناصر کلام میں تلخی اور ناقدری کا یہ عنصر واقعی نمایاں ہے۔ آپ کے ذکر کردہ اشعار میں شاعر کی تنہائی اور عدم توجہ کا احساس واضح ہے۔ "کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے” میں شاعر کی بے

غزل, , ,

ناصر کاظمی کی غزل میں وطن دوستی

ناصر کاظمی کی غزل میں وطن دوستی ناصر ایک وطن پرست شاعر ہیں۔ وہ اپنے وطن عزیز سے والہانہ عشق کرتے ہیں۔ وہ اپنے وطن کے درختوں، چڑیوں، بازاروں گلیوں سب سے پیار کرتے ہیں۔ ناصر کا اپنے وطن سے عشق محض رسمی یا زبانی جمع خرچی نہیں ہے ۔ وہ نوجوانی کے زمانے میں

غزل, , ,