مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

عرش صدیقی کی افسانہ نگاری

عرش صدیقی کی افسانہ نگاری اردو افسانے کی توانا آواز اور فکری ارتقا کا سفر تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو ادب کی تاریخ میں عرش صدیقی کا نام ایک ایسے ہمہ جہت قلم کار کے طور پر پہچانا جاتا ہے جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے کئی میدانوں میں اپنی اہمیت منوائی۔ آپ بیک وقت ایک بہترین شاعر، زیرک نقاد اور کمال کے افسانہ نگار تھے۔ کوئی بھی ادیب اپنے خیالات کو جس صنفِ ادب میں بھی پیش کرے، اس کے بنیادی نظریات ہر تحریر میں جھلکتے ہیں۔ عرش صدیقی اگرچہ کسی مخصوص ادبی تحریک کے باقاعدہ رکن نہیں رہے، لیکن ان کی سوچ اور نظریات ہمیشہ مثبت اور صحت مندانہ رہے۔

خواہ وہ ان کی شاعری ہو، افسانہ نگاری، عام گفتگو یا پھر سنجیدہ تنقید، ہر جگہ وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے دکھوں، مسائل اور پیچیدگیوں کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ وہ محض مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ انھیں حل کرنے اور زندگی کو رومانوی خوابوں سے نکال کر حقیقت کی کڑی لیکن حوصلہ افزا دھوپ میں کھڑا کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔

کم تعداد، مگر بے مثال معیار: افسانہ نگاری کا سفر

دورِ حاضر اور عمومی اردو ادب میں عرش صدیقی کی افسانہ نگاری اپنا ایک الگ اور منفرد مقام رکھتی ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ انہوں نے جس تسلسل سے شاعری کی، اس تواتر سے افسانے نہیں لکھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کے قارئین، ان کی شاعری کے مداحوں کی نسبت قدرے کم ہیں۔

ان کے افسانوی سفر کے چند اہم حقائق درج ذیل ہیں:

  • پہلا شاہکار: ان کی افسانہ نگاری کا باقاعدہ آغاز تو بہت پہلے ہو گیا تھا، لیکن ان کا پہلا بڑا اور شہرہ آفاق افسانہ ”کتے“ تھا جو 1960ء میں تخلیق ہوا اور 1961ء میں مشہور جریدے ”نقوش“ میں شائع ہوا۔
  • دوسرا اہم افسانہ: ”کتے“ کی اشاعت کے تقریباً دو سال بعد ان کا دوسرا بڑا افسانہ ”فرشتہ“ بھی نقوش ہی کی زینت بنا۔
  • پہلا مجموعہ اور ایوارڈ: ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”باہر کفن سے پاؤں“ 1978ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس میں کل 9 افسانے شامل تھے۔ اس مجموعے کی ادبی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر انہیں باوقار ’آدم جی اوّل انعام‘ سے نوازا گیا۔ اب تک اس کے دو ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔

عرش صدیقی نے 57 سال کی عمر تک کے 18 سالہ طویل عرصے میں کل نو (9) افسانے تخلیق کیے۔ ”باہر کفن سے پاؤں“ کے بعد انہوں نے کوئی نیا افسانہ نہیں لکھا۔ اگرچہ تعداد کے اعتبار سے یہ صورتِ حال زیادہ حوصلہ افزا نہیں اور شہرت کے تقاضوں (یعنی مسلسل منظرِ عام پر رہنے) کے خلاف ہے لیکن ان کے افسانوں کا معیار اس قدر بلند ہے کہ وہ اردو کے صفِ اول کے افسانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ناقدین کی آرا اور ادبی قدر و منزلت

جب 1961ء میں ان کا افسانہ ”کتے“ شائع ہوا تو ادبی حلقوں میں اس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کے فن کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے سید جابر علی (مرحوم) نے ایک ایسی رائے دی جس سے آج تک کوئی اختلاف نہیں کر سکا:

"یہ افسانہ اردو ادب کے بہترین افسانوں کے ہر انتخاب میں شامل کیے جانے اور جگہ پانے کا مکمل مستحق ہے۔”

عرش صدیقی نے جو اعلیٰ معیار اپنی پہلی تحریروں میں قائم کیا، اسے نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسلوب اور تکنیک میں ایسے نئے تجربات کیے جنھوں نے جدید افسانے پر لگنے والے باسی پن اور جمود کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ اسلوب کے اعتبار سے انہیں بجا طور پر حسن عسکری کے ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے، جن کے افسانے بھی تعداد میں کم لیکن اہمیت میں بے پناہ ہیں۔

ان پر مضامین کی کمی کی وجہ بھی ان کی کم تخلیقات کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم، اہم نقادوں نے ان کے فن کو بھرپور سراہا ہے:

  • ڈاکٹر وحید قریشی
  • افتخار جالب
  • نذیر احمد
    (ان کے مضامین بالترتیب مطبوعہ اوراق، مساوات اور نئی قدریں میں عرش صدیقی کے افسانوں کی قدرو قیمت کا واضح تعین کرتے ہیں)۔

اردو افسانے کا ارتقا: پریم چند کی حقیقت نگاری سے جدید علامت نگاری تک

عرش صدیقی کو اردو افسانے کی ایک بہت مستحکم اور وسیع روایت ورثے میں ملی۔ پریم چند کے دور سے لے کر عرش صدیقی کے زمانے تک، افسانے نے حقیقت نگاری سے لے کر علامت نگاری تک جو مسافت طے کی ہے، وہ دراصل انسانی شعور کی کہانی ہے۔

حقیقت پسندی اور رومانوی تحریک کا امتزاج

پریم چند ایک سیدھے سادے کہانی کار تھے جنھوں نے معاشرتی ناہمواریوں کو موضوع بنایا۔ لیکن ان کا افسانہ "کفن” اردو افسانے کا وہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا جہاں سے ایک نئی روایت نے جنم لیا۔ "انگارے” اور "شعلے” جیسی کتابوں پر اس کے واضح اثرات ملتے ہیں۔ اسی دور میں حقیقت پسندی کے ساتھ ساتھ رومانوی تحریک بھی پروان چڑھی، جس کے علمبرداروں میں سجاد حیدر یلدرم، نیاز فتح پوری، قاضی عبد الغفار اور حجاب شامل تھے۔ تاہم، پریم چند کی حقیقت پسندی زیادہ دیرپا ثابت ہوئی اور ترقی پسند تحریک کی بنیاد بنی۔

ترقی پسند تحریک اور اس کے بعد کا عہد

ترقی پسند افسانہ نگاروں نے سماجی اور معاشی رشتوں کو موضوع بنایا۔ اگرچہ بعض اوقات فنی نزاکتیں نظر انداز ہوئیں، لیکن مجموعی طور پر اس دور کا افسانہ کمال کا تھا۔ پھر دنیا بدلنے لگی۔ صنعتی ترقی، مشینی نظام، سرمایہ دارانہ نظام کا استحصال اور فسطائیت نے جنم لیا۔

اقتصادی غلامی، طبقاتی کشمکش، خود غرضی اور زرپرستی نے جدید انسان کو ایک گہرے نفسیاتی بحران میں دھکیل دیا۔ خارجی ماحول کی اس بھیانک تصویر کے پیشِ نظر، ادیبوں نے داخل کی دنیا (اندرونی ذات) کی طرف سفر شروع کر دیا، اور یوں سیدھے سادے بیانیے کی جگہ علامتی اور تجریدی افسانے نے لے لی۔

علامتی افسانے کے اسباب اور نفسیاتی محرکات

علامتی تحریک کے فروغ کی کئی وجوہات تھیں:

  1. ترقی پسندوں کا ردِعمل: ترقی پسندوں کا غیر مبہم اور وضاحتی انداز جب پابندیوں کا شکار ہوا، تو ادیبوں نے علامت کا سہارا لیا۔
  2. سیاسی سنسرشپ: بار بار آنے والی آمرانہ حکومتوں اور تحریر و تقریر پر پابندیوں نے علامت نگاری کو فروغ دیا۔
  3. نفسیاتی نظریات کا اثر: فرائڈ (Freud)، ینگ (Jung) اور ایڈلر (Adler) کے لاشعور کے نظریات نے افسانے کو ایک نئی اور عمیق جہت بخشی۔

عرش صدیقی کا اسلوب اور تکنیکی تنوع

عرش صدیقی کا فن قدیم اور جدید کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ ان کی کہانیوں میں پریم چند کی حقیقت پسندی بھی ہے اور جدید وجودیت اور علامتیت کی تحریکوں کے اثرات بھی۔ ان کے ہاں جہاں پرانی تہذیب کے کردار اپنے پورے پس منظر کے ساتھ جیتے جاگتے نظر آتے ہیں، وہیں جدید دور کا انسان بھی اپنی ذات کے آشوب، کرب اور بے یقینی کے دھوئیں میں لپٹا دکھائی دیتا ہے۔

ان کے مشہور علامتی اور تکنیکی افسانوں میں شامل ہیں:

  • علامتی افسانے: چوتھا مجوسی، باہر کفن سے پاؤں، بھیڑیں، مور کے پاؤں، ہمنشینی کا عذاب، کتے۔
  • فلیش بیک (Flashback) تکنیک: "ظل الہی” اور "کتے” میں واقعات ماضی اور حال کے درمیان جھولتے اور ابھرتے ڈوبتے نظر آتے ہیں۔
  • ڈرامائی عناصر: افسانہ "میل کا زخم” اپنے اندر بھرپور ڈرامائیت رکھتا ہے جس کا کلائمکس بالکل آخر میں قاری کو چونکا دیتا ہے۔
  • طویل مختصر افسانہ: "فرشتہ” ایک ناول جیسا وسیع کینوس رکھنے والی تخلیق ہے۔
  • نفسیاتی ٹریٹمنٹ: "ہمنشینی کا عذاب” اور "کتے” خالص نفسیاتی بنیادوں پر استوار ہیں۔

عرش کا اسلوب محض واقعہ نگاری یا محض نفسیات نہیں، بلکہ ایک مرکب اسلوب ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس قدر پیچیدہ نظریات کے باوجود، ان کے افسانوں کی تفہیم (سمجھنے) میں قاری کو کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور فن کی تازگی برقرار رہتی ہے۔

افسانہ "بھیڑیں”: معاشرتی زوال اور استحصال کی تلخ حقیقت

عرش صدیقی ماضی کی ٹوٹتی اقدار کا نوحہ نہیں پڑھتے، بلکہ وہ حال سے مصالحت کر کے مستقبل کی راہ تلاش کرنے والے ادیب ہیں۔ ان کا شاہکار افسانہ ”بھیڑیں“ اسی معاشرتی زوال کی ایک زندہ دستاویز ہے۔

اس کہانی میں ناہموار معاشی اقدار، اخلاقی گراوٹ، عدم تحفظ، اور زندگی کی بے مقصدی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ افسانہ محض کسی ایک کردار (جمیل) کی بے حسی کا ماتم نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کے زوال کی تصویر کشی ہے۔ اس میں شکیلہ کا تصور، کلیم طوری کا کردار، اور شکوہ کی استحصال پسند شخصیت سب اسی معاشرے کی پیداوار ہیں۔

اس افسانے کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ معاشرہ خود ایسے حالات پیدا کرتا ہے کہ ہر شخص موقع ملنے پر استحصال کرنے لگتا ہے۔ ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں جمیل اور شکوہ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ طبقاتی امتیازات مٹ جاتے ہیں اور سب اندھی تقلید میں شامل ہو جاتے ہیں۔ افسانے کے اختتام پر یہ سطریں اسی کرب کو یوں بیان کرتی ہیں:

"شکوہ، شکیلہ، کلیم اور ان کا مالک… کالی… مکان… ان میں اب کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ سب ایک ہی راستے پر رواں ہیں۔ ان کے سفر کی نوعیت ایک ہی ہے… وہ سب ایک سے ہیں صرف نام مختلف ہیں!!” (افسانہ: بھیڑیں)


(نوٹ: عرش صدیقی کی افسانہ نگاری کا یہ تنقیدی جائزہ اردو ادب کے ان طلبہ اور قارئین کے لیے ایک انمول خزانہ ہے جو جدید کہانی کی نفسیات اور علامت نگاری کو سمجھنا چاہتے ہیں۔)

نظرِ ثانی و تصحیح: مجاہد حسین شاہ،معلمِ اردو
کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں