مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ارسطو کا تعارف اور تنقیدی نظریات

ارسطو کا تعارف اور تنقیدی نظریات تحریر از احمد سیال قلمی نام ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

ارسطو (Aristotle) کا نام تاریخ میں صرف ایک فلسفی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت سائنسدان، ریاضی دان، ماہرِ منطق اور ایک عظیم استاد کے طور پر زندہ ہے۔ وہ ایک ایسا محقق اور مصنف تھا جس نے علم کے ہر شعبے میں اپنی چھاپ چھوڑی۔ اس کی تحریروں کا دائرہ کار اتنا وسیع تھا کہ اس میں شاعری، تھیٹر، موسیقی، منطق (Logic)، فنِ بلاغت، مابعد الطبیعیات (Metaphysics)، طبیعیات، لسانیات، سیاسیات، حکومت، اخلاقیات اور حیاتیات جیسے مضامین شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کیتھارس ، تحقیہ ، انخلا

ذیل میں اس عظیم مفکر کی زندگی، جدوجہد اور کارناموں کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

ارسطو کی پیدائش 384 قبل مسیح میں یونان کے ایک چھوٹے سے ساحلی قصبے Stagira میں ہوئی۔ اس کا تعلق ایک طبی گھرانے سے تھا، جس کا اثر اس کی آنے والی زندگی پر گہرا پڑا۔

  • والد: اس کے والد کا نام Nicomachus تھا، جو شاہی دربار سے وابستہ تھے۔
  • خاندانی پیشہ: یہ مانا جاتا ہے کہ ارسطو کے آباؤ اجداد کئی نسلوں سے ریاست Macedonia کے شاہی دربار میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کے والد بادشاہ Amyntas کے دربار میں بطور طبیب تعینات تھے۔

ابھی ارسطو لڑکپن کی دہلیز پر ہی تھا کہ اس کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ چونکہ وہ ایک معالج خاندان کا چشم و چراغ تھا، اس لیے اسے صحت اور طب کی تربیت ورثے میں ملی۔ اسی تربیت نے اسے مظاہرِ قدرت کے گہرے مطالعے کی طرف راغب کیا۔

والد کے انتقال کے بعد ارسطو کی کفالت اس کے بہنوئی Proxenus نے کی، جو اس کا قانونی سرپرست بھی بنا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی والدہ Phaestis بھی اس کے بچپن میں ہی وفات پا گئی تھیں۔

ایتھنز کا سفر اور افلاطون کی شاگردی

جب ارسطو کی عمر 17 سال ہوئی (367 قبل مسیح)، تو اسے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے Athens بھیج دیا گیا، جسے اس وقت کائنات کا علمی مرکز سمجھا جاتا تھا۔

  • یہاں اس نے افلاطون (Plato) کی مشہور زمانہ اکیڈمی میں داخلہ لیا۔
  • وہ تقریباً 20 سال تک اپنے استاد افلاطون کی اس درسگاہ سے وابستہ رہا۔
  • تعلیم مکمل کرنے کے بعد ارسطو ایک مثالی عالم بن چکا تھا۔

استاد اور شاگرد میں نظریاتی فرق

اگرچہ ارسطو اپنے استاد کا انتہائی ہونہار شاگرد تھا، لیکن 347 قبل مسیح میں افلاطون کے انتقال کے بعد وہ اکیڈمی کا سربراہ نہ بن سکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ دونوں کے نظریات میں بنیادی اختلاف تھا۔

  • افلاطون کا نظریہ: وہ دنیا میں خیالات (Ideas)، فلسفے اور نقائص سے پاک دنیا کو ہی سب کچھ مانتا تھا۔
  • ارسطو کا نظریہ: اس کے برعکس ارسطو خیالات کی دنیا کی بجائے ٹھوس حقیقت اور مادی دنیا (Reality) پر یقین رکھتا تھا۔

افلاطون نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بھتیجے Speusippus کو اپنا جانشین نامزد کر دیا تھا، جو بعد میں اکیڈمی کا سربراہ بنا۔ شاید اسی دلبرداشتگی میں ارسطو نے اکیڈمی چھوڑ دی۔

جلاوطنی، شادی اور سائنسی تحقیقات

اکیڈمی چھوڑنے کے بعد ارسطو نے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ دو یونانی ریاستوں کے حکمران Hermias نے اسے اپنے دربار میں ملازمت دی، جہاں وہ چند سال مقیم رہا۔

  • ازدواجی زندگی: یہیں پر ارسطو نے بادشاہ کی بھانجی اور لے پالک بیٹی Pythias سے شادی کی۔
  • اولاد: ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام بھی انہوں نے Pythias ہی رکھا۔

جب ایرانیوں نے Hermias کی ریاست پر قبضہ کیا تو ارسطو وہاں سے ہجرت کر کے Macedonia چلا گیا۔ اگلے چار سالوں تک وہ مختلف علاقوں میں سفر کرتا رہا۔ اس دوران اس کی ملاقات Theophrastus سے ہوئی، اور دونوں نے مل کر نباتات اور حیوانیات پر تحقیق کا آغاز کیا۔ ارسطو نے حیاتیاتی سائنس پر جو بھی مشاہدات قلمبند کیے، وہ انہی دنوں کی محنت کا نتیجہ تھے۔

سکندرِ اعظم کی اتالیقی

343 قبل مسیح میں Macedonia کے بادشاہ فلپ دوئم (Philip II) نے ارسطو کو اپنے دربار میں مدعو کیا تاکہ وہ اس کے 13 سالہ بیٹے سکندر (جو بعد میں سکندرِ اعظم بنا) کی تربیت کر سکے۔

بادشاہ نے ارسطو کو شاہی اکیڈمی کا سربراہ مقرر کیا۔ اس دوران ارسطو نے نہ صرف سکندر کو بلکہ دو دیگر مستقبل کے بادشاہوں، Cassander اور Ptolemy کو بھی زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔

سکندر اور ارسطو کے درمیان بھی نظریاتی کشمکش رہی:

  1. ارسطو چاہتا تھا کہ یونانی ثقافت کو غیر ملکی اثرات سے پاک رکھا جائے۔
  2. سکندر کا خیال تھا کہ غیر یونانی ثقافت کو اپنانا حکومت کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

اس کے باوجود سکندر نے اپنے استاد کی سائنسی تحقیق کے لیے بے پناہ وسائل مہیا کیے اور اسے مکمل آزادی دی کہ وہ جہاں سے چاہے کتابیں حاصل کرے۔

لائسیم (Lyceum) کا قیام

جب سکندر نے دنیا فتح کرنے کی مہم شروع کی تو ارسطو واپس Athens آ گیا۔ یہاں اس نے Lyceum کے نام سے اپنا ذاتی اسکول قائم کیا، جہاں اس نے اپنی زندگی کے اگلے 12 سال گزارے۔

یہ ادارہ سائنسی تحقیق کا ایک بے مثال مرکز بن گیا۔ ارسطو کا تدریسی طریقہ کار کچھ یوں تھا:

  • صبح کا وقت: وہ اپنے سینئر طالب علموں کے ساتھ پیچیدہ فلسفیانہ اور سائنسی بحثیں کرتا۔
  • سہ پہر کا وقت: وہ عام شہریوں اور نئے طالب علموں کو مقبول عام موضوعات پر لیکچر دیتا۔

یہاں ارسطو نے دنیا کی پہلی بڑی لائبریری قائم کی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ اسکول 525 عیسوی تک قائم رہا، یہاں تک کہ بادشاہ Justinian نے اسے بند کر دیا۔

علمی کارنامے اور تصانیف

ارسطو نے اپنے دور کے تقریباً تمام علوم کا احاطہ کیا۔ اگر اس کی تمام تحریروں کو جمع کیا جائے تو وہ یونانی علوم کا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا بن سکتا ہے۔ اس نے درج ذیل موضوعات پر گراں قدر اضافہ کیا:

  • طبیعی سائنس: جغرافیہ، علم ارضیات، فلکیات، جنینیات (Embryology)، اناٹومی (Anatomy)، موسمیات اور حیوانیات۔
  • فلسفہ و سماجیات: جمالیات، اخلاقیات، حکومت، معاشیات، نفسیات اور دینیات۔
  • دیگر: غیر ملکی رسم و رواج، لٹریچر اور شاعری۔

اس کے لکھے گئے مکالموں کے محض چند ٹکڑے ہی باقی بچے ہیں، لیکن اس کے وہ مقالے جو اسکول کے کورس کا حصہ تھے، محفوظ رہے اور دنیا اگلے دو ہزار سال تک ان سے استفادہ کرتی رہی۔

آخری ایام اور وفات

اپنی پہلی بیوی Pythias کے انتقال کے تقریباً دس سال بعد ارسطو نے ایک اور خاتون Herpyllis سے تعلق استوار کیا، جو اس کے آبائی علاقے Stagira کی ایک غلام تھی۔ ارسطو نے اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لی۔ ان کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام Nicomachus رکھا گیا۔

مشہور کتاب Nicomachean Ethics کا نام اسی نسبت سے ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ نام اس کے والد کی یاد میں ہے یا بیٹے کی۔

323 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم کی اچانک موت کے بعد Athens کے حالات ارسطو کے لیے سازگار نہ رہے۔ سکندر مخالف لہر اٹھی اور نئی انتظامیہ نے ارسطو پر "دیوتاؤں کی توہین” (Impiety) کا الزام عائد کر دیا۔ یہ وہی الزام تھا جس کے تحت سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا۔

سزا سے بچنے کے لیے ارسطو نے کہا کہ وہ ایتھنز والوں کو فلسفے کے خلاف دوسرا گناہ کرنے کا موقع نہیں دے گا اور شہر چھوڑ کر Chalcis (جزیرہ Euboea) چلا گیا۔ یہاں پہنچ کر وہ معدے کے مرض میں مبتلا ہو گیا اور 322 قبل مسیح میں 63 سال کی عمر میں اس عظیم مفکر کا انتقال ہو گیا۔ اسے اس کی وصیت کے مطابق اس کی پہلی بیوی کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

نظر ثانی و تصحیح: فہد عظیم علی
طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں