مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

انور سین رائے کی شاعر کے 7 اہم پہلو

انور سین رائے کی شاعری: جدید اردو نظم، مارکسی شعور اور ادبی مزاحمت کے۷ اہم پہلو تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

انور سین رائے کی شاعری عصرِ حاضر کے ادبی منظر نامے میں ایک ایسی توانا آواز ہے جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر ایک مایہ ناز ناول نگار کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں اور ان کا شاہکار ناول "ذلتوں کے اسیر” ادبی حلقوں میں بے پناہ مقبولیت رکھتا ہے، تاہم ان کی نظم نگاری بھی اپنی الگ اور ناقابلِ فراموش شناخت رکھتی ہے۔

ان کی تخلیقات میں ایک ایسا منفرد لب و لہجہ پایا جاتا ہے جو انہوں نے اپنے ذاتی مشاہدات اور تلخ تجربات کی بھٹی میں تپا کر وضع کیا ہے۔ ان کے پاس قاری تک پہنچانے کے لیے خیالات کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، لیکن وہ کمالِ ہنر مندی سے بہت سے سنجیدہ موضوعات کی جانب محض ایک بلیغ اشارہ کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

انور سین رائے کی شاعری میں جدید عہد کا نوحہ اور تنہائی کا کرب

جدید دور کی تلخ حقیقتیں، سماجی بے حسی اور انسانی تنہائی کا بیان ان کی تخلیقات میں نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کی ان مصنوعی پابندیوں اور رسوم و رواج پر کڑی تنقید کرتے ہیں جنہیں عام طور پر مسلمہ سچائیاں مان لیا گیا ہے۔

وہ عہدِ جدید کی ان منافقتوں کو بے نقاب کرتے ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ انور سین رائے کی شاعری ہمیں ان بنیادی مسائل پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتی ہے جنہیں ہم نے جانے انجانے میں قبول کر لیا ہے۔

روایتی بندشوں سے بغاوت اور سلیس لفظیات کا جادو

ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انتہائی سلیس اور سادہ الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن ان سادہ مصرعوں کے درمیان وہ ایسی گہری اصطلاحات اور استعارے بُن دیتے ہیں جو قاری کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

ان سے قبل اردو نظم میں روانی اور خیالات کے اس انوکھے بہاؤ کا واضح فقدان نظر آتا تھا۔ اس کی ایک بہترین مثال ان کا انفرادی شعری اسلوب ہے جس میں وہ مروجہ افکار سے ہٹ کر اپنا ایک نیا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ ذیل کےاشعار نے اس انفرادیت کو واضح کیا ہے:اشعار ملاحضہ ہوں۔

⁠اب خدا کو بھی ذرا آرام کرنا چاہیے 
⁠اک زمانے سے مسلسل کر رہا ہے 
⁠تین اوقات:
⁠اور دنیا بھر کے تہواروں پہ بھی 
⁠مل نہیں پائی کبھی رخصت اسے 

خدا، سرمایہ دارانہ نظام اور جدید انسان کی تھکن

جدید شاعری کی تاریخ میں خدا کے تصور کو اس زاویے سے دیکھنے اور بیان کرنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا تجربہ ہے۔ آج کے انسان نے بقا کی جنگ اور مادی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جس طرح دن رات محنت کی ہے اورمختلف اوقات کی نوکریوں میں اپنی توانائیاں صرف کی ہیں، اس نے ایک عجیب نفسیاتی کیفیت کو جنم دیا ہے۔

اس شدید مشقت کے باعث انسان کو اپنا خدا بھی انہی لامتناہی مصروفیات میں گھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ہم خدا کو اپنی روزمرہ کی زمینی حقیقتوں اور مصیبتوں سے الگ نہیں سمجھ رہے، بلکہ اسے اپنے درمیان محسوس کرتے ہیں۔ جب جدید انسان کو خود سکھ کا سانس لینے کی فرصت نہیں، تو وہ سوچتا ہے کہ اس کائنات کے خالق کو بھلا کیسے آرام مل سکتا ہے؟ یہی وہ نیا طرزِ احساس ہے جو نئی نظم کا طرزامتیاز بنا۔

اردو نظم کا تاریخی پس منظر اور عہدِ حاضر کا پیچیدہ اظہار

معروف نقاد روشن اختر نے اردو نظم کے تاریخی اور سماجی پس منظر کو نہایت جامع انداز میں یوں بیان کیا ہے:

⁠"اردو نظم کا پس منظر اجڑی ہوئی آبادیاں، جلی ہوئی کھیتیاں، ٹھوکریں کھاتے ہوئے کاسہ سر، سسکتی ہوئی زندگیاں، بکھرتی ہوئی شخصیتیں، برباد ہوتے ہوئے خاندان، ٹوٹتے ہوئے رشتے، سلب ہوتی ہوئی آزادی، پیروں کے نیچے سے کھسکتی ہوئی زمین اور قہر ڈھاتا ہوا آسمان ہیں ۔"

(ص: 306 ، اردو میں طویل نظم نگاری کی روایت اور ارتقا، روشن اختر ، موڈرن پبلشنگ ہاوس، گولا مارکیٹ، دریا گنج، نئی دہلی،1984۔)

ہمیں اس تاریخی حقیقت کو ذہن میں رکھنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ نئی نظم کا موجودہ منظر نامہ کیا ہے۔ جدید شاعری نے اپنے شاندار ماضی سے روایات تو مستعار لی ہیں، لیکن اس میں آج کے دور کی سچائیوں کو گھلا ملا کر ایک نیا لہجہ تخلیق کیا ہے۔

جدید ویزا اور پاسپورٹ کلچر کا شعری اظہاریہ

اگر کوئی شاعر محض ماضی کے کھنڈرات یا پرانے مسائل پر مرثیہ پڑھتا رہے تو اسے جدید شاعر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جدیدیت کی شرط یہ ہے کہ اس میں آج کے انسان کا پیچیدہ کرب اور نت نئے مسائل شامل ہوں۔ انور سین رائے نے بالکل یہی فریضہ انجام دیا ہے۔ اس نئے شعری لہجے کو سمجھنے کے لیے یہ سطور ملاحظہ کیجیے:

⁠میں اس سے پوچھتا ہوں 
⁠کیا اس نے ویزا لگوالیا
⁠میرا پاسپورٹ ری نیو ہونے گیا ہے
⁠اگر میرے پاس

یہ الفاظ کسی مصنوعی شعوری کوشش کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ نئی لفظیات ہیں جو براہِ راست جدید زندگی کے مسائل سے کشید کی گئی ہیں۔ جب کوئی فنکار اس جدید اسلوب کو مہارت کے ساتھ اپنی شاعری کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے، تو نئی نظم کی شناخت خود بخود ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ انور سین رائے کی شاعری نے یہی معجزہ کر دکھایا ہے۔


ایک شاہکار نظم: موت، سماجی بے حسی اور انسانی بے بسی کا نوحہ

یہاں انور سین رائے کی ایک کلاسک نظم پیش کی جا رہی ہے جو انسانی رشتوں کی کھوکھلی نوعیت اور موت کے بعد کی بے بسی کی شاندار عکاسی کرتی ہے:

میں مر چکا ہوں
اور مجھے پتہ بھی نہیں

اب کیا کرو گے تم
نہلاؤ گے مجھے

اور پوچھو گے بھی نہیں
میں نہانا چاہتا ہوں یا نہیں

یہ بھی نہیں دیکھو گے
پانی گرم ہے یا نہیں

بھول جاؤ گے کہ اچھا نہیں لگتا
مجھے ٹھنڈا پانی

نہانے کے لیے نہ پینے کے لیے
پھر لباس تبدیل کرو گے میرا

اور یہ بھی نہیں پوچھو گے
کیا.

نظر ثانی و تصحیح: روبینہ خوشحال ایم فل اردو نمل یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں