مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

علامہ اقبال کے بنیادی افکار

علامہ اقبال کے بنیادی افکار اور فلسفیانہ تصورات: ایک تفصیلی جائزہ، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، جنہیں دنیا عشق و محبت کے عظیم شاعر، نابغہ روزگار فلسفی اور ممتاز سیاسی مفکر کے طور پر جانتی ہے، نے ہمیشہ مسلم امہ کی یکجہتی، ترقی اور تعلیم پر زور دیا۔ آپ کا شمار تاریخ کے ان چوٹی کے شعراء اور متکلمین میں ہوتا ہے جنہوں نے مذہبی اور فلسفیانہ موضوعات پر گہری اور وقیع تحقیقات پیش کیں۔

اقبال کے افکار کی اصل بنیاد اسلامی فلسفے اور قرآنی تعلیمات پر استوار ہے، جسے انہوں نے نہایت خوبصورتی سے جدید دور کے تقاضوں اور معاشرتی حالات کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

تحریکِ پاکستان اور اقبال کا فکری کردار

برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ نے تحریک پاکستان کے لیے ایک مضبوط فکری اساس فراہم کی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام اور اس کے ریاستی نظام کا بنیادی خاکہ پیش کیا۔

اقبال کی وسیع فکری اور فلسفیانہ سوچ جن اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہے، ان میں درج ذیل شامل ہیں:

  • معرفت شناسی
  • توحید اور ذاتِ پاک
  • خودی کا فلسفہ
  • شاعری اور عدم وجود
  • اخلاقیات اور تاریخ
  • جمہوریت اور جدید تعلیم

اقبال کے نظریات کی بنیاد ایک سادہ لیکن انتہائی گہری محبت، توحید اور جمہوری فکر پر قائم تھی، جو ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی مستقل ترقی اور تعلیم کے لیے ناگزیر ہے۔

علامہ اقبال کے چار بنیادی تصورات

اقبال کی تمام تر شاعری اور نثر میں چار اہم ترین ستون پائے جاتے ہیں:

  1. نظریہ خودی (ذات کی پہچان)
  2. تصور عشق (حقیقی اور روحانی محبت)
  3. تصور مردِ مومن (کامل انسان)
  4. تصور فن (آرٹ کا مقصد)

آئیے ان میں سے نمایاں ترین نظریات کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں۔


1. نظریہ خودی (فلسفہِ ذات اور پہچان)

خودی سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کا گہرا ادراک حاصل کرے اور اپنے اندر چھپی ہوئی بے پناہ قوتوں، صلاحیتوں، خوابوں اور زندگی کے اصل مقاصد کو پہچانے۔

اقبال کا نظریہ خودی یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان کا تشخص اور روحانی طاقت کو بیدار کرنے کے لیے خودی کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ اگر انسان اپنی ذات (خودی) کو نہیں پہچانتا، تو وہ اپنی منزل کے حصول میں ناکام رہتا ہے۔ یہ نظریہ انسان کی ذاتی ترقی (Personal Development) کے لیے ایک واضح اور روشن راستہ دکھاتا ہے۔

خودی، ذہن اور روحانیت کا رشتہ

اقبال نے خودی کو محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مکمل انفرادیت قرار دیا ہے جو انسان کے فکری، جسمانی اور روحانی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ ان کے نزدیک خودی کی سب سے بڑی طاقت انسان کے ذہنی توازن اور اس کی اندرونی تحریک (Motivation) سے جڑی ہے۔

انسان کی کامیابی کا راز اس کے دماغ کی صلاحیتوں اور خصوصیات میں پوشیدہ ہے۔ اگر ایک فرد اپنی خودی کی نشوونما پر توجہ دے، تو وہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتا ہے۔ خودی کی تعمیر کے لیے انسان کو اپنے رب اور اپنی ذات کے سوا کسی اور بیرونی طاقت کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔

اشعار میں نظریہ خودی کی جھلک

اقبال نے اپنی شاعری میں انسان کی اصلی قوت کو اس کی ‘روح’ قرار دیا ہے، جو دراصل اللہ کی قدرت کا عکس ہے۔ چند اہم نظمیں جو خودی کے فلسفے کی بہترین عکاس ہیں:

"میں نے دیکھا ہے” (نظم کا خلاصہ اور حوالہ)
اس نظم میں اقبال نے انفرادیت اور خودی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ ان کے افکار کا وہ شاہکار ہے جس میں معاشرے کی حقیقتوں کو بے نقاب کیا گیا ہے:

میں نے دیکھا ہے، ایک اہل خرابات کو
جو کچھ کہتا ہے، ان کے پیچھے چھپاتا ہے
میں نے دیکھا ہے، جب جمہوریت کے پرچم کوئی نہ لہرایا،
تو ہزاروں نے بہت خوشی سے جلایا
میں نے دیکھا ہے، اپنی بی عیش پر یہ عالم
کہتا ہے اقبال کو، کہ جہاں ہے تیرا علم

تشریح: اس نظم کے ذریعے اقبال بتاتے ہیں کہ دنیا میں لوگ اپنی خامیاں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ایک سچے اور خودی والے شاعر کی نگاہ سے کچھ نہیں چھپتا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے نزدیک دنیاوی عیش و عشرت کی کوئی حیثیت نہیں، جو اس بات کی غماز ہے کہ خودی والا انسان دنیاوی چیزوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔

خودی کی بلندی کا پیغام
یہ شعر تحریک خودی کے دوران لکھا گیا اور آج بھی عملی زندگی کا بہترین اصول ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

اس شعر میں خودی کو اس مقام تک پہنچانے کی ترغیب دی گئی ہے جہاں انسان کی مرضی، اللہ کی مرضی کے تابع اور ہم آہنگ ہو جائے۔

بانگِ درا اور بالِ جبریل میں خودی کا تذکرہ

اقبال کی شہرہ آفاق کتاب "بانگ درا” میں خودی کو ایک مرکزی موضوع کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطابق انسان اللہ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کا امین ہے۔ بانگ درا کی ایک نظم "شکوہ و شکر” (حوالہ) میں خودی کی پسندیدہ شکل کچھ یوں بیان کی گئی ہے:

شکوه و شکر کی جاتی ہے جب بیان ذات
مثال رنگ و بو و گل و خوشنودی مات
ہم نیاز نفس بیں تو خود خدا ہے، یا رب
ہم محو خودی میں تو جمال خدا پائے جات

اسی طرح کتاب "بال جبریل” جو کہ بے پناہ روحانیت پر مبنی ہے، میں بھی خودی کو کمال انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر خدا کی ذات کا نور موجود ہے۔ بال جبریل کی غزلوں اور نظموں میں واضح کیا گیا ہے کہ خدا کے سامنے تمام انسان برابر ہیں اور حقیقی خودی یہ ہے کہ انسان صرف اسی ایک خدا کے سامنے جھکے۔


2. تصور عشق (روحانی اور حقیقی محبت کا فلسفہ)

عشق انسانی دل کی گہرائیوں میں جنم لینے والا ایک انتہائی بامعنی اور طاقتور احساس ہے۔ دنیا بھر کے فلاسفرز اور مصنفین نے عشق کی مختلف کیفیات (خوشی، غم، وفاداری، بے تابی، تحمل اور امید) کو بیان کیا ہے، لیکن علامہ اقبال کا تصور عشق روایتی محبت سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ بلند ہے۔

اقبال کے نزدیک عشق کیا ہے؟

اقبال کی نظر میں عشق صرف ایک عام جذباتی کیفیت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پاکیزہ اور مقدس حالت ہے جس میں انسان کو اپنی ذاتیت کا مکمل عرفان حاصل ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں عاشق (انسان) اپنے محبوب (خالقِ حقیقی) کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔

ان کے تصور میں عشق میں بے پناہ توجہ، لگن اور قربانی شامل ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جسے دنیاوی لالچ، خود غرضی یا حوس کبھی تباہ نہیں کر سکتے۔

اقبالیات میں عشق کی شعری تشریح

اقبال کی شاعری میں عشق کی شدت، وفاداری اور بے نیازی کو مختلف حوالوں سے بیان کیا گیا ہے۔ آئیے ان کے چند اہم شعری حوالوں پر نظر ڈالتے ہیں:

عشق اور فقر کا تعلق:

محبت فقر ہے، تجھ سے تو نہ ہو گزر
تیرے سامنے ہر دل اپنی گزرگاہ پیش کرے

مفہوم: اقبال محبت کو ‘فقر’ کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سچی محبت کے لیے انسان کا فقیری (دنیا سے بے نیازی) اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے دل کی سچی حالت محبوب کے سامنے رکھ سکے۔

عشق ایک جنون کی صورت:

عشق وہ جنون ہے، جو جان لے اُس کی خاطر
جو نہ جانے وہ کیا ہے

مفہوم: عشق وہ زبردست طاقت اور مستی ہے جو انسان کو محبوب کی خاطر جان تک قربان کر دینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ جو اس جذبے سے ناواقف ہے، وہ زندگی کی اصل حقیقت سے دور ہے۔

عشق میں خود فراموشی:

یہ مجھ کو کیا ہوا ہے، میں نے یہ کیا جانا ہے
تم نے دیکھا تو کیا ہوا، میں نے دیکھا کیا جاتا ہے
محبت میں نے جب کھویا تو کھویا سب کچھ
پھر یہ کہا میرا حال، میں نے کچھ نہ جانا ہے

مفہوم: عشق میں غرق ہونے کے بعد انسان خود کو مکمل طور پر فراموش کر دیتا ہے۔ عشق کے زیر اثر آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے انسان اپنی ذات سے دور ہو کر محبوب کی ذات میں فنا ہو جاتا ہے۔ اگر غالب سے پوچھیں تو وہ اس بات کو کچھ یوں ادا کریں گے:
پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک

عشق کے اثرات اور سوزِ دل:

سوز و گرمی اور دل کی دھڑکن سب کچھ بجا لے
لیکن جو دل کو سمجھا نہیں، وہ اصل انداز سے کیا گا لے

مفہوم: عشق دل کی دھڑکن کو تیز اور اندرونی سوز پیدا کرتا ہے۔ لیکن جس شخص میں دل کی گہرائیوں کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہ ہو، وہ عشق کی حقیقی لذت اور اس کے انداز کو نہیں پا سکتا۔

دنیاوی محنت کے مقابلے میں عشق:

جتنا بھی کروں یہاں کچھ نہیں ملتا
محبت کا مجھے کوئی سمجھ نہیں آتا

مفہوم: دنیا کی ہر چیز محنت سے حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن محبت اور عشق کی حقیقت بے مثال ہے۔ اس کا تجربہ صرف وہی خوش نصیب کر سکتا ہے جو اسے سچے دل سے محسوس کرے۔

عشق کی شدت اور وحشت:

عشق کی وحشت جو دل میں ہے، جان اور تن میں بھی ہو
کسی کی نہیں سنتا

مفہوم: جب عشق دل میں اترتا ہے تو اس کی کیفیت انسان کے جسم و جان دونوں پر طاری ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا انوکھا تجربہ ہے جو کسی دوسرے کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔

عشق کا جام اور حوصلہ:

عشق میں جب تیرا جام نشست
میرے حوصلے بڑھ جاتے ہیں

مفہوم: جب انسان روحانی عشق کا جام پیتا ہے، تو اسے تحفظ، نوید اور محبت کا احساس ہوتا ہے، جس سے زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔

عشق میں دو دلی کی کیفیت:

عشق کے ہوتے ہیں دو دل
نہ کوئی پاک ہے نہ کوئی مجنوں

مفہوم: عشق انسان کو ایک عجیب ذہنی اور جذباتی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے، جہاں بظاہر عقل کام چھوڑ دیتی ہے اور انسان ایک مختلف ہی دنیا کا باسی بن جاتا ہے۔


کلیاتِ اقبال اور عشق کی منازل

اقبال کے تصور عشق اور فلسفے کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے مختلف کتابیں مرتب کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم حوالہ "کلیات اقبال” (مرتبہ: محمد علی جوہر) ہے۔

اس کتاب میں اقبال کی شاعری اور نثریات کا وہ عظیم ذخیرہ موجود ہے جو ان کے اصولی نظریات کو واضح کرتا ہے۔ کلیاتِ اقبال میں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ عشق ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔

اقبال کا فلسفہِ عشق نہایت عمیق (Deep) ہے۔ ان کے مطابق عشق مختلف منازل سے گزرتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب عاشق کو اپنی ذات بہت حقیر اور ناقابلِ ذکر محسوس ہونے لگتی ہے، اور وہ خود کو محبوب کے سامنے مٹا دینا چاہتا ہے۔ دراصل، عشق کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی انا سے آزاد کر کے تکمیلِ خودی اور خالقِ کائنات کی پہچان تک پہنچانا ہے جہاں قطرہ سمندر سے مل کر سمندر بن جاتا ہے اور محبوب اور محب کا فرق ختم ہو جاتا ہے عقل ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ سراج اورنگ آبادی کے شعر پر حرف تمام کرتے ہیں:
شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی۔

نظر ثانی و تصحیح: احمد جمال،ایم – فل اردو منہاج یونیورسٹی لاہور

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں