مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

علی سردار جعفری کی نظم نگاری اور 7 اہم پہلو

علی سردار جعفری کی نظم نگاری اور 7 اہم پہلو تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو ادب کی تاریخ میں جب ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی، تو نظم کی صنف تیزی سے نئے افق تلاش کر رہی تھی۔ اس دور میں شاعری محض دل لگی یا تفریحِ طبع کا ذریعہ نہیں رہی تھی، بلکہ یہ معاشرے میں پھیلی برائیوں کے خلاف ایک تیز دھار تلوار بن چکی تھی۔ اسی عہدِ انقلاب میں علی سردار جعفری کی نظم نگاری نے اپنا ایک منفرد اور طاقت ور مقام بنایا، جس میں سماجی شعور اور انسانیت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔

اس زمانے میں تخلیق ہونے والی نظموں میں انقلاب کی گھن گرج اور نعرہ بازی اس قدر غالب آ چکی تھی کہ بعض اوقات جمالیاتی اقدار پسِ پشت چلی جاتی تھیں۔ تاہم، مخدوم محی الدین، اختر الایمان، اور اسرار الحق مجاز جیسے مایہ ناز شعراء نے اس انقلابی میدان میں بھی فن کی خوبصورتی کو مرجھانے نہیں دیا۔ ان ہی صفِ اول کے شعراء میں سردار جعفری کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے اخوت، مساوات، اور انسانی تکریم کا علم بلند کیا۔

علی سردار جعفری کی نظم نگاری کا پس منظر اور فکری بنیادیں

ترقی پسند تحریک کے سرخیل ہونے کے ناطے، سردار جعفری کے خیالات انقلابی سوچ سے پوری طرح ہم آہنگ تھے۔ وہ کائنات کے تمام باسیوں کو اپنے دلی جذبات سے روشناس کراتے ہوئے، معاشرتی خامیوں کو بے باکی سے اپنی نظموں کا موضوع بناتے تھے۔

ان کی ابتدائی پرورش اور تعلیم و تربیت ایک انتہائی مذہبی اور دین دار گھرانے کے سائے میں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دل میں ابتدا ہی سے انسانیت کی عزت اور وقار کا بے پناہ جذبہ موجزن تھا۔

اپنے ترقی پسند نظریات کے باوجود، وہ کبھی بھی اسلامی تعلیمات اور اقدار سے مکمل طور پر بیگانہ نہیں ہوئے۔ ان کے کلام میں وہ شدت یا تلخی نظر نہیں آتی جو بعض دیگر ترقی پسندوں کا خاصہ تھی، بلکہ وہ دینی اور اخلاقی مسائل کا ہمیشہ گہرا لحاظ رکھتے تھے۔

صنفِ نازک کا احترام اور معاشرتی رویے

علی سردار جعفری کی نظم نگاری کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے ہاں جنسی آزادی یا کھلے عام جنسیت کا پرچار نہیں ملتا۔ انہوں نے عورت کو ایک بالکل مختلف اور باوقار زاویے سے موضوعِ بحث بنایا۔

انہوں نے صنفِ نازک کو محض حسن و جمال کا مجسمہ یا ہوس پرست نگاہوں کا کھلونا بنا کر پیش کرنے سے گریز کیا۔ اس کے برعکس، سردار جعفری نے معاشرے میں عورت کے اصل مقام، اس کی عزت اور اس کی سماجی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ طرزِ عمل بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ مذہب اسلام مختلف مواقع پر خواتین کے حقوق اور ان کی حرمت کا درس دیتا ہے۔ ان کی مشہور تخلیق ‘مریم’ اور اس جیسی دیگر نظموں کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو باخوبی واضح کر دیتا ہے۔

پاک و ہند تعلقات اور امن کا پیغام

سردار جعفری ہمیشہ سے اخوت، امن اور بھائی چارے کے قیام کے حامی رہے اور انسانی اقدار کی پامالی ان کے لیے کسی صورت قابلِ برداشت نہیں تھی۔ جہاں بھی انہیں انسانیت کا خون ہوتا نظر آتا، ان کا قلم فوراً حرکت میں آ جاتا۔

سال 1947 میں برصغیر کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے بعد، دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان جو تلخیاں پیدا ہوئیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ انسانی جانوں کا ضِیاع، خوف و ہراس اور سرحدوں پر کشیدگی دونوں قوموں کا مقدر بن چکی تھی۔

ایسے کٹھن اور سنگین حالات میں جب دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئے، تو سردار جعفری نے اس مثبت اور خوش آئند پیش رفت کا دلی خیر مقدم کیا۔ انہوں نے جنگ و جدل کی بجائے تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے کی خواہش کا اظہار اپنی شاہکار نظم ‘گفتگو’ میں ان خوبصورت الفاظ میں کیا:

"گفتگو بند نہ ہو بات سے بات چلے
صبح تک شام ملاقات چلے
ہم پہ ہنستی ہوئی یہ تاروں بھری رات چلے
ہوں جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہیں سنگ دشنام
طنز چھلکائے تو چھالکایا کرے زہر کے جام
تیکھی نظریں ہوں ترش ابروئے خم دار رہیں
بن پڑے جیسے بھی دل سینوں میں بیدار رہیں
بے بسی حرف کو زنجیر بہ پا کر نہ سکے
کوئی قاتل ہو مگر قتل نوا کر نہ سکے
صبح تک ڈھل کے کوئی حرف وفا آئے گا
عشق آئے گا بصد لغزش پا آئے گا”
(گفتگو)

وہ ہر حال میں سرحد کے دونوں جانب پیار، محبت اور امن کا پرچم لہراتا دیکھنا چاہتے تھے، کیوں کہ ان کے نزدیک انسانی جان کا تحفظ سب سے مقدم تھا۔

‘ایشیا جاگ اٹھا’ اور بین الاقوامی نقطہ نظر

سردار جعفری کا وژن صرف ہندوستان تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے وسیع تر جغرافیائی پسِ منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی مشہور زمانہ نظم ‘ایشیا جاگ اٹھا’ تخلیق کی۔

اس نظم میں انہوں نے براعظم ایشیا کے ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے، اس کی موجودہ حالت، اور مستقبل قریب میں ظاہر ہونے والے تغیرات کی بہترین منظر کشی کی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کی شاعری خالصتاً انسانیت کی بقا اور اس کے اعلیٰ معیار کے تحفظ کی شاعری ہے۔ اگرچہ انہوں نے متنوع موضوعات پر قلم اٹھایا، لیکن ان کی تمام تر تخلیقات میں ہندوستانی مٹی کی مہک اور مقامی رنگ نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

ہیئتی تجربات: آزاد نظم اور علی سردار جعفری کی نظم نگاری کا فنی اسلوب

نظم کی بُنت اور ہیئت کے اعتبار سے بھی سردار جعفری نے کئی کامیاب تجربات کیے۔ انہوں نے روایتی پابندیوں سے ہٹ کر آزاد نظمیں تخلیق کیں، اور انہیں صرف اپنے ذاتی اور داخلی کرب کے اظہار تک محدود نہیں رکھا۔

ان آزاد نظموں کو انہوں نے عوامی مسائل، سیاسی کشمکش اور صحافتی موضوعات کی ترجمانی کا ایک طاقت ور ذریعہ بنایا۔ ان کی اس فنی جدوجہد پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف نقاد محمد حسن اپنی تصنیف میں رقم طراز ہیں:

"سردار جعفری نے آزاد نظم کی سرحدوں کو وسیع کیا ہے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ہر سیاسی اور صحافتی موضوع پر اظہار خیال کیا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر موضوع کو اپنانے کی خواہش جس قدر مبارک ہے اسی طرح ہر موضوع کو شعریت کے ساتھ برتنا دشوار ہے اور اس دشواری کو سردار جعفری بھی آسان نہ کر سکے۔”
(حوالہ: جدید اردو ادب ص 89)

بہترین پیکر تراشی اور لافانی نظم ‘میرا سفر’

ایک عظیم ترقی پسند شاعر ہونے کے ناطے، انہوں نے ادب کی جو ہمہ گیر اور وسیع خدمات انجام دیں، وہ اردو ادب کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ علی سردار جعفری کی نظم نگاری کی ایک بہت بڑی خوبی ان کی کمال درجے کی پیکر تراشی ہے۔

انہوں نے اپنی آخری سانس تک ترقی پسند سوچ کا دامن تھامے رکھا۔ اپنے مضبوط تخیل اور اعلیٰ فنی مہارت کے ذریعے، وہ اپنے نظریات کو عوام اور خواص تک پہنچاتے رہے۔ ان کی شاعری کا کینوس اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ یہ انہیں ادبی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دے گا۔

وہ اپنی موت کے بعد کے سفر اور اپنے نظریاتی تسلسل کی پیشین گوئی اپنی لازوال نظم ‘میرا سفر’ میں کچھ اس طرح کر گئے ہیں:

"لیکن میں یہاں پھر آؤں گا
بچوں کے دہن سے بولوں گا
چڑیوں کی زباں سے گاؤں گا
جب بیج ہنسیں گے دھرتی میں
اور کونپلیں اپنی انگلی سے
مٹی کی تہوں کو چھیڑیں گی
میں پتی پتی کلی کلی
اپنی آنکھیں پھر کھولوں گا
سر سبز ہتھیلی پر لے کر
شبنم کے قطرے تولوں گا
میں رنگ حنا آہنگ غزل
انداز سخن بن جاؤں گا”
(میرا سفر)

ترقی پسند تحریک کے دیگر ہم عصر اور ان کا کردار

جہاں سردار جعفری نے نظم کے میدان میں جھنڈے گاڑے، وہیں ان کے ہم عصر مخدوم محی الدین کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مخدوم کی نظموں میں عشق کا غلبہ، نظریاتی محبوبہ کا تصور، اور بغاوت کی للکار بیک وقت دیکھنے کو ملتی ہے۔

مخدوم پر فیض احمد فیض کی شاعری کا گہرا اثر تھا۔ ان کا مضبوط نظریہ تھا کہ یہ غریب مزدوروں اور مفلسوں کی دن رات کی محنت ہی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کو مضبوط بناتی ہے۔ ان کے نزدیک، سرمایہ دار مزدور کو جو کچھ ادا کرتا ہے، وہ اس کی اصل اجرت نہیں بلکہ محض ایک بھیک کے مترادف ہے۔

ان نامور شعراء کے علاوہ، جاں نثار اختر، ساحر لدھیانوی، اسرار الحق مجاز، احمد ندیم قاسمی، اور ظہیر کاشمیری نے بھی اپنی بے مثال نظموں سے ترقی پسند ادب کو ایک نیا وقار اور دائمی اعتبار بخشا۔

نظر ثانی و تصحیح: فرح شوکت بی۔ایس اُردو،میقات پنجم(گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سرگودھا روڈ فیصل آباد)

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں