مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اختر الایمان کی نظم نگاری کا تنقیدی جائزہ

اختر الایمان کی نظم نگاری جدید اردو شاعری کے 7 منفرد زاویے اور فکری گہرائی تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اختر الایمان کی نظم نگاری کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ مجید امجد کے صفِ اول کے ہم عصروں میں ایک نہایت ممتاز اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کا کینوس روایتی سانچوں سے بالکل ہٹ کر ہے۔

انھوں نے اپنی تخلیقات میں روزمرہ کی عام بول چال اور ایسی لفظیات کو برتا جو اس سے قبل شعری دنیا کے لیے کسی حد تک نامانوس تھیں۔ ان بظاہر غیر روایتی الفاظ کے استعمال کے باوجود، ان کا طرزِ بیاں اور زبان اپنی ایک ایسی انفرادیت قائم کرنے میں کامیاب رہی جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

اختر الایمان کی نظم نگاری اور ان کا شعری خلوص

ایک انتہائی دیانت دار اور مخلص قلم کار کے طور پر، اختر الایمان نے اپنے دل پر گزرنے والی ہر کیفیت کو من و عن صفحات پر بکھیر دیا۔

ان کا یہ شعری خلوص کسی بھی ادبی تحریک کے منشور یا کسی خاص رجحان کے ضابطوں کا پابند نہیں رہا۔ وہ اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتے تھے، بلکہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ وہ اپنا ایک الگ اور جداگانہ راستہ متعین کریں۔

اپنے اسی عزم کے تحت، انھوں نے اس دور کی تمام رائج نظموں سے ہٹ کر ایک نئی شاہراہ کی بنیاد رکھی۔ ان کا سب سے نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو نظم کو غزل کے روایتی سائے اور فضا سے مکمل طور پر آزاد کرایا۔

یہ بھی پڑھیں: اختر الایمان کی نظم نگاری

غنائیت سے دوری اور خالص نظم کی فضا

اختر الایمان نے اردو ادب کو خالصتاً نظمیہ شاعری کی ایک بالکل نئی جہت سے متعارف کرایا۔ ان کی تخلیقات میں فکری بلندی کے ساتھ ساتھ شگفتگی، ذہانت اور نرم لہجے کا ایک ایسا انوکھا ملاپ ملتا ہے جس میں زندگی کی تلخیاں اور ترشیاں حیران کن طور پر گھل مل گئی ہیں۔

انسانی اعمال اور مقاصد کے حوالے سے ان کا گہرا شعور ان کی نظموں میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔ محبت کے جذبات پر مبنی ان کی نظمیں روایتی اور فرسودہ عشق کے تصورات کی کھلی نفی کرتی ہیں۔
ان کا فن و زندگی کا نظریہ اپنا، پختہ اور منفرد تھا؛ اسی لیے وہ دوسرے عقائد کو سرِ تسلیم خم نہ کرنے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ترقی پسند تحریک کے جھنڈے تلے آئے، نہ حلقۂ اربابِ ذوق میں شریک ہوئے۔

‘گرداب’ کی انفرادیت اور دیباچوں کی روایت

ان کی اس انفرادیت کا ایک بڑا ثبوت ان کا پہلا شعری مجموعہ ‘گرداب’ ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ انھوں نے بیک وقت دو شخصیات، یعنی میراجی اور مختار صدیقی سے لکھوایا تھا۔

ایک ہی کتاب کے لیے دو مختلف افراد سے پیش لفظ لکھوانا اپنے آپ میں ایک انوکھی بات تھی۔ تاہم، اس کے بعد انھوں نے اپنی کسی بھی کتاب کا دیباچہ میراجی یا کسی اور نقاد سے نہیں لکھوایا۔

انھوں نے اپنے آئندہ مجموعوں کے دیباچے خود قلم بند کیے اور قارئین پر یہ واضح کر دیا کہ فن اور زندگی سے متعلق ان کی ترجیحات بالکل جداگانہ ہیں۔

دیباچوں کی روشنی میں فن اور زندگی کا تصور

اپنے مختلف شعری مجموعوں کے دیباچوں میں اختر الایمان نے اپنے نظریات کو نہایت بے باکی اور صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری کے محرکات اور فلسفے کو سمجھنے کے لیے ان کے اپنے لکھے گئے دیباچوں کے یہ مستند حوالے ملاحظہ فرمائیں:

” شاعری میرے نزدیک ذات کے اظہار کا نام ہے۔ ” (دیباچہ ۔ یادیں ، اختر الایمان ، ص ۱۱)

میری زندگی میں اخلاقی اور معاشی قدروں کا عمل درد عمل میری شاعری ہے۔ "(دیباچہ ۔ آب جو، اختر الایمان، ص ۳)

یہ شاعری مشین میں نہیں ڈھلی۔ یہ ایک ایسے انسانی ذہن کی تخلیق ہے جو دن رات بدلتی ہوئی معاشی، سیاسی اور اخلاقی قدروں سے دو چار ہوا ہے۔”(دیباچہ ۔ آب جو، اختر الایمان، ص ۳)

میری شاعری کیا ہے ؟ اگر ایک جملے میں کہنا چاہوں تو میں اسے انسان کی روح کا کرب کہوں گا۔(دیباچہ ۔ نیا آہنگ ، اختر الایمان ، ص ۴)

شاعری بحیثیت ایک مقدس فریضہ

اختر الایمان کے نزدیک شاعری محض ایک مشغلہ نہیں، بلکہ اگر وہ اسے ایک لفظ میں سمیٹنا چاہیں تو وہ ‘مذہب’ کا لفظ استعمال کریں گے۔ ان کا ماننا تھا کہ انسان جب بھی کوئی کام پوری دیانتداری سے کرنا چاہے، تو اس میں وہ تقدس اور لگن ہونی چاہیے جو عام طور پر مذہب کے ساتھ منسوب ہوتی ہے۔

اس خلوص کے بغیر کسی بھی کام کے معیاری ہونے پر ہمیشہ سوالیہ نشان موجود رہتا ہے۔ ان کے لیے شاعری صرف اپنی ذات کا اظہار نہیں تھی، بلکہ اپنی ذات کے ساتھ مکمل دیانت کا نام تھی۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں کوئی بھی جذبہ، خواہ وہ ان کی ذات کے اندر سے ابھرا ہو یا بیرونی دنیا کا عکس ہو، ان کی نظم میں سو فیصد سچائی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو ان کے کلام میں اندرون اور بیرون کی یہ درمیانی لکیر بھی غائب ہو جاتی ہے۔

انسانی نفسیات اور رویوں کی تاریخ کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو اختر الایمان کے ہاں انسان کی داخلی سچائیوں کا یہ بیان ایک عالمی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

اختر الایمان کی نظم نگاری میں افسانوی طرز اور راست بیانیہ

اختر الایمان کی نظم نگاری کی ایک اور بے حد اہم خوبی اس کا افسانوی انداز ہے۔ وہ اپنی نظم کا آغاز کسی کہانی کی مانند کرتے ہیں اور پھر مرکزی خیال کو بتدریج آگے بڑھاتے ہوئے نقطہ عروج (Climax) تک لے جاتے ہیں۔

اس پورے سفر میں کہانی کے مختلف موڑ، ابھرتے ہوئے کردار اور پیش کیے گئے مناظر نظم کی روانی میں ایک فطری حصے کی طرح شامل ہوتے ہیں۔

غنائیت کے خول سے نظم کو نکال کر اسے ایک افسانے کی سی پراسرار اور دلچسپ فضا فراہم کرنا ان کا ایک ایسا کارنامہ ہے جو انتہائی سچے اور فطری انداز میں انجام پایا۔

اس کامیاب تجربے کے بعد، آنے والی نسل کے کئی نظم گو شعراء نے اس اسلوب کی بھرپور تقلید کی۔ اس بیانیے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی تھا کہ قاری تک شاعر کی بات پہنچانے (ترسیل) میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی تھی۔ تاہم، یہ سیدھا، سچا اور راست بیانیہ بعض اوقات ناقدین کے لیے حیرانی کا باعث بن جاتا تھا اور ترسیل کی یہ آسانی ان کے لیے رحمت کی بجائے زحمت سمجھی جانے لگی۔

سماجی مایوسی، بغاوت اور کائناتی شکوہ

اختر الایمان کا شعری سفر دراصل قدامت سے جدت کی جانب، پابندیوں سے کھلی آزادی کی طرف اور محدودیت سے بے کرانی کی جانب ایک مسلسل پرواز ہے۔

وہ اپنی تخلیقات میں ان نئے موضوعات کو چھیڑتے ہیں جنہیں ان سے پہلے شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتا تھا یا جن پر قلم نہیں اٹھایا گیا تھا۔ ان کے پسندیدہ موضوعات میں انسان کی الجھی ہوئی ذہنی اور جذباتی کیفیات، داخلی تنہائی، خارجی دنیا کے ہنگامے اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے گہرے مسائل شامل ہیں۔

روایتی رومانویت کی نفی: وہ فرسودہ عشقیہ داستانوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دور کے سماجی زوال پر نوحہ کناں نظر آتے ہیں۔ انھیں جدید انسان کے متشدد رویوں، خود غرضی اور جارحیت سے شدید نفرت تھی۔

ان کا متکلم ایک ایسا خوابیدہ انسان ہے جس نے اس دنیا کو امن، سکون، محبت اور عافیت کا گہوارہ دیکھنا چاہا تھا۔ وہ زمین پر پھول کھلنے، نئی بہاروں کے آنے اور پہاڑوں کی چوٹیوں سے آبشاروں کے گرنے کے حسین خواب دیکھتا تھا۔ وہ کسی ایسی آغوش کا متلاشی تھا جہاں اسے قلبی راحت مل سکے۔

مگر جب یہ شیش محل ٹوٹا اور دنیا کی تلخ حقیقتیں سامنے آئیں، تو اس نے کائنات کے خالق سے کچھ یوں شکوہ کیا:

مگر مجھے کیا دیا یہ تو نے
شباب اک زہر میں بجھا کر
خراب آنکھیں لہو رُلا کر
خدائے عالم، بلند و برتر
نہ ایک مونس بھی ایسا بخشا
کہ جس کی آغوش میں تڑپ کر
سکون کے ساتھ مر سکوں میں

رمزیت اور اشاریت کا کمال

اپنی سچائی اور خلوص پر قائم رہتے ہوئے وہ ہر اس قید سے آزاد رہے جو ان کے اظہار کے راستے کی دیوار بن سکتی تھی۔ انھیں بخوبی علم تھا کہ اپنے الفاظ کو کس طرح پرواز دینی ہے کہ دل سے نکلی ہوئی صدا سیدھی قاری کے دل میں اتر جائے۔

ان کی نظموں میں پوشیدہ رمزیت اور اشاریت معانی کی ایک نئی دنیا آباد کرتی ہے۔ ہر قاری ان اشاروں میں اپنے لیے نئے جلوے دریافت کرتا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ نہ خود سے کلام کر رہے ہیں نہ دوسروں سے، بلکہ انھوں نے دنیا کو جس روپ میں برتا، اسے اسی طرح شفاف آئینے میں دکھا دیا۔

مشہور نقاد جمیل جالبی نے ان کی اس سماجی بصیرت کے بارے میں بہت خوب صورت بات کہی ہے کہ ان کے اندر سماجی شعور کا احساس اس حد تک شدید اور رچا بسا ہے کہ پڑھنے والا تو ان احساسات کو فوراً پا لیتا ہے، لیکن بعض اوقات خود شاعر ان سے بے نیاز نظر آتا ہے۔

شاہکار نظم ‘ایک لڑکا’ اور انسانی ذات کا آفاقی کرب

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اختر الایمان نے اپنی تخلیقات کا بنیادی مواد اپنی ہی ذات اور زندگی سے اخذ کیا ہے۔ مگر اسے محض ان کی ‘آپ بیتی’ قرار دینا ناانصافی ہوگی۔

ان کی قوتِ اظہار نے ان ذاتی مشاہدات کو ایک وسیع تر تہذیبی اور ثقافتی شعور میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کی مشہورِ زمانہ نظم ’ایک لڑکا‘ اس کی سب سے بڑی اور زندہ مثال ہے۔

اس نظم کا مرکزی کردار اپنے لڑکپن کی خوشیوں، شرارتوں، اداسیوں اور معصوم خوابوں کا تذکرہ کرتا ہے اور پھر ہر بند کے اختتام پر ضمیر کی آواز بن کر سوال کرتا ہے: ’اخترالایمان تم ہی‘ ہو؟

یہ بظاہر شاعر کی اپنی کہانی لگتی ہے، لیکن اگر یہ صرف ایک فرد تک محدود ہوتی، تو اس کی آفاقی کشش کب کی دم توڑ چکی ہوتی۔

اس نظم کو پڑھنے والا ہر شخص اس ‘لڑکے’ میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔ ہر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ بچپن میں وہ کتنا سچا اور کھرا تھا، مگر عمر کے بڑھنے کے ساتھ اس نے دنیاوی فوائد کے لیے اپنے ضمیر سے سمجھوتہ کر لیا اور اپنے خلافِ فطرت کاموں کے لیے نت نئے بہانے تراشنے کا ہنر سیکھ لیا۔

نظم کے ابتدائی حصے میں بچپن کی جو حسین منظر کشی کی گئی ہے، وہ ہر قاری کے ماضی کی یاد دلاتی ہے:

دیارِ شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر
کبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر
کبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میں
کبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میں
سحردم جھپٹے کے وقت، راتوں کے اندھیرے میں
کبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میں
تعاقب میں کبھی گم تتلیوں کی سونی راہوں میں

یہ وہ معصوم لڑکا ہے جو بڑا ہو کر حالات کے جبر کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنے تمام عظیم مقاصد (آدرش) کو پسِ پشت ڈالنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مگر انسان کے اندر کا یہ آدرش کبھی مکمل طور پر نہیں مرتا۔ وہ بار بار سر اٹھاتا ہے اور انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔

یہ نظم اس اندرونی کشمکش کی وہ تصویر ہے جسے ہر ذی شعور محسوس کرتا ہے۔ شاعر نے یہ سب براہِ راست نہیں کہا، بلکہ تصویروں کی ایک ایسی گیلری سجا دی ہے جو خود بخود معانی تک رسائی دے دیتی ہے۔

اس حوالے سے شمیم حنفی نے نہایت جامع تبصرہ کیا ہے کہ:
’’اخترالایمان کی اصل الجھن یہ نہیں کہ شہر سے پھر گاؤں کی طرف کس طرح واپس جایا جائے بلکہ یہ کہ انسانی فطرت کی اندھا دھند بربادی اور تخریب کے چنگل سے اپنے آپ کو کیسے نکالے۔‘‘

داخلیت اور خارجیت کا متوازن سنگم

اختر الایمان کی نظم نگاری میں موضوع کے لحاظ سے یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ اس میں بیرونی دنیا کے حقائق اور اندرونی ذات کے کرب دونوں موجود ہیں۔ وہ بیرونی مشاہدات کو اس وقت تک نظم کا لباس نہیں پہناتے جب تک وہ ان کے دل کی آواز کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو جائیں۔

خود شاعر نے اس تخلیقی عمل کے متعلق یہ اصول وضع کیا تھا کہ وہ خارجیت اور داخلیت کو ملا کر پیش کرتے ہیں۔ جب تک کوئی خارجی واقعہ ان کے لیے محض ایک خبر رہتا ہے، وہ شاعری کا روپ نہیں دھارتا۔ مگر جب وہ خبر ان کا ذاتی اور داخلی تجربہ بن جاتی ہے، تو وہ ایک بہترین نظم کی شکل میں ابھرتی ہے۔

لفظوں سے پیکر تراشی (Imagery)

ان کی شاعری میں احساس دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ بے جان خارجی مظاہر کو اپنے قلم اور جذبوں کی آمیزش سے رنگین اور زندہ کر دیتے ہیں۔ یہ تصویریں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ ان پر کبھی فرسودگی کا غبار نہیں پڑتا۔

وہ صرف خارجی دنیا کے مناظر ہی نہیں دکھاتے، بلکہ اپنے ذہن میں چھپے ہوئے پوشیدہ احساسات کو بھی الفاظ کی مدد سے آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ ان کی شاہکار نظم ‘مسجد’ میں پیکر تراشی کی یہ شاندار مثال دیکھیے:

دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملول
جس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچے
ماضی و حال گنہگار نمازی کی طرح
اپنے اجمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے
ایک ویران سی مسجد کا شکستہ کلس
پاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے
اور ٹوٹی ہوئی دیوار پر یہ چنڈول کبھی
گیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا کرتا ہے

منفرد لب و لہجہ اور زبان کا دانش مندانہ استعمال

الفاظ کے معانی اکثر محدود ہوتے ہیں، لیکن ایک عظیم فن کار انھیں وسعت دینا جانتا ہے۔ اختر الایمان کے پاس الفاظ ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک نئے اور چونکا دینے والے لہجے کی تلاش میں ایسی لفظیات کا انتخاب کرتے ہیں جو عام طور پر شاعری میں خشک یا غیر موزوں سمجھی جاتی ہیں۔

اس کھردرے اور خشک لہجے کے باعث ان کے کلام میں طنز کی کاٹ اور تلخی پیدا ہوتی ہے، مگر یہ قاری کے ذوق پر گراں نہیں گزرتی بلکہ تجسس میں اضافہ کرتی ہے۔ نظم ‘احتساب’ کے یہ مصرعے اس دعوے کی دلیل ہیں:

تو کیا تم نے فیصلہ کر لیا، میں گنہ گار ہوں
چلو میں نے گردن جھکا دی، اٹھو میری مشکیں کسو
چوبِ خشک اور پر خار سے باندھ کر تم مجھے ٹانگ دو

نقاد جمیل جالبی ان کی فنی مہارت کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں:

“اس کی نظموں سے یہ احساس ہوتا ہے کہ نظم کا ارتقا خود بخود نہیں ہوتا بلکہ وہ پہلے سے سوچ سمجھ کر اس کے اٹھان پر غور کرتا ہے اور زبان کے مطالعے، آہنگ، قافیوں، ترتیب اور ساخت اور موقع و محل کے ادلتے بدلتے نقش و نگار تجنیسِ صوتی اور غیر صوتی کے (آہنگ اور قافیہ پر) اثر کو بھی پہلے سے سوچ لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے طرزِ بیان میں ایجاز پیدا ہو گیا ہے جسے کچھ لوگ غلطی سے ابہام کا نام دینے لگتے ہیں۔ جب خیالات واضح اور گہرے ہوں، طرزِ بیان میں اختصار کی کوشش کی جائے تو شاعری میں ہمیشہ ابہام نظم کے حسن میں اضافہ ہی کرے گا۔”

آزاد نظم اور وقت کا بے رحم فلسفہ

اختر الایمان نے آزاد اور معرا نظم کی ہئیت کو کامیابی سے برتا اور نظم کی وحدت کو بکھرنے نہیں دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ شاعری میں روح اور جسم دونوں کا توازن لازمی ہے۔ انھوں نے شعوری طور پر ایسی زبان استعمال کی جو عام انسان کے بولنے کے انداز سے قریب تر ہو۔ نظم ‘یادیں’ کا یہ حصہ دیکھیے:

شہرِ تمنا کے مرکز میں لگا ہوا ہے میلا سا
کھیل کھلونوں کا ہر سو ہے ایک رنگیں گلزار کھلا
وہ اک بالک جس کو گھر سے اک درہم بھی نہیں ملا
میلے کی سج دھج میں کھو کر باپ کی انگلی چھوڑ گیا
ہوش آیا تو خود کو تنہا پاکے بہت حیران ہوا
بھیڑ میں راہ ملی نہیں گھر کی اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
ان کی شاعری ہمیں سرابِ خواب نہیں دکھاتی، بلکہ دل نواز تسلی کا جام پلاتی ہے کہ عالمِ فانی میں تاریکی کی گھٹاؤں کے درمیان بھی محبت کی شمعیں جھلملاتی ہیں اور بھلائی کا نغمہ گونجتا رہتا ہے۔ وہ زخمِ دل پر مرہمِ کلمہ رکھتے ہیں، طمانیت کی لوری سناتے ہیں اور روح کو سکون کی آغوش میں لٹاتے ہیں۔

ان کے ہاں ’وقت‘ کا تصور ایک غالب عنصر کی طرح موجود ہے۔ ‘بنت لمحات’ کے دیباچے میں انھوں نے اعتراف کیا کہ وقت کا تصور ہمیشہ ان کے ہمراہ رہتا ہے۔ کبھی وہ اسے گزرتے لمحوں کی علامت بناتے ہیں اور کبھی وہ نظم کا ایک زندہ کردار بن کر سامنے آتا ہے۔

وقت اور تاریخ کی اس رفتار کو وہ ایک ایسا اٹل فرمان مانتے تھے جس کے سامنے کوئی انسانی مزاحمت کھڑی نہیں رہ سکتی۔ وقت کی اسی بے رحم سچائی نے انھیں مجبور کیا کہ وہ روایتی جمود کو توڑ کر اردو ادب کی ایک ایسی جدید سمت کا تعین کریں جو آنے والے زمانوں کی رہنمائی کر سکے۔


مکمل نظم: ایک لڑکا (اختر الایمان)

دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر
کبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر

کبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میں
کبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میں

سحر دم جھٹپٹے کے وقت راتوں کے اندھیرے میں
کبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میں

تعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے سونی راہوں میں
کبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میں

برہنہ پاؤں جلتی ریت یخ بستہ ہواؤں میں
گریزاں بستیوں سے مدرسوں سے خانقاہوں میں

کبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہ
کبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہ

ہوا میں تیرتا خوابوں میں بادل کی طرح اڑتا
پرندوں کی طرح شاخوں میں چھپ کر جھولتا مڑتا

مجھے اک لڑکا آوارہ منش آزاد سیلانی
مجھے اک لڑکا جیسے تند چشموں کا رواں پانی

نظر آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاں
مرا ہم زاد ہے ہر گام پر ہر موڑ پر جولاں

اسے ہم راہ پاتا ہوں یہ سائے کی طرح میرا
تعاقب کر رہا ہے جیسے میں مفرور ملزم ہوں

یہ مجھ سے پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میں

مجھے اقرار ہے اس نے زمیں کو ایسے پھیلایا
کہ جیسے بستر کم خواب ہو دیبا و مخمل ہو

مجھے اقرار ہے یہ خیمۂ افلاک کا سایہ
اسی کی بخششیں ہیں اس نے سورج چاند تاروں کو

فضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کی
چٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سے

مری تخلیق کی مجھ کو جہاں کی پاسبانی دی
سمندر موتیوں مونگوں سے کانیں لعل و گوہر سے

ہوائیں مست کن خوشبوؤں سے معمور کر دی ہیں
وہ حاکم قادر مطلق ہے یکتا اور دانا ہے

اندھیرے کو اجالے سے جدا کرتا ہے خود کو میں
اگر پہچانتا ہوں اس کی رحمت اور سخاوت ہے

اسی نے خسروی دی ہے لئیموں کو مجھے نکبت
اسی نے یاوہ گویوں کو مرا خازن بنایا ہے

تونگر ہرزہ کاروں کو کیا دریوزہ گر مجھ کو
مگر جب جب کسی کے سامنے دامن پسارا ہے

یہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میں

جز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کو
خروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہے

عناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تک
نوائے صبح ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہے

ظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطر
کبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہے

وہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہو
اسے اک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہے

کبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوں
کہ تو اک آبلہ ہے جس کو آخر پھوٹ جانا ہے

غرض گرداں ہوں باد صبح گاہی کی طرح لیکن
سحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جب

یہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
یہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوں

وہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آسا
جسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالم

اسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کا
اسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوں

میں اس لڑکے سے کہتا ہوں وہ شعلہ مر چکا جس نے
کبھی چاہا تھا اک خاشاک عالم پھونک ڈالے گا

یہ لڑکا مسکراتا ہے یہ آہستہ سے کہتا ہے
یہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں۔

نظر ثانی و تصحیح: فرح شوکت بی۔ایس اُردو،میقات پنجم(گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سرگودھا روڈ فیصل آباد)

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں