مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

احمد جاوید کی شاعری کے 10 اہم پہلو ایک مطالعہ

📖 1 min  |  👁️ 1

احمد جاوید کی شاعری: 10 اہم پہلو، فکری جہتیں، سوانح اور فلسفیانہ افکار تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

"اردو نظم کی تاریخی اور ادبی وراثت پر جب ہم گہری نگاہ ڈالتے ہیں، تو اس کا کینوس نہایت وسیع، متنوع اور رنگارنگ موضوعات سے مزین دکھائی دیتا ہے۔ قدرتی مناظر کی عکاسی سے لے کر بدلتے موسموں، ثقافتی تہواروں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور تاریخی عمارات کے تذکروں تک؛ ہر گوشہ نظم کا حصہ رہا ہے۔ اسی طرح تاریخی حادثات، رومانی داستانوں کی چاشنی، اخلاقیات، مذہبی عقائد، اور سماجی، سیاسی و معاشی الجھنوں کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ رموز کو بھی اردو نظم نے اپنے دامن میں سمویا ہے۔

حیات و کائنات کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جسے ہماری نظم نے اجاگر نہ کیا ہو۔ ” (ص: 31، آندھی کارِ جز، احمد جاوید، مطبع گلشن اقبال، کراچی، 2012۔)

اس وسیع تناظر میں جب ہم احمد جاوید کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو نقاد روشن اختر کی بات ان کے شعری افکار پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ جدید نظم کے پیچیدہ اور تہہ دار موضوعات کو سلیس، رواں اور فلسفیانہ انداز میں قلم بند کرنے کا ہنر احمد جاوید نے نہایت خوبصورتی سے برتا ہے۔

احمد جاوید کی شاعری میں ماضی، حال اور مستقبل کا امتزاج

احمد جاوید کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کو گزشتہ اور آنے والے زمانوں کے ساتھ جوڑنے کا ایک مستحکم پل ثابت ہوتی ہے۔ ان کی تخلیقات میں تاریخ کے پیچیدہ استعارے اسی کثرت اور حسن کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں، جس طرح انہوں نے جدید دور کی زندگی اور اس کی تازہ ترین لفظیات کو اپنے کلام کا حصہ بنایا ہے۔

جدید نظم کا ایک بنیادی موضوع "اظہار کی پیچیدگی” یا جذبات کا الجھاؤ ہے۔ آج کا انسان جن پیچیدہ جذبوں اور نفسیاتی کیفیات سے گزرتا ہے، وہ انہیں محسوس کرنے اور سمجھنے کے باوجود صراحت کے ساتھ بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

اسی لسانی اور جذباتی مجبوری کے باعث تخلیق کار نئی شعری ہیئتوں کو تراشنے پر مجبور ہوتا ہے۔

احمد جاوید اس ادبی اور نفسیاتی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ نئی معاشرت کی الجھنوں کو شاعری کے سانچے میں ڈھالنا کتنا کٹھن کام ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ روایتی اور تاریخی الفاظ کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے قاری کے کلاسک ذہن کی اس طرح آبیاری کرتے ہیں کہ وہ عصرِ حاضر کی پیچیدہ معاشرت کے اسرار و رموز کو پا سکے۔

مجموعہ کلام "آندھی کارِ جز” اور جدید معاشرت کی عکاسی

احمد جاوید کی شاعری میں نئے دور کا رزمیہ نہایت پرکشش اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ ان کے شعری مجموعے "آندھی کارِ جز” میں ایسی متعدد نظمیں شامل ہیں جو آج کی پیچیدہ اور تیز رفتار معاشرت کی حقیقی تصویر کشی کرتی ہیں۔

انہوں نے ماضی اور حال کے متنوع موضوعات کو نظم میں ڈھال کر جدید شاعری کی بنیادوں کو استحکام بخشا ہے۔ ان کی چند نمایاں نظمیں درج ذیل ہیں:

  • ایک خیال
  • ان پڑھ گونگے کارِ جز
  • آنکھوں کی تجدید
  • آندھی کارِ جز
  • ایک تاثر
  • حسن نجات دہندہ ہے
  • بے زاری کی آخری ساعت
  • ایک کھیل
  • ایک سورما کے نام

مذہبی بیانیے کی جدید تشکیل اور استعاراتی نظام

احمد جاوید کی شاعری کی ایک منفرد جہت یہ ہے کہ وہ مذہبی بیانیے کو بالکل نئے اور جدید طرز میں پیش کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔

ان کی بیشتر نظموں میں ایسی علامتیں استعمال کی گئی ہیں جن کے ڈانڈے براہِ راست مذہبِ اسلام کی آفاقی تعلیمات سے جا ملتے ہیں۔

اگرچہ انہوں نے اپنے مخصوص فنی میلان کو برقرار رکھتے ہوئے بظاہر کسی خاص واقعے کا براہِ راست تذکرہ نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود وہ ان مذہبی حوالوں کو مکمل طور پر اوجھل رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس رجحان کی عمدہ مثال ان کی نظم "بے زاری کی آخری ساعت” ہے، جس میں علامتی پیرائے میں نہایت گہری بات کہی گئی ہے۔ یہ مختصر نظم ملاحظہ کریں:

” جب پہاڑ ڈھے جائیں گے
اپنے ہی بوجھ سے
سمندر ڈوب جائیں گے
اپنی ہی گہرائی میں
سورج جل جائیں گے

بیزاری کا نوآبادیاتی شعور اور نئی نظم کا مزاج

مذکورہ بالا نظم میں احمد جاوید نے "ایک لفظ ایک آدمی” کا مخصوص اسلوب برت کر انسانی مزاج کو انتہائی جدید زاویے سے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

اس کے علاوہ وہ جس "بے زاری” (Disillusionment) کا تذکرہ کر رہے ہیں، درحقیقت یہی بے زاری اور اکتاہٹ نئی نظم کی بنیادی پہچان (Identity) ہے۔

یہ فطرت اور منظر کے اثبات کا وہ انوکھا اظہار ہے جو ثابت کرتا ہے کہ جدید انسان نے زندگی کے تجربات سے کیا کچھ کشید کیا ہے۔

آج کے انسان کے لیے کائنات میں شاید ہی کوئی ایسا "لمحۂ حیرت” باقی بچا ہو جو اسے کچھ نیا دکھا سکے۔ اس بے حسی کے عالم میں اگر وہ قیامت بھی برپا ہو جائے جس کا تذکرہ انسان صدیوں سے سنتا چلا آ رہا ہے، تب بھی جدید طرزِ زندگی گزارنے والے انسان کے لیے یہ کوئی حیران کن واقعہ نہیں ہوگا۔

اردو شاعری کی تاریخ میں اس نوع کا اچھوتا اظہار اسی صف کے شعراء نے کیا ہے جن میں احمد جاوید کا نام سرفہرست ہے۔ بعد میں آنے والوں نے اس روش کو آگے بڑھایا، تاہم ان تصورات کو زبان اور اسلوب عطا کرنے کا بنیادی کام احمد جاوید نے پوری دلجمعی سے انجام دیا ہے۔

ان کی ایک اور مشہور نظم ”آنکھوں کی تجدید“ بھی اسی قبیل سے ہے۔ اس میں حیرتوں اور تجلیوں کے رازوں کو افشا کرنے کی مساعی نظر آتی ہیں۔ ایک ایسی آنکھ جو دنیا کے تمام پردوں کو چاک کر چکی ہو، وہ تجدیدِ دید کے نئے مرحلے پر کائنات کے مناظر کی صناعی کا کس طرح مشاہدہ کرتی ہے، یہ موضوع ان کی نظم کا خاصہ ہے۔ یہ نظمیں دراصل احمد جاوید کے انفرادی اسلوب کی واضح نشان دہی کرتی ہیں۔

احمد جاوید کا تفصیلی تعارف اور سوانحی خاکہ

اصلی نام: احمد جاوید (حقیقی نام جاوید امیر عثمانی)
تاریخِ پیدائش: 01 جون 1948
مشہور شعر:
عجب سفر تھا عجب تر مسافرت میری
زمیں شروع ہوئی اور میں تمام ہوا

مشہور نظم: ایک خیال (از احمد جاوید)

تاریخ کے بنے ہوئے تھیلوں میں ہمیشہ
کوئی بے حد اہم چیز رہ جاتی ہے
بے شک ہوائیں عظیم ترین صناع ہیں
ان خرابوں کی جو نقش ہیں بے رنگی کے ساتھ
ایک پراسرار غیر معروف اندھیرے کی دبیز دیواروں پر
لیکن آنکھیں
ایسے پیچیدہ منظر کو
صحت اور ثقاہت کے ساتھ
نقل نہیں کر سکتیں
خواہ بینائی کی کسی بھی قبیل سے
علاقہ رکھتی ہوں
اب بالکل نیا تناظر ضروری ہے
اس نادیدنی سے عہدہ برا ہونے کے لیے
ورنہ دیکھنا ایک احمقانہ تصور ہے
مشہور غزل: آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا
آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا
ہر گام مجھے خانۂ سیلاب میں رہنا
وہ ابروئے خم دار نظر آئے تو سمجھے
آنکھوں کی طرح سایۂ محراب میں رہنا
غفلت ہی میں کٹتے ہیں شب و روز ہمارے
ہر آن کسی دھیان کسی خواب میں رہنا
دن بھر کسی دیوار کے سائے میں تگ و تاز
شب جستجوئے چادر مہتاب میں رہنا
ویرانۂ دنیا میں گزرتے ہیں مرے دن
راتوں کو رواقِ دلِ بیتاب میں رہنا
مٹی تو ہر اک حال میں مٹی ہی رہے گی
کیا ٹاٹ میں کیا قاقم و سنجاب میں رہنا
گھر اور بیاباں میں کوئی فرق نہیں ہے
لازم ہے مگر عشق کے آداب میں رہنا
اک پل کو بھی آنکھیں نہ لگیں خانۂ دل میں
ہر لمحہ نگہبانیِ اسباب میں رہنا

تصوف کا نظریہ، مسلکی مباحث اور فکری پس منظر

جاوید امیر عثمانی المعروف احمد جاوید صاحب، شعری اور ادبی شناخت کے ساتھ ساتھ بنیادی طور پر ایک نظری صوفی (Theoretical Sufi) کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں۔

ان کا ایقان ہے کہ تصوف کی اصل خالصتاً ثابت ہے، لیکن دورِ حاضر میں اس کے مصادیق کو وہ فاسد اور غیر حقیقی خیال کرتے ہیں۔
وہ مروجہ "پیری مریدی” کی روایات کو حقیقی تصوف کے لیے ایک بڑی آفت قرار دیتے ہیں۔ تفضیلی صوفیا کے نظریات سے ہٹ کر، احمد جاوید صاحب ناصبیت کی جانب ایک خاص رجحان رکھتے ہیں۔

روحانی اعتبار سے وہ خود کو نقشبندی سلسلے سے وابستہ بتاتے ہیں۔

تاریخی اور سماجی مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نقشبندی سلسلے کے بیشتر وابستگان کا تعلق دیوبندی مسلک سے رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بظاہر صوفی ہونے کے باوجود، اس حلقے کے افراد اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی اس قدر عظمت اور فضیلت کے قائل نظر نہیں آتے، جس طرح دیگر روحانی سلاسل کے پیر اور مرید ہیں۔ مزید برآں، ان حلقوں میں دیگر سلاسل کے مقابلے میں مسلکی شدت پسندی کا عنصر بھی قدرے زیادہ پایا جاتا ہے۔

یہ ایک اہم تحقیقی طلب امر ہے کہ نقشبندی سلسلہ کن تاریخی ادوار اور حالات کے زیرِ اثر اس مسلکی شدت کی جانب مائل ہوا، جبکہ اس سلسلے کے بانی خواجہ بہاء الدین نقشبند خود ایک عظیم محبِ اہلِ بیت اور بلند پایہ صوفی تھے۔ اہلِ بیتِ اطہار ؑ کی شان میں ان کا کلام آج بھی موجود اور لائقِ مطالعہ ہے۔ اسی طرح ایک تحقیقی مطالعے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ چشتی سلسلے کے اندر یہ مذہبی شدت پسندی کن راستوں سے داخل ہوئی۔

چشتی سلسلہ اور اہلِ بیت کی محبت

اگر ہم چشتی سلسلے کے جلیل القدر بانی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، ان کے نامور مرید حضرت نظام الدین اولیاء اور سید صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہم کے ارشادات اور کلام کا جائزہ لیں تو اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہ تمام نابغۂ روزگار ہستیاں عظمتِ اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی دل و جان سے قائل تھیں۔

وہ ان ہستیوں کی محبت کو اپنے ایمان اور روحانی عرفان کا مرکزی محور سمجھتے تھے۔
تاریخ گواہ ہے کہ چشتی سلسلہ جب مہار شریف کے بعض مخصوص علمائے کرام کے زیرِ اثر آیا، تو وہاں سے اس میں مسلکی شدت کے جراثیم پیدا ہونا شروع ہوئے، جو بعد ازاں سیال شریف سے سفر کرتے ہوئے گولڑہ شریف کے حلقوں تک بھی پہنچے۔

آج بھی ان سلسلوں سے وابستہ بعض افراد صوفی ہونے کے دعوے کے باوجود مسلکی شدت پسندی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے ہی سلسلے کے عظیم اکابرین کی روایات کے برعکس، عظمتِ اہلِ بیت کے اس طرح قائل نہیں ہیں۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ ان میں بھی محبت اور عشقِ حقیقی سے سرشار افراد آج بھی موجود ہیں۔

احمد جاوید کا علمی شغف اور فلسفیانہ گہرائی

احمد جاوید صاحب اپنی تحریروں اور تقاریر میں لفاظی اور گنجھلک علمی اصطلاحات کا بکثرت استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے دلائل کو زیادہ بلند، ارفع اور خالص علمی روپ دے سکیں۔

ادب کے مختلف گوشوں، ادبی تاریخ اور شعر و سخن کی باریکیوں پر انہیں مکمل دسترس حاصل ہے، اور اسی وسیع مطالعے کے سبب وہ ادبی حلقوں میں ایک منجھے ہوئے اور باشعور نقاد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

اپنی کمال کی زبان دانی اور تجسس کے باعث انہیں فلسفے سے بھی خصوصی شغف ہے۔ الفاظ کی بنت، ان کے پوشیدہ معانی، ان کی تہہ میں موجود پیچیدہ تصورات اور کائنات کی دقیق حقیقتوں کی کھوج کے لیے وہ ایک طویل عرصے سے سرگرمِ عمل ہیں۔

ان کے مطالعے کا کینوس حیرت انگیز حد تک وسیع ہے۔ انہوں نے امام غزالی، ابن عربی، بو علی سینا، ملا صدرا، شیخ اشراق، مولانا جلال الدین رومی اور قدیم و جدید مغربی فلسفیوں کا انتہائی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ "فصوص الحکم” اور "مثنوی معنوی” جیسے تصوف کے مشکل ترین متون پر تسلسل سے لیکچرز دیتے ہیں، جو کہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم YouTube پر بھی دستیاب ہیں۔
خاندانی پس منظر اور ابتدائی تعلیم
احمد جاوید صاحب ہندوستان کے مشہور تاریخی شہر الہ آباد کے ایک چھوٹے سے لیکن انتہائی پڑھے لکھے گاؤں "سید سراواں” میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنے گاؤں کی شاندار علمی اور ادبی روایت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس علاقے کی سب سے بڑی اور انوکھی خصوصیت یہ تھی کہ وہاں کے عوام سو فیصد خواندہ تھے۔

اپنی ابتدائی زندگی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ان کے دادا انگریزی زبان کے ماہر استاد تھے، جب کہ دادی کے زیرِ سایہ انہوں نے فارسی زبان کی تعلیم حاصل کی۔

گھر کے اندر انہیں ایک ایسا شاندار علمی ماحول میسر آیا جس نے ان کے اندر بچپن سے ہی مطالعے کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دی۔ احمد جاوید صاحب کے مطابق انہوں نے عظیم صوفی فلاسفر محی الدین ابن عربی کا مطالعہ محض سولہ برس کی عمر میں شروع کر دیا تھا۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ اس کمسنی میں انہیں فلسفے کی کماحقہ سمجھ نہیں آتی تھی، تاہم وہ محض اپنے وجودی اور روحانی تجسس کی تسکین کے لیے اسے سمجھنے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے تھے۔

روحانی اور ادبی شخصیات کا اثر اور رہنمائی

احمد جاوید کی شاعری اور شخصیت کے ارتقا میں کئی اہم ادبی ستاروں نے کردار ادا کیا۔ وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے شعری ذوق کو سنوارنے اور رہنمائی فراہم کرنے میں معروف نقاد "سلیم احمد” کا بنیادی کردار رہا۔ سلیم احمد ہی کے توسط سے ان کی ملاقات جمال پانی پتی سے ہوئی، جنہوں نے احمد جاوید کا تعلق کلاسیکی فارسی شاعری کی عظیم روایت سے استوار کیا۔

اسی طرح وہ ایک اور نابغۂ روزگار شخصیت وزیر علی بدایونی کا بھی خاص تذکرہ کرتے ہیں جو جدید مغربی فلسفے اور عالمی ادب پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ سلیم احمد کے حلقۂ احباب میں ایک انتہائی گہرے اور فلسفی مزاج انسان مولانا ایوب دہلوی بھی شامل تھے۔

احمد جاوید صاحب مولانا ایوب کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کے سحر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دوران انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے کائنات میں حرکت اور اشیاء کا ظاہری تصور مکمل طور پر معدوم (Zero) ہو گیا ہو۔ احمد جاوید صاحب مولانا کی شخصیت کے بے حد معترف ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا باکمال اور حیرت انگیز شخص نہیں دیکھا۔
ان کی عقیدت کا یہ عالم ہے کہ وہ کہتے ہیں:

"ان کا کھانا ہمارا فلسفہ پڑھنے سے افضل ہے اور ان کا سونا ہمارے کعبہ میں رونے سے افضل ہے۔ ان کو دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اللہ کا شہود ہو رہا ہو، ویسا روحانی تجربہ کتابیں پڑھنے سے کبھی نہیں ہوتا تھا۔”

مولانا ایوب دہلوی کی تصنیفات اور نظریات
مولانا ایوب صاحب ایک انتہائی جید اور صاحبِ علم شخصیت تھے۔ انہوں نے "فتنہ انکار حدیث”، "تفسیر سورۃ تین و عصر”، "مقالات ایوبی” اور "مقصود کائنات” جیسی معرکہ آرا کتابیں تصنیف کیں۔ مولانا علمِ معقولات پر ایسا پرتاثیر درس دیا کرتے تھے جسے سن کر حاضرین زار و قطار رونے لگتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا ایوب ایک روایتی عالمِ دین تھے اور وہ تصوف کے پیچیدہ نظری عقائد مثلاً وحدت الوجود اور وحدت الشہود وغیرہ پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اسی طرح وہ مروجہ پیری مریدی کے نظام کو بھی درست نہیں مانتے تھے، اور اپنے روحانی پیشوا کو پیر کے بجائے شیخ یا استاد کہہ کر پکارتے تھے۔

احمد جاوید کے مطابق، مولانا ایوب کو مشہور عالم مفتی شفیع صاحب سے خصوصی عقیدت تھی۔ وہ ہر ہفتے ان سے ملاقات کے لیے ان کے مدرسے جایا کرتے تھے اور احمد جاوید صاحب اکثر ان دوروں میں ان کے ہمراہ ہوتے تھے۔ واضح رہے کہ مفتی شفیع صاحب کا شمار دیوبند کے نامور اساتذہ میں ہوتا تھا، جو قیامِ پاکستان کے موقع پر ہجرت کر کے کراچی آ گئے تھے اور یہاں آ کر انہوں نے ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا تھا۔

صوفی منش ہستیوں اور مجذوبوں سے ملاقاتیں

احمد جاوید صاحب اپنے روحانی اسفار کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ اپنی طویل زندگی میں دو سو سے زائد "اللہ والوں” اور فقیر منش انسانوں سے شرفِ ملاقات حاصل کر چکے ہیں۔

ان میں سے بیشتر افراد کا تعلق شعر و سخن، دقیق فلسفے، علمِ معقولات اور تصوف کی پراسرار دنیا سے تھا۔

انہی میں سے ایک پراسرار شخصیت کرنل شیر محمد خان کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ انہیں حضراتِ شیخین (حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ) سے والہانہ محبت تھی۔

احمد جاوید کا گمان ہے کہ ان بزرگ شخصیات کی کرنل صاحب پر خصوصی نظرِ کرم تھی۔ انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا کرنل صاحب کو ان دونوں عظیم ہستیوں کی روحانی زیارت نصیب ہوئی ہے۔

جب احمد جاوید نے ان سے ان کے خاص روحانی عمل کے متعلق دریافت کیا، تو کرنل صاحب نے بس اتنا کہا کہ جب آپ سب کچھ جان ہی گئے ہیں، تو بس اتنا سمجھ لیجیے کہ میرا ان سے ایک مسلسل اور گہرا رابطہ قائم ہے۔

کراچی کے ملامتی صوفی اور حیرت انگیز کردار

ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی شخصیات میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک مجذوب صفت انسان "ابو میاں” کا نام بھی شامل ہے۔ بظاہر وہ شراب نوشی کے عادی تھے، لیکن احمد جاوید صاحب جب بھی انہیں دیکھتے تو انہیں ان کی ذات سے ایک عجیب طرح کی پاکیزگی کا احساس ہوتا۔

احمد جاوید کی ذاتی رائے میں وہ دراصل ایک ملامتی صوفی تھے۔ ان کے بیان کے مطابق، ابو میاں نے اپنی وفات سے قبل سچے دل سے توبہ کی اور اس کے بعد ملائے اعلیٰ کی جانب کوچ کر گئے۔

اسی طرح کے ایک اور منفرد صوفی منش انسان سراج الدین ظفر تھے۔ وہ بھی کثرت سے شراب نوشی کرتے تھے، لیکن احمد جاوید صاحب کے بقول وہ ایک سچے فقیر اور درویش انسان تھے۔ وہ شہر کے مہنگے شراب خانوں میں جاتے، لیکن واپسی پر وہاں موجود تمام لوگوں کا بل خود اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔

مے خانے سے باہر نکلتے وقت ان پر ایسی سخی کیفیت طاری ہوتی کہ وہ اپنا قیمتی لباس تک غریبوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اس تمام تناظر میں ماہر القادری کا یہ جملہ بہت مشہور ہے کہ "ہمیں کھینچ کر لایا گیا ہے۔”

روحانی بیعت، تصوف اور عرفان کے نظریات کا ارتقا

احمد جاوید صاحب بتاتے ہیں کہ وہ اپنی جوانی ہی سے ایک متصوفانہ مزاج کے حامل تھے۔ ان کے پہلے باقاعدہ پیر علی ظہیر عثمانی تھے۔ علی ظہیر صاحب بذاتِ خود ایک صاحبِ حال اور کشف والی شخصیت تھے، جو دقیق فلسفے اور اعلیٰ پائے کی شاعری میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔

احمد جاوید اعتراف کرتے ہیں کہ علی ظہیر عثمانی ہی کی صحبت کے فیض سے انہوں نے نظری تصوف کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا۔ بعد ازاں انہوں نے دوسری روحانی بیعت چشتی سلسلے میں کی۔ دوسری جانب مولانا ایوب دہلوی چونکہ نظری تصوف (وحدت الوجود) کے سخت ناقد تھے، اس کے باوجود احمد جاوید نے دونوں کے متضاد نظریات کے درمیان نہایت توازن اور وفا کا رشتہ برقرار رکھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ نویں جماعت کے دوران ان کے ذہن میں تصوف کا ایک قول اس قدر راسخ ہو چکا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے باقاعدہ نماز تک ادا نہیں کرتے تھے۔ وہ قول یہ تھا:

"جس نے وصول (اللہ تک پہنچنے) کے بعد عبادت کا ارادہ کیا، اس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا۔”

عبادات کی جانب واپسی اور مختلف سلاسل کی خلافت
طویل عرصے کے بعد انہوں نے پشاور میں نقشبندی سلسلے میں باقاعدہ بیعت کی۔ اسی دوران ان کی ارادت مفتی ولی حسنی صاحب سے قائم ہوئی۔ یہ مفتی صاحب کی صحبت کا اثر تھا کہ احمد جاوید دوبارہ شرعی نماز کے قائل ہوئے اور انہیں اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ ظاہرِ شریعت کی پابندی کے بغیر باطنی تصوف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

آج انہیں تصوف کے پانچ مختلف روحانی سلاسل میں "خلافتِ مطلق” کا درجہ حاصل ہے، تاہم وہ مروجہ پیری مریدی میں نذرانے وصول کرنے کی روایت کے سخت خلاف ہیں۔ احمد جاوید کے فلسفے کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ نظریۂ وحدت الوجود کا سچے دل سے قائل ہوئے بغیر کوئی بھی شخص حقیقی ادب اور اعلیٰ شاعری تخلیق ہی نہیں کر سکتا۔

ابن عربی کے عرفان کا فلسفہ اور عصرِ حاضر کے تضادات
اگر ہم احمد جاوید صاحب کی زندگی، ان کے فکری نظریات اور طویل مطالعات کا جائزہ لیں، تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان کا زیادہ تر وقت ایسے ہی دانشوروں کے ساتھ رہا جو کمال کے ادیب، پیچیدہ فلسفی یا علمِ معقولات کے باسی تھے۔ ان تمام افراد کے مابین جو ایک صفت مشترک تھی، وہ تصوف اور روحانی عرفان کی جانب ان کا شدید رجحان تھا۔

ان کے اعترافات کے مطابق، انہوں نے محض سولہ برس کی عمر میں پہلی بیعت کی اور اسی نوعمری میں شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کو پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے موجودہ افکار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا اوڑھنا بچھونا دراصل وہی ابن عربی کا پیش کردہ نظریہِ تصوف ہے، جسے عرفِ عام میں "عرفان” کہا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ برصغیر میں اس علم کو بالعموم "تصوف” کہا جاتا ہے، جب کہ شیعہ علمی دنیا میں اسی نظریے کو "عرفان” کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس گہرے عرفان اور فلسفے نے مشترکہ طور پر احمد جاوید کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب کیے، اس کی جھلکیاں حال ہی میں مختلف ویڈیو پلیٹ فارمز پر دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں وہ بعض مخصوص مسالک کے عقائد پر براہِ راست تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ نقادین کے نزدیک یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر واقعی یہ وہی حقیقی عرفان ہے جس کا درس احمد جاوید صاحب دیتے آئے ہیں، تو اس کے پیدا کردہ یہ حالیہ متناقض اور شدت پسندانہ اثرات علمی و ادبی حلقوں کے لیے قابلِ غور ہیں۔

نظر ثانی و تصحیح: فصیح اللہ خان
ایم فل اردو ادبیات
شعبہء اردو ، جامعہ پشاور

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں