مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

احمد ہمیش کی شاعری کا تنقیدی جائزہ 7 اہم پہلو

احمد ہمیش کی مشہور نظمیں اور غزلیں

یہاں احمد ہمیش کی شاعری کی کچھ ایسی شاندار مثالیں پیش کی جا رہی ہیں جو ان کے منفرد لہجے، لفظیات اور فکری وسعت کی ترجمانی کرتی ہیں۔

نظم: راستے میں شام کا مقدر ہونا

اس کے لہجے میں شام ہو رہی تھی
اور راستے راستوں کو چھوڑتے ہوئے

کسی اور راستے پر جا رہے تھے
اس کا بدن خود سے الگ ہونے کے لیے

اپنے ہی بدن سے پوچھ رہا تھا
کنوارے رہنے کی تپسیا اکارت گئی

کسی چاہنے والے کو
اس نے ایک بوسہ بھی نہیں دیا

اس کی مٹی نے کسی اور مٹی کو چھوا ہی نہیں
شریعت کی آمریت کو

خود اس نے ہی دعوت دی تھی
ورنہ خدا سے کسی غلط کو

غلط چھونے کی بات تو کبھی ہوئی ہی نہیں تھی
اور کوئی ہم سے بھول کر

ہماری آخری خواہش بھی نہ پوچھے
ایسا تو کبھی ہوا ہی نہیں

ڈوبتے ہوئے جہاز میں بھاگنے والے
آخری چوہے کو بھی تو

کسی نے بھی نہیں دیکھا
سوائے اس کے کہ

ڈبونے والے پانی نے
خود کو دیکھا

یا ڈوبنے والے کو دیکھا
محبت جن رنگوں سے

بنی ہوئی کہانی تھی
اس کے کسی بھی کردار کو

اس نے کبھی بھولے سے بھی پاس نہ آنے دیا
ایک ٹھنڈی جامد بساط پر دوڑتی ہوئی

مایوسی کو
پرندہ بننے کی خواہش تو ضرور رہی ہوگی

مگر کیا کوئی یہ دیکھ سکتا ہے کہ
کسی بوتل سے باہر نکلنے کے منظر میں

بوتل کے باطن پر کیا گزرتی ہے
کسی غلط منہ سے نکلے ہوئے لفظ سے

زندگی کی آب و ہوا پر کیا گزرتی ہے
دنیا میں ہونے والے کسی بھی ظلم نے

بس مثال ہی قائم کی
ایک تاریخ ہی تو بنائی

ہاتھ میں اٹھائے ہوئے ایک پتھر سے
ان گنت ہتھیاروں تک

درمیان میں
زمانے تو ان گنت رہے ہوں گے

یا تاریخ تو ایک ہی تھی
کسی غلط کو سہی میں بدلنے کی خواہش

دنیا کا نظام بدل سکتی تو
آج تک ہم غلط خواب

نہ دیکھ رہے ہوتے
پھر یہ عذاب کیا ہے کہ

ہم ایک پوری زندگی
غلط خوابوں کے حوالے کرتے ہوئے

خود خواب ہو جائیں
یہ اور بات کہ

پراسرار غیب میں
یقین نہ رکھنے والے کو بھی

کسی بھی غیب سے
کچھ پانے یا مدد لینے کی

خواہش تو ہوتی ہے
اور خواہش کا کیا ہے

خواہش اگر زمین پر رینگنے والی
چیونٹی بھی ہو تو

وہ ہاتھی کو ہلاک کر سکتی ہے
ایک چیونٹی ہاتھی کو

اس لیے ہلاک کر دیتی ہے کہ
اسے اس کے سر تک

پہنچنے کی راہ کا گیان
آدمی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے

افسوس کہ چیونٹی سے زیادہ
گیان والا آدمی تو

زمین پر پیدا ہی نہیں ہوا
افسوس پہاڑ کی چڑھائی چڑھنے

اور اونچی چوٹیوں کو
سر کرنے والوں میں سے

کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوا
جو پہلے زندگی نامی ہاتھی کے سر کی

چڑھائی چڑھتا یا اس کے سر کو
سر کر چکا ہوتا

آدمی نے گھر بنایا
اس میں رہنے کے لیے

مگر وہ اس میں کبھی رہا اس لیے نہیں کہ
روئے زمین پر

کسی بھی گھر کا باطن نہیں بن سکا
ایک پوری دنیا کا ظاہر تو

ہماری نظر میں رکھ دیا گیا
مگر باطن سے بنی ہوئی

کوئی دنیا تو بنی ہی نہیں
تو ہم کیا دیکھتے

یا دکھانے والوں سے ہم کیا کہتے
یا اس سے کیا کہتے

جس کے لہجے میں شام ہونے سے پہلے
دن کی روشنی کی

کوئی بساط تو رہی ہوگی
پلٹ کے کچھ دیکھنے کی ادا بھی

نہیں معلوم تھی
ورنہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ

اسے اسباب سے بھری ہوئی دنیا سے
کچھ میسر آیا

نہیں کچھ بھی تو نہیں
یا جو دنیا

اسباب سے بھری ہوئی دکھائی گئی
وہ خود اپنی جگہ تھی بھی یا نہیں

اور اس کی کوئی بھی شے
اپنی جگہ تھی بھی یا نہیں

نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی
نہیں ہے کوئی بھی دنیا میں سلسلہ باقی

احمد ہمیش کی منتخب غزلیں اور اشعار

کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں
ہمیں زندگی سے ہے بحث کیا کوئی واقعہ تو ہوا نہیں

مگر ایسی کوئی خلش بھی تھی جو فقط ہمارا نصیب تھی
کہ جو روگ ہم نے لگا لیا کسی اور کو تو لگا نہیں

ذرا دیکھنا کہ وہ کون ہے پسِ رمزِ وحشتِ عاشقی
بھلا کس نے ہم کو شکست دی کبھی پہلے ایسا ہوا نہیں

جسے پاس آنا تھا آ گیا اور نفس کے تار بھی جڑ گئے
کہ طلب کی تھیں یہی منزلیں کوئی فاصلہ تو رہا نہیں

بڑی وسعتیں ہیں زمین پر ہمیں اور چاہیے کیا مگر
وہ جو حسن اس کی نظر میں ہے کوئی اس سے بڑھ کر ملا نہیں

وہ جو مل چکی ہیں اذیتیں چلو مان لیں کہ بہت ہوا
مگر اب ملا ہے جو حوصلہ کسی اور کو تو ملا نہیں

تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن
تم راہ سے بچھڑے تھے کہ بس ڈوب گیا دن

جو تم سے مہک جائے اک ایسی نہ ملی رات
جو تم سے چمک جائے اک ایسا نہ ملا دن

اک رنگِئہ حالات سے پتھرا گئیں آنکھیں
جس طرح کٹی رات اسی طرح کٹا دن

وہ اور مسافت تھی جسے جھیل چکے ہم
یہ اور مسافت ہے جسے جھیل رہا دن

غزل: جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں
کروٹ بدل کے سو رہا ہوں

یہ جاگنا اور سونا کیا ہے
آنکھوں میں جہاں سمو رہا ہوں

دنیا سے الجھ کر سر پہ شاید
اپنی ہی بلا کو ڈھو رہا ہوں

یہ لاگ اور لگاؤ کیا ہے
اپنا وجود ہی ڈبو رہا ہوں

اب تک جو زندگی ہے گزری
کانٹے نفس میں بو رہا ہوں

ہے کچھ تو اپنی پردہ داری
نہ جاگتا ہوں نہ سو رہا ہوں

اتنا ہے کھوٹ میرے من میں
پانی میں دودھ بلو رہا ہوں

اے دلِ فگارِ بے ثباتِ ہستی
تیری ہی جان کو رو رہا ہوں

جتنی ہے دور موت مجھ سے
اتنا ہی قریب ہو رہا ہوں

شیرازہ یوں بکھر رہا ہے
خود میں تباہ ہو رہا ہوں

کس راستے پر جا رہی ہے دنیا
یہ دیکھ کے ہی تو رو رہا ہوں

جانے ہمیشؔ خود کو کب سے
بے وجہ لہو میں ڈبو رہا ہوں

نظر ثانی و تصحیح: محسن بشیر چودھری
ایم کام (فنانس)
یونیورسٹی آف کوٹلی، آزاد جموں و کشمیر
ایم اے اردو
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
ایم ایڈ
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
ایم فل اردو
الحمٰد اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں