مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

احمد ہمیش کی شاعری کا تنقیدی جائزہ 7 اہم پہلو

اشیا کی ماہیت اور کلاسیکی روایات سے تخلیقی انحراف

احمد ہمیش کی شاعری کی ایک بڑی خوبی اشیا کی ظاہری ماہیت کو عبور کر کے انھیں نئے فلسفیانہ معانی پہنانا ہے۔ وہ کسی ایک مخصوص زاویۂ نظر کے قیدی نہیں، بلکہ مختلف النوع تصورات کے ملاپ سے ایک نئی جہت پیدا کرنے کے ماہر ہیں۔ عام روزمرہ کے تجربات میں سے حیرت انگیز شاعرانہ پہلو تلاش کرنا ان کے فن کا کمال ہے۔

وہ اپنی نظموں میں پرانے اور روایتی الفاظ تو برتتے ہیں، لیکن ان الفاظ میں ایک قطعی نئی تاثیر بھر دیتے ہیں۔ جہاں جہاں ان کی نظموں کے موضوعات ماورائی (Metaphysical) ہوئے ہیں، وہاں ان کا مذہبی اور روحانی جذبہ ان کے شعری اسلوب پر حاوی نظر آتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ علامہ اقبال جیسی عظیم شخصیات، جنھوں نے مربوط اور منظم نظم کی بنیاد رکھی، ان کا براہ راست اثر احمد ہمیش کی نظموں کے اسٹرکچر پر بہت کم ہے۔ اسے جدید نظم کے ناقدین ایک مثبت اور قابلِ تحسین انحراف قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود، لفظیات اور ذخیرۂ الفاظ کے انتخاب میں انھوں نے اقبال اور جوش ملیح آبادی کی تاریخی روایت سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ اس لسانی شان و شوکت کی بہترین مثالیں ان کی نظمیں "مکاشفہ – 1” اور "مکاشفہ – 2” ہیں۔

احمد ہمیش کا مختصر تعارف اور سوانحی خاکہ

اردو کے اس عظیم تجریدی افسانہ نگار، منفرد نقاد اور نثری نظم کے بانی کا ادبی سفر اور ذاتی زندگی نہایت ہنگامہ خیز رہی۔

· اصلی نام: احمد ہمیش
· تاریخِ پیدائش: یکم جولائی 1940
· مقام پیدائش: بانسپار (ضلع بلیا)، اتر پردیش، ہندوستان
· تاریخِ وفات: 8 ستمبر 2013
· مقام وفات و تدفین: کراچی، سندھ، پاکستان
· خاندان: انجلا ہمیش (بیٹی)

احمد ہمیش کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز 1962 میں ہوا جب معروف دانشور حنیف رامے کی ادارت میں شائع ہونے والے موقر جریدے "نصرت” میں ان کی ایک نظم چھپی۔ شاعر کا خود یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ اردو ادب کی تاریخ کی پہلی باقاعدہ نثری نظم تھی۔

ستر کی دہائی کے آغاز میں انھوں نے بھارت سے پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ ابتدا میں انھوں نے ریڈیو پاکستان کراچی کی ہندی سروس سے بھی وابستگی اختیار کی۔ اسی دور میں جب قمر جمیل کی سربراہی میں نثری نظم نے ایک باقاعدہ تحریک کا روپ دھارا، تو احمد ہمیش اس تحریک کے صفِ اول کے معماروں میں شامل تھے۔

شاعری کے ساتھ ساتھ وہ تجریدی افسانہ نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام بنا چکے تھے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ "مکھی” 1968 میں ہندوستان سے شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ اس کے ٹھیک تیس سال بعد 1998 میں ان کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ "کہانی مجھے لکھتی ہے” کے عنوان سے منظرِ عام پر آیا۔ 8 ستمبر 2013 کو کراچی میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔


اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں