افسانے اور داستان میں فرق (تفصیلی موازنہ) تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب میں افسانہ اور داستان دو الگ الگ اصناف ہیں جو اپنی ساخت، مزاج اور مقصد کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اگرچہ دونوں کا تعلق کہانی سنانے سے ہے، لیکن ان کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ ذیل میں ان دونوں کے مابین 10 بنیادی اور اہم اختلافات بیان کیے گئے ہیں:
طوالت اور ایجاز و اختصار:-
افسانے کی سب سے بڑی خوبی اور پہچان اس کا ایجاز و اختصار ہے۔ یہ ایک ایسی مختصر تحریر ہوتی ہے جسے ایک عام قاری دو گھنٹوں کے اندر یا ایک ہی نشست میں باآسانی پڑھ سکتا ہے۔
اس کے برعکس، داستان کا دامن بہت وسیع اور طویل ہوتا ہے۔ یہ اکثر قسط وار چلتی ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے کئی نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ افسانے کی طرح اسے ایک ہی بار میں پڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔
زندگی کے پہلوؤں کی عکاسی:-
افسانہ حقیقت پسندانہ ہوتا ہے اور یہ ہماری زندگی کے کسی ایک مخصوص گوشے یا واقعے کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ پوری زندگی کا احاطہ نہیں کرتا۔
جبکہ داستان میں زندگی کے مختلف پہلوؤں اور کئی زندگیوں کی کہانیوں کو ایک ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا کینوس بہت بڑا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انور سجاد کی افسانہ نگاری بحوالہ احتجاج
کرداروں کی تعداد:-
کردار نگاری کے لحاظ سے بھی دونوں میں واضح فرق ہے:
- افسانہ: اس میں کرداروں کی تعداد بہت محدود ہوتی ہے۔ عام طور پر اس میں صرف ایک مرکزی کردار ہوتا ہے جس کے گرد پوری کہانی گھومتی ہے۔
- داستان: اس میں کرداروں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اس میں ایک نہیں بلکہ کئی مرکزی کردار ہوتے ہیں جو کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔داستان میں کرداروں کی بھر مار ہوتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ایک ساتھ کئی کہانیاں سنانا ہے کیونکہ داستان میں کئی کہانیاں ایک کڑی میں جڑی ہوتی ہیں
واقعات کی نوعیت اور ترتیب:-
داستان دراصل واقعات کا ایک مجموعہ ہوتی ہے جس میں کئی چھوٹی بڑی کہانیاں آپس میں جڑی ہوتی ہیں۔ اس کی بہترین مثال "باغ و بہار” ہے۔
دوسری طرف، افسانہ محض ایک ہی واقعے پر مبنی ہوتا ہے اور اسی کو فنی انداز میں پیش کرتا ہے۔
مافوق الفطرت عناصر:- (Supernatural Elements)
داستان کی دلچسپی کا راز اس کے طلسماتی اور مافوق الفطرت عناصر میں چھپا ہوتا ہے (جیسے جن، پریاں، جادو وغیرہ)۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہی مافوق الفطرت عناصر ہی داستان کی جان ہوتی ہے
اس کے مقابلے میں افسانہ صرف اور صرف انسانی زندگی کا عکاس ہے۔ چونکہ یہ حقیقت کے قریب ہوتا ہے، اس لیے اس میں مافوق الفطرت چیزوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، بلکہ صرف حقیقی انسانی واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔
نتیجہ بمقابلہ دعوتِ فکر:-
داستان یا روایتی کہانی کا اختتام عموماً کسی نہ کسی واضح نتیجے پر ہوتا ہے۔
لیکن افسانے کا انداز مختلف ہے۔ اس کا لازمی طور پر کوئی حتمی نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے مصنف کا ایک خاص مقصد چھپا ہوتا ہے۔ یہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور اسے دعوتِ فکر دیتا ہے۔
اخلاقی اقدار کی پاسداری:-
ایک اہم فرق اخلاقیات کا بھی ہے:
- افسانہ: اس میں اخلاقی اقدار اور سماجی حدود کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
- داستان: اس میں بعض اوقات کہانی کے بہاؤ میں اخلاقی اقدار کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
مقصد: تفریح یا اصلاح؟
ان دونوں اصناف کا بنیادی مقصد بھی جدا ہے:
- داستان بنیادی طور پر تفریحِ طبع (Entertainment) اور دل بہلانے کے لیے لکھی اور سنی جاتی ہے۔
- افسانہ اپنے اندر ایک اصلاحی پہلو رکھتا ہے اور معاشرے کی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
حقیقت نگاری:-
افسانہ نگار کا قلم حقیقت کو بیان کرتا ہے اور سماج کی سچی تصویر پیش کرتا ہے۔ جبکہ داستان میں حقیقت کو مدِ نظر رکھنا ضروری نہیں ہوتا، وہاں تخیل کی پرواز زیادہ ہوتی ہے۔داستان کا سارا دارومدار تخیل پر ہوتا ہے۔
اثر آفرینی:- (Impact):-
داستان کا مقصد قاری کی دلچسپی برقرار رکھنا ہوتا ہے اور تجسس پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اگلی قسط کا انتظار کرے۔
لیکن افسانے کی جان اس کی اثر آفرینی ہے۔ ایک اچھا افسانہ وہ ہے جو پڑھنے والے کے ذہن اور دل پر گہرا نقش چھوڑ جائے اور قاری کو غور وفکر پر مجبور کردے۔
نظر ثانی و تصحیح : پلوشہ خان، بی ایس اردو یونیورسٹی آف پشاور
