مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ادب اور تجریدیت ایک فکری اور فنی جائزہ

ادب اور تجریدیت ایک فکری اور فنی جائزہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

ادب اور فن کی دنیا میں تجرید (Abstraction) کوئی بیرونی شئے نہیں بلکہ تخلیق کی روح ہے۔ جب بھی کسی ادیب یا فنکار کے ذہن میں تخلیق کی پہلی کرن پھوٹتی ہے، تو وہ ایک مبہم اور مجرد خیال ہی ہوتا ہے۔ یہ وہ ابتدائی تخیل (Imagination) ہے جو کسی واقعے یا منظر سے متاثر ہو کر ذہن کے پردے پر ابھرتا ہے۔

ج

ب تک فنکار ان بکھرے ہوئے خیالات کو اپنے شعور کی بھٹی میں تپا کر ایک خاص ترتیب نہیں دیتا، وہ تجرید ہی کی شکل میں موجود رہتے ہیں۔یہ بھی پڑھیں: تجرید کیا ہے اور تجریدیت سے کیا مراد ہے؟

سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ادب کا نقطہ آغاز ہی تجرید ہے۔ ہر شاہکار فن پارہ اپنی ابتدائی صورت میں تجرید ہی ہوتا ہے۔

تخلیقی عمل اور تجرید: وارث علوی کا نظریہ

معروف نقاد وارث علوی نے ادب اور تجرید کے رشتے کو بہت گہرائی سے سمجھا ہے۔ ان کے مطابق ادب کا پورا طریقہ کار ہی تجریدی بنیادوں پر استوار ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اکثر ناقدین رائے دیتے وقت ادب کی ان بنیادی جڑوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

وارث علوی لکھتے ہیں:

"نقاد اکثر رائے زنی کرتے وقت ادب کی مبادیات تک کو فراموش کر دیتا ہے مثلاً شاعری ہو یا افسانہ، ادب کا تخلیقی طریقہ کار ہی تجرید کا حامل رہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ تجرید اور تنزیل کے تناؤ کا جو منطقہ ہے تخلیقی تخیل وہیں بال کشا ہوتا ہے، اگر تجرید نہ ہو تو تخلیق ممکن ہی نہیں۔”
(حوالہ: فکشن کی تنقید کا المیہ، ص 60)

اس اقتباس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ تجرید کے بغیر تخلیق کا وجود ناممکن ہے۔

نثر اور شاعری میں تجرید: متضاد آراء

جہاں وارث علوی ہر قسم کی تخلیق کے لیے تجرید کو لازمی قرار دیتے ہیں، وہیں وہاب اشرفی کا نقطہ نظر قدرے مختلف اور دلچسپ ہے۔ وہ صنف کے لحاظ سے تجرید کی تقسیم کرتے ہیں۔

وہاب اشرفی کا خیال ہے:

"ادبی نقطہ نظر سے نثر کا مزاج ہی تجریدی ہے جبکہ شاعری کی خصوصیت میں بستگی (Concreteness) کا عنصر بہت نمایاں ہے۔”
(حوالہ: اردو فکشن اور تیسری آنکھ، ص 44)

یہاں ایک علمی بحث جنم لیتی ہے۔ وہاب اشرفی نے تجریدیت کو صرف نثر کے مزاج کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ وارث علوی کا اصرار ہے کہ شاعری ہو یا نثر، تمام تخلیقات کو وجود میں آنے کے لیے تجرید کے مرحلے سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔

افسانوی حقیقت بمقابلہ صحافتی حقیقت

وارث علوی نے فکشن (افسانے) کی حقیقت اور خارجی دنیا کی حقیقت کے فرق کو بہت خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔ ان کے نزدیک افسانہ نگار کی دنیا، باہر کی دنیا کی نقل (Copy) نہیں ہوتی بلکہ ایک نئی تعمیر ہوتی ہے۔

وہ فرماتے ہیں:

"افسانوی حقیقت اپنا اعتبار خارجی دنیا سے نہیں بلکہ اس دنیا سے حاصل کرتی ہے جسے افسانہ نگار اپنے افسانہ میں تخلیق کرتا ہے… اس کی نئی ترتیب اور تعمیر ہوتی ہے اور یہی ترتیب اور تعمیر تخیل کے تجریدی عمل کا عطیہ ہے۔”

اگر افسانہ تخیل کے اس تجریدی عمل سے محروم رہ جائے تو وہ کیا بن جائے گا؟ وارث علوی کے مطابق:

  1. وہ محض صحافت یا دستاویز بن جائے گا۔
  2. فوٹو گرافی یا پروپیگنڈا بن کر رہ جائے گا۔

ایک بہترین افسانہ وہ ہے جو حقائق کا انکار نہیں کرتا بلکہ انہیں جذب کر کے، تجریدی عمل کے ذریعے ان سے بلند ہو کر ایک نئی حقیقت تخلیق کرتا ہے۔
(حوالہ: فکشن کی تنقید کا المیہ، ص 60)

قدیم اور جدید تجرید میں فرق: ترسیل کی رفتار

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تجرید، علامت اور اسطور صرف جدید ادب کے تحفے ہیں، حالانکہ ہمارے لوک ادب اور قدیم سرمائے میں یہ عناصر پہلے سے موجود ہیں۔ سلیم شہزاد نے قدیم اور جدید تجرید کے درمیان ایک بہت باریک فرق واضح کیا ہے۔

ان کے مطابق تجرید (Abstract) دراصل تجسم (Concrete) کی ضد ہے۔ فرق صرف "ابلاغ کی رفتار” کا ہے:

  • تجسمی اسلوب (Concrete Style): اپنی تفصیل اور واضح پیکر کی وجہ سے بہت تیزی سے قاری تک پہنچتا ہے۔
  • تجریدی اسلوب (Abstract Style): اپنی مبہم اور غیر واضح فضا کی وجہ سے قاری تک پہنچنے میں وقت لیتا ہے اور دھیمی رفتار سے اثر انداز ہوتا ہے۔

سلیم شہزاد لکھتے ہیں:

"تجرید اگرچہ ادبی اظہار کا ایک جدید تر اسلوب ہے لیکن اس کی اصل قدیم میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔… جدید شاعری کی ابجد میں تجسمی اور تجریدی اظہار کے دونوں اسالیب کی تاثر پذیری میں فرق صرف ترسیل و ابلاغ کی رفتار کا ہے۔”
(حوالہ: جدید شاعری کی ابجد، ص 87)

یعنی جدید تجرید میں ابلاغ کا عمل سست اور مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ قدیم تجرید میں یہ عمل نسبتاً کامیاب تھا۔

حاصلِ کلام

مذکورہ بالا بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ادب میں تجرید کے بغیر کسی بھی فن پارے کی تخلیق ناممکن ہے۔ ہر فنکار تخلیق سے پہلے ایک ایسے مرحلے سے گزرتا ہے جہاں صرف احساس اور خیال ہوتا ہے—یہی "حالتِ تجرید” ہے۔ مسلسل غور و فکر کے بعد یہ مجرد خیالات ایک ٹھوس ادبی شکل اختیار کرتے ہیں۔

تجرید سے تخلیق تک کا یہ سفر ہر فنکار کا مقدر ہے اور یہی وہ پل ہے جو ادب اور تجرید کے درمیان اٹوٹ رشتہ قائم کرتا ہے۔


شاعری اور تجرید:
(اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے کہ شاعری میں یہ عمل کس طرح ظہور پذیر ہوتا ہے…)

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں