مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ادب اور صحافت

ادب اور صحافت: سماجی زندگی کے دو اہم ستون اور ان کا باہمی ربط، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

ادب اور صحافت، دونوں ہی سماج کے اہم ترین عکاس ہیں اور دونوں کا مرکز و محور انسانی زندگی اور اس کے واقعات ہیں۔ اگرچہ بظاہر ان دونوں شعبوں میں کافی گہرا تعلق نظر آتا ہے، لیکن گہرائی میں جائیں تو ان کے درمیان اشتراک کے ساتھ ساتھ ایک واضح خلیج اور اختلاف بھی موجود ہے۔ ادب اور صحافت اپنی اپنی جگہ ایک جداگانہ شناخت رکھتے ہیں ۔

بنیادی طور پر دونوں کا موضوع انسان اور سماج ہے، لیکن جس طرح یہ زندگی کے مواد کو برتتے ہیں، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

ادب اور صحافت میں بنیادی فرق

ان دونوں شعبوں کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان کے "مقصد” اور "طرزِ اظہار” پر غور کرنا ہوگا:

  • صحافت کا مقصد: اخبار یا میڈیا کا بنیادی کام عوام تک فوری معلومات اور آگاہی پہنچانا ہے۔ یہ معلومات معروضی (Objective) ہوتی ہیں۔
  • ادب کا مقصد: ادب محض اطلاع نہیں دیتا بلکہ یہ حقیقی زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس میں تخیل کی آمیزش ہوتی ہے۔

اخبار کی خبر میں "خیال آفرینی” کی گنجائش نہیں ہوتی، جبکہ ادب تخیل کے رنگوں سے زندگی کی تصویر کشی کرتا ہے۔ خبر کی زبان سیدھی اور سپاٹ ہوتی ہے جو صرف اطلاع دیتی ہے، جبکہ ادب کا کام سماج پر گہرے اثرات مرتب کرنا اور جذبات کو محفوظ کرنا ہے۔

1. مخاطب کون ہے؟ (Target Audience)

صحافت کا براہِ راست تعلق عوام الناس سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافتی زبان کو انتہائی سلیس، آسان اور عام فہم رکھا جاتا ہے تاکہ کم پڑھے لکھے افراد بھی بات سمجھ سکیں۔ اس کے برعکس، ادب کا حلقہ احباب مخصوص ہوتا ہے اور یہ خواص کے لیے لکھا جاتا ہے۔

2. تخیل بمقابلہ حقیقت

ادب میں واقعات کا "من و عن” بیان ضروری نہیں ہوتا۔ یہاں ادیب اپنے تخیلات اور محسوسات کو ایک پرلطف اور حسین پیرائے میں بیان کرتا ہے۔ جبکہ صحافت کا دامن وقت اور مقصد کی پابندی سے بندھا ہوتا ہے۔ سادگی اور اختصار صحافت کی روح ہے، جبکہ ادبی تحریر ان پابندیوں سے آزاد ہوتی ہے اور ادیب کی ذاتی فکر کی عکاس ہوتی ہے۔

"صحافت واقعات کو معروضی (Objective) انداز میں پیش کرتی ہے، جبکہ ادب انسان کو حسد، کینہ، مکاری اور خود غرضی جیسے سفلی جذبات سے نجات دلا کر مہذب اور نیک بناتا ہے۔”

صحافت کا کام مستند ذرائع سے معلومات حاصل کر کے، تیز رفتاری کے ساتھ جامع اور مدلل انداز میں قارئین تک پہنچانا ہے۔


ادب اور صحافت کے درمیان لکیر

ادب اور صحافت کے درمیان کوئی حتمی لکیر کھینچنا آسان امر نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات یہ دونوں خوبیاں ایک ہی شخص میں جمع ہو جاتی ہیں۔ کئی مقامات پر صحافت اور ادب "یک جان دو قالب” بن جاتے ہیں۔

معروف نقاد عابد صدیقی اس حوالے سے لکھتے ہیں:

"ادب اور صحافت کے درمیان ہم نہ کوئی واضح خط کھینچ سکتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہوئے ان کی جدا گانہ حیثیت، مقاصد اور اہمیت کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔”

عابد صدیقی ، ادب و صحافت ) حیدر آباد: اعجاز پر نٹنگ پریس ) ص ۷۰

تحریروں کی عمر اور اثرات

ایک اہم فرق ان تحریروں کی "زندگی” (Lifespan) کا بھی ہے:

  • صحافتی تحریر: اس کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔ آج کا اخبار کل ردی ہے۔ اگرچہ اس کے قارئین لاکھوں میں ہوتے ہیں مگر اسے لمبے عرصے تک محفوظ نہیں رکھا جاتا۔
  • ادبی تخلیق: اس کی حیات طویل ہوتی ہے اور اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ ادبی شہ پارے نسل در نسل سفر کرتے ہیں، اگرچہ ان کے قارئین کی تعداد صحافت کے مقابلے میں محدود ہوتی ہے۔

ایک مثال: خبر بمقابلہ افسانہ

اس فرق کو سمجھنے کے لیے ایک مثال بہت موزوں ہے۔ فرض کریں اخبار میں خبر چھپی کہ "لندن سے حیدرآباد جانے والی خاتون کا شیر خوار بچہ ایئرپورٹ سے اغوا ہو گیا۔”
اگلے دن ایڈیٹر نے اس پر اداریہ لکھا۔ کچھ دن بعد لوگ اس خبر اور اداریے کو بھول گئے۔ لیکن جب اسی واقعے سے متاثر ہو کر کسی ادیب نے افسانہ تخلیق کیا، تو وہ ایک "ادب پارہ” بن گیا اور برسوں یاد رکھا گیا۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل اہمیت موضوع کی نہیں بلکہ اسلوب اور پیشکش کی ہے۔


دباؤ، پالیسی اور تخلیقی آزادی

ادبی تخلیق کسی بیرونی دباؤ یا لالچ کے بغیر وجود میں آتی ہے، جبکہ صحافت کو کئی طرح کی زنجیروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے :

  1. ادارتی پالیسی: اخبار کی ایک طے شدہ پالیسی ہوتی ہے۔
  2. بیرونی دباؤ: مالکان پر حکمرانوں اور تجارتی اداروں کا دباؤ ہوتا ہے۔
  3. تجارتی مفادات: نفع و نقصان اور عوامی پسند و ناپسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

اس کے برعکس، ادبی تحریر ایک خالص شخصی اور ذاتی معاملہ ہے۔ ادیب پرسکون ماحول میں، فرصت کے لمحات میں لکھتا ہے اور اپنی تحریر کو بار بار سنوار سکتا ہے۔ صحافت کو "عجلت میں لکھا گیا ادب” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں ڈیڈ لائن کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے۔

زبان و بیان کا فرق

  • ادبی زبان: فکر انگیز، خوبصورت، اور تہہ دار ہوتی ہے۔ اس میں ایک لفظ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں (ابدہام)۔
  • صحافتی زبان: معلوماتی، ٹو دی پوائنٹ اور واضح ہوتی ہے۔ یہاں "شوکتِ لفظی” کے بجائے "کفایتِ لفظی” پر زور دیا جاتا ہے۔ مشکل الفاظ اور مترادفات سے گریز کیا جاتا ہے تاکہ ابہام پیدا نہ ہو۔

جب ادیب اور صحافی ایک ہو جائیں

تاریخ گواہ ہے کہ بہترین صحافت وہی تھی جو ادبی چاشنی سے بھرپور تھی۔ عابد صدیقی مزید لکھتے ہیں:

"ادب اور صحافت میں متعدد امور مشترک بھی ہیں، اور جدا گانہ بھی۔ آج مغرب میں صحافت اور ادب دونوں ایک دوسرے کے دوش بدوش چل رہے ہیں۔ اردو میں بھی اس نئے رجحان کو تقویت دینے کی ضرورت ہے تاکہ اچھی صحافتی تحریر ادب میں اور سلیس و عمدہ ادبی تحریریں، صحافت کے زمرہ میں شامل ہوں۔”

عابد صدیقی ، ادب و صحافت ) حیدر آباد اعجاز پر ٹنگ پریس ) ص 11

اردو ادب کی تاریخ میں کئی ایسے نامور لکھاری گزرے ہیں جو بیک وقت عظیم ادیب بھی تھے اور بہترین صحافی بھی۔ مثال کے طور پر:

  • نیاز فتح پوری: ان کے ادارتی نوٹ (ملاحظات) صحافتی اداریے لگتے تھے جبکہ مضامین اعلیٰ ادب کا نمونہ ہوتے تھے۔
  • مولانا ابوالکلام آزاد: ان کے اخبارات "الہلال” اور "البلاغ” کی تحریریں ہنگامی مسائل پر ہونے کے باوجود ادبی شاہکار ہیں۔
  • دیگر نام: کرشن چندر، خواجہ حسن نظامی، سر سید احمد خان، مولانا ظفر علی خان، فیض احمد فیض اور حسرت موہانی وغیرہ۔

جب کوئی بڑا ادیب صحافت کے میدان میں آتا ہے تو وہ وقتی مفادات سے اوپر اٹھ کر لکھتا ہے، یوں "صحافیانہ ادب” وجود میں آتا ہے۔ تاہم، ہر تحریر ادب نہیں ہو سکتی اور ہر تحریر صحافت نہیں بن سکتی۔ اگر تحریر میں خبر اور واقعیت (Factuality) نہ ہو تو وہ صحافت نہیں کہلا سکتی۔


اردو زبان کے فروغ میں صحافت کا کردار

اردو نثر کو جدید، سلیس اور کارآمد بنانے میں صحافت کا کردار کلیدی رہا ہے۔ صحافت نے اردو کو مشکل اور دقیق الفاظ سے نکال کر روزمرہ کی زبان بنایا۔

  • صحافت کے بغیر شاید برصغیر میں اردو زوال کا شکار ہو جاتی۔
  • اردو صحافت نے زبان کے ناتواں جسم میں روح پھونکی اور آزادی کی تحریکوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
  • آج ہندوستان اور پاکستان میں اردو کی جو حیثیت ہے، اس میں ادبی صحافت کی کوششوں کا بڑا عمل دخل ہے۔

دورِ حاضر کی صحافتی زبان کے مسائل

اگرچہ صحافت نے زبان کو سنوارا، لیکن آج کل کچھ خامیاں بھی نظر آتی ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے، جیسے:

  • انگریزی الفاظ کا بے جا استعمال۔
  • املا اور رموزِ اوقاف کی غلطیاں۔
  • غیر ضروری طوالت اور تکرار۔

میڈیا کا فرض ہے کہ وہ زبان کی تہذیب و شائستگی کو برقرار رہے۔

ادب اور صحافت ریل کی پٹریوں کی طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مارک ٹوین سے لے کر مولانا آزاد تک، دنیا کے بڑے قلم کاروں نے ان دونوں شعبوں کے امتزاج سے کام لیا ہے۔ آج بھی پاک و ہند میں صحافت کا کردار علمی، ادبی اور ملی ہے اور اسے محض کاروبار سمجھنے کے بجائے ایک مشن کے طور پر اپنانے کی ضرورت ہے۔پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادیب وہ مصور ہے جو اپنی پینٹنگ میں اپنی مرضی کے رنگ بھر سکتا ہے جبکہ صحافی صرف پنسل سے سکیچ بنانے کا کام کرتا ہے۔

نظر ثانی و تصحیح: احمد جمال، ایم – فل اردو منہاج یونیورسٹی لاہور

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں