مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

آتش رفتہ کا تنقیدی جائزہ

ناولٹ آتش رفتہ کا تنقیدی جائزہ پنجاب کی دھرتی، انتقام کی روایت اور رومان کا المیہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اگست ۱۹۶۱ء میں ادب کے افق پر ایک ایسا ناولٹ نمودار ہوا جس نے اپنے موضوع اور پیشکش سے سب کو چونکا دیا۔ یہ جمیلہ ہاشمی کا شاہکار ’آتشِ رفتہ‘ تھا۔ اس تخلیق کی ادبی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ممتاز ادیبہ جیلانی بانو تبصرہ کرتی ہیں:

”تقسیم اور ہجرت کے موضوع پر لکھے گئے افسانوں میں جمیلہ ہاشمی کا نام اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے ’آتشِ رفتہ‘ اور ’بن باس‘ لکھ کر سب کو چونکا دیا تھا۔“ (جمیلہ ہاشمی کی صاحبزادی عائشہ صدیقہ کے ذریعے فراہم کر دہ معلومات)

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جہاں ”بن باس“ خالصتاً تقسیمِ ہند کے دردناک پس منظر پر مبنی ہے، وہیں ”آتشِ رفتہ“ کا مزاج مختلف ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک رومانی ناولٹ ہے جو اپنی تکنیک اور پیشکش میں افسانوی مجموعے ”آپ بیتی جگ بیتی“ سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ یہ کہانی ہے مشرقی پنجاب کی ٹھوس تہذیب کی، جہاں آن بان پر جان قربان کر دینا ایک معمول ہے اور جہاں دوستیاں اور دشمنیاں نسلوں کا احاطہ کرتی ہیں۔

مرکزی کردار اور ماضی کی بازگشت

کہانی کا محور اور راوی دلدار سنگھ ہے، جو اب زندگی کی آخری سیڑھی پر ہے۔ وہ ایک بوڑھا شخص ہے جس کی بیوی اس دنیا سے جا چکی ہے اور وہ شہر میں اپنے بیٹے اور بہو کے رحم و کرم پر ہے۔ گھر کا نظام پوری طرح بہو کے ہاتھ میں ہے۔

ایک نفسیاتی پہلو دیکھیے کہ شدید سردی میں بہو اسے ریشمی رضائی دیتی ہے، یہ سوچ کر کہ کھدر کی رضائی تو غریبوں کی نشانی ہے۔ لیکن دلدار سنگھ کے لیے وہ ریشمی رضائی عذاب بن جاتی ہے، اس کی ٹھنڈک اسے سونے نہیں دیتی اور یوں رات بھر جاگتے ہوئے ماضی کی یادیں ہی اس کا واحد سہارا بن جاتی ہیں۔ یہ یادیں محض یادیں نہیں، بلکہ اس ناولٹ کا اصل پس منظر ہیں۔ وہ حسرت سے سوچتا ہے:

”جب بیتے دن لوٹ کر آنے والے نہیں ہیں تو پھر بیتی باتیں کیوں دل کو کبھی اتنا سرد کر دیتی ہیں اور کبھی اتنا گرم جیسے وہ جوش رگوں میں واپس آگیا ہو۔ جب ذرا ذرا سی بات پر چھری چل جاتی تھی اور کرپانیں نکل آتی تھیں۔ پھر بدلتی ریتوں کے ساتھ دل کو وہی باتیں کیوں پیاری رہتی ہیں جو کبھی پیاری تھیں نہ جانے کیوں؟“ (جمیلہ ہاشمی : آتش رفتہ اردواکیڈمی سندھ، کراچی ۱۹۶۳، ص ۸)

پنجابی تہذیب اور انتقام کی آگ

یہ ناولٹ پنجابی کلچر کی اُس رگ کو پکڑتا ہے جہاں ”بدلہ لینا“ زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھا جاتا ہے۔ یہاں انتقام خون میں شامل ہے اور نئی نسل کی پرورش ہی اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ انہیں پرانے حساب چکانے ہیں۔

اس خونی روایت کے بارے میں راوی کا مکالمہ ملاحظہ کریں:

”ٹھیک ہے سردار۔ ٹھیک ہے۔ یہ ڈگر ہمارے خون کا راستہ ہے۔ دادی نے کہا تھا۔ نہ کوئی گناہ گار ہوتا ہے اور نہ کوئی بے گناہ، بس یہ ریت ہے جو ہمارے باپ دادا کی طرف سے ہمیں ورثے میں ملی ہے۔“ (ایضاً ص ۱۶۴-۱۹۳)

اسی طرح، مخالف کردار سردار مہر سنگھ کی سوچ بھی اس سے مختلف نہیں:

”سردارنی کرتار کور سچی تھی۔ اس نے ٹھیک کہا تھا۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے یہ سب کچھ اس دیس کی ہوا میں ہے۔ ہمارے خون کی رچی سرخی میں ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے، کچھ نہیں!“ (ایضاً ص ۱۶۳)

ناولٹ کی ساخت: تین اہم پڑاؤ

تکنیکی اعتبار سے یہ ناولٹ تین حصوں میں منقسم ہے، جو کہانی کے بہاؤ کو کمال خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں:

  1. نیلی دھوڑ (کہانی کا آغاز)
  2. سیندوری پرچھانویں (عروج)
  3. ڈونگے ہمیرے (انجام)

پہلے حصے کے اختتام پر دلدار سنگھ کا خاندان اتم سنگھ (دلدار کا باپ) سے آخری ملاقات کے لیے جیل جاتا ہے، جس کے بعد اسے پھانسی ہو جاتی ہے۔ دوسرے حصے میں لاش گھر آتی ہے، ماتم بچھتا ہے جس میں دشمن مہر سنگھ کے گھر کی عورتیں بھی شریک ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسرے حصے کا اختتام دیپو (مہر سنگھ کی بیٹی) کی رخصتی پر ہوتا ہے اور تیسرے حصے کا آغاز دیپو کی موت کی خبر سے ہوتا ہے۔

یہاں مصنفہ نے کمال مہارت سے موت اور ماتم کا موازنہ کیا ہے۔

  • ایک موت دلدار سنگھ کے گھر (اتم سنگھ) ہوئی۔
  • دوسری موت مہر سنگھ کے گھر (دیپو) ہوئی۔

دونوں گھرانے ایک دوسرے کے غم میں شان سے شریک ہوتے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے ایک خوفناک انتقام پل رہا ہوتا ہے۔

دشمنی کی بنیاد: ایک سفید گھوڑی

اس خاندانی دشمنی کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیں۔ انوپ سنگھ (دلدار کا دادا) اور مہر سنگھ کبھی گہرے دوست تھے، لیکن ایک سفید گھوڑی ان کی دوستی کو نگل گئی۔ یہ گھوڑی ’مہاراجہ نابھ‘ کی نسل سے تھی۔ انوپ سنگھ نے اپنی زمین بیچ کر اسے مہنگے داموں خرید لیا، جسے مہر سنگھ اپنی توہین سمجھ بیٹھا۔

یہ آگ تب اور بھڑکی جب انوپ سنگھ نے اپنی بیوی کرتار کور کو نظر انداز کر کے ’بھاگو‘ نامی عورت سے تعلقات قائم کیے۔ غیرت کے نام پر انوپ سنگھ کے بیٹے اتم سنگھ نے اپنے ہی باپ اور بھاگو کو قتل کر دیا۔ عدالت سے تو وہ بری ہو گیا لیکن مہر سنگھ نے پرانی دشمنی نبھاتے ہوئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، یہاں تک کہ دو مربع زمین بیچ کر ولایت (لندن) تک گیا اور اتم سنگھ کے لیے پھانسی کی سزا لے کر لوٹا۔

جیل میں پھانسی سے قبل اتم سنگھ اپنے بیٹے دلدار سنگھ کو جو وصیت کرتا ہے، وہ اس معاشرے کی نفسیات کی عکاس ہے:

”تو جوان پوت ہے اور اس بے عزتی کا بدلہ تجھے لینا ہوگا، عورت کا بدلہ عورت ہی ہوگی۔ دیکھ یہاں میرے سر پر ہاتھ رکھ اور واہگرو کی قسم کھا کہ تو سردار مہر سنگھ سے بدلہ لے گا… بس عورت کا بدلہ عورت ہوگی۔“ (ایضاً ص ۵۸)

دادی کرتار کور بھی پوتے کی ذہنی تربیت اسی سانچے میں کرتی ہے:

”کیوں دلدار سنگھ پھر وہ بات کس طرح ہوگی؟….. وہی مہر سنگھ سے بدلہ لینے کی تو اب خیر سے جوان ہو گیا ہے، میں لالڑاں میں کب تک سر نیچا کر کے چلوں گی اور لوگوں کے طعنے برداشت کروں کوئی راہ سوچ۔“ (ص ۹۱)

رومان اور ٹریجڈی کا سنگم

انتقام کی اس آگ میں محبت کا پھول کھلتا ہے لیکن جلد ہی مرجھا جاتا ہے۔ دلدار سنگھ اور مہر سنگھ کی بیٹی کلدیپ کور (دیپو) ایک دوسرے کی طرف مائل ہوتے ہیں، لیکن دیپو کی شادی حاکم سنگھ سے کر دی جاتی ہے۔ دیپو اپنے شوہر کو اپنانے سے انکار کر دیتی ہے اور موت مانگتی ہے۔ حاکم سنگھ اسے مار ڈالتا ہے۔

دیپو کی ماں اس غم میں زمین پر سوتی ہے اور سانپ کے ڈسنے سے مر جاتی ہے۔ یوں "عورت کا بدلہ عورت” سے پورا ہوتا ہے لیکن انداز بہت المناک ہے۔

انجام: مکافاتِ عمل

کہانی کے آخر میں مہر سنگھ ٹوٹ چکا ہے۔ وہ اپنے گناہوں کے بوجھ تلے دب کر دلدار سنگھ سے بھیک مانگتا ہے کہ اسے مار ڈالے، لیکن دلدار سنگھ اسے ذیت ناک زندگی کی سزا دیتا ہے اور کہتا ہے:

”سردار تیرے میرے حساب کتاب کا وقت ابھی نہیں آیا… پر یہ کہاں کی مردانگی ہے کہ ذرا سے دکھ سے پریشان ہو جاؤ کیا دیپو کی اور سردارنی کی موت سے ایسے گھبرا گئے ہو تمہیں یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں کیا تم سردارنی کرتار کور سے بھی کم حوصلہ ہو جس نے انوپ سنگھ میرے دادا کی موت کے بعد اتم سنگھ اپنے جوان بیٹے کا غم بھی سہا اور پھر بھی محنت کرتی رہی۔“ (ص ۱۴۴)

فطرت کا انتقام دیکھیے کہ آخر میں مہر سنگھ کو وہی گھوڑی مار ڈالتی ہے جو فساد کی جڑ تھی، اور دیپو کا قاتل حاکم سنگھ پھانسی چڑھ جاتا ہے۔ مہر سنگھ مرتے مرتے بھی اپنا وعدہ پورا کر جاتا ہے (کہ اتم سنگھ کا خاندان برباد رہے)۔

ناولٹ کے اختتامی اقتباسات حال کی طرف لوٹتے ہیں، جہاں دلدار سنگھ بتاتا ہے کہ گاؤں سے آنے والے خبر دیتے ہیں کہ اب مہر سنگھ کے عالیشان گھر میں الو بولتے ہیں۔ وہ گھر جو کبھی گاؤں کی شان تھا، اب عبرت کا نشان ہے۔ یوں یہ ناولٹ تین نسلوں پر محیط دشمنی، انا، قربانی اور پنجابی سماج کی بھرپور منظر کشی کرتے ہوئے اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔نفرت اور محبت ایسے جذبات ہیں جو حد سے تجاوز کر جائیں تو وبال بن جاتے ہیں ، ان دونوں کا انجام کشت و خون کے سوا کچھ نہیں۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں