رئیس امروہوی کی غزل گوئی کا تنقیدی جائزہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی تاریخ میں جب بھی مزاحمت، فلسفے، اور سماجی شعور کی بات کی جاتی ہے تو کئی قدآور نام ذہن میں ابھرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف حبیب جالب کی غزل گوئی نے عوامی سطح پر انقلاب اور بیداری کا شعور پیدا کیا، وہیں دوسری جانب سید محمد مہدی عرف رئیس امروہوی جیسے یگانہ روزگار اور ہمہ جہت شاعر نے فلسفے، نفسیات اور مابعد الطبیعیات کو اپنی شاعری کا زیور بنایا۔
رئیس امروہوی، جو اردو کے معروف اور منفرد لب و لہجے کے شاعر جون ایلیا کے بڑے بھائی تھے، کا شمار پاکستان کے ان صفِ اول کے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جن کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم رئیس امروہوی کی زندگی، ان کے خاندانی پس منظر، تصانیف اور ان کی معرکہ آرا شاعری کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
خاندانی پس منظر، موروثی سخنوری اور ابتدائی زندگی
رئیس امروہوی کی ولادت 12 ستمبر 1914ء کو برصغیر کے مردم خیز قصبے امروہہ (اتر پردیش) میں ہوئی۔ ان کا اصل نام سید محمد مہدی اور عرفیت ’اچھن‘ تھی۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی گھرانے سے تھا جہاں اردو اور فارسی کی شاعری کئی پشتوں سے رچی بسی تھی۔
ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیا رحمۃ اللہ علیہ، خود ایک جلیل القدر عالم اور شاعر تھے۔ رئیس امروہوی اپنی کتاب پسِ غبار کے دیباچے (صفحہ 8، مرتب خورشید خاور امروہوی) میں رقم طراز ہیں کہ ان کا شاعری سے رشتہ اکتسابی (سیکھا ہوا) نہیں بلکہ مکمل طور پر موروثی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے اردگرد حویلیوں اور دیوان خانوں میں شعر و سخن کی محفلیں، شطرنج کی بساطیں، حقے کے دور اور بیت بازی کے مقابلے دیکھے۔ ان کے بقول، شفیق حسن ان کے محض جسمانی والد نہیں بلکہ ذہنی و روحانی آقا بھی تھے، اور ان کے خاندان میں شعر گوئی جاگیرداری کی طرح روزمرہ کے معمولات کا حصہ تھی۔
ان کی مکتبی تعلیم کا آغاز 1918ء میں ہوا، اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مطالعے کی نذر کیا۔ خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر انہوں نے اپنا پہلا باقاعدہ شعر محض دس سال کی عمر میں 1924ء میں کہا تھا۔
ہجرتِ پاکستان اور صحافتی زندگی کا آغاز
ادب اور صحافت کے میدان میں ان کا باقاعدہ قدم 1931ء میں ماہنامہ ”حیات“ کی ادارت سے پڑا۔ وہ مختلف ادبی رسائل اور اخبارات سے منسلک رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد، اکتوبر 1947ء میں انہوں نے ہندوستان سے ہجرت کی اور مستقل طور پر کراچی میں سکونت اختیار کر لی۔
کراچی آنے کے بعد وہ مسلسل تین سال تک نامور اخبار روزنامہ جنگ کے مدیر رہے۔ اس کے بعد، انہوں نے لگ بھگ چالیس برسوں تک اسی اخبار کے لیے حالاتِ حاضرہ پر روزانہ ایک قطعہ تحریر کیا، جس نے انہیں بیسویں صدی کا سب سے بڑا قطعہ نگار بنا دیا۔
رئیس امروہوی کی غزل گوئی اور فکری جہات
جس طرح حبیب جالب کی غزل گوئی کا محور عام آدمی کے دکھ درد اور سیاسی استحصال کی مخالفت رہا، اس کے برعکس رئیس امروہوی کی شاعری کا کینوس ذاتی مشاہدات، فلسفیانہ افکار، اور آفاقی حقائق پر محیط ہے۔ ان کی وسعتِ نظر نے غزل کے روایتی حسن کو ایک نئی جلا بخشی۔
وہ اپنی شاعری پر مارکسی، جمالیاتی، یا نفسیاتی نظریات کے لیبل چسپاں کرنے والے نقادوں سے سخت اختلاف رکھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ شعر سمجھانے کی چیز نہیں بلکہ خود ایک ’سمجھائی ہوئی حقیقت‘ کے طور پر نازل ہوتا ہے۔ ان کا یہ نظریہ ان کی فکری بلوغت کی واضح دلیل ہے۔
ان کی غزلیں فارسی اور اردو کی روایتی تراکیب سے مزین ہیں، جیسا کہ وہ خود کہتے تھے کہ ان کی اردو اور فارسی شعری روایت پر گرفت کسی بھی صاحبِ کمال استاد جیسی ہے۔ ان کا یہ شعر ان کی فکری گہرائی کا غماز ہے:
اے دل شریک طائفہ وجد و حال ہو
پیار عیب ہے تو یہ حد کمال ہو
کیا یہ اردو کے تیسرے فلسفی شاعر ہیں؟
اگرچہ نقاد ساحر عباس انہیں اردو کا تیسرا بڑا فلسفی شاعر قرار دیتے ہیں، تاہم کئی محققین اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ پھر بھی رئیس امروہوی کی ذہنی بلاغت اور فکری اڑان سے انکار ناممکن ہے۔ ان کے درج ذیل اشعار ان کی فلسفیانہ سوچ کے عکاس ہیں:
دل سے مت سر سری گزر اے رئیس
یہ زمیں آسماں سے آتی ہےابھی سے شکوہ پست و بلند ہم سفرو
ابھی تو راہ بہت صاف ہے ابھی کیا ہے
ناسٹلجیا (Nostalgia) اور روایتی عشق
جدید دور کی شاعری عموماً معاشی اور سماجی زبوں حالی کے گرد گھومتی ہے، لیکن رئیس امروہوی کا اندازِ بیاں جداگانہ تھا۔ ان کی شاعری میں ہجر و وصال کی تڑپ اور کلاسیکی محبوب کا تصور نئے رنگوں میں ملتا ہے۔ 1927ء کے بعد اپنا آبائی وطن چھوڑنے کی کسک اور مشرقی تہذیب سے ان کی وابستگی (ناسٹلجیا) ان کے اشعار میں نمایاں ہے:
کہسار ہمالہ کی جھلک خواب میں دیکھی
گنگا میں اُبلتے ہوئے طوفان نظر آئے
مابعد الطبیعیات، ہپناٹزم اور ہمہ گیر شخصیات
رئیس امروہوی محض ایک شاعر نہ تھے، بلکہ وہ ایک ماہر تحلیلِ نفسی (Hypnotherapist) اور روحانی علوم کے بڑے محقق بھی تھے۔ ان کی نثری تصانیف میں نفسیات، عالمِ ارواح، عالمِ برزخ، جنات، حاضراتِ ارواح، مراقبہ (Meditation) اور فلسفہ بشریات جیسے دقیق موضوعات شامل ہیں۔
ان کی علمی قابلیت کا ایک اور شاندار کارنامہ ہندومت کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ان کی وسیع القلبی اور بین المذاہب رواداری کا عظیم ثبوت ہے۔
رئیس امروہوی کا شاہکار اور منتخب کلام
رئیس امروہوی کی شاعری میں موجود کلاسیکی رنگ اور جدید حسیت کا امتزاج انہیں دیگر ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ذیل میں ان کے کلام کا منتخب اور شاہکار حصہ درج کیا جا رہا ہے:
مشہور غزل: اہرمن ہے نہ خدا ہے مرا دل
اہرمن ہے نہ خدا ہے مرا دل
حجرۂ ہفت بلا ہے مرا دلمہبط روح ازل میرا دماغ
اور آسیب زدہ ہے مرا دلسر جھکا کر مرے سینے سے سنو
کتنی صدیوں کی صدا ہے مرا دلاجنبی زاد ہوں اس شہر میں میں
اجنبی مجھ سے سوا ہے مرا دلآؤ قصد سفر نجد کریں
راہ ہے راہنما ہے مرا دلچند بے نام و نشاں قبروں کا
میں عزا دار ہوں یا ہے مرا دلنہ تقاضا ہے کسی سے نہ طلب
مدعا ہے نہ دعا ہے مرا دلراکھ بن بن کے اڑی ہے مری روح
خون ہو ہو کے بہا ہے مرا دلپہلے میں دل پہ خفا ہوتا تھا
اور اب مجھ سے خفا ہے مرا دل
مشہور غزل: اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا
رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا
حضور دوست کچھ گستاخ ہو لیتے تو اچھا تھاجدائی میں یہ شرط ضبط غم تو مار ڈالے گی
ہم ان کے سامنے کچھ دیر رو لیتے تو اچھا تھابہاروں سے نہیں جن کو توقع لالہ و گل کی
وہ اپنے واسطے کانٹے ہی بو لیتے تو اچھا تھاابھی تو نصف شب ہے انتظار صبح نو کیسا
دل بیدار ہم کچھ دیر سو لیتے تو اچھا تھاقلمرو داد خون و اشک لکھنے سے جھجکتا ہے
قلم کو اشک و خوں ہی میں ڈبو لیتے تو اچھا تھافقط اک گریۂ شبنم کفایت کر نہیں سکتا
چمن والے کبھی جی بھر کے رو لیتے تو اچھا تھاسراغ کارواں تک کھو گیا اب سوچتے یہ ہیں
کہ گرد کارواں کے ساتھ ہو لیتے تو اچھا تھا
مشہور غزل: خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہمصدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے
صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہمذرے کے زخم دل پہ توجہ کئے بغیر
درمان درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہمہر چند ناز حسن پہ غالب نہ آ سکے
کچھ اور معرکے ہیں جو سر کر رہے ہیں ہمصبح ازل سے شام ابد تک ہے ایک دن
یہ دن تڑپ تڑپ کے بسر کر رہے ہیں ہمکوئی پکارتا ہے ہر اک حادثے کے ساتھ
تخلیق کائنات دگر کر رہے ہیں ہماے عرصۂ طلب کے سبک سیر قافلو
ٹھہرو کہ نظم راہ گزر کر رہے ہیں ہملکھ لکھ کے اشک و خوں سے حکایات زندگی
آرائش کتاب بشر کر رہے ہیں ہمتخمینۂ حوادث طوفاں کے ساتھ ساتھ
بطن صدف میں وزن گہر کر رہے ہیں ہمہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ
یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم
مشہور غزل: جہاں معبود ٹھہرایا گیا ہوں
جہاں معبود ٹھہرایا گیا ہوں
وہیں سولی پہ لٹکایا گیا ہوںسنا ہر بار میرا کلمۂ صدق
مگر ہر بار جھٹلایا گیا ہوںکبھی ماضی کا جیسے تذکرہ ہو
زباں پر اس طرح لایا گیا ہوںابھی تدفین باقی ہے ابھی تو
لہو سے اپنے نہلایا گیا ہوںدوامی عظمتوں کے مقبرے میں
ہزاروں بار دفنایا گیا ہوںترس کیسا کہ اس دار البلا میں
ازل کے دن سے ترسایا گیا ہوںنہ جانے کون سے سانچے میں ڈھالیں
ابھی تو صرف پگھلایا گیا ہوںمیں اس حیرت سرائے آب و گل میں
بحکم خاص بھجوایا گیا ہوں
متفرق اور لازوال اشعار
ان کی غزلیات کے علاوہ بھی بے شمار اشعار ایسے ہیں جو ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکے ہیں:
- کتنی باتیں ہیں کہ ہیں قابلِ اظہار رئیسؔ
- اور ظاہر میں کوئی بات اِدھر ہے نہ اُدھر
* - دیکھ اے لباسِ تنگِ وجود و بقا کہ ہم
- ننگِ برہنگی سے کفن پوش ہو گئے
- آہنگ ہے کچھ اور رئیسؔ اہلِ طرب کا
- اور سازِ شکستہ کی نوا اور ہی کچھ ہے
- رئیسؔ اپنی ہنرمندی کا ہم کو
- بہت احساس ہے تاہم نہیں ہے
- تخریبِ دو عالم کا سبب بن کے رہے گی
- وہ جنگ کہ جاری ہے بشر اور خدا میں
- چل تو کسی کی انجمنِ ناز میں رئیسؔ
- تیرے لیے کہیں گے اگر بات ہو گئی
- پہلے تو ساتھ ساتھ ازل اور ابد گئے
- پھر ہم حدودِ کون و مکاں سے نکل گئے
- دل پیامِ شکیب دیتا ہے
- کیسے کیسے فریب دیتا ہے
- ہم اُس تلاطمِ پنہاں میں غرق رہتے ہیں
- جہاں زمان و مکاں ساتھ ساتھ بہتے ہیں
- آشیاں کا ماتم کیا ؟ کوئی یہ تو بتلا دے
- بجلیوں پہ کیا گذری میرے آشیانے سے
- شامل صحبتِ مے نہیں ہونے پاتے
- کچھ اسباب فراہم نہیں ہونے پاتے
- عبرت سرائے دنیا ، حیرت سرائے عقبیٰ
- یہ بھی قمار خانہ ، وہ بھی قمار خانہ
- رئیسؔ ان قافیوں میں کاوشِ شعر و سخن کیا ہو
- یہ وہ بنجر زمینیں ہیں جہاں پتھر نکلتے ہیں
- جب بھی ورائے رہ گذر دیکھتا ہوں میں
- منزل کو گردِ راہِ سفر دیکھتا ہوں میں
تصانیف، تراجم اور ادبی سرمایہ
رئیس امروہوی کی تصانیف کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ‘رئیس اکادمی’ کے زیرِ اہتمام ان کی 30 سے زائد کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن میں غزل و نظم کے پانچ ضخیم مجموعے شامل ہیں۔
شعری مجموعے اور تصانیف:
- پسِ غبار (غزلیات – 1969ء)
- الف
- حکایاتِ نے
- ملبوسِ بہار
- قطعات (چار جلدوں پر مشتمل: جلد اول 1953ء و 1987ء، جلد دوم 1987ء، جلد سوم و چہارم 1987ء)
- بحضرت یزداں (1984ء)
- نجم السحر
- آثار (1985ء)
- انا من الحسین
- ضمیرِ خامہ (1988ء)
- اچھے مرزا (1975ء)
- مثنوی لالۂ صحرا (1956ء)
بطور ناشر ان کے مختلف شمارے 1959ء، 1962ء، 1964ء اور 1966ء کی دہائیوں میں بکثرت شائع ہوئے۔
ترجمہ و تدوین:
انہوں نے تاریخی حقائق اور سوانح پر بھی گہری نظر رکھی۔ ان کی مرتب کردہ کتب میں شامل ہیں:
- عظمت شاہانہ
- المیہ مشرقی پاکستان (1974ء)
- مقالات (حصہ اول – 1975ء)
- قائد اعظم جناح: ایک قوم کی سرگزشت (ترجمہ – 1976ء)
(مآخذ: پیمانۂ غزل، جلد دوم از محمد شمس الحق)
اعزازات اور شہادت کا المیہ
ان کی ہمہ جہت ادبی، صحافتی اور فکری خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انہیں 1984ء میں تمغائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance) کے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا۔ امریکن لائبریری آف کانگریس میں ان کا پروفائل (LCCN: n85282275) ان کی عالمی شناخت کا ثبوت ہے۔ ان کے نامور شاگردوں میں شاہد احسن مراد آبادی کا نام بھی شامل ہے۔
بدقسمتی سے، علم و دانش کا یہ روشن چراغ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ 22 ستمبر 1988ء کو کراچی میں ایک نامعلوم قاتل کی گولی نے اردو ادب سے اس کے اس عظیم سپوت کو ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔ اگرچہ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کی تحریر کردہ قطعات اور غزلیں اردو ادب میں بیش قیمتی سرمایہ ہے اور ان کی یہ تحریریں آج بھی اردو کے دامن میں روشن ستاروں کی مانند چمک رہی ہیں۔
نظر ثانی و تصحیح کشف زمان
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد
