مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

2025 جولائی

پشتو لوک گیت اور ان کی مختلف اقسام

پشتو لوک گیت اور ان کی مختلف اقسام اگر کسی قوم کے مجموعی مزاج کا اندازہ لگانا ہو تو اس کے لوگ گیتوں سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی تشخص لوک گیت میں کھل کر سامنے آتا ہے۔ لوک گیت تصنع اور تکلف سے پاک ہوتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: اردو افسانے پر پشتون […]

پشتو ادب (اردو زبان میں), ,

ایہام گوئی اور شیخ حاتم

ایہام گوئی اور شیخ حاتم شاہ حاتم کا دور اردو شاعری میں ایہام گوئی کے رواج کا زمانہ تھا۔ اس عہد کے اکثر شعرا اس اسلوب سے متاثر تھے اور ایہام گوئی میں طبع آزمائی کو فنی مہارت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، بعض اوقات یہ انداز ابتذال کے قریب بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہ بھی

ادبی تحریکات, ,

پشتو کی لسانی خصوصیات

پشتو کی لسانی خصوصیات حرف تہجی جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پشتو ہند آریائی زبان مانی جاتی ہے۔ اس کا رسم الخط نسخ ہے۔ یہ عربی ، اردو اور فارسی کی طرح دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے۔ اس کے کل حروف تہجی چوالیس ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: بیسویں صدی پشتو ادب

پشتو ادب (اردو زبان میں),

افسانہ پری کا جھوٹ

افسانہ پری کا جھوٹ پر یوں کی شہزادی اپنا در بار لگائے بیٹھی تھی ۔ راگ رنگ ہو رہے تھے کہ دربان نے آکے خبر دی کہ ایک مسافر پری سیر کرنے√ آئی√ ہے۔ وہ اندر آنے کی اجازت مانگتی √ہے، شہزادی نئی پریوں کو دیکھ بہت خوش ہوئی تھی ۔ جھٹ آنے والی کو

افسانہ,

شفیع عقیل سوانح اور خدمات

شفیع عقیل سوانح اور خدمات پنجابی ادب کو اردو میں متعارف کرانے کے سلسلے میں شفیع عقیل کا نام بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے پنجاب رنگ (مطبوعہ 1968 ء )اور پنجابی کے پانچ قدیم شاعر( مطبوعہ 1970ء )میں پنجابی شعراء اور ان کے شعری کارناموں کا تفصیل سے تعارف کرایا ہے۔ ان کی کتابیں پنجاب

ادبی شخصیات (تعارف اور سوانح)

پنجابی زبان میں انشائیہ

پنجابی زبان میں انشائیہ پنجابی زبان میں انشائیہ کی صنف کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کے آٹھویں عشرے کے نصف میں ~مشتاق باسط~ کے انشائیوں کے مجموعے "سکھ دا ساہ” 1976 ء سے ہوتا ہے. جبکہ اس سے قبل اردو کی طرح اس صنف ادب کے لیے کوئی مخصوص اصطلاح نہیں برتی جاتی تھی. اور

انشائیہ, ,

پنجابی زبان میں اردو ڈرامے کا ارتقاء

پنجابی زبان میں اردو ڈرامے کا ارتقاء پنجابی زبان میں اردو ڈرامے کا پہلا دور پنجابی میں یہ صنف بھی آورہ اصناف میں سے ہے، اور اپنے جدید مفہوم میں بیسویں صدی کے اوائل سے ہی اس کا آغاز ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی زبان ترقی کی منازل طے کرنے لگتی ہے تو

ڈرامہ, , , ,