ناصر کاظمی کی غزل گوئی میں ماضی پرستی اور تقسیم ہند کا المیہ
ناصر کاظمی کی غزل گوئی میں ماضی پرستی اور تقسیم ہند کا المیہ
ناصر کاظمی کی غزل گوئی میں ماضی پرستی اور تقسیم ہند کا المیہ
ناصر کاظمی کی غزل ‘دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا’ کا تنقیدی جائزہ غزلناصر کاظمی دل دھڑکنے کا سبب یاد آیاوہ تری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوستتو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سےپھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفامر رہیں
ناصر کاظمی کی شاعری اور سوانحی حالات ناصر کاظمی سوانحی خاکہ ناصر کاظمیپیدائشسید ناصر رضا کاظمی8 دسمبر 1925انبالہ، خطۂ پنجاب، برطانوی ہندوفات2 مارچ 1972 (عمر 46 سال)لاہور، پنجاب، پاکستانقلمی نامناصرپیشہشاعری، صحافی، عملہ مدیر ریڈیو پاکستان، مصنفقومیتپاکستانی قوممادر علمیاسلامیہ کالج، لاہور، پاکستاناصنافغزلنمایاں کامپہلی بارش ناصر کاظمی اردو کے مشہور شاعر اور جدید غزل کے اہم نمائندہ
ناصر کاظمی کی حیات اور شخصیت 1. تقسیم ہند کے اثرات برصغیر کی تاریخ میں تقسیم ہند ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کو نہ کبھی ہمارے آبا واجداد فراموش کر سکے، نہ ہم کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری نسلیں کر سکیں گی۔ یہ تقسیم کیوں ہوئی؟ کون لوگ اس کے ذمے دار
اقبال کی غزل "ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں” کی تشریح اور تنقیدی جائزہ غزل دلچسپ معلوماتحصہ اول : 1905 ( بانگ درا) ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابیکوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کوکہ میں آپ کا سامنا چاہتا
اقبال کی غزل "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں” کا تفصیلی جائزہ علامہ اقبال کی غزل ( بال جبریل) ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیںیہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پرچمن اور بھی آشیاں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں | فنی و فکری جائزہ علامہ اقبال کی نظم "بال جبریل” میں یہ اشعار نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی فنی و فکری جہتوں کا جائزہ لینے سے ان کی گہرائی اور معنی کی تفہیم میں مدد ملتی ہے۔ فنی جائزہ نظم کی ساخت اقبال کی
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں | کا تنقیدی جائزہ یہ نظم علامہ محمد اقبال کی مشہور تخلیق "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں” ان کے شعری مجموعہ "بالِ جبریل” سے لی گئی ہے۔ یہ نظم ایک حوصلہ افزا اور فلسفیانہ پیغام دیتی ہے جس میں اقبال نے انسان کو اپنی حدود سے
حسرت موہانی: ایک عظیم شاعر کی زندگی اور شاعری موضوعات جدید اردو غزل کے بانی حسرت موہانی بھلاتا لاکھ ہوں مگر برابر یاد آتے ہیںالٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتیمگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں حقیقت کھل گئی
میں نہ مانا، وہ تو کہتی رہی اچھا کر لےمیں بکھرتی ہوئی دھن ہوں مجھے یکجا کر لے ہر طرف پھیل چکے ہیں مری حسرت کے نقوشمیں ہوں کھلتا ہوا منظر مجھے دھندلا کر لے دھوپ بڑھنے سے کبھی سائے نہیں کم ہوتےجا کے آکاش سے کہہ دو جو ہے کرنا کر لے میں جو