مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

2024 مئی

ناول حاصل گھاٹ کا تنقیدی جائزہ

ناول حاصل گھاٹ کا تنقیدی جائزہ ناول حاصل گھاٹ بانو قدسیہ کا تخلیق کردہ ایک ایسا ناول ہے جسے کئی اصحاب ناولٹ کا نام بھی دیتے ہیں، یہ ناول ۲۰۰۳ء میں لکھا گیا ۔ یہ ناول ۲۳۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس ناول کو بانو قدسیہ نے ہجرت کرنے والوں سے منسوب کیا ہے اس […]

اردو نثر,

ناول شہر لازوال، آباد ویرانے کا تنقیدی جائزہ

ناول شہر لازوال، آباد ویرانے کا تنقیدی جائزہ بانو قدسیہ کے مقبول عام ناولوں میں ان کے آخری ناول شہرر لازوال ، آباد ویرانے کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔ یہ ناول ۲۰۱۱ء میں لکھا گیا اور یہ ناول ۵۷۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس ناول کو باقی ناولوں کے مقابلے میں منفرد ناول قرار دیا

اردو نثر,

بانو قدسیہ کے ناولٹ موم کی گلیاں کا تنقیدی جائزہ | از ڈاکٹر شاہینہ یوسف

بانو قدسیہ کے ناولٹ موم کی گلیاں کا تنقیدی جائزہ یہ ناولٹ بانو قدسیہ کا ایک بہترین ناولٹ ہے جون۲۰۰۰ ء میں تحریر کیا گیا۔ یہ ناولٹ ۹۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اختصار کے باوجود اس ناولٹ کو نو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ناولٹ کی شروعات تقسیم سے پہلے گھر کے رہن

اردو نثر

بانو قدسیہ کے ناول پروا کا تنقیدی جائزہ | از ڈاکٹر شاہینہ یوسف

بانو قدسیہ کے ناول پروا کا تنقیدی جائزہ ناولٹ پر وا:بانو قدسیہ کی تخلیق "پر وا“ اردو ناول نگاری کی تاریخ میں ایک اہم کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔ یہ ناولٹ ۱۲۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ ناولٹ ۱۹۹۵ء میں منظر عام پر آیا۔ یہ صحیح ہے کہ یہ ناولٹ اُس درجہ کو نہ پہنچ

ناول

بانو قدسیہ کے ناولٹ ایک دن کا تنقیدی جائزہ | از ڈاکٹر شاہینہ یوسف

بانو قدسیہ کے ناولٹ ایک دن کا تنقیدی جائزہ ناولٹ ایک دن :ناول ایک دن ۱۹۹۵ء کی تحریر کردہ تخلیق ہے، جو ۱۰۸ صفحات پر مشتمل ہے، یہ ناول ” ” شہرے بے مثال اور ناول راجہ گدھ سے مختصر ہے جس کی بنا پر اسے ناولٹ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ جہاں

ناول,

ناول راجہ گدھ کا تنقیدی جائزہ | از ڈاکٹر شاہینہ یوسف

ناول راجہ گدھ کا تنقیدی جائزہ ناول راجہ بانو قدسیہ کا شاہکار ناول ہے جو ۱۹۸۱ء میں لکھا گیا۔ اس ناول کو اگر بانو قدسیہ کے فن کی معراج کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ یہی وہ ناول ہے جس نے بانو قدسیہ کو اردو ناول نگاری میں وہ مقام عطا کیا جس کی

ناول

بانو قدسیہ کے ناول شہر بے مثال کا تنقیدی جائزہ | از ڈاکٹر شاہینہ

بانو قدسیہ کے ناول شہر بے مثال کا تنقیدی جائزہ شہر بے مثال: 1975ء میں منظر عام پر آنے والا یہ ناول بانو قدسیہ کا اولین ناول ہے ۔ یہ ناول ۲۷۲ صفحات پر مشتمل ہے ، اس ناول کو اگر بانو قدسیہ کے فکری ارتقاء کی پہلی اینٹ قرار دیا جائے تو کوئی مبالغہ

ناول, ,

بانو قدسیہ کی شخصیت اور فن | از ڈاکٹر شاہینہ یوسف

بانو قدسیہ کی شخصیت اور فن انسان کی زندگی تب پرکشش یا جاذب نظر بنتی ہے جب وہ اپنی زندگی میں متاثر کن تجربات و مشاہدات کرے۔ دنیا میں بے شمار لوگ آتے ہیں اور بے شمار لوگ اپنا کردار ادا کر کے اپنی آخری منزل پر روانہ ہو جاتے ہیں ۔ غرض روز اول

دیگر تنقیدی مضامین اور جائزے

عصر حاضر میں عصمت چغتائی کے فن پاروں کی اہمیت وافادیت، افسانہ گیندا، جوانی، نھنی کی نانی،چھوئی موئی،چھوتی کا جوڑا اور دو ہاتھ کے تناظر میں

عصر حاضر میں عصمت چغتائی کے فن پاروں کی اہمیت وافادیت، افسانہ گیندا، جوانی، نھنی کی نانی،چھوئی موئی،چھوتی کا جوڑا اور دو ہاتھ کے تناظر میں اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ معاشرے کی تشکیل میں عورت ، مرد کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر چلتی رہی ہے لیکن نہ جانے کیوں

دیگر تنقیدی مضامین اور جائزے

عرش صدیقی کی شخصیت اور ادبی خدمات

عرش صدیقی کی شخصیت اور ادبی خدمات 1955 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کا امتحان پاس کیا ۔ دسمبر 1955ء سے اکتوبر 1975ء تک محکمہ تعلیم پنجاب میں انگریزی کے استاد رہے ۔ اکتوبر 1975ء سے 1978ء تک بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی کے پہلے چیئر مین اور بعد میں

ادبی شخصیات (تعارف اور سوانح),