مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ہم عصر اردو شاعری میں لفظیات اور تراکیب کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

Last Updated: January 27, 2026
Estimated Reading Time: ~8 minutes

ہم عصر اردو شاعری میں لفظیات اور زبان کا استعمال ایک ایسا موضوع ہے جس نے جدید ادبی تنقید میں خاصی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ڈاکٹر نازیہ امام کے تحقیقی مقالے کی روشنی میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح عصرِ حاضر کے شعرا نے کلاسیکی روایت سے استفادہ کرتے ہوئے نئی لغت اور تراکیب کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ یہ تحریر اردو ادب کے طلبہ کو جدید غزل کے لسانی رویوں اور اس کے فنی لوازمات کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی۔

اہم نکات:

  • شاعری میں الفاظ اور معنی کا باہمی تعلق اور جدید شعرا کا رویہ۔
  • غالبؔ کی روایتِ ترکیب سازی اور عصرِ حاضر میں اس کا تسلسل۔
  • جدید غزل میں "Cognitive” (علمی) اور "Emotive” (جذباتی) زبان کا فرق۔
  • نئی لفظیات، سائنسی اصطلاحات اور انگریزی الفاظ کا دروبست۔
  • مختلف جدید شعرا (عرفان صدیقی، شہپر رسول، عین تابش وغیرہ) کی تراکیب کی فہرست۔

عصرِ حاضر کی اردو شاعری میں کلاسیکی عناصر: سرمایہ الفاظ کا مطالعہ

الفاظ اور معنی کا جدلیاتی رشتہ: کلاسیکی تناظر

شاعری میں لفظ کی اہمیت ہمیشہ سے مسلم رہی ہے۔ یہ بحث قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے کہ شاعری میں لفظ کو اولیت حاصل ہے یا معنی کو۔ مقالے کے بابِ سوم "سرمایۂ الفاظ اور ہم عصر اردو شاعری” کے آغاز میں محققہ نے اس فلسفیانہ بحث کو چھیڑا ہے کہ لفظ محض خیال کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا اپنا ایک وجود اور روح ہوتی ہے۔

"عام طور سے لفظوں کو بے جان شے سمجھنے کی ادا کام کرتی ہے اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح جسم میں روح کی اہمیت ہے، اسی طرح لفظوں میں ان کے معنی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر یہ مکمل حقیقت نہیں اور غور و فکر کا نقطۂ نظر بدلنے کی ضرورت ہے۔” (صفحہ 32)

تنقیدی وضاحت
یہاں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ لفظ اور معنی کا رشتہ جسم اور روح جیسا تو ہے مگر لفظ کی اپنی ایک صوتی اور جمالیاتی حیثیت بھی ہے۔ ارسطو سے لے کر حالیؔ تک سب نے اس پر بحث کی ہے۔ جدید دور میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ جدید شاعر صرف بنے بنائے الفاظ پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنے تجربات کی مناسبت سے نئی لغت تراشتا ہے۔ اگر لفظ کو خیال کا لباس بھی مان لیا جائے تو یہ لباس خیال کے خدوخال کو نمایاں کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ہم عصر شاعری میں الفاظ محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ تجربے کا حصہ بن کر سامنے آتے ہیں۔

امتحان میں "لفظ و معنی کا رشتہ” کے سوال میں حالیؔ کے مقدمہ شعر و شاعری کے حوالے کے ساتھ جدید تنقیدی شعور کا تقابل کرتے ہوئے اس اقتباس کو بطور دلیل پیش کیا جا سکتا ہے۔

الفاظ کا صوتی آہنگ اور ان کی معنوی تہیں ہی جدید شاعری کو کثیر الجہت بناتی ہیں۔


ترکیب سازی کا عمل: غالب سے عہدِ حاضر تک

اردو غزل میں ترکیب سازی کی روایت انتہائی توانا رہی ہے۔ غالبؔ نے فارسی تراکیب کو اردو کے مزاج میں ڈھال کر ایک نیا راستہ دکھایا تھا۔ مقالے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ترکیب سازی محض دو لفظوں کا جوڑ نہیں بلکہ ایک تخلیقی عمل ہے جو شاعر کے فکری افق کو وسیع کرتا ہے۔

"غالب نے ایک جگہ صریرِ خامہ کو نوائے سروش کہا ہے۔ موسیقی کی اصطلاح بھی یہاں بے معنی استعمال نہیں ہوئی ہے۔ نوائے سروش اور صریرِ خامہ کی تراکیب سے غالب حقیقت میں اپنا معنوی طلسم قائم کرنا چاہتے ہیں۔” (صفحہ 33)

ہم عصر اردو شاعری میں بھی اس روایت کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ ناصر کاظمی، منیر نیازی سے ہوتے ہوئے عرفان صدیقی اور شہپر رسول تک، شعرا نے اپنے عہد کے کرب اور پیچیدہ جذبات کے اظہار کے لیے مفرد الفاظ کے بجائے مرکب تراکیب کا سہارا لیا۔ محققہ کے مطابق جدید دور میں زندگی اتنی پیچیدہ ہو گئی ہے کہ سادہ الفاظ اس کے اظہار سے قاصر ہیں۔ اس لیے شعرا کو ایسی تراکیب وضع کرنی پڑتی ہیں جو بیک وقت کئی مفہوم ادا کر سکیں۔ یہ عمل زبان کو ثروت مند بنانے کے ساتھ ساتھ شعری اظہار میں بھی ندرت پیدا کرتا ہے۔

ترکیب سازی شاعر کی خلاقی کا امتحان ہوتی ہے؛ کامیاب ترکیب وہی ہے جو اجنبیت کے باوجود قاری کے حافظے کا حصہ بن جائے۔


جدید غزل کی زبان: انکشاف اور اخفا (Cognitive vs Emotive)

عصرِ حاضر کی غزل پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس میں جذبے (Emotion) کی جگہ ذہانت (Intellect) یا "Sense” نے لے لی ہے۔ مقالے میں اس بات کا محاکمہ کیا گیا ہے کہ جدید غزل کی زبان کس طرح روایتی غزل سے مختلف ہے۔

"نئی غزل میں زبان کا مسئلہ اسی Sense سے اس کا تعلق ثانوی ہو چکا ہے اور اسی لیے نئی غزل کی نئی زبان، معنویت کی زیادہ فکر نہیں کرتی۔ وہ معنویت کی خاطر Emotion پر کنٹرول لگانے کو تیار نہیں اور ایسی کوشش کو محض Intellectualism سے تعبیر کرتی ہے۔” (صفحہ 35)

یہاں "Free Association of Ideas” (آزاد تلازمۂ خیال) کا ذکر ملتا ہے۔ جدید غزل میں شعرا نے شعوری طور پر ایسے الفاظ اور خیالات کو یکجا کیا ہے جو بظاہر بے ربط معلوم ہوتے ہیں مگر ان کی تہہ میں ایک گہرا نفسیاتی ربط موجود ہوتا ہے۔ اسے بعض ناقدین نے "Absurdity” (لایعنیت) کا نام بھی دیا ہے، مگر درحقیقت یہ جدید انسان کے بکھرے ہوئے ذہن اور انتشار کا عکاس ہے۔ جدید غزل کی زبان میں وہ ملائمت نہیں جو قدیم غزل کا خاصہ تھی، بلکہ اس میں ایک طرح کا کھردرا پن اور "Tension” ہے جو مشینی دور کی دین ہے۔


استعاراتی نظام اور سائنسی لفظیات کا نفوذ

ہم عصر شاعری نے نہ صرف کلاسیکی الفاظ کو نئے معنوں میں استعمال کیا بلکہ جدید علوم، سائنس اور نفسیات کی اصطلاحات کو بھی غزل کا حصہ بنایا۔ مقالے میں ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) کی مثال دی گئی ہے جس نے "Patient etherized upon a table” کا استعارہ استعمال کیا تھا۔ اسی طرح جدید اردو غزل میں بھی طبی اور سائنسی الفاظ نظر آتے ہیں۔

"نئی غزل نے نئے نئے الفاظ کی تلاش کے ساتھ ساتھ نئے استعارے اور نئی تشبیہات بھی پیدا کی ہیں۔ جدید شاعر کی اشاریت، ابہام اور الفاظ کی نئی ابدانیت physiology علم النفس، نباتیات اور Human Behaviour کے ایسے پیچ و خم سے گزرتی ہے۔” (صفحہ 44)

اس دور کے شعرا (مثلاً ندا فاضلی، زیب غوری، باقر مہدی، عادل منصوری) نے روایتی گل و بلبل کے استعاروں کے بجائے "ایمبولینس”، "اسفالٹ”، "سائرن”، "بلڈ پریشر” اور "سگریٹ” جیسے الفاظ کو غزل میں جگہ دی۔ یہ تبدیلی محض فیشن نہیں بلکہ یہ اس بات کی ثبوت ہے کہ غزل اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو رہی ہے۔ محققہ نے اسے "Inwardness” (درویشی/باطنی سفر) اور "Light-Spirited Seriousness” کا نام دیا ہے۔

Fig: جدید شعرا کی تراکیب (منتخب فہرست)
(مقالے کے صفحات 48 تا 60 سے اخذ کردہ اعدادوشمار)

شاعر کا ناممنتخب تراکیب (نئی ایجادات)شعری مزاج
سید امین اشرفشبِ چارہ گری، غزالِ ختن جاں، قریۂ جاں، مکتبِ فکرکلاسیکی رچاؤ کے ساتھ جدید احساس
عرفان صدیقیخانۂ درد، شہرِ طلسمات، نجدِ خیال، دستِ تہی ظرفتصوف اور کربلا کے استعارے
زاہدہ زیدیآتشِ سوزاں، شفاف آئینہ، موجِ مروت، سنگِ حقیقتفلسفیانہ اور فکری انداز
سلطان اختربرگ و شجر، خوفِ مسلسل، زنجیرِ مصلحت، عکسِ مبہمخوف اور تنہائی کا بیان
شہپر رسولطائرِ مجبور، عکسِ رواں، صحیفۂ شفاف، دشتِ لا محدودوجودی کرب اور جدیدیت
عین تابشنقشِ کفِ پا، بازارِ سخن، شہرِ طلسمات، قریۂ شوقکلاسیکی لفظیات کا نیا دروبست
خورشید اکبرقفلِ ابجدی، نقشِ طلب، جبرِ مسلسل، شاخِ مژگاںمنفرد صوتی آہنگ

>

یہ مضمون Professor of Urdu کی ادارت میں تعلیمی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ براہِ راست اقتباسات کے علاوہ تمام متن اصل اور تشریحی ہے۔



اہم نکات

  • لفظ کے بغیر معنی کی ترسیل ناممکن ہے؛ لفظ جسم ہے تو معنی روح۔
  • جدید غزل نے روایتی "تغزل” کی تعریف کو تبدیل کر دیا ہے اور اس میں غیر شعری سمجھے جانے والے الفاظ (Non-poetic diction) داخل کیے ہیں۔
  • ٹی ایس ایلیٹ کے نظریات کا اثر اردو کی جدید شاعری اور امیجری پر واضح نظر آتا ہے۔
  • "ترکیب سازی” جدید شعرا کا ایک اہم حربہ ہے جس کے ذریعے وہ اختصار کے ساتھ وسیع مفہوم ادا کرتے ہیں۔
  • سید امین اشرف، عرفان صدیقی اور شہپر رسول جیسے شعرا نے کلاسیکی تراکیب کو جدید حسیت کے ساتھ برتا ہے۔
  • جدید غزل میں ابہام (Ambiguity) اور لایعنیت (Absurdity) فنی عیب نہیں بلکہ دورِ حاضر کے ذہنی انتشار کا بیان ہیں۔

(امتحانی سوالات)

سوال 1: مقالے کے مطابق، کس شاعر نے "صریرِ خامہ” کو "نوائے سروش” سے تعبیر کیا؟
A) میر تقی میر
B) مرزا غالب
C) علامہ اقبال
D) ناصر کاظمی
درست جواب: B) مرزا غالب
(وضاحت: غالب نے اپنی ترکیب سازی سے معنوی طلسم قائم کیا۔)

سوال 2: جدید غزل میں "Emotion” (جذبے) کے مقابلے میں کس چیز کا غلبہ نظر آتا ہے؟
A) رومان (Romance)
B) موسیقی (Music)
C) ذہانت/شعور (Intellect/Sense)
D) فطرت (Nature)
درست جواب: C) ذہانت/شعور (Intellect/Sense)
(وضاحت: جدید غزل معنویت کی خاطر جذبات پر کنٹرول نہیں لگاتی بلکہ فکری سطح پر بات کرتی ہے۔)

سوال 3: "مریض جو میز پر بے ہوش پڑا ہے” (Patient etherized upon a table) کس مغربی شاعر کا مشہور استعارہ ہے جس کا ذکر مقالے میں ہے؟
A) شیکسپیئر
B) ورڈزورتھ
C) ٹی ایس ایلیٹ
D) جان کیٹس
درست جواب: C) ٹی ایس ایلیٹ
(وضاحت: یہ مثال جدید غزل کی نئی امیجری اور بھدی تشبیہات کے استعمال کے جواز میں دی گئی ہے۔)


(عمومی سوالات)

سوال: جدید غزل میں ترکیب سازی کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: جدید غزل میں پیچیدہ خیالات اور تہہ دار جذبات کے اظہار کے لیے ترکیب سازی ناگزیر ہے، کیونکہ سادہ الفاظ جدید زندگی کے کرب کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

سوال: کیا جدید غزل روایتی غزل سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے؟
جواب: نہیں، جدید غزل روایت سے مکمل نہیں کٹی بلکہ اس نے کلاسیکی عناصر (جیسے ترکیب سازی) کو برقرار رکھتے ہوئے ان میں نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں کی ہیں۔

سوال: "لائٹ اسپرٹڈ سیریس نیس” (Light-Spirited Seriousness) سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس سے مراد غزل کا وہ خاص انداز ہے جس میں گہری اور سنجیدہ بات کو بھی بظاہر ہلکے پھلکے یا طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جو جدید ذہن کی عکاسی ہے۔


نوٹ

یہ مواد ڈاکٹر نازیہ امام کے پی ایچ ڈی مقالے "عصرِ حاضر کی اردو شاعری میں کلاسیکی عناصر” (زیر نگرانی ڈاکٹر عفت زریں، دہلی یونیورسٹی) سے اخذ کیا گیا ہے۔ تحقیق کے اصولوں کے مطابق، کسی بھی علمی کام میں اس مواد کو استعمال کرتے وقت اصل مقالے کا حوالہ دینا لازمی ہے۔ یہاں پیش کردہ تجزیہ تعلیمی مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد اصل تحقیق کی تشہیر اور طلبہ کی رہنمائی ہے۔




یہ تحقیقی کام ڈاکٹر نازیہ امام نے دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں انجام دیا ہے۔ ان کا موضوع جدید شاعری میں کلاسیکی اثرات کی تلاش ہے، جو روایت اور جدت کے امتزاج پر ایک اہم دستاویز ہے۔


یہ تحریر صرف تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے پیش کی گئی ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کو اردو تحقیق کے جدید رجحانات سے روشناس کرانا ہے۔ کسی بھی امتحان یا مقالے میں استعمال سے پہلے اصل ماخذ سے تصدیق کر لیں۔


Exit Pages & Line Numbers

  • Exit Page(s): 1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 12, 15, 19, 20, 21, 22, 23, 24, 25, 26, 32.
    • Line Numbers:
      • Page 32 (Lines 1-15)
      • Page 33 (Lines 5-10)
      • Page 35 (Lines 4-12)
      • Page 41 (Lines 8-15)
      • Page 44 (Lines 10-18)
      • Page 48-60 (Tables/Lists of poets and vocabulary)

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں