کلام میر میں عشق مجاز و حقیقت کا امتزاج

کتاب کا نام ۔۔۔۔ میروغالب کا خصوصی مطالعہ1
کوڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5611
موضوع۔۔۔۔۔۔۔۔ کلام میر میں عشق مجاز و حقیقت کا امتزاج
صفحہ نمبر ۔۔۔۔ 80تا81
مرتب کردہ ۔۔۔۔ Hafiza Maryam

کلام میر میں عشق مجاز و حقیقت کا امتزاج

میر کے عشق مجازی کا سلسلہ بھی عشق حقیقی کے اسرار و معارف تک پھیلا ہوا ہے ۔ کیونکہ عشق حقیقی گھر یلو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے زمانے کا ذہنی وفکری سرمایہ بھی تھا۔ میر پہلے عشق حقیقی کی تعلیم اور لذت سے فیض یاب ہوئے۔ عشق حقیقی کے اثرات یقینا ان پر بہت گہرائی میں پڑے ۔ یہ الگ بات کہ میر اپنی ابتدائی عمر میں مشق حقیقی کے اسر او رموز سے کسی حد تک واقفیت بہم پہنچا سکے ہوں گے ۔

لیکن ابتدائی مؤثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ذہن کی ساخت ابتدائی عمر میں ہی خاص ذھب کی طرف تشکیل پانے لگتی ہے۔ ابتدائی عمر ہی میں شخصیت کے خاکے کے دھندلے نقوش مرتب ہونے لگتے ہیں۔ لڑکپن کا عبد شخصیت کی تعمیر کے حوالے سے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اس لیے ڈاکٹر جمیل جالبی نے عشق حقیقی کو بڑا دائرہ کہا ہے۔

لیکن میر معروف معانی میں صوفی شاعر نہیں ہیں۔ تاہم وہ صوفیانہ روایات کے وارث یقینا تھے۔ لیکن غیر محسوس سے عشق محالات میں سے ہے۔ اس لیے صوفی عشق حقیقی کو مانوس بنانے کے لیے مجازی عشق کی منزلوں سے گزرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

ویسے بھی شاعروں میں سوز و گداز اور گرمی و حرارت عشق مجازی کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی ۔ قصہ مختصر میں عشق مجازی کی منزل کی طرف بعد کو بڑھے۔ میر کے اس عشق میں گوشت پوست کی دنیا اور اس کے تند و تیز جذبات کی ساری گرمی موجود ہے۔

میر کے زمانے میں عشق مجازی ایک وضع داری بن کر زندگی کی ایک خاص قدر کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جس سے وہ بصیرت اور روشنی ملتی ہے کہ واعظ اور ناصح کی منافقت ، دیر و حرم کی حد بندی ، دولت کی رعونت اور تعیش کی سطحیت واضح ہو جاتی ہے۔ اس مقام پر عشق مجازی دردمند انسانیت کی آواز بن جاتا ہے یہ آواز جبر و قہر کے خلاف بلند ہوتی ہے۔ صداقت ، حسن اور خیر کی اقدار سے ہم آہنگ یہ آواز انسانیت کو بڑھاوا دیتی ہے۔

میر کی شاعری کا ایک اہم موضوع عشق ہے۔ ان کے یہاں عشق کا تصور کسی نیم جاں چراغ کی طرح نہیں ہے بلکہ ایک بے باک شعلے کی طرح ہے۔ جس کی آنچ اور تپش ان کی ہڈیوں تک کو جلائے دیتی ہے ۔ ان کی عشقیہ شاعری میں جسم کی مستی بھی ہے اور روح کی آنچ بھی۔ لیکن میر کا کمال یہ ہے کہ وہ نہ صرف جسم کے بیچ و خم میں اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں اور یہ محض حسن سے ایک روحانی رشتہ کافی سمجھتے ہیں۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں