مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

پیکریت لفظوں سے تصویر کشی کا جدید ادبی رجحان

پیکریت لفظوں سے تصویر کشی کا جدید ادبی رجحان تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

ادب کی دنیا میں الفاظ ہی سب کچھ ہوتے ہیں، لیکن جب الفاظ محض آواز یا تحریر بننے کے بجائے "تصویر” بن جائیں تو اسے پیکریت (Imagism) کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کی ادبی تحریکوں میں پیکریت کو ایک بنیادی اور انقلابی حیثیت حاصل ہے۔ یہ وہ رجحان ہے جس نے شاعری کو مبہم خیالات اور پیچیدہ فلسفوں کی دھند سے نکال کر ٹھوس حقائق اور واضح مشاہدات کی روشنی میں لا کھڑا کیا۔

اردو تنقید اور جدید شاعری کے ارتقاء کو سمجھنے کے لیے "پیکریت” کے فلسفے، اس کی تاریخ اور اس کے فنی لوازمات کو سمجھنا ازحد ضروری ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم اسی رجحان کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

تاریخی پس منظر: 1912ء کا انقلاب

پیکریت (Imagism) کا باقاعدہ آغاز 1912ء میں ہوا۔ یہ محض ایک ادبی فیشن نہیں تھا بلکہ ایک شعوری تحریک تھی جس نے مغرب کے ادبی افق پر نمودار ہو کر روایتی شاعری کے جمود کو توڑنے کی کوشش کی۔ اس رجحان کا بانی اور سرغنہ ازرا پاؤنڈ (Ezra Pound) تھا، جو جدیدیت (Modernism) کا ایک بڑا علمبردار مانا جاتا ہے۔

انیسویں صدی کی شاعری (خصوصاً رومانیت اور وکٹورین عہد) میں جذباتیت، مبالغہ آرائی اور مبہم الفاظ کا بہت زیادہ استعمال ہو رہا تھا۔ شاعر اپنے ذاتی غم اور مبہم فلسفوں میں اس قدر گم تھے کہ "شے (Object) کی اصل صورت غائب ہو رہی تھی۔ ازرا پاؤنڈ اور اس کے ساتھیوں نے محسوس کیا کہ شاعری کو اب "دھندلے بادلوں” سے نکل کر "ٹھوس زمین” پر آنے کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے تحت پیکریت کا جنم ہوا۔

پیکریت کا منشور (Manifesto)

کسی بھی ادبی تحریک کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا کوئی تحریری دستور یا منشور موجود ہے یا نہیں۔ پیکریت چونکہ ایک باقاعدہ تحریک تھی، اس لیے اس کا ایک مینی فیسٹو (Manifesto) تیار کیا گیا جس میں دو ٹوک الفاظ میں اس کے اغراض و مقاصد بیان کیے گئے۔

اردو کی ممتاز ناقد رفعت اختر نے اس تحریک کے چھے بنیادی اصولوں کو بہت عمدگی سے سمیٹا ہے۔ ان نکات کی تشریح ذیل میں دی جا رہی ہے تاکہ اس تحریک کی روح کو سمجھا جا سکے:

(1) موضوعات کا آزادانہ انتخاب اور براہ راست اظہار

پیکریت نے شاعر کو موضوع کی قید سے آزاد کر دیا۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف "حسن و عشق” یا "آفاقی مسائل” ہی شاعری کے موضوع ہو سکتے ہیں۔ پیکریت نے کہا کہ ایک "ٹوٹا ہوا گلدان” یا "گیلی سڑک” بھی اتنا ہی اہم موضوع ہے جتنا کہ محبوب کی آنکھیں۔

اصول: "موضوعات کا آزادانہ انتخاب اور براہ راست اظہار۔”

اس کا مطلب یہ تھا کہ شاعر کو چاہیے کہ وہ جس چیز کے بارے میں بات کر رہا ہے، اس پر براہِ راست (Direct) بات کرے، نہ کہ استعاروں اور تشبیہوں کے بوجھل پردوں میں اسے چھپائے۔

(2) نئے آہنگ کی تشکیل

روایتی بحریں اور وزن اکثر شاعر کے خیالات کو محدود کر دیتے ہیں۔ پیکریت نے روایتی میٹرنوم (Metronome) کی ٹک ٹک کو رد کرتے ہوئے "میوزیکل فریز” (Musical Phrase) کی بات کی۔

اصول: "نئے موڈ کے اظہار کے لیے نئے آہنگ کی تشکیل۔”

یعنی ہر نئے خیال کے لیے اس کے مطابق ایک نیا آہنگ اور لہر ہونی چاہیے۔

(3) عام بول چال کی زبان

ادبی اور ثقیل زبان اکثر قاری اور فن پارے کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔ پیکریت نے اصرار کیا کہ شاعری میں وہ زبان استعمال ہونی چاہیے جو زندہ انسان بولتے ہیں۔

اصول: "عام بول چال کی زبان میں مناسب ترین الفاظ کا استعمال۔”

یہاں "مناسب ترین” (Exact word) پر زور دیا گیا۔ یعنی ایسا لفظ جو ٹھیک ٹھیک وہی مفہوم ادا کرے جو شاعر کے ذہن میں ہے، نہ کہ کوئی سجاوٹی لفظ۔

(4) ابہام سے گریز اور شعری پیکر

پیکریت کی جان "پیکر” (Image) ہے۔ یہ تحریک ابہام (Ambiguity) کی سخت دشمن تھی۔

اصول: "شعری پیکر کا استعمال، ابہام سے گریز، Cosmic شعراء کی مخالفت۔”

یہاں "Cosmic شعرا” سے مراد وہ شعراء ہیں جو کائنات کے مبہم اور لامتناہی مسائل میں الجھ کر شاعری کو پہیلی بنا دیتے ہیں۔ پیکریت نے کہا کہ مبہم وسعتوں میں بھٹکنے کے بجائے ایک واضح اور ٹھوس تصویر پیش کرنا بہتر ہے۔

(5) ٹھوس اور یقینی رویہ

شاعری میں "شاید”، "اگر”، "مگر” جیسے الفاظ جو غیر یقینی کیفیت پیدا کرتے ہیں، پیکریت پسندوں کے نزدیک معیوب تھے۔

اصول: "شعر کی تخلیق میں غیر یقینی رویہ اختیار کرنے سے گریز۔”

فنکار کو اپنی بات پر یقین ہونا چاہیے اور اس کا مشاہدہ اتنا پکا ہونا چاہیے کہ وہ قاری کو بھی یقین دلا سکے۔

(6) ارتکاز (Concentration)

یہ پیکریت کا سب سے اہم ستون ہے۔ شاعری پھیلانے کا نام نہیں بلکہ سمیٹنے کا نام ہے۔

اصول: "ارتکاز کو شاعری کی روح قرار دینا۔ گویا ارتکاز کا Organic Rhythm اور عضویاتی آہنگ Concentration کا لازمی استعمال۔”
(حوالہ: علامت سے امیج تک، ص 74)

یعنی شاعر اپنے خیال کو اتنا نچوڑے کہ صرف جوہر باقی رہ جائے۔ فالتو تفصیلات کو حذف کرنا ہی پیکریت کا کمال ہے۔

3. فلسفہ ترسیل اور ابہام کا خاتمہ

پیکریت کا بنیادی اور حتمی مقصد "ترسیل” (Communication) ہے۔ شاعری اگر قاری تک اپنا مفہوم ہی نہ پہنچا سکے تو وہ ناکام ہے۔ پیکریت پسندوں کا ماننا تھا کہ مبہم الفاظ اور جذباتی دھندلاہٹ ترسیل میں رکاوٹ بنتی ہے۔

جب ایک شاعر کہتا ہے کہ "میں اداس ہوں”، تو یہ ایک خبر ہے، تصویر نہیں۔ قاری اس اداسی کی نوعیت کو نہیں سمجھ سکتا۔ لیکن اگر شاعر کہتا ہے کہ "خزاں رسیدہ درخت پر ایک تنہا کوا بیٹھا ہے”، تو یہ ایک پیکر ہے۔ اس تصویر کے ذریعے "اداسی” کی جو کیفیت قاری تک پہنچے گی، وہ براہِ راست بھی ہوگی اور شدید بھی۔

ادب میں اس تحریک کو اپنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ ادب کو ابہام اور اشاروں سے پاک کیا جائے۔ رومانیت نے شاعری کو بہت زیادہ داخلیت (Subjectivity) میں ڈبو دیا تھا، جہاں شاعر کے ذاتی جذبات ہی سب کچھ تھے۔ پیکریت نے فنکار کو اس داخلیت سے نکال کر خارجیت (Objectivity) کی طرف متوجہ کیا۔

داخلیت سے خارجیت کا سفر

پیکریت نے شاعر کو سکھایا کہ وہ اپنی ذات کا رونا رونے کے بجائے اپنے آس پاس کا نظارہ کرے۔ وہ اپنی آنکھ کو کیمرے کے لینس کی طرح استعمال کرے اور جو کچھ دیکھے، اسے پوری ایمانداری اور جزئیات کے ساتھ الفاظ میں منتقل کر دے۔

  • یہ جذبات کی نفی نہیں تھی، بلکہ جذبات کو اشیاء کے ذریعے ظاہر کرنے کا عمل تھا۔
  • شاعر کو اب "آئینے” میں خود کو نہیں دیکھنا تھا، بلکہ "کھڑکی” سے باہر کی دنیا کو دیکھنا تھا۔

4. اردو ادب اور پیکریت

اگرچہ پیکریت بطور تحریک 1912ء میں مغرب میں شروع ہوئی، لیکن پیکر تراشی (Imagery) کی جھلک ہر دور کی عظیم شاعری میں ملتی ہے۔ انسانی ذہن فطرتاً تصویروں میں سوچتا ہے، اس لیے قدیم شعراء کے ہاں بھی ایسے اشعار ملتے ہیں جو جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔ میر تقی میر، مرزا غالب اور انیس کے ہاں پیکر تراشی کے بہترین نمونے موجود ہیں۔ جس میں شاعر لفظوں کے ذریعے ایسی تصویریں اور مناظر کے تاثر پیدا کرتا ہے کہ قاری دنگ رہ جاتا ہے۔

تاہم، جدید اردو شاعری میں یہ رجحان ایک شعوری کوشش کے طور پر سامنے آیا۔ جدید شعراء نے محسوس کیا کہ روایتی غزل کی علامتیں (گل و بلبل، قفس و آشیاں) اب فرسودہ ہو چکی ہیں اور نئے دور کے پیچیدہ حقائق کو بیان کرنے کے لیے "نئے پیکروں” کی ضرورت ہے۔

اردو کے اہم پیکری شعراء

جدید دور کے کئی نامور شعراء نے پیکریت کے رجحان کو اپنایا اور اردو نظم کو نئی بصری جہتوں سے روشناس کرایا۔ ان میں چند اہم نام درج ذیل ہیں:

  • اختر الایمان: ان کی نظموں میں ماضی کی یادیں ٹھوس پیکروں کی شکل میں ابھرتی ہیں۔
  • مجید امجد: مجید امجد اردو کے سب سے بڑے "آبزرور” (Observer) شاعر ہیں۔ وہ درختوں، سڑکوں اور معمولی اشیاء کو جس باریک بینی سے دیکھ کر الفاظ کا پیکر عطا کرتے ہیں، وہ پیکریت کی بہترین مثال ہے۔
  • ناصر کاظمی: ان کی غزلوں اور نظموں میں اداسی ایک بصری پیکر بن کر سامنے آتی ہے۔
  • بشر نواز، بلراج کومل اور مجیب الرحمن وغیرہ کے پاس بھی پیکریت کی عمدہ مثالیں مل جاتی ہیں۔

یہ شعراء صرف جذبات کا اظہار نہیں کرتے بلکہ جذبات کو مجسم (Personify) کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاں لفظ "سننے” سے زیادہ "دیکھنے” تعلق رکھتے ہیں۔

5. ازرا پاؤنڈ کا نظریہ: تصویر بمقابلہ بیان

پیکریت کو سمجھنے کے لیے اس کے بانی ازرا پاؤنڈ (Ezra Pound) کی تعریف پر غور کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتا ہے:

"پیکریت ذہنی یا جذباتی کیفیات کی مصورانہ پیش کشی کا نام ہے جس میں فنکار لفظوں میں نہیں تصویروں یا پیکروں کے ذریعہ سوچتا ہے۔"

یہ بہت گہری بات ہے۔ عام طور پر ہم الفاظ میں سوچتے ہیں، لیکن ایک مصور یا پیکری شاعر کے ذہن میں پہلے "تصویر” بنتی ہے۔

  • عام آدمی کی سوچ: "آج بہت گرمی ہے۔” (یہ ایک بیان ہے)۔
  • فنکار کی سوچ: "سوکھے ہوئے ہونٹ، تپتی ہوئی سڑک اور پانی کی خالی بوتل۔” (یہ ایک پیکر ہے)۔

عام آدمی کی سوچ بھی بکھری ہوئی تصویروں کی شکل میں ہو سکتی ہے لیکن ایک فنکار ہی ان تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر پیکر عطا کرتا ہے۔ فنکار کا کمال یہ ہے کہ وہ بکھرے ہوئے مشاہدات کو ایک "مرکوز نقطے” (Focal Point) پر لاتا ہے اور الفاظ کا انتخاب اتنی مہارت سے کرتا ہے کہ پڑھنے والا اسی تجربے سے گزرتا ہے جس سے شاعر گزرا تھا۔

پیکریت نے اردو ادب، خاص طور پر نظم کو ایک نیا مزاج دیا۔ اس نے شاعروں کو سکھایا کہ:

  1. مختصر لکھنا طویل داستان گوئی سے بہتر ہے۔
  2. دکھانا (Show) بتانے (Tell) سے زیادہ مؤثر ہے۔
  3. ٹھوس حقائق مبہم تصورات سے زیادہ جاندار ہوتے ہیں۔

آج کی جدید اردو شاعری میں اگر ہمیں جزئیات نگاری، منظر کشی اور بصری آہنگ نظر آتا ہے تو یہ اسی "پیکریت” کے رجحان کا فیضان ہے جس نے لفظوں کو تصویر بننے کا ہنر سکھایا۔

پروف ریڈنگ : مصطفی

1 خیال ”پیکریت لفظوں سے تصویر کشی کا جدید ادبی رجحان“ پر

  1. profoundlya9d7aa33a4

    معذرت کے ساتھ لیکن یہ پورا مضمون الجھن پیدا کرتا ہے۔ نامعلوم الفاظ کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے جو عام قاری کو سمجھ نہیں آتا۔ خیالات اور خیالات کا صحیح ابلاغ کسی بھی تحریر کا کلیدی عنصر ہوتا ہے لیکن آپ لوگ جو کر رہے ہیں وہ مایوس کن ہے

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں