موضوعات کی فہرست
بے نظیر بھٹو اور عابدہ حسین: خودنوشت کے آئینے میں پاکستانی سیاست اور معاشرت
اردو ادب میں خودنوشتوں کا رواج ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ ادیب، شاعر، سیاست دان، نوکر شاہی اور میڈیا سے وابستہ افراد نے اپنے ذاتی تجربات کو کتابی صورت میں محفوظ کیا ہے۔ یہ خودنوشتیں محض ذاتی زندگی کی روداد نہیں ہوتیں بلکہ غیر رسمی تاریخ کے طور پر بھی اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو اپنے نقطۂ نظر کے مطابق پیش کیا اور یوں معاشرتی اور تاریخی حقائق محفوظ ہوتے چلے گئے۔
عام طور پر ادیبوں اور شاعروں کی خودنوشتیں شوق سے پڑھی جاتی ہیں، تاہم سیاست دانوں کی خودنوشتیں اس لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں کہ ان میں اقتدار کے ایوانوں کے اندرونی معاملات، سیاسی انکشافات اور ریاستی نظام کے وہ پہلو سامنے آتے ہیں جو عام طور پر پوشیدہ رہتے ہیں۔
پاکستانی سیاست اور خواتین خودنوشت نگار
پاکستان میں سیاست دانوں کی خودنوشتوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، مگر خواتین سیاست دانوں کی خودنوشتیں تعداد میں کم ہونے کے باوجود فکری وسعت، جرأت اظہار اور اہم انکشافات کے باعث خاص مقام رکھتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور عابدہ حسین پاکستانی سیاست کی دو ایسی نمایاں خواتین ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی اور ذاتی تجربات کو خودنوشت کی صورت میں محفوظ کیا۔
دونوں نے اپنی یادداشتیں انگریزی زبان میں تحریر کیں جن کے بعد ان کے اردو تراجم بھی شائع ہوئے۔ اگرچہ ترجمہ اصل کا مکمل متبادل نہیں ہو سکتا، تاہم اس کے ذریعے یہ تجربات اردو پڑھنے والے وسیع حلقے تک پہنچ گئے۔
بے نظیر بھٹو کی خودنوشت "Daughter of the East”
محترمہ بے نظیر بھٹو کا شمار پاکستان کے ذہین ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ ان کی خودنوشت Daughter of the East پہلی مرتبہ 1989ء میں شائع ہوئی، جو بعد میں اردو زبان میں مشرق کی بیٹی کے عنوان سے منظر عام پر آئی۔ اس کا اردو ترجمہ سجاد بخاری اور ان کے معاون مترجم اسکواڈرن لیڈر (ر) عبدالعلی شوکت نے کیا۔ یہ کتاب نومبر 1995ء میں اسلام آباد سے شائع ہوئی، 620 صفحات پر مشتمل ہے اور رنگین تصاویر سے مزین ہے۔
یہ خودنوشت نہ صرف پاکستانی سیاست بلکہ معاشرت کے حوالے سے بھی ایک جامع دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کو اٹلی میں کیمسو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ملکی مصروفیات کے باعث بے نظیر بھٹو خود یہ اعزاز وصول نہ کر سکیں اور ان کی جگہ ان کی والدہ محترمہ نصرت بھٹو نے اس تقریب میں شرکت کی۔
خودنوشت کا مقصد اور فکری زاویہ
بے نظیر بھٹو اپنی خودنوشت کے دیباچے میں واضح کرتی ہیں کہ یہ ان کی ذاتی کہانی ہے، وہ واقعات جنہیں انہوں نے خود دیکھا، محسوس کیا اور جن پر ردعمل ظاہر کیا۔ ان کے مطابق یہ کتاب پاکستانی معاشرے کا گہرائی میں مطالعہ نہیں بلکہ جمہوریت سے آمریت کی طرف منتقل ہوتے ہوئے معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ہے، جسے آزادی کی آواز بھی کہا جا سکتا ہے۔
بے نظیر بھٹو نے پاکستانی سیاست کا نہ صرف گہرا مطالعہ کیا بلکہ عملی سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ دو مرتبہ پاکستان کی منتخب وزیر اعظم رہیں اور اقتدار کے نشیب و فراز کو براہِ راست دیکھا اور برتا۔
پردہ، روایت اور معاشرتی اقدار
بے نظیر بھٹو اپنی خودنوشت میں پردے کو محض مذہبی حکم کے طور پر نہیں بلکہ ایک معاشرتی اور تہذیبی قدر کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ برصغیر خصوصاً ہندوستانی معاشرے میں پردہ بڑے گھروں کی عورتوں کے لیے عزت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
وہ ایک واقعہ بیان کرتی ہیں کہ کراچی سے لاڑکانہ جاتے ہوئے ان کی والدہ نے ایک سیاہ کپڑا نکال کر انہیں اوڑھا دیا اور کہا کہ اب تم بھی پردے میں ہو۔ یہ واقعہ قدامت پسند جاگیردار معاشرے میں عورت کے لیے رائج روایات کی علامت ہے۔
قبائلی معاشرت، جرگہ سسٹم اور ونی
بے نظیر بھٹو سندھ کے قبائلی علاقوں میں رائج جرگہ سسٹم اور رسم و رواج پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ قبائلی معاشرت میں عورت کو زمین اور مویشیوں کی طرح ذاتی جائیداد سمجھا جاتا ہے۔ قتل کے بدلے قاتل کی بیٹی یا بہن کو مقتول کے خاندان کے حوالے کرنا، جسے "ونی” کہا جاتا ہے، ایک عام روایت رہی ہے۔
وہ ایک واقعے کا ذکر کرتی ہیں جس میں ایک بوڑھا شخص پرانے قتل کے بدلے خاندان میں پیدا ہونے والی پہلی بیٹی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مثال قبائلی نظام میں عورت کی حیثیت اور اس پر ہونے والے ظلم کو نمایاں کرتی ہے۔
عوامی اعتقادات اور توہمات
بے نظیر بھٹو سندھی معاشرے میں موجود عوامی اعتقادات اور توہمات کا ذکر بھی اپنی خودنوشت میں کرتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ ان اعتقادات سے نفرت نہیں کرتیں بلکہ انہیں معاشرتی وابستگی کا حصہ سمجھتی ہیں۔ ایک واقعے میں وہ بیان کرتی ہیں کہ قرآن خوانی کے بعد ان کے سر پر نمک چھڑکا گیا اور خواتین نے اس سے بیٹے کی پیدائش کی پیش گوئی کی۔
یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی روایتی اعتقادات سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو سکتا۔
جمہوریت اور سیاسی نظریہ
بے نظیر بھٹو کے نزدیک جمہوریت کسی بھی ریاست کو مضبوط کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ آمریت میں سیاسی جماعتیں پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ وہ مثال دیتی ہیں کہ جس طرح صحرا میں پھول نہیں کھل سکتے، اسی طرح آمریت میں سیاسی جماعتیں بھی نشوونما نہیں پا سکتیں۔
وہ اس حقیقت پر زور دیتی ہیں کہ جمہوریت کے لیے قربانیاں دینے والے افراد اور عوام ہی کسی ریاست کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔
عابدہ حسین: سیاست اور سفارت کا تجربہ
عابدہ حسین پاکستانی سیاست میں بے نظیر بھٹو کے بعد نمایاں ترین خاتون سیاست دانوں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ نہ صرف سیاست بلکہ سفارت کاری کے میدان میں بھی اپنی شناخت رکھتی ہیں۔ ان کا تعلق ایک سیاسی خانوادے سے ہے۔ ان کے والد سید عابد حسین دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے جبکہ ان کے شوہر فخر امام پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں۔
عابدہ حسین کا سیاسی سفر کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی سے سیاست کا آغاز کیا، بعد ازاں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ کام کیا اور 2006ء میں دوبارہ پیپلز پارٹی سے وابستہ ہوئیں۔ ان کے سیاسی تجربات پاکستانی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں۔
پاکستانی سیاست میں خودنوشتوں کی روایت
پاکستان میں سیاست دانوں کی جانب سے اپنے سیاسی تجربات کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے کا رجحان وقت کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک مثبت رجحان ہے کیونکہ اس کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے سیاسی تاریخ اور ذاتی مشاہدات محفوظ ہو رہے ہیں۔ ماضی میں سیاست دان خودنوشت لکھنے کے لیے جیل جانے کا انتظار کیا کرتے تھے، جبکہ اب یہ عمل نسبتاً آزاد ماحول میں انجام پا رہا ہے۔
حوالہ جات (References)
- بھٹو، بے نظیر — Daughter of the East، پہلی اشاعت 1989ء۔
- بھٹو، بے نظیر — مشرق کی بیٹی (اردو ترجمہ)، سجاد بخاری، عبدالعلی شوکت، مساوات پبلی کیشنز، اسلام آباد، 1995ء۔
- جرنل آف ریسرچ (اردو)، شمارہ 30، دسمبر 2016ء۔
- درنشین نقوی — بے نظیر بھٹو کی سوانح حیات پر تبصرہ، جرنل آف ریسرچ (اردو)۔
- مضمون: پاکستانی سیاست کے دو نسوانی کردار: خودنوشت کے آئینے میں (بے نظیر بھٹو اور عابدہ حسین)۔
مزید یہ بھی پڑھیں: اردو ناول میں نسوانی کرداروں کی نشوونما
