مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ناول کا مفہوم، فن اور ارتقائی سفر

ناول کا مفہوم، فن اور ارتقائی سفر تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

ناول کی تعریف اور پس منظر

لفظ "ناول” کی اصل اطالوی زبان کے لفظ "ناویلا” (Novella) سے جڑی ہے، جس کے لغوی معنی "نیا” کے ہیں۔ انگریزی زبان میں قصہ گوئی کی اس خاص صنف کو ناول کا نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس کا اندازِ بیان اور پیشکش کا ڈھنگ پرانے قصوں اور داستانوں کے مقابلے میں بالکل نیا اور اچھوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اردو ادب میں ناول نگاری کی تاریخ، ارتقاء اور اہمیت

اگرچہ انگریزی ادب میں کہانی سنانے اور داستانوں کی روایت بہت قدیم ہے اور اسے ناول کی موجودہ شکل تک پہنچنے میں صدیوں کا طویل سفر طے کرنا پڑا، لیکن اس کی باقاعدہ نشوونما نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد ہوئی۔ 

جب یورپ میں ذہنی بیداری آئی اور سماج کے ہر شعبے میں انقلاب برپا ہوا، تو ان تبدیلیوں نے نہ صرف معاشرے کو متاثر کیا بلکہ ادب میں بھی نئی راہیں کھولیں۔ کم و بیش انہی سماجی تبدیلیوں کے زیرِ اثر ناول وجود میں آیا۔ 

اردو ادب میں اس مقبول صنف کو مغرب سے اخذ کیا گیا اور وہاں جنم لینے والی مختلف ادبی تحریکوں نے یہاں کے ناول کو بھی مسلسل متاثر کیا۔

فنِ ناول نگاری زندگی کی ترجمانی

ناول نگاروں نے اس صنف میں انفرادی اور اجتماعی انسانی احساسات، جذبات اور مشاہدات کے ساتھ ساتھ سماجی، تہذیبی اور معاشی رجحانات کو بھی پیش کیا ہے۔ 

گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ناول اپنے دور کے مختلف انسانی تجربات اور مشاہدات کو سلیقے اور ہنرمندی سے پیش کرنے کا نام ہے۔ 

ناول دراصل اس نثری صنف کو کہتے ہیں جس میں ایسا قصہ بیان کیا جائے جو زندگی کی بھرپور ترجمانی کرتا ہو۔ اس کا فن بنیادی طور پر معاشرتی یا انفرادی زندگی کی تصویر کشی کا فن ہے۔ 

ناول نویس اپنی فکر اور خیال کی مدد سے ایک ایسی نئی حقیقت دنیا کے سامنے لاتا ہے جو اصل زندگی کی سچائیوں سے ہی اخذ کی گئی ہوتی ہے۔

مغربی ناقدین کی آراء

انگلستان کی معروف ادیبہ کلارا ریوز (Clara Reeve) اس فن کی تعریف ان الفاظ میں کرتی ہیں:

"ناول اس دور کی زندگی اور معاشرت کی وہ کچی اور کھری تصویر ہے جس زمانے میں اسے لکھا جائے۔”(1)

آرنولڈ بینیٹ لکھتے ہیں کہ:

"ناول نگار وہ ہے جو زندگی کا گہرا مطالعہ کرے اور اس سے اس قدر متاثر ہو کہ اپنے مشاہدے کا حال دوسروں سے بیان کیے بغیر نہ رہ سکے، اور اپنے جذبات کے اظہار کے لیے قصہ گوئی کو سب سے موزوں پیکر سمجھے۔”(2)

بیکر کا قول ہے کہ:

"ناول ایک نثری بیانیہ ہے جو قصے کے ذریعے انسانی زندگی کی ترجمانی کرتا ہے۔”(3)

ہنری جیمز کے مطابق ناول کی سب سے وسیع تعریف یہ ہے کہ:

"وہ زندگی کا ذاتی اور براہِ راست تاثر پیش کرتا ہے۔”(4)

بعض دیگر ناول نگاروں کا خیال ہے کہ ناول انسانی اعمال اور تخیلات کی مرقع کشی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جس میں نظم جیسی تخلیقی قوت، تاریخ جیسی تفصیل اور فلسفیانہ تجربات اس انداز میں پیش کیے جائیں کہ اس سے پہلے کسی نے بیان نہ کیے ہوں۔ 

ان تعریفوں کے پس منظر میں فیلڈنگ کے علاوہ دیگر ناقدین کی رائے ہے کہ ناول کو حقیقت نگاری تک محدود رہنا چاہیے۔ اسی خیال نے انگلستان کے مایہ ناز ادیب ایچ۔ جی۔ ویلز کو یہ لکھنے پر مجبور کیا کہ ہر اچھے ناول کی پہچان اس کی حقیقت نگاری ہے اور اس کی غرض زندگی کی نمائش ہے۔ 

ان کے مطابق ناول میں حقیقی زندگی اور سچے واقعات پیش کرنے چاہییں نہ کہ وہ واقعات جو کتابوں سے مستعار لیے گئے ہوں۔ 

جہاں تک فیلڈنگ کا معاملہ ہے، وہ المیہ (Tragedy) کو ناول کے موضوع سے باہر سمجھتے ہیں۔ وہ ناول کو تفریح اور طبع آزمائی کا آلہ بھی سمجھتے ہیں اور اصلاح کا ذریعہ بھی۔

 تاہم، اس طرح کی سوچ کو مکمل یا جامع نہیں کہا جا سکتا۔

اردو ناقدین اور ناول کی وسعت

بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کی عکاسی کی جتنی گنجائش ناول میں موجود ہے، اتنی ادب کی کسی اور صنف کو میسر نہیں۔

 ناول کے ذریعے انسان کی سماجی وابستگی اور تاریخی حیثیت کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ادب میں انسان اور سماج کے مابین رشتوں کی تحقیق کے لیے سب سے پہلے ناول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد حسن ناول کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ناول زندگی کی تصویر ہی نہیں بلکہ تفسیر بھی ہے۔ اس میں زندگی کی عام حقیقتوں کی سچائیاں ایسے انداز میں واضح کی جاتی ہیں کہ پڑھنے والوں کو ان کا گہرا شعور ہو جائے۔ ناول زندگی کا اظہار ہے جس نے ان کی سچائیوں کی عمومیت کو اپنے اندر جذب کر لیا ہو۔”(6)

ڈاکٹر قمر رئیس اور خلیق انجم لکھتے ہیں:

"در اصل ناول کا فن ایک مخصوص نقطہ نظر سے زندگی کی تصویر کشی کا فن ہے۔ حقیقت کو تخلیق کا روپ دے کر یا تخلیق کو حقیقت کا جامہ پہنا کر اس طرح پیش کرنا کہ قصہ کی حیثیت سے اس کے تمام اجزا میں تال میل اور ہم آہنگی قائم رہے، ناول کہلاتا ہے۔”(7)

وقار عظیم کے الفاظ میں:

"ناول کے ناقدین اور خود ناول نگاروں نے جو تعریفیں کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ناول وسعتوں کا حامل ہے، یعنی زندگی کو اس طرح ادب کے سانچے میں ڈھالنا کہ اس کی ساری وسعتیں اور گہرائی اس سانچے میں سما سکیں، ادب کی کسی اور صنف کے ذریعے ممکن نہیں سوائے ناول کے۔”

ڈاکٹر عظیم الشان صدیقی کے مطابق:

"یہ اسی دنیا کے جیتے جاگتے انسان کا عکس ہے، جو کائنات کی دیگر مخلوقات کے مقابلے میں زیادہ قریب بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ اس پیچیدہ انسان کے نظریات، جذبات اور تخیل کی سرگزشت کو جب بیانیہ نثر میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ ناول کہلانے لگتا ہے۔ چونکہ پیچیدگی اس کے موضوع کی فطرت میں شامل ہے اس لیے ناول کو بھی ادب کی پیچیدہ صنف قرار دیا گیا۔”(8)

حقیقت نگاری اور کردار نگاری

مذکورہ خیالات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ناول کا فن ہی زندگی اور معاشرے کی حقیقی تصاویر کے نقوش کو اجاگر کر سکتا ہے۔ 

ناول انسانی زندگی کی مکمل تصویر ہے اور اس کے کردار حقیقی و فطری زندگی کے انتہائی قریب ہوتے ہیں۔ 

ان کرداروں کے ذریعے ناول نگار سماج کے پیچیدہ مسائل اور عصری تقاضوں کو فنکارانہ انداز میں پیش کرتا ہے، جس کی وجہ سے ناول نگار کو اپنے عہد کا مصور کہا جاتا ہے۔

ہندی ناول نگار راجندر سنگھ بیدی کے مطابق:

"یہ حقیقت ہے کہ آج ناول کی اہمیت ادب کی دوسری تمام اصناف سے زیادہ ہے، کیونکہ یہ انسان کی زندگی کے توازن کو بیان کرنے میں پوری قوت رکھتا ہے۔”(9)

پریم چند کا قول ہے:

"میں ناول کو انسانی کردار کا آئینہ سمجھتا ہوں۔ انسانی کردار پر روشنی ڈالنا اور اس کے رموز و نکات کو واضح کرنا ہی ناول کا خاص وصف ہے۔”(10)

ڈاکٹر جمیل جالبی نے ناول کی تعریف یوں بیان کی ہے:

"وہ نثری قصہ جس میں کم و بیش پیچیدہ پلاٹ کے ساتھ حقیقی زندگی کے کردار، افعال اور مناظر پیش کیے جاتے ہیں۔”(11)

ڈاکٹر سہیل بخاری کے مطابق:

"فن کی رو سے ناول اس نثری قصے کو کہتے ہیں جس میں کسی خاص نقطہ نظر کے تحت زندگی کے حقیقی واقعات کی عکاسی کی گئی ہو۔”(12)

ان تمام اقتباسات کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ناول وہ نثری قصہ ہے جو انسانی نفسیات پر گہرا تبصرہ کرتا ہے، جس میں زندگی کے مسائل پیش ہوتے ہیں اور جو ایک خاص نقطہ نظر پر حل ہوتے نظر آتے ہیں۔ 

پورب میں ناول کی دونوں اقسام (رومانی اور نفسیاتی) کی بہتات ہے۔ جس طرح رومانی ناول لکھنے والوں کی کثرت ہے، اسی طرح نفسیاتی ناول نگار بھی موجود ہیں.

البتہ ہندوستان میں اب تک رومان ہی کا زیادہ فروغ ہوا ہے اور نفسیاتی ناولوں کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

داستان سے ناول تک کا سفر

انسان اپنی پریشانیوں اور ذہنی الجھنوں کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا رہا ہے۔ کہانی اور قصے اس کا بہترین ذریعہ رہے ہیں، کیونکہ ان کی پناہ میں خواہشات کی تکمیل پوشیدہ ہوتی ہے، جسے پڑھ کر ذہنی و قلبی سکون ملتا ہے۔

وقار عظیم نے اسے کچھ یوں بیان کیا ہے:

"یہ سب داستانیں پڑھنے والوں کے لیے ایسی تفریح، دلچسپی اور ذہنی انبساط کا سرمایہ مہیا کرتی ہیں جس میں منطق اور استدلال کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ ان داستانوں کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ وہ پڑھنے والے کی دلچسپی کا ذریعہ بن سکیں۔”(12)

وہ آگے لکھتے ہیں:

"داستانوں نے انسان کے لیے عملی زندگی کا ایک ایسا ضابطہ مرتب کیا جس میں عیش و عشرت کی فراوانی ہے۔ جرات و ہمت کے بدلے جادو اور دولت ہے، عارضی سخت کوشی کے بدلے دائمی راحت ہے۔ عملی زندگی سے فرار اور حقیقت سے چشم پوشی داستانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔”(13)

لیکن حقائق کو بہت دنوں تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب انسانی شعور میں بالیدگی اور پختگی پیدا ہوئی تو انسان نے فطرت سے بھاگنے کے بجائے اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ 

وقت کی ضرورت کو محسوس کیا گیا کہ زمانہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ضروریاتِ زندگی کا تقاضا بڑھ چکا ہے اور روزی روٹی کا بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ 

انہی تلخ حقیقتوں اور مسائل کے اظہار کے لیے ناول وجود میں آیا۔

چونکہ داستانیں اس عہد کا تقاضا تھیں جب لوگوں کے پاس فرصت اور فراغت تھی۔ انسان ہر وقت پریشان اور خوفزدہ رہتا تھا، اس لیے اس نے مجبور ہو کر خیالی دنیا میں پناہ لی اور داستانوں کی خوشگوار چھاؤں میں سکون تلاش کیا تاکہ اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہو سکے۔ 

لیکن جب وقت نے کروٹ بدلی، ملک غلام ہو چکا تھا، ہندوستان پر انگریزوں کی حکمرانی اور ان کی زبان کا تسلط قائم ہو چکا تھا، تو دانشوروں نے اس بدلی ہوئی فضا میں انگریزی ادب کا اثر قبول کر کے ناول کا آغاز کیا۔ 

داستانوی ادب پر نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک دور گزر چکا تھا، قدیم قصوں کا باب بند ہو رہا تھا اور ناول کے ارتقائی دور کا آغاز ہو رہا تھا۔

اگرچہ ناول کے آغاز کے بارے میں حتمی بات کہنا مشکل ہے، مگر تقریباً 1200 عیسوی کے آس پاس کچھ مصری ادیب ایسی کہانیاں تخلیق کر رہے تھے جو ناول کے غیر شعوری تجربات کہے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ناول کا باقاعدہ
فنی آغاز اسپین میں ہوا۔

حواشی

  1. اردو ناول کی تاریخ و تنقید علی عباس حسینی مطبع ایم کے آفسیٹ پرنٹرس ، دہلی ۲۰۱۱، ص ۳۷

2. ایضاً ص ص ۳۸

3. ایضاً ص ۴۰

4. اردو ناولٹ کا تحقیق و تنقیدی تجزیہ، ڈاکٹر سید وضاحت حسین رضوی ، ص ۲۰۲

6. شب خون ، ڈاکٹر محمد حسن، ص ۴

7. اصناف ادب اردو ، ڈاکٹر قمر رئیس د خلیق انجم ص ۹۰

8. افسانوی ادب ، ڈاکٹر عظیم الشان صدیقی ، ۱۹۸۳ء، مطبع نیو پبلک پریس، دہلی ہی ۴

9. ۱۲۔ اپنیاس کار ، بھگوئی چون درما ( ڈاکٹر ارجن سا ہو ) گرنتھاون سروے نگر، سانتی گیٹ علی گڑھ ۱۹۸۹۰ء ص ۱۷

10. اپنیاس کار، بگومتی چون در ما ( ڈاکٹر ارجن سا ہو ) ص ۱۸

11. قومی انگلش اردوڈ کشنری ( ڈاکٹر جمیل جالبی ) جلد : دوم ۱۹۹۳، ص ۱۸۲۸

12. اردو ناول نگاری ( ڈاکٹر سہیل بخاری ) دہلی ہن ۱۹۷۲ ء ص ۱۱

12. داستان سے افسانے تک، ( وقار عظیم ) کراچی ۱۹۸۷، ص ۱۰

13. داستان سے افسانے تک، ( وقار عظیم ) کراچی ۱۹۸۷، ص ۱۳

پروف ریڈنگ: فہد عظیم علی
طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں