مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ضلع اعظم گڑھ: تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی مطالعہ


ضلع اعظم گڑھ: تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی مطالعہ

زمانہ قدیم میں اس خطے کا کوئی مخصوص نام نہیں تھا اور آبادی انتہائی کم تھی۔ دور دور تک صرف گھنے جنگلات پھیلے ہوئے تھے، جن میں تارک الدنیا سادھوؤں، سنتوں اور سنیاسیوں نے تپسیا کرنے کے لیے جا بجا اپنی کٹیا اور عبادت گاہیں بنا رکھی تھیں۔ (۱) ان قدیم روایات کے اثرات آج بھی یہاں کی معاشرتی زندگی پر نمایاں ہیں اور اس سرزمین پر روحانیت کا غلبہ محسوس ہوتا ہے۔

یہ سرزمین سیاسی طور پر دو ریاستوں کے زیرِ اثر تھی؛ مغرب میں "کوشل راج” (اجودھیا) اور مشرق میں "کاشی راج” (بنارس)، جبکہ درمیان میں بہنے والی ٹونس ندی ان کی سرحد تھی۔ بیرونی افواج کے حملوں کے خوف سے جب راجپوتوں نے اجودھیا سے ہجرت کی تو انہوں نے اعظم گڑھ اور فیض آباد کے علاقوں میں پناہ لی۔ چنانچہ آج بھی یہاں راجپوتوں کی کئی قدیم بستیاں موجود ہیں؛ قصبہ چریا کوٹ، موضع بندول، بلریا گنج اور شاہ گڑھ وغیرہ میں راجپوت خاندان آباد ہیں۔

سیاسی تاریخ اور قدیم حکمران
وقت کے ساتھ ساتھ یہاں اقتدار کی رسہ کشی چلتی رہی۔ چندر بنسی راجہ "پرورددا” اور ان کے جانشین راجہ بانات نے سورج بنسی راجہ کو شکست دے کر اس علاقے کو اپنی وسیع سلطنت میں شامل کر لیا۔ (۲) کبھی یہ خطہ کوشل ریاست، کبھی مگدھ سلطنت اور کبھی قنوج (فرخ آباد) کے راجاؤں کے زیرِ حکومت رہا۔

مؤرخ قاضی اطہر مبارکپوری قدیم قبائل کے بارے میں لکھتے ہیں:
"ضلع اعظم گڑھ کے حدود میں جن میں یہ قصبہ یعنی مبارکپور بھی واقع ہے، پہلے زمانے میں چار قومیں آباد تھیں: سیوری، بھر، راج بھر اور چیرو۔ مگر ان میں ’بھروں‘ کو غلبہ و اقتدار حاصل تھا۔ ان میں چار مشہور راجے گزرے ہیں: (1) راجہ بیل دیو (ماہل میں)، (2) راجہ اجودھیا رائے (کوڑیاں میں)، (3) راجہ پری چھات (نظام آباد میں) اور (4) راجہ گرگ دیو (سگردی میں)۔” (۳)
چریا کوٹ سے ملنے والے سکوں کے مطابق وہاں چیرو راجہ "چہپا” کی حکومت تھی جس نے قلعہ، تالاب اور مندر تعمیر کرائے تھے۔

مسلم حکمرانی کا آغاز اور جونپور سلطنت
1193ء میں محمد غوری نے قنوج (فرخ آباد) کے راجہ جے چندر دیو کو شکست دی اور کچھ عرصے بعد اسی راجہ کے بیٹے ہریش چندر کو اس دیار کا حاکم بنا کر واپس چلا گیا۔ 1236ء میں جب سلطان شمس الدین التمش نے قنوج پر اپنا تسلط قائم کیا تو یہ خطہ دہلی سلطنت کے ماتحت آ گیا۔

772 ہجری (1394ء) میں جب شہر جونپور آباد کیا گیا تو فیروز شاہ تغلق (جونا شاہ) نے اپنے بیٹے ظفر کو جونپور کا صوبیدار بنایا۔ اسی وقت سے اعظم گڑھ کا علاقہ ضلع جونپور کے ماتحت ہو گیا۔ 1479ء تک، یعنی شرقی بادشاہوں کے خاتمے تک، اعظم گڑھ جونپور کا ہی حصہ رہا۔ اسی بنیاد پر ماضی کے علماء کو تذکروں میں "علمائے جونپوری” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

1474ء میں سلطان بہلول لودھی نے جونپور کو دوبارہ دہلی کی حکومت میں شامل کر لیا، لیکن 1526ء میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست دینے کے بعد گھاگھرا ندی پار کر کے اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔ ہمایوں کی شکست کے بعد اس علاقے پر افغان بادشاہوں (سلطان بہلول لودھی، ابراہیم لودھی، سکندر لودھی، شیر شاہ سوری، سلیم شاہ سوری اور علی قلی خان) کا قبضہ رہا۔ بالاخر شہنشاہ جلال الدین اکبر نے افغان سردار علی قلی خان کی بغاوت ختم کر کے عبدالرحیم خانِ خاناں کو 1590ء میں جونپور کا صوبیدار مقرر کیا۔

شیرازِ ہند: علم و ادب کا مرکز
اس دور میں جب کہ شکست و فتح کی رسہ کشی چل رہی تھی، علمی حالت کے متعلق سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
"یہ زمانہ بھی شرقی بادشاہوں کی جنگ جوئی اور دلی کے لودھی بادشاہوں کی دست برد سے امن اور چین سے نہیں گزرا، تاہم علم و فن کی جو شمعیں روشن تھیں وہ سیاسی حوادث کی ان آندھیوں سے نہ بجھیں بلکہ ان کی روشنی روز بروز اور تیز ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ تیموریوں کے عہد میں یہ خطہ سراپا نور بن گیا۔ شاہجہاں فخریہ کہا کرتا تھا کہ پورب شیرازِ ماست (مشرق ہمارا شیراز ہے)۔”

علامہ آزاد بلگرامی نے اپنی کتاب "سبحۃ المرجان” میں لکھا ہے کہ پورب کی وسعت میں تین صوبے تھے: صوبہ الہ آباد، صوبہ اودھ اور صوبہ عظیم آباد۔ (۴) صوبہ اودھ میں ضلع جونپور تھا جس کی علمی و ادبی شناخت اس زمانے میں "شیرازِ ہند” جیسی تھی۔ مذکورہ بالا اقتباس سے اس کی نشاندہی بھی ہوتی ہے، لیکن جس دن سے یہ چشمہ فیضان یعنی اعظم گڑھ جدا ہو گیا، شیرازِ ہند کا شیرازہ بکھر گیا۔ (۵)

آئینِ اکبری اور مغل دور
جلال الدین اکبر کی وسیع حکومت میں اعظم گڑھ صوبہ الہ آباد کے ماتحت جونپور سرکار میں شامل تھا۔ مشہور کتاب "آئینِ اکبری” میں اعظم گڑھ کے پرگنوں کے نام ملتے ہیں، جو یہ ہیں: محمد آباد، گوہنہ، مئو ناتھ بھنجن، قریات متو پور، گھوسی، سگڑی، گوپال پور، نتو پور، چکسیر، نظام آباد، دیو گاؤں، چریا کوٹ اور کوڑیا۔

اعظم گڑھ کا قیام: ایک تاریخی داستان
عہدِ جہانگیری میں قصبہ مینہ نگر کے قریب موضع کھجوری کے رہنے والے راجہ ایمن سنگھ، جو نون کے جاگیردار تھے اور معزز گوتم چھتری خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آگرہ جا کر مسلمان ہو گئے۔ شہنشاہ جہانگیر ان سے بہت خوش ہوئے، ان کی قدر و منزلت کی اور انہیں "راجہ ناور دولت خاں” کے خطاب سے نوازا۔ شہنشاہ نے انہیں سرکار جونپور اور الہ آباد کا صوبیدار مقرر کیا اور انہیں بائیس یا چوبیس پرگنہ جات جاگیر میں دیے۔

دولت خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی، مینہ نگر میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں ان کی قبر ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنی ساری ریاست اپنے بھتیجے راجہ ہربنس سنگھ کو عطا کر دی تھی۔ اعظم گڑھ کے بڑے پل کے دکھن جانب ان کی کوٹ یا چھاؤنی ہے، موضع ہربنس پور وہسہ ہربنس پور انہی کے نام سے آباد ہے اور اب تک موجود ہے۔
راجہ ہربنس سنگھ کے لڑکے "راجہ بکرماجیت سنگھ” تھے، جنہوں نے اقتدار کے لیے اپنے حقیقی بھائی کو قتل کر دیا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں اورنگزیب عالمگیر کی فوج نے راجہ بکرماجیت سنگھ کو گرفتار کر کے دارالخلافہ دہلی پہنچایا۔ وہاں جا کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا، اسی برکت سے انہیں رہائی نصیب ہوئی۔ وطن واپس ہونے کے بعد انہوں نے ایک مسلم خاتون سے شادی کر لی۔ ان کے بطن سے دو لڑکے پیدا ہوئے: ایک کا نام "راجہ اعظم خان” اور دوسرے کا نام "عظمت خان” تھا۔

راجہ اعظم خاں نے 1665ء میں اس جگہ کا نام اپنے نام کی نسبت سے "اعظم گڑھ” رکھا اور بسایا، جبکہ راجہ عظمت خاں نے اپنے نام کی نسبت سے موضع کونڈر عظمت پور اور دوسرا قصبہ عظمت گڑھ آباد کیا۔ (۶)

لفظ "گڑھ” کی تحقیق
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
"اعظم گڑھ ہندی لفظ ہے جس کے معنی قلعہ کے ہیں۔ ہندوستان کے اکثر وہ شہر جن کے نام کا آخری جز ’گڑھ‘ ہے ان کی آبادی کا آغاز درحقیقت کسی فوجی آبادی سے ہوا، یعنی کسی زمیندار یا رئیس نے اپنے اور اپنی رعایا کے لیے کوئی گڑھ بنایا اور اس کو اپنے نام کی طرف منسوب کر دیا۔ اعظم گڑھ بھی اسی قسم کا شہر ہے۔” (۷)

برطانوی دور اور جدید انتظامیہ
اعظم گڑھ پر نسلاً بعد نسل اسی نو مسلم راجپوت خاندان کا تسلط رہا اور یہ خاندان مغل بادشاہوں کو محصول بھی دیتا تھا۔ 1720ء میں نواب اودھ کے وزیر "سعادت علی خاں” نے اس علاقے کو جہاں یار خاں سے چھین کر اودھ کی نوابی میں شامل کر لیا اور یہ ایک چکلہ ضلع بن گیا۔
1801ء میں یہ علاقہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت میں آ گیا۔ 1818ء سے 1832ء تک یہاں کے باشندوں سے ٹیکس گورکھپور اور بنارس کے کلکٹر لیتے تھے۔ 1832ء میں اعظم گڑھ کو مستقل ضلع کی حیثیت حاصل ہوئی اور اس کے پہلے کلکٹر "سر تھامسن” ہوئے۔ انتظامی امور میں عہدوں پر تغیرات ہوتے رہے۔
انگریزوں سے 1857ء میں بغاوت ہوئی اور آزادی کے لیے اس ضلع کے لوگوں نے قربانیاں دیں۔ ملک آزاد ہوا اور تقسیم بھی ہوا۔ بہرحال، یہ ضلع چھ تحصیلوں (پھولپور، صدر اعظم گڑھ، لال گنج، محمد آباد گوہنہ، سگڑی اور گھوسی) پر مشتمل رہتے ہوئے ماہ و سال گزار رہا تھا کہ اس میں ایک اور تقسیم ہوئی۔ چنانچہ 19 نومبر 1989ء کو تحصیل محمد آباد گوہنہ اور تحصیل گھوسی کو الگ کر کے "مئو ناتھ بھنجن” کو ضلع بنا دیا گیا۔
فی الحال اعظم گڑھ سات تحصیلوں پر مشتمل ہے: اعظم گڑھ صدر، سگڑی، پھولپور، بوڑھن پور، لال گنج، مینہ نگر اور نظام آباد۔ اس وقت اعظم گڑھ کو کمشنری کا درجہ حاصل ہے۔ شہر اعظم گڑھ، جو اس کا صدر مقام ہے، اپنے دوسرے قصبات و ملحقات سے کم عمر ہے۔ اس ضلع کی بہت سی آبادیاں جیسے سرائے میر، نظام آباد، ماہل، مینہ نگر، مبارکپور، مئو، گھوسی، چریا کوٹ، محمد آباد، ادری، ولید پور، سگردی، کوٹریا پار، دیو گاؤں، محمد پور وغیرہ اعظم گڑھ شہر سے پہلے کی آباد ہیں۔

جغرافیہ، آب و ہوا اور زراعت
ضلع اعظم گڑھ پورب سے پچھم تک لگ بھگ 72 میل لمبا اور اتر سے دکھن تک تقریباً 65 میل چوڑا ہے۔ اس کا رقبہ دو ہزار ایک سو چالیس (2140) مربع میل ہے۔ پچھم میں فیض آباد اور سلطان پور کے مواضعات ہیں، پورب میں غازی پور، بلیا اور مئو، اتر میں گھاگھرا ندی، گورکھپور اور دیوریا، اور دکھن میں جونپور اور غازی پور ضلعوں کی سرحدیں ملتی ہیں۔
اعظم گڑھ صوبہ اتر پردیش کے دیگر ضلعوں میں ہم پلہ ہے۔ اس میں خال خال قدرتی مناظر پائے جاتے ہیں، اس کی زمین ہموار اور اکثر و بیشتر قابلِ کاشت ہے۔ آب و ہوا عام طور پر خشک اور گرم ہے۔ برسات کے موسم میں خوب بارش ہوتی ہے اور کھیت کھلیان تالاب میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ گرما کے موسم میں جھلسا دینے والی لو چلتی ہے، گویا کہ یہ علاقہ صحرائے عرب کے ریگستان کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ جاڑے کے موسم میں سخت سردی پڑتی ہے، ہفتوں یہ علاقہ شبنم میں ڈھکا رہتا ہے اور لوگ سورج دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔ تینوں موسموں سے یہاں کے باشندے لطف اٹھاتے ہیں اور ان کی تکالیف برداشت کرنے کے عادی ہیں۔ ان موسموں کے درمیانی مہینوں میں موسم ہلکی ٹھنڈ اور بارش کی پھواروں کی وجہ سے خوشگوار رہتا ہے۔ اس گرم و سرد ماحول نے یہاں کے باشندوں کو سخت کوش اور جفاکش بنا دیا ہے۔

اعظم گڑھ کے اکثر لوگوں کا پیشہ زراعت ہے، پیداوار پورے ضلع میں معمولی فرق کے ساتھ یکساں ہوتی ہے۔ خاص پیداوار میں دھان، گیہوں، گنا، جو، چنا، مٹر، ارہر، مکئی، جوار، باجرہ، آلو، خربوزہ، تربوزہ اور شکرقند شامل ہیں۔ ہر قسم کی ترکاریاں اور ساگ ہر حصے میں ہوتے ہیں، اور لوگوں کے پاس آم، امرود، کٹھل اور جامن کے باغات بھی ہوتے ہیں۔ خصوصاً دسہری، لنگڑا اور دیسی آم یہاں کا کافی لذیذ ہوتا ہے۔

صنعت و حرفت
اکثر و بیشتر زراعت کے پیشے سے اعظم گڑھ کی خوشحالی وابستہ ہے۔ زراعت کے بعد اعظم گڑھ میں "پارچہ بافی” کی صنعت کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ (۸) یہ پیشہ ہندوستان میں کافی پرانا ہے، اسے فیروز شاہ تغلق کے دور میں کافی فروغ حاصل ہوا اور جب تک مسلمانوں کی حکومت رہی، اسے خاص ترقی ملی۔

مذہبی مقامات اور روحانیت (ہندو مت)
اعظم گڑھ میں گھاگھرا، گومتی اور ٹونس ندیوں کے ارد گرد بڑے بڑے جنگلات تھے، کچھ حد تک آج بھی ان کے نشانات پائے جاتے ہیں۔ یہی جنگلات تارک الدنیا جوگیوں، فقیروں، سادھوؤں، سنتوں، رشیوں، منیوں، تیاگیوں اور بیراگیوں کی "تپو بھومی” (عبادت گاہ) تھی۔ لوگ اپنے اپنے حساب سے تپسیا کیا کرتے تھے اور انہی جنگلات سے طرح طرح کے عجیب و غریب واقعات وابستہ ہیں جو سینہ بہ سینہ آج بھی ہندوؤں کے درمیان محفوظ ہیں۔
مذہبی اعتبار سے ہندوؤں کے مقدس مقامات جو اعظم گڑھ میں ہیں وہ یہ ہیں: درواسا، سدھونا، رام گڑھ، کرہاں، دوہری گھاٹ، دیولاس، مدھوبن، بھیرو، چھپرا، گزر پار، آبی وغیرہ۔ ان مقدس مقامات میں مندر ہیں، ہندو بھائی آ کر بڑے احترام سے پھول مالا اور چڑھاوا چڑھا کر پوجا کرتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر مختلف موسموں کے لحاظ سے زمانہ قدیم سے میلہ لگتا ہے۔
ہندوؤں کی مذہبی تاریخ اور پرانوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ زمانہ قدیم سے مقدس اور پوتر رہا ہے۔ اس مقدس دھرتی پر دوہری بابا، دیور ہوا بابا، شیتل بابا، گھنشیام بابا، سون بابا، ننگا بابا اور کبیر بابا کے آثار نے اس سرزمین کو نہ صرف قدیم، کریم اور مقدس ہونے کا شرف بخشا ہے، بلکہ متعدد دھارمک کریا کلاپوں کا مرکز ہونے کا مستند ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ (۱۱) اسی بنیاد پر بیرونِ اضلاع اور بیرونِ ریاست کے لوگ اس علاقے کے مندروں، استھانوں اور کٹیاؤں میں عقیدت و محبت سے حاضر ہوتے ہیں۔

ضلع اعظم گڑھ کے اصل باشندے آریہ نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اختلافِ مذاہب کی وجہ سے لوگوں کے رہن سہن، تہذیب و تمدن، چال ڈھال اور لباس وغیرہ میں شناختی فرق ہے۔ سب سے بڑا مذہب قدیم زمانے سے لے کر آج تک ہندو دھرم ہے، جو کئی ذات برادریوں اور مختلف دیوی دیوتاؤں کے ماننے والوں میں بٹا ہوا ہے، جیسے ویدک، پورانک پنتھی، نانک پنتھی وغیرہ۔

اسلام کی آمد اور صوفیائے کرام
اس دیارِ پورب اعظم گڑھ میں سادھوؤں سنتوں کے درمیان آفتابِ اسلام کی کرنیں کب ظاہر ہوئیں، اس پر کوئی حتمی داخلی یا خارجی شہادت موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس علاقے میں پانچویں صدی ہجری کی ابتداء میں سلطان محمود غزنوی (358ھ-421ھ) اور ان کے رفقاء کی مجاہدانہ کوششوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کا تعارف اور شہرہ ہوا۔

"اعظم گڑھ گزیٹر” میں ہے کہ سید سالار مسعود غازی (ولادت 405ھ – شہادت 14 رجب 422ھ) کی فوجیں بہرائچ ہوتے ہوئے "بھگت پور” ضلع اعظم گڑھ میں چند دن رکی تھیں۔ (۱۲)
سید سالار مسعود غازی (15 فروری 1015ء تا 14 جولائی 1033ء) نے اس مختصر سی عمر میں اس دیار میں تبلیغی و جہادی سرگرمیوں سے اسلام کی نشر و اشاعت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ پیغامِ اسلام کو پھیلانے کے لیے انہوں نے اپنے رفقاء کے دستے بنائے اور خود بنفسِ نفیس قیادت کی۔ ان کا ایک قافلہ چندوک گھاٹ دریائے گومتی عبور کر کے "دیو گاؤں” آیا۔ یہاں مجاہدین نے جامِ شہادت نوش فرمایا اور ان کے مزارات دیو گاؤں میں گوشت مارکیٹ کے قریب آج بھی موجود ہیں۔
قافلے نے اگلا پڑاؤ لال گنج ہوتے ہوئے محمد پور میں کیا۔ سڑک کے کنارے مزارات اسی زمانے کے ہیں۔ سید سالار مسعود غازی کے مجاہدین پورے خطے میں پھیل گئے تھے؛ نظام آباد، شاہ گڑھ، جیراج پور، فخر الدین پور، مجید پور، قاسم آباد، موجودہ مبارکپور، بلریا گنج، بھگت پور وغیرہ میں ان کی آمد کے ثبوت ملتے ہیں اور شہادت کی وجہ سے کئی جگہوں پر "شہید واڑے” ملتے ہیں۔
سید سالار مسعود غازی کے والد "سالار ساھو شہید” کا مزار بھی بھگت پور میں موجود ہے۔ موضع سرائے میر (مبارکپور) میں موضع ملک شدنی میں حضرت ملک شدنی کا مزار آج بھی مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔

چنانچہ "سخنورانِ اعظم گڑھ” میں تحریر ہے:
"ان اطراف میں غازی میاں کے رفقائے جہاد کی کثرت سے شہادتیں ہوئیں اور جہاں جہاں زیادہ تعداد میں شہادتیں ہوئیں انہیں ایک قبر میں دفن کیا گیا اور اس کو ’گنجِ شہیداں‘ کا نام دیا گیا۔” (۱۳)

1 خیال ”ضلع اعظم گڑھ: تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی مطالعہ“ پر

  1. profoundlya9d7aa33a4

    بہت معلوماتی اور دلچسپ مضمون۔ اعظم گڑھ میرے والدین کا آبائی وطن تھا۔ اس لیے اس علاقے سے میرے ذاتی جذبات وابستہ ہیں۔ اس علاقے میں بہت سے روحانی رہنما پیدا ہوئے ہیں۔ شکریہ

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں