موضوعات کی فہرست
Last Updated: January 27, 2026
Estimated Reading Time: ~7 minutes
جدید اردو غزل نے جہاں موضوعات اور لفظیات میں تبدیلیاں کیں، وہیں اس نے اظہار کے فنی پیرایوں کو بھی نیا رنگ دیا۔ ان میں سب سے اہم عنصر جدید غزل میں پیکر تراشی (Imagery) ہے۔ ڈاکٹر نازیہ امام کے تحقیقی مقالے کے مطابق، جدید شاعر نے مجرد خیالات کو ٹھوس شکل دینے کے لیے لفظی تصویروں یعنی "امیجز” کا سہارا لیا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ جدید غزل کس طرح قاری کی بصارت اور حسیات کو متاثر کرتی ہے اور اس میں "کلوز سرکٹ” (Close Circuit) کا کیا کردار ہے۔
اہم نکات:
- غزل میں امیجری (Image) کی اہمیت اور داخلی کیفیات کا بیان۔
- "کلوز سرکٹ” (Close Circuit) اور غزل کی فنی ہئیت۔
- بصری (Visual) اور حسی (Sensory) پیکروں کا فرق۔
- ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) کے اثرات اور اردو غزل۔
- بیانیہ کردار (Telling Character) اور غزل کا نیا مزاج۔
جدید غزل کی فنی تشکیل: پیکر تراشی اور امیجری کا نظام
امیجری: لفظوں سے تصویر بنانے کا ہنر
روایتی غزل زیادہ تر سماعت (Hearing) سے تعلق رکھتی تھی، یعنی اس میں موسیقی اور ترنم اہم تھا۔ لیکن جدید غزل نے "بصارت” (Sight) کو اہمیت دی ہے۔ مقالے میں بتایا گیا ہے کہ جدید غزل میں امیجری محض سجاوٹ کے لیے نہیں آتی بلکہ یہ شاعر کے اندرونی کرب کو باہر لانے (Unfolding) کا کام کرتی ہے۔
"اوپر کے امیجز میں یہ کیفیت محسوس کی جا سکتی ہے۔ نئی زبان کے ایسے استعمال کے بغیر، ایسی خوبصورت امیجز غزلوں میں ممکن نہ تھی۔ یہاں مقصدیت کی بات نہیں کی جاتی، صرف زبان کے استعمال اور اس کی بناوٹ سے امیجز کی بات کی جاتی ہے۔” (صفحہ 42)
محققہ کے مطابق، جدید غزل میں امیج (Image) کا کام یہ ہے کہ وہ قاری کے ذہن پر ایک کیفیت چھا دے۔ جب تک کوئی خیال مکمل طور پر لفظی تصویر میں ڈھل کر سامنے نہ آئے، ترسیل کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ جدید شاعر مبہم اور تجریدی (Abstract) خیالات کو سمجھانے کے لیے ٹھوس اور مادی (Concrete) الفاظ استعمال کرتا ہے۔ یہ عمل "ان فولڈنگ” (Unfolding) کہلاتا ہے، یعنی شاعر کے ذہن کی گتھیاں امیجری کے ذریعے کھلتی ہیں۔
امتحان میں "پیکر تراشی” کی تعریف کرتے وقت لکھیں کہ "خیال کو حسی سطح پر منتقل کرنے کا نام امیجری ہے۔”
کامیاب پیکر وہی ہے جو قاری کو یہ احساس دلائے کہ وہ واقعہ پڑھ نہیں رہا بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
کلوز سرکٹ (Close Circuit) اور غزل کی ہئیت
جدید تنقید میں غزل کی ساخت پر بحث کرتے ہوئے ایک دلچسپ اصطلاح "Close Circuit” استعمال کی گئی ہے۔ مقالے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غزل اپنے دو مصرعوں کی محدود ساخت کی وجہ سے ایک بند نظام (Close Circuit) کی طرح ہے۔
"غزل کا فن بھی Close Circuit کا فن ہے اور Close Circuit میں زبان کو ایک ایک حرف کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ امیج ایک فلیش کے ساتھ نئی غزل میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں اگر لفظ کے ساتھ ذہن میں معنوی تصویر نہ ابھرے تو امیج کا تصور ممکن ہی نہیں ہو پاتا۔” (صفحہ 42)
اس اقتباس کا مفہوم یہ ہے کہ نظم کے برعکس غزل میں شاعر کے پاس بات پھیلانے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اسے دو مصرعوں کے "بند سرکٹ” میں پوری بات کہنی ہوتی ہے۔ جدید شاعر نے اس مجبوری کو اپنی طاقت بنایا ہے۔ وہ طویل بیانات کے بجائے ایک "فلیش” (Flash) کی طرح ایک تیز اور چمکدار امیج پیش کرتا ہے جو فوراً قاری کے ذہن میں چپک جاتا ہے۔ یہ تکنیک غزل کو جدید دور کی تیز رفتاری سے ہم آہنگ کرتی ہے۔
"غزل کی اختصار پسندی” پر نوٹ لکھتے وقت "Close Circuit” کی اصطلاح استعمال کریں، یہ آپ کے جواب کو ممتحن کی نظر میں منفرد بنائے گا۔
بصری بمقابلہ حسی پیکر (Visual vs Sensory Imagery)
مقالے میں ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) کی مشہور مثال "شام کو میز پر بے ہوش مریض کی طرح پھیلا ہوا دکھانا” دے کر اردو غزل کی امیجری سمجھائی گئی ہے۔ یہ بحث کی گئی ہے کہ جدید غزل کی امیجری "بصری” (Visual) زیادہ ہے۔
"اوپر کے شعر میں جو امیج بنتی ہے وہ بصری زیادہ ہے حسی کم۔۔۔ ایلیٹ کی امیج اگرچہ حسی ہے مگر تشبیہہ بصری ہے جو Patient Etherized سے ’شام‘ کو مشابہ کرتی ہے۔ جدید غزل میں اچھی امیجز وہی ہیں جو بصری نہیں، بلکہ حسی ہیں جن کے لیے خارجی پیکر سے سہارا تو لیا جا سکتا ہے مگر وہ سہارا علاماتی سہارا ہے۔” (صفحہ 41)
یہاں ایک باریک فنی نقطہ بیان کیا گیا ہے۔ خالص "بصری” امیج وہ ہے جو صرف آنکھ کو دکھائی دے، جبکہ "حسی” (Sensory) امیج وہ ہے جو پوری حسیت (Touch, Smell, Feeling) کو متاثر کرے۔ جدید اردو غزل (مثلاً وزیر آغا، پرکاش فکری) میں کوشش کی گئی ہے کہ امیجری صرف آنکھوں تک محدود نہ رہے بلکہ قاری کے اندرونی "موڈ” کو بھی تبدیل کرے۔ یہ خارجی دنیا کی چیزوں کو داخلی کیفیت بنانے کا عمل ہے۔
Fig: جدید شاعری میں امیجری کی اقسام (منتخب اشعار کی روشنی میں)
(مقالے کے صفحات 41 اور 43 سے ماخوذ)
| شاعر کا نام | شعر کا ٹکڑا / مصرع | امیجری کی قسم | کیفیت |
|---|---|---|---|
| وزیر آغا | تو سورج کی آنکھ سے جھانکے، پل پل وار کرے | بصری + حرکی (Visual/Kinetic) | تمازت اور چبھن |
| پرکاش فکری | جسم کی گہرائیوں میں جل اٹھیں چنگاریاں | حسی (Sensory) | داخلی جلن اور خواہش |
| ظہیر غازی پوری | خون دل سے لکھے نایاب نوشتے ہیں ہم | تجریدی (Abstract) | فنکارانہ کرب |
| باقر مہدی | میری نیند کاغذ پہ سوتی رہی | تشخصی (Personification) | ذہنی تھکان اور جمود |
جدید شعرا نے "Personification” (مجرد چیزوں کو جاندار بنا کر پیش کرنا) سے بہت کام لیا ہے، جیسے "نیند کا کاغذ پر سونا”۔
بیانیہ کردار (Telling Character)
پیکر تراشی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ غزل کے شعر میں ایک کہانی یا کردار جھلکنے لگتا ہے۔ اسے مقالے میں "Telling Character” (اظہار یہ کردار) کہا گیا ہے۔ یہ غزل کو نظم کے قریب لے جاتا ہے۔
"اگلی نسل نے اپنے لیے الگ راستے تلاش کیے۔ ان نمونوں نے غزل میں چند فکری ابعاد پیدا کیے ہیں۔ زبان کو نئے الفاظ دیے ہیں، سوچنے کا طریقہ بدلا ہے، استعاروں کو نیا رستہ دکھایا ہے اور اس طرح ایک نئی روایت بنانے کی فکر کی ہے۔” (صفحہ 42)
جدید غزل میں اکثر ایسا لگتا ہے کہ شاعر خود کلامی کر رہا ہے یا کوئی قصہ سنا رہا ہے۔ مثلاً نشتہ خانقاہی کا شعر "دن نکلنا تھا کہ سارے شہر میں بھگدڑ مچی / ان گنت خوابوں کے چہرے بھیڑ میں گم ہو گئے” (صفحہ 43)۔ یہاں ایک پورا منظر (Scene) ہے جو کسی افسانے کا ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔ یہ تکنیک غزل کی روایتی ریزہ خیالی کو ختم کر کے اس میں ایک نامیاتی ربط (Organic Unity) پیدا کرتی ہے۔
یہ مضمون Professor of Urdu کی ادارت میں تعلیمی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ براہِ راست اقتباسات کے علاوہ تمام متن اصل اور تشریحی ہے۔
اہم نکات (Key Points)
- جدید غزل اب صرف کانوں کے لیے نہیں بلکہ آنکھوں (بصارت) کے لیے بھی ہے۔
- "پیکر تراشی” (Imagery) کا مقصد داخلی جذبات کی "Unfolding” (نقاب کشائی) ہے۔
- غزل کا شعر ایک "Close Circuit” ہے، جس میں ایک ہی فلیش میں پوری تصویر دکھانی ہوتی ہے۔
- ٹی ایس ایلیٹ کے اثر سے اردو غزل میں "Non-poetic” (غیر شاعرانہ) چیزوں کے امیجز بھی شامل ہوئے (جیسے مریض، میز، سگریٹ)۔
- جدید غزل میں "Telling Character” کی موجودگی اسے افسانوی یا ڈرامائی رنگ دیتی ہے۔
- وزیر آغا اور پرکاش فکری جیسے شعرا نے حسی پیکروں کے ذریعے غزل کو نیا مزاج دیا۔
MCQs (امتحانی سوالات)
سوال 1: مقالے میں غزل کی ہیئت (Form) کے لیے کون سی انگریزی اصطلاح استعمال کی گئی ہے؟
A) Open Field
B) Close Circuit
C) Free Verse
D) Narrative Arc
درست جواب: B) Close Circuit
(وضاحت: غزل کے مصرعوں کی بندش اور اختصار کی وجہ سے اسے کلوز سرکٹ کہا گیا۔)
سوال 2: "Unfolding” کی اصطلاح مقالے میں کس عمل کے لیے استعمال ہوئی ہے؟
A) قافیہ پیمائی کے لیے
B) غزل کو نظم بنانے کے لیے
C) داخلی کیفیات کے امیجری کے ذریعے اظہار کے لیے
D) پرانے الفاظ کو رد کرنے کے لیے
درست جواب: C) داخلی کیفیات کے امیجری کے ذریعے اظہار کے لیے
(وضاحت: امیجری اندرونی احساسات کی تہوں کو کھولتی ہے۔)
سوال 3: "شام کو میز پر بے ہوش مریض کی طرح” دکھانے والی تشبیہ کس مغربی شاعر کی ہے جس کا حوالہ دیا گیا؟
A) جان کیٹس
B) شیلے
C) ٹی ایس ایلیٹ
D) عذرا پاؤنڈ
درست جواب: C) ٹی ایس ایلیٹ
(وضاحت: یہ جدید غزل میں بصری اور حسی امیجری کے امتزاج کی مثال ہے۔)
(عمومی سوالات)
سوال: کیا پیکر تراشی (Imagery) صرف جدید غزل کا خاصہ ہے؟
جواب: پیکر تراشی قدیم شاعری میں بھی تھی (جیسے میر انیس کے مرثیے)، لیکن جدید غزل میں یہ تجریدی اور نفسیاتی کیفیات کو بیان کرنے کا بنیادی آلہ بن گئی ہے۔
سوال: "بصری امیج” اور "حسی امیج” میں کیا فرق ہے؟
جواب: بصری امیج وہ ہے جو ذہن کی آنکھ سے دکھائی دے (جیسے "سورج کی آنکھ”)، جبکہ حسی امیج دیگر حواس (لمس، ذائقہ، کیفیت) کو بھی شامل کرتا ہے (جیسے "جسم میں چنگاریاں جلنا”)۔
سوال: غزل میں "بیانیہ کردار” (Telling Character) سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس کا مطلب ہے کہ غزل کا شعر محض جذبات کا بیان نہ ہو بلکہ اس میں کوئی کردار عمل کرتا ہوا یا کوئی واقعہ پیش آتا ہوا محسوس ہو، جیسے کوئی کہانی سنائی جا رہی ہو۔
نوٹ
یہ مواد ڈاکٹر نازیہ امام کے پی ایچ ڈی مقالے "عصرِ حاضر کی اردو شاعری میں کلاسیکی عناصر” (شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی) کے صفحات 40 تا 44 سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس میں پیش کردہ اصطلاحات (جیسے Close Circuit, Unfolding) محققہ اور ان کے حوالے کردہ ناقدین کی علمی کاوش ہیں۔ تعلیمی مقاصد کے لیے ان اصطلاحات کا استعمال کرتے وقت اصل ماخذ کا حوالہ ضرور دیں۔
- Thesis Title: Asr-e-Hazir Ki Urdu Shayari Mein Klasiki Anasir
- Researcher: Nazia Imam
- Supervisor: Dr. Iffat Zarrin
- University: University of Delhi
- Pages Used: 38, 40, 41, 42, 43, 44.
یہ مواد ایم اے اردو اور ادبی امتحانات کی تیاری کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ فنی اصطلاحات کی تفہیم کے لیے یہ ایک معاون تحریر ہے۔
Exit Pages & Line Numbers
- Exit Page(s): 38, 40, 41, 42, 43, 44.
- Line Numbers:
- Page 41 (Lines 10-20)
- Page 42 (Lines 1-15)
- Page 43 (Lines 5-18)
- Page 38 (Verses used in Table)
