موضوعات کی فہرست
بانو قدسیہ کی افسانہ نگاری: فکری تنوع اور سماجی شعور کا منفرد سفر
بیسویں صدی کے اردو ادب میں جن خواتین نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ان میں بانو قدسیہ کا نام انتہائی نمایاں ہے۔ عام طور پر قارئین انہیں "راجہ گدھ” جیسے ضخیم ناول کے حوالے سے جانتے ہیں، لیکن ڈاکٹر عذرا لیاقت کی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ بانو قدسیہ کا اصل میدان ان کے افسانے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی جرات مندانہ سوچ اور مشاہدے کی گہرائی کو بڑی مہارت سے پیش کیا۔ ذیل میں ان کے افسانوی سفر کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ادبی سفر کا آغاز اور ابتدائی پس منظر
بانو قدسیہ کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز 1950ء کے آس پاس ہوا۔ مشرقی پنجاب کے شہر فیروز پور میں 1928ء میں پیدا ہونے والی بانو نے تقسیم ہند کے بعد ہجرت کی اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ "دھرم سالہ کانگڑہ” سے میٹرک کرنے والی بانو نے گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو میں ایم اے کیا، جہاں ان کی ملاقات اشفاق احمد سے ہوئی جو بعد میں ان کے شریک حیات بنے۔
1983ء میں حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں "ستارہ امتیاز” سے نوازا۔ ان کے ابتدائی افسانوی مجموعوں میں "بازگشت”، "امربیل” اور "کچھ اور نہیں” نے انہیں اردو فکشن میں ایک الگ پہچان دی۔
اشفاق احمد کے سائے میں اپنی الگ شناخت
اردو ادب کے نقادوں نے اکثر یہ سوال اٹھایا کہ کیا بانو قدسیہ اپنے شوہر اشفاق احمد کے اسلوب سے متاثر تھیں؟ تحقیقی جائزہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگرچہ وہ دونوں ایک ہی چھت تلے رہتے تھے، لیکن بانو کا اسلوب بالکل جداگانہ تھا۔
جہاں اشفاق احمد کی تحریروں میں تصوف، روحانیت اور جذب کی کیفیات نمایاں تھیں، وہیں بانو قدسیہ کا راستہ "استدلال” اور "منطق” کا تھا۔ انہوں نے چیزوں کو صوفیانہ نظر سے دیکھنے کے بجائے ایک مبصر کی آنکھ سے دیکھا۔
ان کے ہاں زندگی کے حقائق کو جذبات کی بجائے عقل اور ٹھوس مشاہدے کی بنیاد پر پرکھا گیا، جو انہیں اشفاق احمد سے فکری طور پر ممتاز کرتا ہے۔
مشرقی اقدار اور جدید نسوانیت کا ٹکراؤ
بانو قدسیہ کے افسانوں میں عورت کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، لیکن وہ مغرب کی نام نہاد آزادی کی قائل نہیں تھیں۔ ان کے افسانوں میں یہ تاثر ملتا ہے کہ جدید ترقی یافتہ معاشرے میں عورت "مرد” بننے کی کوشش میں اپنی اصل شناخت کھو رہی ہے۔
ان کا ماننا تھا کہ آزادی کے نام پر عورت پر دوہری ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں، جس سے وہ نہ گھر کی رہی اور نہ باہر کی۔
ان کے مطابق جدید معاشرے نے عورت کو "تیسری جنس” بنا دیا ہے جو سر دھڑ کی بازی لگانے کے باوجود سکون سے محروم ہے۔ وہ عورت کی تعلیم اور شعور کی حامی تھیں لیکن اسے مشرقی روایات سے الگ کر کے نہیں دیکھتی تھیں۔
معاشرتی بے حسی اور "شہر کا شور”
بانو قدسیہ کے افسانوں میں سماجی رویوں کی تلخ عکاسی ملتی ہے۔ ان کا مشہور افسانہ "شہر کا شور” اخلاقی اقدار کے زوال کی بہترین مثال ہے۔
اس کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص مر رہا ہے، لیکن اردگرد موجود لوگ اس کی مدد کرنے کے بجائے اس منظر کو کیمرے میں محفوظ کرنے (ویڈیو بنانے) میں مصروف ہیں تاکہ اسے نشر کیا جا سکے۔
بانو قدسیہ نے برسوں پہلے اس افسانے کے ذریعے آج کے "میڈیا زدہ” اور بے حس معاشرے کی پیش گوئی کر دی تھی جہاں انسانی جان سے زیادہ ریٹنگ اور تماشے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
نفسیاتی پیچیدگیاں اور جنسی حقائق
ڈاکٹر عذرا لیاقت کی تحقیق کے مطابق، بانو قدسیہ نے جنس (Sex) اور نفسیات کے موضوعات کو بڑی دلیری سے چھیڑا۔ تاہم، ان کے ہاں یہ موضوع لذت کے لیے نہیں بلکہ انسانی محرومیوں کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوا۔
افسانہ "انتر ہوت اداسی” اس کی مثال ہے، جس میں غربت اور بھوک انسان کو کس طرح اخلاقی گراوٹ پر مجبور کر دیتی ہے، اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔
کہانی میں ایک باپ اپنی بیٹی کو محض معاشی مجبوریوں کے تحت ایک بوڑھے مالک مکان کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ افسانے ثابت کرتے ہیں کہ بانو قدسیہ معاشرے کے ناسوروں پر پردہ ڈالنے کے بجائے انہیں بے نقاب کرنے پر یقین رکھتی تھیں۔
خالق اور مخلوق کے درمیان مکالمہ
بانو قدسیہ کے افسانوی مجموعوں "دست بستہ” اور "دلِ یزداں” میں ایک منفرد فکری پہلو سامنے آتا ہے، جہاں ان کے کردار خدا سے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔
ان کہانیوں میں عورت خدا سے سوال کرتی ہے کہ اسے کمزور کیوں بنایا گیا یا اس کی فطرت میں رشک اور سوکن کا جذبہ کیوں رکھا گیا؟
یہ سوالات کفر نہیں بلکہ اس اضطراب کا اظہار ہیں جو ایک سوچنے والے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ بانو قدسیہ نے ان سوالات کے ذریعے وجودیت (Existentialism) کے مباحث کو اردو افسانے میں ایک نیا رنگ دیا، جہاں بندہ اپنے خالق کے سامنے اپنی بے بسی اور الجھنوں کا اظہار کرتا ہے۔
حوالہ جات
- ڈاکٹر انوار احمد (اردو افسانہ: ایک صدی کا قصہ):
اس کتاب میں ڈاکٹر انوار نے اردو افسانے کی تاریخ اور ارتقاء کا جائزہ لیتے ہوئے بانو قدسیہ کے مقام کا تعین کیا ہے۔ یہ کتاب 2010 میں "مثال پبلشرز، فیصل آباد” سے شائع ہوئی۔ - ڈاکٹر فرمان فتح پوری (اردو افسانہ اور افسانہ نگار):
یہ حوالہ بانو قدسیہ کے فن پر تنقیدی رائے فراہم کرتا ہے۔ یہ کتاب "باب الاسلام پرنٹنگ پریس، کراچی” سے 1982 میں شائع ہوئی۔ - بانو قدسیہ (حاصل گھاٹ):
بانو قدسیہ کی اپنی تحریر جو ان کے فکری رجحانات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ کتاب "سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور” سے 2003 میں شائع ہوئی۔ - ڈاکٹر انور سدید (بانو قدسیہ: شخصیت اور فن):
اس کتاب میں بانو قدسیہ کی شخصیت اور ان کے فن کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ یہ "اکادمی ادبیات، اسلام آباد” سے 2008 میں شائع ہوئی۔ - ممتاز مفتی (اوکھے لوگ):
مشہور مصنف ممتاز مفتی نے اس کتاب میں بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے ساتھ اپنے تعلقات اور مشاہدات قلمبند کیے ہیں۔ یہ کتاب "الفیصل پبلشرز، لاہور” سے 2008 میں شائع ہوئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں: بانو قدسیہ کے افسانوں میں مابعد الطبیعاتی عناصر pdf
