مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

کلاسیکیت کا تصور اور اردو شاعری میں اس کی اہمیت و اطلاق

پیشِ نظر مضمون میں کلاسیکیت کا تصور، اس کی تعریف، دائرہ کار اور اردو شاعری پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحریر دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ایک تحقیقی مقالے پر مبنی ہے جس میں مغرب اور مشرق کے تنقیدی معیارات کو پرکھا گیا ہے۔

اہم نکات:

  • کلاسیکیت محض قدیم ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ اعلیٰ اقدار اور معیارات کی پاسداری ہے۔
  • لاطینی لفظ ’کلاسیکس‘ (Classicus) سے ماخوذ یہ اصطلاح اعلیٰ ترین درجے کی نشاندہی کرتی ہے۔
  • نوکلاسیکیت (Neoclassicism) میں جذبے پر عقل اور ہیئت کی پابندی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
  • اردو میں اصلاحِ زبان کی تحریک اور دبستانِ لکھنؤ و دہلی پر کلاسیکی اور نوکلاسیکی اثرات نمایاں ہیں۔
  • ٹی ایس ایلیٹ اور سینٹ بیو جیسے مغربی نقادوں نے کلاسیکیت کو پختگی اور ذہنی صحت سے تعبیر کیا ہے۔

عصرِ حاضر کی اردو شاعری میں کلاسیکی عناصر: ایک تحقیقی جائزہ

کلاسیکیت: لغوی پس منظر اور مفہوم

کلاسیکیت کی بحث ادبی تنقید میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ عام طور پر اسے جدیدیت کی ضد سمجھا جاتا ہے، حالانکہ مقالہ نگار کے مطابق یہ محض قدیم ہونے کا نام نہیں بلکہ ان اقدار کا نام ہے جو زمانے کے امتداد کے باوجود قائم رہتی ہیں۔ کلاسیکیت کا تصور دراصل زندگی کے اعلیٰ اور مثبت رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔

”فرانسیسی زبان میں اسے Classiqu سے درسی جماعتوں کا تصور کام میں لایا جاتا ہے۔ لاطینی زبان میں Classicus سے اعلیٰ طبقہ اور بلند مرتبے پر فائز افراد یا گروہ سے لیا جاتا ہے۔“ (ص 6)

تنقیدی وضاحت:
مقالے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ہندوستان میں بالعموم اور اردو زبان میں بالخصوص جب کلاسیکیت کی بات ہوتی ہے تو ذہن فوراً قدیم ادب کی طرف جاتا ہے۔

تاہم، لغوی اعتبار سے اس کا تعلق ’قدامت‘ سے زیادہ ’عظمت‘ اور ’معیار‘ سے ہے۔ جس طرح رومن معاشرے میں شہریوں کی درجہ بندی ان کی آمدنی کے حساب سے کی جاتی تھی اور اعلیٰ ترین طبقے کو ’کلاسیکی‘ کہا جاتا تھا، اسی طرح ادب میں وہ پارے جو فنی اور فکری اعتبار سے بلند ترین سطح پر ہوں اور جن میں زمانہ سازی کی صلاحیت ہو، وہ کلاسیکیت کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہ اصطلاح کسی خاص زمانے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ فن پارہ جو اپنی افادیت اور جمالیاتی قدر ہمیشہ برقرار رکھے، کلاسیک کہلاتا ہے۔

امتحانی نکتہ:
امتحان میں اگر سوال آئے کہ لفظ ’کلاسیک‘ کس زبان سے ماخوذ ہے، تو جواب ’لاطینی‘ (Latin) ہوگا، جس کے معنی ’اعلیٰ طبقے‘ (Highest Class) کے ہیں۔

محققین کو چاہیے کہ وہ کلاسیکیت کو محض ماضی پرستی نہ سمجھیں بلکہ اسے معیارِ بندی (Standardization) کا ایک پیمانہ تصور کریں۔

کلاسیکیت اور روایت کا باہمی رشتہ

کلاسیکیت کو سمجھنے کے لیے ’روایت‘ (Tradition) کے مفہوم کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ مقالے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ روایت اور کلاسیکیت لازم و ملزوم ہیں، لیکن روایت کا مطلب لکیر کا فقیر ہونا نہیں ہے۔

”کلاسیکیت کی طرح ہی روایت بھی ایک وسیع تناظر میں سمجھی جانے والی اصطلاح ہے۔ کلاسیکی ادب یا کلاسیکیت کے اصولی امور پر گفتگو کرتے ہوئے روایت اور روایت شناسی کے لازمی پہلو زیرِ بحث آتے ہیں۔“ (ص 8)

یہاں ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) کے مشہور مضمون ’روایت اور انفرادی صلاحیت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ روایت محض پچھلی نسلوں کی اندھی تقلید نہیں ہے۔ حقیقی شاعر یا ادیب وہ ہے جو ماضی کے شعور کے ساتھ حال میں تخلیق کرے۔

ایلیٹ کے نزدیک روایت کو محنت سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ کلاسیکیت دراصل روایت کے بہترین اور صحت مند عناصر کو محفوظ رکھنے اور انہیں نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا نام ہے۔ گویا کلاسیکیت کا تصور روایت کے تسلسل اور جدت کے امتزاج سے جنم لیتا ہے۔

گوئٹے نے اسی لیے کلاسیکیت کو ’صحت‘ اور رومانیت کو ’مرض‘ قرار دیا تھا کیونکہ کلاسیکیت میں توازن اور اعتدال ہوتا ہے۔

امتحانی نکتہ:
ٹی ایس ایلیٹ کا نظریہ یاد رکھیں کہ روایت وراثت میں نہیں ملتی بلکہ اسے ’تاریخی شعور‘ (Historical Sense) کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے۔

جدول: کلاسیکیت اور روایت کے بنیادی نکات

نمبرتصوروضاحت
1روایتماضی کا شعور جو حال میں زندہ رہے۔
2اندھی تقلیدروایت پرستی ہے، روایت شناسی نہیں۔
3ایلیٹ کا نظریہروایت کو محنت سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔
4گوئٹے کا قولکلاسیکیت صحت ہے، رومانیت بیماری ہے۔


طلبہ اکثر روایت اور قدامت پرستی میں فرق نہیں کر پاتے؛ اس حصے کا مطالعہ انہیں یہ باریک فرق سمجھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

نوکلاسیکیت (Neoclassicism) اور ادبی اصول

تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کلاسکیت اور نوکلاسیکیت میں ایک باریک سا فرق ہے۔ نوکلاسیکیت، جسے بعض ناقدین ’مصنوعی کلاسیکیت‘ بھی کہتے ہیں، دراصل اصول و ضوابط کی سختی سے پابندی کا نام ہے۔

”کلاسیکیت کی اصطلاح مغربی ادبیات میں ایک ایسے رویے یا رجحان پر ہوتا تھا جو ادبی رہنمائی کے لیے مخصوص تھا۔ یہ رویہ یا رجحان یونانی نگارشات سے رجوع کرنے سے متعلق تھا۔“ (ص 11)

مقالہ نگار کے مطابق، نوکلاسیکیت (Neo-Classicism) میں مواد کے مقابلے میں ہیئت (Form) کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس رجحان کے تحت لکھنے والے جذبات کے بے ساختہ اظہار کے بجائے فنی اصولوں، نپے تلے الفاظ اور عقل و منطق پر زیادہ زور دیتے ہیں۔

مغرب میں یہ رجحان سترہویں اور اٹھارویں صدی میں ابھرا جب ادیبوں نے یونانی اور لاطینی ادب کی ہو بہو نقل (Imitation) کو اپنا شعار بنایا۔ اس مکتبِ فکر میں ’فطرت کی پیروی‘ سے مراد انسانی فطرت کے عمومی اور آفاقی پہلوؤں کی عکاسی تھی، نہ کہ ذاتی اور انفرادی جذبات کا اظہار۔

ڈاکٹر سید عبداللہ کے مطابق، یہ ایک مخصوص طرزِ احساس ہے جو قیود اور پابندیوں کو پسند کرتا ہے۔

ا

متحانی نکتہ:
نوکلاسیکیت کے تین بڑے اصول یاد رکھیں:

(1) عقل کی حکمرانی، (2) قدیم یونانی اصولوں کی پیروی، (3) ہیئت اور زبان کی صحت پر زور۔

نوکلاسیکیت کو سمجھنے کے لیے فرانسیسی نقاد بوائلو (Boileau) اور انگریزی شاعر ڈرائیڈن (Dryden) کے نظریات کا مطالعہ ضروری ہے جن کا ذکر مقالے میں موجود ہے۔

اردو شاعری پر نوکلاسیکی اثرات

اردو ادب، خاص طور پر شاعری میں نوکلاسیکیت کے اثرات کو ’اصلاحِ زبان‘ کی تحریکوں اور دبستانوں کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

”اردو شاعری کے منظر نامہ پر نظر ڈالنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اصلاحِ سخن اور اصلاحِ زبان کے رویوں اور کوششوں نے اردو شاعری کو معیار بندی کے رجحان سے آشنا کیا، جس نے اردو شاعری کی کلاسیکی اور نو کلا سیکیت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔“ (ص 16)

اردو میں اٹھارویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے آغاز میں جو تبدیلیاں آئیں، خاص طور پر دبستانِ لکھنؤ اور دبستانِ دہلی میں، ان میں نوکلاسیکی عناصر واضح ہیں۔ ناسخ کی تحریکِ اصلاحِ زبان ہو یا سودا کا قصیدہ، ان میں جذبے سے زیادہ الفاظ کی شان و شوکت، بندش کی چستی اور فنی لوازمات پر زور دیا گیا۔ یہ وہی رویہ ہے جو مغرب میں نوکلاسیکیت کا خاصہ رہا ہے۔ مقالے میں دلیل دی گئی ہے کہ اردو غزل کی تہہ داری اور رمزیت بھی اسی کلاسیکی شعور کی مرہونِ منت ہے۔

امتحانی نکتہ:
اردو میں ’اصلاحِ زبان‘ کی تحریک کو نوکلاسیکی رجحان کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں بھی اصولوں اور قواعد پر زور دیا گیا تھا۔


اساتذہ کے لیے یہ نکتہ اہم ہے کہ اردو کلاسیکیت براہِ راست مغرب سے متاثر نہیں تھی بلکہ یہ فارسی روایت کے ذریعے اپنی نوکلاسیکی شکل میں نمودار ہوئی۔

یہ مضمون Professor of Urdu کی ادارت میں تعلیمی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ براہِ راست اقتباسات کے علاوہ تمام متن اصل اور تشریحی ہے۔

عملی و تعلیمی اطلاقات

اس تحقیقی مقالے کے مندرجات کو درج ذیل تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے:

  1. ادبی ادوار کی تفہیم: کلاسیکیت، رومانیت اور جدیدیت کے فرق کو سمجھنے کے لیے یہ مواد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
  2. تنقیدی اصطلاحات: ایم اے اور بی ایس اردو کے نصاب میں شامل ’تنقیدی اصطلاحات‘ کے پرچے میں کلاسیکیت اور نوکلاسیکیت کی تعریفات کے لیے مستند حوالہ۔
  3. تحقیقی تجزیہ: اردو غزل کے ارتقاء میں ’اصلاحِ زبان‘ کی تحریکوں کا تجزیہ کرنے کے لیے ان اصولوں کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔
  4. تقابلی مطالعہ: مغربی ادبی تحریکوں (جیسے فرینچ اور انگلش نوکلاسیکیت) کا اردو کے کلاسیکی دور سے موازنہ۔

اہم نکات

  • کلاسیکیت کا تصور لاطینی لفظ Classicus سے نکلا ہے، جس کا مطلب سماجی اور ادبی لحاظ سے اعلیٰ ترین معیار ہے۔
  • سینٹ بیو (Sainte-Beuve) کے مطابق، کلاسیک مصنف وہ ہے جو انسانی ذہن کو مالا مال کرے اور جس کے خیالات میں دوام ہو۔
  • گوئٹے (Goethe) نے کلاسیکیت کو ’صحت‘ اور رومانیت کو ’بیماری‘ قرار دیا۔
  • نوکلاسیکیت (Neoclassicism) میں قدیم اصولوں کی نقل، عقل کی بالا دستی اور ہیئت کی پابندی پر زور دیا جاتا ہے۔
  • مغرب میں سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی نوکلاسیکیت کے عروج کا دور تھا۔
  • اردو میں اصلاحِ زبان کی تحریک اور دبستانوں کا نظام نوکلاسیکی مزاج کا عکاس ہے۔
  • روایت، کلاسیکیت کا لازمی جزو ہے لیکن یہ محض ماضی پرستی نہیں بلکہ تاریخی شعور کا نام ہے۔

(امتحانی سوالات)

1. لفظ ’کلاسیک‘ (Classic) کس زبان سے ماخوذ ہے؟
A) یونانی
B) لاطینی
C) فرانسیسی
D) انگریزی
جواب: B (لاطینی) – وضاحت: صفحہ 6 کے مطابق یہ لاطینی لفظ Classicus سے نکلا ہے۔

2. ”کلاسیکیت صحت ہے اور رومانیت بیماری ہے۔“ یہ قول کس کا ہے؟
A) ٹی ایس ایلیٹ
B) میتھیو آرنلڈ
C) گوئٹے
D) سینٹ بیو
جواب: C (گوئٹے) – وضاحت: صفحہ 8 پر گوئٹے کا یہ مشہور قول نقل کیا گیا ہے۔

3. نوکلاسیکیت (Neoclassicism) میں کس چیز کو جذبے پر فوقیت حاصل ہوتی ہے؟
A) تخیل
B) فطرت نگاری
C) عقل اور فنی ہیئت
D) انفرادیت
جواب: C (عقل اور فنی ہیئت) – وضاحت: صفحہ 11 اور 14 کے مطابق نوکلاسیکیت میں عقل اور ہیئت کی پابندی اہم ہے۔

4. اردو شاعری میں کون سا عمل نوکلاسیکی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے؟
A) ترقی پسند تحریک
B) جدیدیت
C) اصلاحِ زبان کی تحریک
D) رومانیت
جواب: C (اصلاحِ زبان کی تحریک) – وضاحت: صفحہ 16 پر اصلاحِ زبان کو اردو شاعری میں نوکلاسیکی رویے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

(عام سوالات)

سوال: کلاسیکیت اور نوکلاسیکیت میں بنیادی فرق کیا ہے؟
جواب: کلاسیکیت ایک عمومی اعلیٰ معیار اور توازن کا نام ہے، جبکہ نوکلاسیکیت قدیم اصولوں کی شعوری نقل اور فنی قوانین کی سختی سے پابندی کا نام ہے۔

سوال: ٹی ایس ایلیٹ کے نزدیک روایت کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: ایلیٹ کے مطابق روایت وراثت میں نہیں ملتی بلکہ اسے تاریخی شعور اور محنت سے حاصل کرنا پڑتا ہے، تاکہ حال میں ماضی کا ادراک ہو سکے۔

سوال: کیا کلاسیکیت جدیدیت کی ضد ہے؟
جواب: مقالے کے مطابق کلاسیکیت کو جدیدیت کی ضد سمجھنا غلط ہے۔ یہ قدیم و جدید کے درمیان ایک توازن اور مستقل قدروں کے تحفظ کا نام ہے۔

سوال: اردو میں نوکلاسیکی عناصر کہاں پائے جاتے ہیں؟
جواب: اردو کے کلاسیکی دور، بالخصوص لکھنؤ اور دہلی کے دبستانوں اور اساتذہ کی اصلاحِ سخن کی کوششوں میں نوکلاسیکی عناصر نمایاں ہیں۔

نوٹ

یہ مواد پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے ”عصرِ حاضر کی اردو شاعری میں کلاسیکی عناصر“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ تحقیق اور حوالے دینے کے لیے ضروری ہے کہ اصل ماخذ کا ذکر کیا جائے۔ طالب علموں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس خلاصے کو اپنی تفہیم کے لیے استعمال کریں اور مقالے کے مندرجات کو اصل سیاق و سباق میں دیکھیں۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں